علامہ خادم کی اچانک موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہ جانے آج کتنے ماہ بعد قلم اٹھا کر کچھ لکھنے کا دل کیا۔ اس درد کو کاغذ پر اتارنے کا، جو بیان کے قابل بھی نہیں۔ یہ الفاظ خالصتاً میرے دل سے آ رہے ہیں تو اختلاف کرتے وقت بھی انسانیت کے مرتبے کو ملحوظ خاطر رکھئے گا۔

آج ایک اور افسوسناک اور چونکا دینے والی خبر ملی کہ علامہ خادم حسین رضوی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ پرسوں تک اسلام آباد کے مرکزی چوراہے پر ناموس رسالت پر پہرہ دینے والا شخص یوں اچانک روانہ ہو گیا، نہ دل تسلیم کرنے کو تیار تھا اور نہ دماغ۔ پھر تصدیق کی تو خبر کی حقیقت معلوم ہوئی۔ قصہ مختصر یہ کہ علامہ صاحب خالق حقیقی سے جا ملے۔

انا للٰہ وانا الیہ راجعون۔

اس وقت یہ اندازہ ہوا کہ آج عالم اسلام کس طرح مفلوج ہو گیا ہے۔ علامہ صاحب ملکی سیاست میں پہلی بار 2017 میں نمودار ہوئے جب ختم نبوت کے آئین کے ترمیمی بل کے خلاف اور ناموس رسالت کی خاطر فیض آباد میں دھرنا دیا۔ اور اپنے مطالبات کے تسلیم ہونے تک وہیں مقیم رہے۔ اگلے ہی سال کے الیکشن میں ان کی جماعت تحریک لبیک پاکستان پاکستان کی پانچویں بڑی جماعت بن کر ابھری، لیکن علامہ صاحب کی سب سے اچھی بات ہی یہ تھی کہ انہوں نے کچھ بھی اپنی ذات کی خاطر نہیں کیا، بلکہ حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہے۔

علامہ صاحب نے ہمیں دوبارہ یہ باور کرایا کرایا کہ دنیا کا سب سے بڑا ریڈ زون نبی کریم ﷺ کی عزت اور ناموس ہے اور یہ کہ سب کچھ قابل برداشت ہے مگر توہین رسالت اور ختم نبوت پر کوئی آنچ کسی صورت نہیں آنے دے سکتے۔ انہوں نے اس کے بعد بھی اسی مقام پر تین دھرنے دیے اور تمام کے تمام کا مقصد صرف ایک تھا اور مقصد کی تکمیل سے پہلے ہار کبھی نہیں مانی۔ خادم رضوی صاحب نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ اسلام امن کا درس تو ضرور دیتا ہے مگر امن سے زیادہ انصاف پر زور دیتا ہے۔ جہاں تقریباً تمام علما امن کے پردے میں چھپ کر کائنات کے نازک اور ضروری ترین مسئلے پر بات کرنے سے کترانے لگے، وہاں اس مرد مجاہد نے ڈنکے کی چوٹ پر ثابت کیا کہ

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں، مگر مصطفیٰ کے بعد

اب سے صرف تین دن پہلے وہ اسلام آباد میں عاشقان رسول کے ساتھ موجود تھے اور ان کی آخری جدوجہد بھی گستاخ ملک کے سفیر کی ملک بدری کے لئے ہی تھی۔ شاید وہ مسلمانوں اور حکمرانوں میں وہ غیرت تلاش کر رہے تھے جو کہ مر چکی ہے۔ مگر یقیناً وہ اس دبی چنگاری کو ہوا دینے میں کسی حد تک کامیاب ضرور رہے۔

علامہ صاحب کا علم اور تجربہ بھی بہت وسیع تھا۔ قرآن اور احادیث کو پڑھنے اور سمجھانے کا انداز، جو کہ سب سے مختلف تھا۔ جس کا انداز دیکھ کر انسان کا دل سننے کی طرف خود بخود مائل ہو جائے۔ جس کو سن کر انسان چند لمحوں کے لئے باقی سب کچھ بھول جائے۔ بات کو سمجھا کر چھوڑنا اور اپنے اصولوں سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹنا ان کی خصوصیات تھیں۔

مولانا خادم حسین رضوی کو علامہ اقبال سے بے انتہا محبت اور اقبال بارے ریسرچ بھی بہت زیادہ تھی۔ وہ بھی امت کو اقبال کے نظریہ سے جانچتے اور پرکھتے تھے۔ قرآن اور احادیث کے بعد حوالہ کے طور پر اقبال کی پوری پوری نظمیں پیش کر دیا کرتے تھے۔ اقبال کے نظریات کو من و عن تسلیم کر کے قوم میں منتقل کرتے تھے، وہ اقبال کو بیان کرتے اور اس انداز سے کرتے کہ اقبال بھی رشک کرتے ہوں گے۔

پاکستان میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جب بھی ناموس رسالت یا ختم نبوت پر بات آتی، ذہن میں خود بخود ایک نام آ جاتا کہ اور کوئی بولے یا نہ بولے، یہ مرد مجاہد ضرور آئے گا۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ ”جس ملک میں نبی کی عزت پر بات آئے اور ہم ناموس رسالت کی حفاظت نہ کر پائیں تو پھر بہتر ہے کہ مجھے موت آ جائے“۔

آپ سب بھی ان کے طرز سے اختلاف ضرور کر سکتے ہیں مگر ان کے مقاصد سے نہیں۔ اقبال نے شاید انہیں جیسوں کے لئے کہا ہے

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

بس اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم علامہ صاحب کے نظریات کو سمجھیں اور مانیں اور خاص طور پر اس فلسفے کو سمجھ لیں کہ ”کائنات کا سب سے بڑا ریڈ زون ناموس رسالت اور ختم نبوت ہے“

تب ہی ہم مسلمان کہلانے کے لائق ہیں اور جب ہم آخری نبی کی عزت پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوجائیں گے، تب ہی بروز حشر ہم نبی کریم ﷺ کا سامنا کرنے کے قابل ہوں گے۔

اللہ ہم سب کو نیک ہدایت اور مسلم امہ کو اتفاق نصیب فرمائے۔ آمین
اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

(علامہ خادم رضوی ایک متنازع شخصیت تھے، ان کے حامی بھی بہت زیادہ ہیں اور مخالف بھی۔ ادارہ ہم سب کوشش کرے گا کہ آزادی اظہار کے حق کا احترام کرتے ہوئے ان کے حامیوں اور مخالفین دونوں کے مضامین کو شائع کرے اور کسی ایسے مضمون کو نہ روکا جائے جس میں مہذب انداز میں موقف پیش کیا گیا ہو۔ فیس بک سینسر شپ پالیسیوں اور پابندیوں کی وجہ سے علامہ خادم کا نام سرخی میں دینا ممکن نہیں ہو گا۔ مدیر)۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •