اس سال قرضہ نہیں، صحت پہ توجہ دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کوویڈ 19 کی وبا نے جس طرح پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ آنے والی نسلیں یقیناً اس وبا اور اس سے ہونے والی تباہی کے متعلق پڑھ کے سبق سیکھیں گی۔ کوویڈ 19 نے جہاں ایک طرف انسانی جانیں لیں۔ وہیں ملکوں کی معیشت بھی اس سے تباہ ہوئی۔ تھرڈ ورلڈ کنٹریز کی معاشی حالت تو پہلے ہی کوئی خاص بہتر نہیں تھی۔ مگر اس وبا نے تو برا حال کر دیا۔ مسلسل لاک ڈاؤن، کاروبار بند ملکی و غیر ملکی سفر اور درآمد برآمد کی بندش نے معیشت کی کمر توڑ دی۔

کوئی شعبہ ایسا نہیں تھا۔ جس میں نقصان نہ ہوا ہو۔ سوائے سینی ٹائزرز، ماسک اور کوویڈ سے احتیاط کے لیے استعمال ہونے والی چیزوں کو بیچنے والوں کے کسی کا بھی کاروبار نہیں چلا۔ سب سے زیادہ متاثر چھوٹے طبقہ کے لوگ ہوئے۔ چھوٹے کاروباری افراد، کم آمدنی والے، پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کرنے والے اور عام دیہاڑی دار مزدور اور عام کسان۔ دیہاڑی دار مزدور کو دیہاڑی نہیں ملی۔ اور کسان کی فصلیں ٹرانسپورٹ نہ ملنے کے باعث منڈیوں تک نہ پہنچ سکیں۔ روزانہ کی بنیاد پہ کمانے والے بھی لاک ڈاؤن کے باعث فاقوں پہ مجبور ہوئے۔

گزشتہ دہائی میں پاکستان کی معیشت کو متعدد بڑے معاشی اور ساختی چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا۔ کم معاشی نمو جس سے روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ افراط زر میں اضافے کی وجہ سے اشیائے خورد و نوش کی قیمت میں اضافہ، بڑھتی ہوئی درآمد اور غیر مستحکم برآمد کی وجہ سے ادائیگی کے مسائل کا سنگین عدم توان رہا۔ روپے کی قدر میں کمی بڑھتے ہوئے قرضوں کے واجبات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے مسائل دن بدن سنگین سے سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ان تمام معاشی چیلنجز نے سیاسی سکورنگ، تنقید برائے تنقید اور گھماو پھراو پہ ہی ساری توانائیاں ضائع کر دی ہیں۔ اکثریتی نوجوان آبادی کے مستقبل کے بہتر مواقع کے ساتھ ایک ترقی پسند وژن فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

نوجوانوں کی ہنرمندانہ صلاحیتوں کا ضیاع افراتفری، جرائم اور بے چینی کی وجہ بنتا ہے۔ غربت عروج پہ ہے۔ لاکھوں بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ عدم مساوات کے باعث عوام غربت سے نکلنے کے اپنے اقدامات کو کم کر رہے ہیں۔ خواتین میں کم تعلیم کی وجہ سے وہ کم تنخواہ والی ملازمت کرتی ہیں۔ یا صرف ہاؤس وائف بن کے رہ جاتی ہیں۔ ان سب باتوں کو کرنے کا مطلب یہ ہے۔ کہ پاکستان جیسا ملک جس کی معیشت کوویڈ 19 کی وجہ سے مزید خراب حالت میں چلی گئی ہے۔ اس کے لیے سال 2020 کے عالمی قرضے کی قسط ادا کرنا مشکل ہے۔ مارچ 20۔ 2019 کے مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی بیرونی قرض اور واجبات 109.949 بلین امریکی ڈالر تھا۔ اس میں سے کل سرکاری شعبے اور عوامی ضمانت پر لیے گئے قرض 86.369 بلین امریکی ڈالر ہے۔

سال 2018 کے آخر تک پاکستان کا مجموعی بیرونی قرض 90.957 بلین امریکی ڈالر تھا۔ جو 31 مارچ 2020 تک بڑھ کر 109.949 بلین امریکی ڈالر ہو گیا۔ مارچ 2020 کوویڈ 19 کے آغاز پر پاکستان نے کل 9.713 امریکی ڈالر ( 7.3 بلین ڈالر کا پرنسپل اور 2.4 بلین ڈالر سود) ادا کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے صحت پر چھ فیصد محصولات خرچ کیے جبکہ سال 2019 میں قرض کی مد میں 26.5 فیصد ادائیگی کی۔ اقوام متحدہ کی یونیورسٹی کے ایک لگائے گئیے تخمینے کے مطابق کوویڈ کی وجہ سے آمدنی یا کھپت میں 20 فیصد کمی پر روزانہ 10.4 ملین اضافی غریب ہوں گے ۔ جو غربت کی لکیر یعنی 1.90 ڈالر دیہاڑی سے بھی نیچے جائیں گے۔

ان سب فیکٹس اور فگرز کے ساتھ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کو یہ باور کروایا جا سکے۔ کہ کوویڈ 19 وبا کے اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ادارے پاکستان کے لیے گئے قرضوں کی سال 2020 کی قسط معاف کر دیں۔ پورا قرضہ معاف مت کریں۔ صرف اس سال 2020 کا قرضہ جو کہ 1800 ارب روپے بنتا ہے۔ اس کو معاف کر دیا جائے۔ تو پاکستان اس پیسے کو ہیلتھ سیکٹر پہ خرچ کرے۔ اس پیسے سے پاکستان کی پوری آبادی کو مفت کوویڈ ویکسین فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے۔ کہ معاف ہونے والے قرضے کے پیسوں کو عوام کی صحت و فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جائے گا۔

لہذا ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشئین ڈویلپمنٹ، تمام دو طرفہ ڈونرز اور نجی قرض دہندگان کو 21۔ 2020 میں قابل ادائیگی پاکستان کا قرض منسوخ کرنا ہو گا۔ کوویڈ 19 جیسی عالمی وبائی بیماری کے نتیجے میں صحت، معاشرتی اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے وسائل کو آزاد کرنے کا ایک تیز ترین طریقہ قرض کی ادائیگیوں کو منسوخ کرنا ہی ہے۔ ہم سب کو مل کر یہ نعرہ لگانا ہے کہ قرضہ نہیں صحت پہ فوکس کریں۔

نوٹ (فیکٹس اینڈ فگرز کے لیے گوگل اور OXFAM کی فراہم کردہ معلومات سے مدد لی گئی) ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •