دو قابل فخر بلوچ بیٹیاں

\"jahanzaib-kalmaty\"بلوچ معاشرہ چونکہ صدیوں سے قدرے روشن خیال اور لبرل رہا ہے پرانی لوک داستانوں میں عشقیہ داستانیں اسی بات کی غمازی کرتی ہیں کہ بلوچ معاشرے میں جہاں عورت کو عزت و مان دیا گیا تو وہیں انہیں یہ آزادی بھی حاصل رہی تھی کہ وہ عشقیہ داستانوں میں نمایاں رہی ہیں بغیر کسی قدغن اور قتل و غارت کے۔ بلوچ معاشرہ شاید برصغیر میں وہ واحد معاشرہ ہے جو مذہبی انتہا پسندی سے بھی پاک رہا ہے جہاں نمازی اور ذکری فرقہ ساتھ ساتھ پروان چڑھے ہیں۔ اللہ بھلا کرے صاحبان اختیار کا جنہوں نے بڑی پلاننگ کے ساتھ بلوچ معاشرے کو مذہبی انتہا پسندی میں جھونکنے کی بھرپور کوشش کی جو ہنوز جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اسکول تو ناپید ہیں مگر قدم قدم پر دینی مدرسے بڑی تیزی سے تعمیر ہوئے ہیں جو مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دینے میں پیش پیش رہے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ پلان اپنے مقاصد میں کچھ حد تک کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اس کے برعکس بلوچ قیادت اور حکومت بس تماش بین کا کردار ادا کر رہے ہیں جو آگے جاکر کسی بہت بڑے خطرے کی نوید ہے۔

رواں برس جولائی میں کامریڈ واحد بلوچ کو، جو ایک لکھاری، لائبریرین اور ادیب ہیں، مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ادارے سپرہائی وے سے ان کا شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد اپنے تحویل میں لے گئے تھے۔ کامریڈ واحد بلوچ چونکہ ایک علم دوست اور سماجی کارکن ہیں انہوں نے اپنی اولاد کو تعلیم کی دولت سے نوازا جبھی اپنے والد کو ڈھونڈنے ان کی بیٹی حانی میدان میں آگئی۔ بائیں بازو کے طلبہ و سیاستدان ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ ترقی پسند مصنفین نے بھی حانی کا بھرپور ساتھ دیا۔ سیمنارز ہوئے، احتجاج ہوئے، انسانی حقوق کی تنظمیں میں اس دوڑ میں شامل ہوئے۔ کئی ایک اداروں سے مایوس کن خاموشی دیکھنے باوجود بھی حانی نے ہمت نہیں ہاری حانی چونکہ بیٹی ہے بالکل اسی طرح کی جس طرح بی بی زینب نے شہدائے کربلا کی جنگ لڑی اور تاریخ میں ثابت ہوا کہ زینب یہ جنگ جیت چکی ہیں کیونکہ وہ حق اور \"hani-baloch\"سچ پر تھی۔ بالکل اسی طرح حانی بھی حق اور سچ پر تھی اور اپنے والد کو بسلامت بازیاب کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ حانی بھی یقیناً تاریخ میں امر ہوگئیں اور کامریڈ واحد بلوچ کا سر فخر سے بلند ہے کہ ایک باہمت اور پڑھی لکھی بیٹی نے انہیں زندگی کا تعفہ دیا۔ حانی کے اس عمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ سب ممکن ہوا حانی کی تعلیم اور کامریڈ واحد بلوچ کی تربیت سے۔ اللہ عزوجل ہر باپ کو حانی جیسی بیٹی سے نوازے۔

ندا قادر بلوچ کا آبائی گاؤں سراج احمد گوٹھ کاٹھور ہے جو کہ کراچی کے مضافات میں واقع ہے۔ ندا قادر بلوچ کے والد قادر بخش کلمتی بلوچ پہلے ایک سرکاری اسکول میں بطور پرائمری ٹیچر کاٹھور کے طلبہ و طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے تھے کہ معاشی ترقی کی لگن نے انہیں پولٹری فارمر بنا دیا۔ پھر اسی شعبے میں آگے بڑھتے گئے اور آج پولٹری انڈسٹری میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ چونکہ قادر بخش کلمتی بلوچ بھی ایک تعلیم دوست شخص ہیں انہوں نے بھی اپنی اولاد کو معیاری تعلیم دلانے کے ٹھان لی اور بچوں کا داخلہ اے لیول اور او لیول میں کرایا ان کی بیٹی ندا قادر بلوچ نے حالیہ برس انگلینڈ کے ایڈیکسل بورڈ میں دنیا میں ٹاپ کر دکھایا۔ یقیناً اس کارکردگی پر ندا قادر بلوچ مبارک باد کی مستحق ہیں اور قادر بخش کلمتی بلوچ بھی مبارک باد کے مستعق ہیں کہ انہوں نے بیٹی کو پراعتماد بنایا۔

تعلیم ہی واحد ہتھیار ہے جس سے ہر محاذ پر جہاد کیا جاسکتا ہے اور یہ واحد ہتھیار ہے جسے دنیا کی کوئی بھی طاقت شکست دینے سے \"nida-baloch\"قاصر ہے۔ ندا قادر بلوچ کی کامیابی سے قادر بخش کلمتی کا سر فخر سے بلند ہے اور اللہ کرے کہ ندا قادر بلوچ جیسے بیٹی ہر گھر میں ہو۔

ایک مخصوص سوچ جو پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے میں رائج ہے جو اپنی مادری زبان فقط اس لئے فراموش کرتے ہیں کہ بچے انگریزی اور اردو بولنے لگیں تاکہ تعلیم حاصل کرنے میں دشواری نہ ہو مگر میں داد دیتا ہوں قادر بخش کلمتی کو کہ اس کے گھر میں آج بھی بلوچی رائج ہے اور ان کی بیٹی تعلیمی میدان میں اپنی نمایاں حیثیت منوا چکی ہے۔ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ ندا اب قادر بخش بلوچ کی پہچان ہے۔

ندا قادر بلوچ اور حانی واحد بلوچ نے وہ کر دکھایا ہے جس کی مثال صدیوں تک بلوچ معاشرے کے لئے ایک قابل ستائش باب ہے۔

اللہ ہر باپ کو ندا قادر بلوچ اور حانی واحد بلوچ جیسی بیٹیوں سے نوازے۔
خدا ہر باپ کو کامریڈ واحد بلوچ اور قادر بخش کلمتی بلوچ جیسی سوچ عطا کرے۔

Latest posts by جہاںزیب کلمتی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
جہاںزیب کلمتی کی دیگر تحریریں