مذاکرات کی رات کیا ہوا: تحریک لبیک سے ہونے والے ’معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے‘

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احتجاج
AFP
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان فیض آباد دھرنا ختم کروانے کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جس کے باعث اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

بی بی سی سے خصوصی گفتگو کے دوران جب سوال کیا گیا کہ اگر حکومت مظاہرین کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد نہ کر پائی تو کیا قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے؟ تو نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ ’یہ معاہدہ فریقین کے درمیان ہے اس کی قانونی حثیت تو کوئی نہیں ہے اور کوئی فریق کیوں اس معاہدے کو لے کر عدالت میں جائے گا۔‘

نورالحق قادری نے سنہ 2017 کے تحریک لبیک کے دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔

تحریک لبیک سے مزاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے سربراہ اور وفاقی وزیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ دھرنا ختم کرنے کے لیے سب سے بڑا ڈیڈ لاک فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کو پورا نہ کرنا تھا۔

نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران تحریک لبیک کے نمائندہ وفد کو بتایا گیا کہ پاکستان سے فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ پورا کرنے سے بین الاقوامی سطح پر ملک کے لیے مسائل کھڑے ہوں گے اور اس کے علاوہ یورپی ملکوں میں موجود پاکستانیوں کے لیے بھی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف حکومت کو تحریک لبیک کے احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ مسئلہ صرف احتجاج کے طریقہ کار پر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک لبیک سے معاہدہ: کسی غیر ملکی سفیر کو کن وجوہات پر بے دخل کیا جا سکتا ہے؟

’یہ فلم ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں، آگے بھی دیکھتے رہیں گے‘

خادم حسین رضوی کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟

فیض آباد دھرنا ختم: حکومتی ’معاہدے‘ کے بعد ٹریفک اور موبائل سروس بحال

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ملٹری اسٹیبلیشمنٹ کا کوئی نمائندہ تو موجود نہیں تھا البتہ ان کی طرف سے یہ رائے دی گئی تھی کہ اس احتجاج کو زیادہ دیر تک نہیں چلنا چاہیے اور اسے جلد از جلد ختم کروایا جائے کیونکہ کورونا اور موسم کی شدت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا خطرہ بھی موجود ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ تحریک لیبک کی قیادت کے ساتھ اتوار سے ٹیلی فونک رابطے میں تھے لیکن میز پر مذاکرات پیر کی سہ پہر کو ہوئے جو رات آٹھ بجے تک جاری رہے۔

نور الحق قادری نے مذاکرات کا مقام تو نہیں بتایا اور صرف اسی پر ہی اکتفا کیا کہ مذاکرات اسلام آباد میں ایک مقام پر ہوئے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ مذاکرات میں وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے علاوہ احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر بھی شامل تھے جبکہ تحریک لبیک کے چار افراد پر مشتمل نمائندہ وفد مذاکرات میں شریک تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے اس نمائندہ وفد کی منظوری تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے دی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے بیرون جانے کے خلاف تحریک لبیک کی جانب سے جاری احتجاج کو ختم کروانے کے لیے موجودہ حکومت نے معاہدہ کیا تھا تاہم احتجاج ختم ہونے کے بعد علامہ خادم حسین رضوی سمیت اس جماعت کی قیادت کو مختلف مقدمات میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فرانس کے سفیر کو نکالنے کے لیے حکومت پارلیمنٹ میں قانون سازی کرے گی تو نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں یہ کہا گیا کہ چونکہ پارلیمنٹ پوری قوم کا ایک نمائندہ فورم ہے اگر فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا فیصلہ وہاں سے ہو تو زیادہ بہتر ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومتی نمائندہ وفد نے تحریک لبیک کے نمائندہ وفد سے بھی کہا کہ وہ بھی اس حوالے سے رائے عامہ قائم کرنے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔

فرانس کی مصنوعات پر پابندی کے بارے میں نور الحق داری کا کہنا تھا کہ حکومت اس سلسلے میں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس سے بات کرے گی۔

ریاست ہمیشہ کمزور ہوتی ہے

جب وفاقی وزیر سے پوچھا گیا کہ مستقبل میں کوئی بھی گروپ دھرنا دے کر سڑکیں وغیرہ بند کر دے تو کیا حکومت وقت ان کے ساتھ مذاکرات کرے گی یا اپنی رٹ قائم کرے گی جس پر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ ریاست ایک ماں کی طرح ہوتی ہے اور بعض اوقات اپنے ضدی بچوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے اسے کمزوری دکھانا پڑتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ریاست ہمیشہ سے کمزور رہی ہے لیکن صرف اپنے بچوں کی غلطیوں سے صرف نظر کرنے کے لیے۔

معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں مجلس شوری فیصلہ کرے گی

دھرنا ختم کرنے کے لیے حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرت کرنے والی تحریک لیبک کی ٹیم کے رکن پیر عنایت الحق شاہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد نہ کیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ جماعت کی مجلس شوری کرے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں جب فرانس کی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ ہوا تو وفاقی وزرا کا موقف تھا کہ ان کا یہ مطالبہ تو بہت چھوٹا ہے موجودہ حکومت تو اس سے بھی آگے کی سوچ رہی ہے۔

پیر عنایت الحق شاہ جو تحریک لبیک شمالی پنجاب کے امیر ہیں، کا کہنا تھا کہ مذاکرت میں شامل حکومتی وزرا کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف پورا ماحول بنا رہی ہے اور اس میں تمام اسلامی ممالک کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا لیکن اس لیے حکومت کو وقت دیا جائے۔

اعجاز شاہ

BBC

انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے مذاکرات کے دوران یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ اس معاملے کو آئندہ ہونے والے وفاقی کابینہ اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ لاہور میں ہونے والی کانفرنس کے حوالے سے بھی تو موجودہ حکومت نے ان سے معاہدہ کیا تھا لیکن اس کی پاسداری نہیں کی گئی تھی تو کیا اب اس معاہدے کی پاسداری ہو گی جس پر پیر عنایت الحق شاہ کا کہنا تھا کہ وہ معاملہ کچھ اور تھا لیکن یہ معاملہ تو ناموس رسالت کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی طرف سے فیض آباد پر دھرنا دینے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ان کے کارکنوں پر شیلنگ کرنے پر تحریک لبیک فیض آباد پر دھرنا دینے پر مجبور ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت مارچ اس سے پہلے لاہور اور کراچی میں بھی ہو چکا ہے لیکن وہاں پر تو کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔

پیر عنایت الحق شاہ جنھیں اڈیالہ جیل سے نکال کر مذاکرات کے لیے اسلام آباد لایا گیا تھا، سے جب یہ پوچھا گیا کہ مذاکرات کہاں پر ہوئے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے راستوں کو تو وہ زیادہ نہیں جانتے لیکن جس جگہ پر مذاکرات ہوئے وہ ایک دفتر معلوم ہوتا ہے اور وہ دفتر شاید کسی وفاقی وزیر کا معلوم ہوتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کے علاوہ سیکریٹری داخلہ اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ پولیس نے پیر عنایت الحق شاہ کو راولپنڈی سے نکالی جانے والی احتجاجی ریلی سے ایک روز پہلے حراست میں لیا تھا۔

’ایسے معاہدے ریاست کو کمزور کرتے ہیں‘

راولپنڈی اور اسلام آباد کہ داخلی مقام فیض آباد پر دیے گئے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے مظاہرین کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بارے میں صحافی و تجزیہ نگار طلعت حسین کہتے ہیں کہ ’اس طرح کے معاہدے حکومت کو نہیں بلکہ ریاست کو کمزور کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ معاہدہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب کسی ایک فریق کو اپنی پسپائی نظر آ رہی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے تحریک لبیک کی قیادت سے مذاکرات کے لیے ایپکس کمیٹی بنائی جس نے اس جماعت کی قیادت سے بات چیت کی۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پنجاب حکومت نے تحریک لبیک کے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ جب ریاستی مشینری استعمال کرنے کے باوجود مظاہرین نے ملک کے دارالحکومت کو بند کر دیا تو پھر حکومت ان مظاہرین کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئی۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر تو نہیں آتا لیکن اس معاہدے سے ریاست کی رٹ تین محاذوں پر متاثر ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی گروپ کے دباؤ میں آ کر ریاست نے سفارتی پالیسی بنانی ہے تو پھر ایسی ریاست کا تشخص دنیا میں کیا ہو گا اور مہذب دنیا کا کون سا ملک پاکستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات رکھے گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp