اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو (حصہ دوئم)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"waqar

یا رسولؐ اللہ، کتنے تنہا تھے آپؐ اس وقت۔ اور جب عبداللہ بن جدعان التیمی کی آزاد کردہ لونڈی۔ مکان سے دیکھتی تھی، جب ابو جہل بن ہشام نے آپؐ کو گالیاں دیں اور ستایا۔ اور اس کی واحد یہی آزاد کردہ لونڈی تھی جو سب سن رہی تھی اور۔

آپؐ اس پوری کارروائی کے دوران مکمل طور پر خاموش رہے۔ یہاں سے ابو جہل سیدھا قریش کی چوپال میں بیٹھنے چلا گیا اور آپؐ گھر چلے گئے۔ پھر آپؐ کے عاشق، آپؐ کے چچا، شکار سے واپس آرہے تھے اور یہ عبداللہ بن جدعان التیمی کی آزاد کردہ لونڈی تھی جس نے ساری بات حضرت حمزہؓ کو بتا دی۔ اور پھر عاشق ایسی صورت میں کیا کرتا ہے؟ وہی اس عاشق نے کیا۔ اور عشق میں ایسی بات زباں سے نکالی کہ جس نے ابھی حقیقت کا روپ نہیں دھارا تھا۔ لیکن جذبات تھے۔ جاتے ہی کمان سے ابو جہل کے سر پر سخت ضرب لگائی اور کہا۔ تو ان کو گالیاں دیتا ہے، تجھے معلوم نہیں میں ان کا ہم مذہب ہوں۔ اب اگر تم میں ہمت ہے تو میرے سامنے کہہ جو کہنا چاہتا ہے، اور پھر بنو مخزوم کے کچھ لوگ ابو جہل کی حمایت میں اٹھے اور آپؐ کے چچا کی جانب بڑھے لیکن ابو جہل نے روکا اور کہا۔
ابو عمارہ سے تعرض نہ کرو۔
مجھے نہیں معلوم، یا رسول اللہ ابو جہل نے اپنے حامیوں کو کیوں روکا۔ لیکن قیاس کرتا ہوں کہ بھتیجے کے عاشق چچا کا چہرہ جذبات سے تمتماتا ہو گا۔ اور ابو جہل سیانا دنیا دار تھا۔ اسے معلوم تھا حضرت حمزہؓ سے الجھنا کس قدر بھاری پڑ سکتا ہے۔

اور شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور رہنے کے وہ سال۔ کھانے پینے کی چیزیں بھی آپؐ تک نہ پہنچنے دی جاتیں اور پھر بھی کیا کمال لوگ تھے جوکچھ نہ کچھ لے کر آپؐ تک پہنچ ہی جاتے اور کبھی پکڑے جاتے کہ حکیم بن حزام اپنے ایک غلام کے ساتھ جاتا تھا اور غلام پر گیہوں بار تھا۔ ابو جہل نے ان لوگوں کو پکڑ لیا اور کہا تم بنو ہاشم تک خوراک لے کر جاتے ہو؟ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہو۔ یہاں سے آگے نہیں جاؤ گے۔ خدا غریقِ رحمت کرے ابوالبختری بن ہشام کو۔ کہ اس موقع پر کہیں سے آ نکلے اور ابو جہل کو کہا۔ یہ اپنی پھوپھی (خدیجہ بنت خویلد) کے لیے خوراک لے کر جا رہا ہے۔ ابو جہل نہ مانا۔ اور پھر ابوالبختری نے اونٹ کے ڈاہٹے سے ابو جہل کی پٹائی کی۔ اور یہ سارا واقعہ حضرت حمزہؓ نے بھی دیکھ لیا۔ اور اس وقت یا رسولؐ اللہ کیا عجب وقت تھا۔ کہ ابو جہل پٹائی برداشت کر سکتا تھا لیکن حضرت حمزہؐ کو گواہ بنا دیکھ کر شدید غم و غصے میں آ گیا کیونکہ قریش صرف آپؐ تک کھانا پینا نہیں روکتے تھے، وہ ایسی خبریں بھی روکتے تھے کہ جن سے آپؐ یا آپؐ کےدوست اطمینان کا سانس لے سکیں۔ اس کو سر پہ زخم کی پرواہ نہیں تھی لیکن دکھی تھا کہ یہ خبر جب شعب ابی طالب تک پہنچے گی تو وہ کس قدر خوش ہوں گے۔
مجھے نہیں معلوم وہ کتنا کڑا وقت تھا، اور ان برسوں میں اگر کچھ کھانے کے لیے آپؐ تک پہنچتا بھی ہو گا تو کس قدر قلیل مقدار میں ہوتا ہو گا۔ اوپر سے آپؐ کی طبعیت ایسی تھی۔ برسوں کا وقت ہو، فاقے ہوں، کھانے کی مقدار قلیل ہوں۔ تو میں جانتا ہوں یا رسول اللہ اپنے آپؐ کو سب میں آخر میں رکھنے والے کو کیا ملتا ہو گا۔

سنا ہے کہ درخت کے پتے بھی آپؐ کی خوراک رہتے تھے۔ ایک دن نہیں۔ دو دن نہیں۔ دو سال۔

آپؐ سے محبت کرنے والے بہت تھے۔ ایسے بھی کہ تاریخ نے ان کو یاد رکھا اور ایسے بھی کہ کچھ کچھ فراموش ہو گئے۔ یا رسولؐ اللہ ایسا کٹھن وقت اور ایسا طویل کٹھن وقت اور پھر مکہ میں ایک سرگوشی اس زمان و مکان کے ریکارڈ کا حصہ بن گئی۔ کیا خوبصورت سرگوشی تھی، کتنی محبت اور رحم بھری سرگوشی تھی جو ہشام بن عمرو بن الحارث نے زہیر بن ابی امیہ کے کان میں کی تھی۔ ’زہیر تمھیں یہ بات گوارا ہے کہ تم مزے سے کھاؤ پیو، نکاح کرو اور تمھارے ننھیالی رشتہ داروں کے ساتھ اتنا ظلم ہو رہا ہو‘۔

یا رسول اللہ، قیامت کے دن میری ایک خواہش ہے۔ کہ میں یہ سرگوشی اپنے کان سے سنوں۔ میں سننا چاہتا ہوں اس پہلی آواز کو کہ جس کا ضمیر، ظلم پر مبنی اجتماع کے معاہدوں کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ اور زہیر، کہ جس نے وہ سرگوشی سنی اور کہا۔ ہشام ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں؟

اور ہشام نے کہا تھا۔ سر گوشی میں ہی۔ ’ہماری طرح کی سوچ رکھنے والا ایک تیسرا آدمی ہے‘ اور زہیر نے کہا تھا کون؟ ہشام نے جواب دیا، ’مطعم بن عدی‘۔ اور پھر ہشام دوڑا دوڑا مطعم کے پاس پہنچااور کہا، مطعم کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ بنو عبد مناف کے دو خاندان ہلاک ہو جائیں؟ اور تم تماشہ دیکھتے رہو۔ اور اس بات میں قریش کے ہمنوا بنے رہو؟ اور پھر مطعم نے زہیر والا سوال پوچھا، ”کوئی تیسرا ہے؟
ہشام نے کہا ہاں ہے۔ زہیر بن ابی امیہ۔ اور مطعم نے پوچھا، کوئی چوتھا بھی ہے؟ ہشام نے کہا، ہاں ہے ابوالبختری۔

یا رسول اللہ کوئی مجھ سے پوچھے کہ دنیا کی سب سے اعلی اور خوبصورت سازش کون سی تھی اور دنیا کا سب سے خوبصورت ’سازشی ‘ کون تھا تو میں اسی سازش کو خوبصورت کہوں گا اور ہشام بن عمرو کو سب سے پیارا سازشی کہوں گا۔ ا ور پھر اس ’سازش‘ میں زمعہ بن الاسود شامل ہوگئے۔ سب سے خوبصورت سازشی مقام، خطم الحجون کو کہوں گا جہاں یہ سب اکٹھے ہوئے تھے۔

۔ لیکن اصل منظر تو وہ تھاجب زہیر نے سب سے پہلے دلیرانہ قدم اٹھایا اور قریش کی بیٹھک میں گیا اور کہا،
’ اے اہل مکہ کیا یہ مناسب ہے کہ ہم سب کھائیں، مزے سے شراب پئیں، اور بنو ہاشم تباہ ہو جائیں، میں اس وقت تک چین نہیں لوں جب تک یہ ظالمانہ معاہدہ چاک نہ کر لوں۔

ابو جہل جو کسی کونے سے برآمد ہوا اور یہ سننے کے بعد آپؐے سے باہر ہوا اور کہا تم جھوٹ کہتے ہو۔ یہ معاہدہ کبھی چاک نہیں ہو سکتا
پھر یا رسول اللہ، یہ ’سازشی ‘ بھی تو کیا کمال تھے کہ زمعہ بن الاسود جو منصوبے کے تحت پہلے ہی مجلس میں بیٹھے تھے کہنے لگے، بخدا تم کاذب ہو، جب یہ معاہدہ لکھا جا رہا تھا ہم نے اس وقت بھی اس کو ناپسند کیا تھا۔
اور پھر منصوبے کے مطابق وہاں پہلے سے بیٹھے ابوالبختری اٹھے اور کہا بے شک زمعہ جو کہتا ہے ٹھیک کہتا ہے اس میں لکھی شرائط کو نہ ہم پسند کرتے ہیں اور نہ ہی تسلیم کرتے ہیں۔ مطعم اٹھے اور کہا۔ بخدا یہ دونوں سچے ہیں، ہشام اٹھے اور کہا ہمارا اس معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔
اور پھر۔ سارا منظر نامہ تبدیل ہوتے۔ اس زیرک دنیا دار ابو جہل نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا اور کہا، معلوم ہوتا ہے یہ پہلے سے کہیں اکٹھے کسی منصوبہ بندی کے تحت آئے ہیں ایک دم سے یہ بات۔ یوں نہیں اٹھائی جا سکتی۔
پھر ابو طالب دنیا سے چلے گئے۔ پھر سنا ہے یا رسولؐ اللہ خدیجہؓ بھی دنیا سے چلی گئیں۔ وہی خدیجہؓ، یا رسولؐ اللہ، جس نے آپؐ کو چادر اڑھائی تھی اور کہا تھا، اللہ آپؐ کو رسوا نہیں کرے گا، آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں، صادق القول ہیں، امین ہیں، آڑے وقت میں لوگوں کے کام آتے ہیں، مہمان نواز ہیں، مصائب و حوادث پر صبر کرتے ہیں۔

یا رسول اللہ۔ اجازت دیجیے ایک بات کہوں، یہ طر ز تکلم میرے دل کو لگتا ہے۔ حضرت خدیجہؓ کا کردار آپؐ کی زندگی میں دو طرح کا رہا، بیوی کا۔ اور۔ اور یا رسولؐ اللہ بڑی ہونے کے وجہ سے شاید۔ بہت رحم والا اور خیال رکھنے والا بھی۔ جیسے ایک ماں کا دل شدید رحم سے بھرا ہوتا ہے۔
آپؐ نے ہی تو کہا تھا کہ پہلی وحی کے بعد آپؐ کس قدر پریشان تھے، اکیلے تھے۔ اور آپؐ نے کہا کہ خدیجہؓ نے میری تلاش میں آدمی دوڑائے، غار حرا میں تو آپؐ کا جانا معمول تھا پھر حضرت خدیجہؓ کو اچانک کیا پریشانی لاحق ہو گئی تھی۔ اور پھر آپؐ کی ہی بات روایت میں سنتے ہیں کہ، ’میں خدیجہؓ کے پاس آکر چمٹ کر بیٹھا‘ یا رسولؐ اللہ جو جملہ آپؐ کو دیکھ کر حضرت خدیجہؓ نے کہا تھا، وہ اظہار ہے اس رحم اور خیال رکھنے والے دل کا۔
انہوں نے آپؐ کو دیکھتے ہی کہا تھا، ” کہاں تھے ابوالقاسمؐ، میں نے تمھاری تلاش میں آدمی روانہ کیے اور وہ سارے مکہ تک ہو آئے لیکن تمھارا پتہ نہ چلا
یا رسولؐ اللہ ان دونوں کا دکھ کیا کم تھا کہ اہل مکہ اور دیدہ دلیر ہو گئے، کبھی نماز پڑھتے وقت آپؐ پر اوجھڑی پھینک دی جاتی تو کبھی گھر میں پتھر پھینکے جاتے اور ان سب مظالم پر آپؐ کا احتجاج کیا تھا؟ فقط کبھی کبھی ان کو اتنا کہ دیتے،
اے بنی عبد المناف، یہ کیا طریقہ ہے جو تم اپنوں سے کرتے ہو
کبھی آپؐ کے سر پر مٹی ڈال دیتے، اور گھر آ کر آپؐ سر نیچا کرتے اور صاحبزادی آپؐ کے سر پر پانی ڈالتی جاتی۔
اور ایک دفعہ شدت سے رو پڑی، جس پر آپؐ نے تسلی دی اور کہا، ’ مت روؤ، اللہ تمھارے باپ کی حفاظت کرے گا

یا رسولؐ اللہ، مجھے ربط سے بات کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے، میں جس دور سے تعلق رکھتا ہوں، یہاں آپؐ کی شخصیت پر بہت بحث ہوتی ہے۔ آپؐ کے نام پر نہ جانے کیا کچھ ہو رہا ہے، آپؐ کے جانے کے دو صدیوں بعد اسلامی تاریخ کے ساتھ جو کھیل کھیلا گیا، اور جس جھوٹ کا بیج بویا گیا اور اگلے بارہ سو سالوں تک جیسے اس تاریخ کو بنیاد بنا کر عمارت تعمیر کی گئی، آج وہ سب اپنا نتیجہ دکھا رہی ہے۔ وہ جو آپؐ نے کہا تھا کہ آج دین مکمل ہو گیا ہے، وہ یقیناً ہو گیا تھا لیکن شاید کچھ لوگوں کی نظر میں نہیں ہوا تھا، بعد میں ڈھیر ساری انسانی وضاحتیں، آپؐ کے دین کو مذہب بناتی چلی گئیں،
آپؐ کے جانے کے بعد بھی انسانی وضاحتوں کی بنیاد پر فرقے بنے، اور آج ہر فرقہ، اسی فرقہ والی آیت کو پڑھتا بھی ہے اور اپنے فرقہ پر قائم بھی رہتا ہے، اور اپنے فرقہ سے خوش بھی ہے۔ آپؐ کے دین کے خوبصورت لباس کو بہت سے پیوند لگ گئے۔
اور پھر مجھے یہ بات کہتے شرم آتی ہے کہ تاریخ نے حضرت عائشہؓ کی عمر جس طرح بتائی، یا رسول اللہ آپؐ کے جانے کے دو سو سال بعد سیاسی مخاصمت عروج پر تھی اورہر سیاسی گروہ نے دوسرے کی مخاصمت میں بد ترین مبالغہ آرائی سے کام لیا، حیرت تو اس بات پر کہ سیکڑوں سال گذر گئے، کسی نے تحقیق کی زحمت گوارا نہ کی، ساری تحقیق کا مرکز وہی انسانی وضاحتیں رہیں،
اللہ بھلا کرے ڈینس سپیل برگ کا کہ جس نے کمال تحقیق کی اور اپنی کتاب (لیگسی آف عائشہ بنت ابی بکر) میں ثابت کیا کہ حضرت عائشہ کی عمر شادی کے وقت بائیس سال تھی۔
اس کے منطقی دلائل، مسلمان محققین کو آئینہ دکھا گئے جو 6 اور 9 سال کی عمر کو حتمی سمجھ کر ’عرب میں رواج تھا ‘ جیسے دلائل اکٹھے کر رہے تھے۔
ڈینس سپیل برگ نے جیول آف مدینہ جیسے شر انگیز ناول کی ڈٹ کر مخالفت کی اور برسوں تک اس کی اشاعت رکوائے رکھی۔ ہر وہ پبلشر جو اسے چھاپنے کی حامی بھرتا ڈینس سپیل برگ جاتیں اور ثابت کرتیں کہ اس کے مصنف کا اسلامی تاریخ سے دور دور کا واسطہ نہیں اور جھوٹ پر مبنی اس ناول کا مقصد شر انگیزی کے سوا کچھ نہیں۔

آپؐ ایسے استاد۔ کہ وہ معاشرہ جو بچیوں کو زندہ قبر میں دفن کرتا ہے صرف تئیس سالوں بعد جب کسی کے گھر جاتا ہے تو دستک دیتا اور تیسری دستک پر دل میں برا جانے بغیر واپس آتا ہے، سلام میں پہل کرتاہے، تصور کریں تو آج یہ بات ہضم کرنا کتنا مشکل لگتا ہے کہ اس معاشرے میں آپؐ کہہ رہے ہیں۔ مرد اور عورت برابر ہیں۔
لیکن آج عجب دور ہے۔ ایک باپ چاہے اپنی بیٹی کو روٹی گول نہ بنانے پر قتل کر دے، یا رسول اللہ وہ آپؐ کے میلاد پر ضرور شریک ہوتا ہے۔ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس نے بہیمانہ تشدد سے بیٹی کو قتل کیا۔ لیکن آپؐ کا نام سننے پر انگوٹھوں کو چومتا ہے اور عقیدت سے آنکھوں پر لگاتا ہے۔
یا رسول اللہ۔ بڑا کٹھن وقت ہے آج۔ بہت سوں کو جانتا ہوں کہ آپؐ کو تہ دل سے چاہتے ہیں، اپنے معمولات زندگی میں بھی سچ کی پیروی کرتے ہیں لیکن آپؐ کا نام لینے سے ڈرتے ہیں کہ آپؐ کے نام پر کھولی جانیں والی دکانوں کے دکاندار کسی بات کا بہانہ بنا کر قتل ہی نہ کر دیں۔
وہ جو عبادات کی شکل میں آپؐ نے اوزار دیے تھے کہ جن سے صداقت، دیانت اور فلاح کی دیوار تعمیر کرنا تھی۔ وہ دیوار یونہی پڑی ہے،
وہ روزہ کہ جس کا مقصد ہمدردی اور ہم دلی پیدا کرنا تھا وہ کچھ عجیب جادوئی اور رسم کی سی شکل اختیار کر گیا۔ سارا زور روزہ ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے پر صرف ہو گیا۔ قوم دیوار چھوڑ کر اوزاروں کو چومنے پر لگ گئی۔ سماجی تانے بانے کے ادارے جو محلے کی مسجد، جامع مسجد، عید گاہ سے ہوتے ہوئے حج تک پہنچتے ہیں فقط خوف پر مبنی رسموں کے مراکز بن کر رہ گئے۔

یا رسول اللہ میں آپؐ کے نام کا شکر گزار ہوں، کہ اس نام کی وجہ سے میرے دادا کی موت آسان ہوئی تھی۔
جب میں دادا کے پاس سوتا تھا تو ایک دن ایسے ہی وہ رونے لگ پڑے، میں نے کہا کیا ہوا بابا؟ کہنے لگے قبر نزدیک آ پہنچی ہے۔ میں پریشان ہو گیا۔ مجھے سمجھ نہ آئے کہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا، بابا پریشان تو مجھے ہونا چاہیے، آپ کو نہیں۔ کہنے لگے تمھاری تو ابھی بڑی عمر پڑی ہے۔
میں نے کہا، بابا یہی تو میں کہہ رہا ہوں، کہ میں بڑھاپے سے پہلے جب بھی مروں گا، حساب کتاب ہو گا،
بابا آپ کے تو مزے ہیں۔
بابا نے میری طرف دیکھا اور کہا۔ کیا مطلب؟
میں نے کہا، نبی پاکؐ کہتے ہیں۔ (یا رسول اللہ وہ پوری زندگی آپؐ کے ایک ہی نام سے واقف رہے۔ نبی پاکﷺ۔ )
تو میں نے کہا کہ نبی پاکؐ نے کہا ہے کہ اللہ کو سفید بالوں سے حیا آتی ہے اس لیے بوڑھے لوگوں سے نرمی کرے گا۔
اور یارسول اللہ میں نے جب یہ کہا تو بابا، بچو ں کی طرح رویا۔ میں اس وقت نہیں جانتا تھا کہ پہلے والے اور بعد والے رونے میں کیا فرق ہے؟
کچھ سال بعد جب بابا بستر مرگ پر تھے اور واقف نہیں تھے کہ تین دنوں بعد انہوں نے مر جانا ہے، مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا، میں نے کان ان کے منہ کے پاس کیے کہ بہت نیچی آواز میں بول سکتے تھے اس وقت۔
یا رسول اللہ، میرے داد ا نے مجھے کہا۔ ” وہ۔ تم۔ ایک۔ بات۔ کہی تھی۔ کہ نبی پاکؐ۔ نے۔ وہ صحیح۔ تھی بات“
میں فورا پیچھے ہٹا اور دادا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قدرے سختی سے کہا۔ بابا۔ نبی پاکؐ نے کہا تھا۔ تم شک کرتے ہو ان کی بات پر۔ یا اس بات پر شک کرتے ہو کہ میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا۔
پھر لہجے میں سختی کم کر کے میں نے کہا تھا۔
بولا تھا ناں بابا۔ بولا تھا۔
یا رسول اللہ میں گواہ ہوں ان کے نچلے ہونٹ کی لرزش کا۔
اس سکون بھری گہری سانس کا۔
اور ان کے چہرے پہ اس طمانیت کا کہ جو سانس نکلتے وقت تک قائم دائم رہی۔
میں شکر گزار ہوں آپؐ کے نام کا۔ کہ جس سے میرے دادا کی موت آسان ہوئی اور ان گنت دوسرے انسانوں کی موت آسان ہوئی
اللہ کی سلامتی ہو، آپؐ پر اور آپؐ کی آل پر۔

اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو (حصہ اول)۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 160 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

Comments are closed.