صدر ٹرمپ نے ڈائریکٹر سائبر سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹا دیا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کو شفاف قرار دینے کے بیان پر امریکی انتخابات کی سائبر سیکیورٹی کے ذمے دار ادارے کے سربراہ کو عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔
منگل کو ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ "وہ سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کو امریکی صدارتی انتخاب سے متعلق ان کے حالیہ بیان کی بنیاد پر فارغ کر رہے ہیں۔”
صدر ٹرمپ کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ کرسٹوفر نے الیکشن سے متعلق بہت غلط بیانی کی۔ صدر نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تین نومبر کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور دھاندلی ہوئی تھی۔
The recent statement by Chris Krebs on the security of the 2020 Election was highly inaccurate, in that there were massive improprieties and fraud – including dead people voting, Poll Watchers not allowed into polling locations, “glitches” in the voting machines which changed…
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) November 18, 2020
صدر نے الزام لگایا کہ انتخابات میں مردوں نے ووٹ ڈالے، مبصرین کو انتخابی عمل کے جائزے کی اجازت نہیں دی گئی، ووٹنگ مشینیں خراب تھیں جنہوں نے انہیں ملنے والے ووٹوں کو بائیڈن کے ووٹ قرار دے دیا اور وقت گزرنے کے بعد بھی لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔
ٹوئٹر نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ پر انتباہی نوٹس لگا دیا ہے۔
اپنی برطرفی کے بعد کرسٹوفر کریبز نے اپنے ایک نئے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کی کہ انہیں اپنے کام پر فخر ہے۔ ہم نے سب ٹھیک کیا۔
Honored to serve. We did it right. Defend Today, Secure Tomrorow. #Protect2020
— Chris Krebs (@C_C_Krebs) November 18, 2020
کرسٹوفر کریبز حالیہ دنوں میں امریکی صدارتی انتخاب کے دوران ووٹر فراڈ کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
اپنی برطرفی سے قبل منگل کو کرسٹوفر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی یا فراڈ کے الزامات سے متعلق الیکشن کی سیکیورٹی کے 59 ماہرین کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے کوئی ثبوت نہیں اور یہ تیکنیکی طور پر بے ربط ہیں۔
ICYMI: On allegations that election systems were manipulated, 59 election security experts all agree, "in every case of which we are aware, these claims either have been unsubstantiated or are technically incoherent." #Protect2020 https://t.co/Oj6NciYruD
— Chris Krebs #Protect2020 (@CISAKrebs) November 17, 2020
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کرسٹوفر کا یہ ٹوئٹ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا اور اسی ٹوئٹ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں عہدے سے فارغ کرنے کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے بارے میں مسلسل یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ان میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے دعووں سے متعلق اب تک کوئی قابلِ ذکر ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔
صدر ٹرمپ انتخابات سے پہلے سے ہی کرونا وبا کی وجہ سے ڈاک کے ذریعے بڑے پیمانے پر ہونے والی ووٹنگ میں فراڈ کے خدشات کا اظہار کر رہے تھے جنہیں بیشتر حلقوں نے مسترد کردیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے الیکشن کے دو روز بعد پانچ نومبر کو اپنے ان الزامات کو دہرایا تھا اور انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اُن ریاستوں میں قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا جہاں اُن کے حریف جو بائیڈن کو برتری حاصل تھی۔
لیکن تجزیہ کاروں کے بقول صدر ٹرمپ اور اُن کی انتخابی مہم نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کے اب تک ایسے شواہد نہیں پیش کیے ہیں جن کا انہیں عدالتوں میں فائدہ پہنچے۔
خیال رہے کہ امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیمو کریٹک اُمیدوار جو بائیڈن مطلوبہ 270 الیکٹورل ووٹس کا ہدف عبور کرکے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔
لیکن صدر ٹرمپ نے تاحال انتخابی نتائج تسلیم نہیں کیے ہیں اور اُن کا دعویٰ ہے کہ وہی یہ الیکشن جیتے ہیں۔

