قاضی جاوید رخصت ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلند آہنگ اور نرم لہجے کا امتزاج عموماً کم ہی ہوتا ہے۔ قاضی جاوید میں یہ نادر امتزاج موجود تھا۔ پہلی ملاقات لگ بھگ انیس برس قبل ہوئی۔ اطہر ندیم صاحب کے دوستوں میں شامل تھے۔ حنیف رامے ’طارق عزیز‘ ڈاکٹر مبشر حسن ’حسین نقی‘ حمید اختر جیسے بزرگوں سے تعلق بھی اطہر ندیم صاحب کے توسط سے ہوا۔ قاضی صاحب فلسفہ کے آدمی تھے۔ فلسفہ پڑھاتے رہے۔ ایسا پڑھایا کہ طلباء ان کے شاگرد بن گئے۔ کئی شاگردی سے بڑھ کر مرید۔

قاضی صاحب نے برٹرینڈرسل اور سارتر جیسے فلسفیوں کو اردو سمجھنے والوں کے لئے آسان بنایا۔ کئی کتابوں کے ترجمے کیے ۔ ان گنت علمی و ادبی تقریبات میں قاضی صاحب کو مدعو کیا گیا۔ یاد پڑتا ہے، لاہور کے ایک پبلشنگ ہاؤس نے تاریخ کے مطالعہ کی خاطر حلقہ قائم کیا، ڈاکٹر مبارک علی کے ساتھ قاضی جاوید اس کے اہم رکن تھے۔ درمیانے سے کچھ کم قامت کا وجود گٹھا ہوا معلوم ہوتا۔ ہاتھ مضبوط تھے، سر بڑا اور آواز بھاری تھی۔ علم اور حقیقت شناسی انسان کو مزید منکسرالمزاج بنا دیتی ہے، قاضی صاحب جس سے ملتے یا جو بھی ان سے ملتا وہ انکسار سے متاثر ہوتا۔

چہرے پر پھیلی سنجیدگی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گھلی ہوئی تھی۔ مسعود سعد سلمان مرحوم جیسے بزرگ ہم جیسے جونیئرز کو ”پیارے بھائی“ کہہ کر مخاطب کرتے۔ قاضی جاوید دوسروں کو شاید کچھ اور کہتے ہوں۔ مجھ سے جب بھی ملتے ”بھائی“ کہہ کر پکارتے۔ شروع میں ان کا بھائی کہنا عجیب لگتا۔ ان کی عمر لگ بھگ میرے ابا جی کے برابر تھی مگر قاضی صاحب کا بھائی کہنا گویا تکلف کی چادر ہٹانے کا اعلان تھا۔ ان سے گفتگو کا موقع کئی بار ملا۔

میں فلسفے کی اصطلاحات سے بیزار تھا، مشکل مشکل اصطلاحات فلسفہ سمجھنے کی راہ میں پہلی رکاوٹ بن کر آ جاتیں، لیکن قاضی صاحب جس طرح وجودیت (Existentialism) کو محور بنا کر انسان میں پیدا ہونے والی ہیجانی ’ذہنی‘ جسمانی، نفسیاتی اور فکری تبدیلیوں کا جائزہ لیتے وہ فہم کی پرتیں کھول دیتا۔ فرد کو وجود کا احساس دلانا ضروری ہے۔ وجودی فلسفیوں نے بتایا کہ فرد واحد کے مسائل کے متعلق اگر فلسفہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا تو وہ فلسفہ نہیں ذہنی عیاشی ہے۔

اسی لئے قاضی صاحب کہا کرتے تھے کہ عہد حاضر کا انسان ذہنی طور پر صحت مند نہیں۔ وہ ایک مغموم ’حساس اور جذباتی طور پر شکستہ انسان ہے۔ قاضی جاوید کا اسلوب بہت دلچسپ ہے۔ وہ کسی فلسفیانہ موضوع کی گرہیں کھولتے کھولتے تاریخ فلسفہ کو بھی بیان کرتے جاتے۔ تاریخ اور تاریخی شخصیات کا تعارف ایک نئے رخ سے ہمارے سامنے آتا تو ساتھ یہ احساس بھی چلا آتا کہ قاضی صاحب نے کس قدر جان مار کر لکھا ہے۔ مارٹن ہائیڈیگر پر ایک مضمون میں استاد امام دین گجراتی کا حوالہ دیکھیں کیسے لے آئے : ”ہائیڈیگر مشکل پسند اور ابہام پرست فلسفی ہے۔

دیگر فلاسفہ کی مانند وہ الفاظ کو ان کے روز مرہ مفہوم کے خلاف ہی استعمال نہیں کرتا بلکہ استاد امام دین گجراتی کی طرح خود بھی نئے الفاظ گھڑ لیتا ہے“ ۔ قاضی جاوید مسلم برصغیر کی تاریخ، صوفیاء اور تصوف کے موضوعات پر عبور رکھتے تھے۔ فلسفہ سے وابستگی کے باعث وہ واقعات اور تصورات کو پہلے الگ الگ تجزیے سے گزارتے اور پھر ان کے درمیان تعلق دریافت کرتے۔ جس طرح پاپ گلوکار کلاسیکی فنکار سے کم اہلیت کا ہونے کے باوجود مشہور ہوتا ہے اسی طرح علمی اور تحقیقی کام کرنے والے لوگ بھی عام طور پر ایک خاص حلقے میں جانے پہچانے ہوتے ہیں مگر انہیں دیکھ کر نہ ٹریفک رکتی ہے نہ لوگوں کا ہجوم آٹو گراف لینے کے لئے امنڈتا ہے۔

زندگی کے آخری برسوں مین قاضی صاحب کا دل ناقدری کے باعث اچاٹ ہو گیا تھا۔ وہ سمجھنے لگے تھے کہ پاکستان کے سماج کو بدلنے کے لئے علمی کوششیں دم توڑ چکی ہیں۔ وہ ساری زندگی اپنے کالموں، مضامیں اور کتابوں میں ایک خواب رکھ کر تصورات پر بات کرتے رہے، انہیں امید رہی کہ اپنے حقوق سے واقف نسل ہی ملک کے مسائل حل کر سکے گی۔ قاضی صاحب کے جانے کے بعد احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے ایک بڑی شخصیت کو کھو دیا ہے۔ کوئی سال بھر پہلے قاضی جاوید سے ماڈل ٹاؤن پارک میں ملاقات ہوئی۔

مستنصر حسین تارڑ صاحب کی سالگرہ کی تقریب تھی‘ بیس پچیس دوست مدعو تھے ’ڈاکٹر اشفاق ورک‘ قاضی جاوید ’سینئر اداکارہ صاعقہ خیام اور تارڑ صاحب کے پرستاروں نے خوب رونق جما رکھی تھی۔ سائیں بودی ایک چٹائی پر بیٹھے ہیر وارث شاہ کے اقتباسات سنا رہے تھے۔ سردیوں کی سیت رخصت ہو رہی تھی، ٹانگیں دھوپ میں اور چہرہ چھاوں میں رکھنے کو دل کر رہا تھا، قاضی صاحب کا رنگ سورج نے دہکا رکھا تھا مگر انہماک طاری تھا۔ ہم لگ بھگ پانچ سال بعد ملے‘ وہ فطری سادگی اور گرمجوشی سے ملے، ”بھائی ادھر بیٹھ جاؤ“ میں نے کرسی کھسکا کر ان کے قریب کر لی۔

بھلے چنگے تھے۔ چہرے پر سرخی ان کے بالوں سے بے نیاز سر تک پھیلی ہوئی تھی۔ قاضی صاحب ادارہ ثقافت اسلامیہ کے ڈائریکٹر رہے۔ کچھ عرصہ اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ قاضی جاوید کے انتقال کی اطلاع پر مستنصر حسین تارڑ صاحب خاصے دکھی تھے۔ کہنے لگے نایاب لوگ دنیا سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ بتا رہے تھے کہ قاضی جاوید سے 40 برس کا تعلق تھا۔ ایک ماہ پہلے آخری ملاقات ہوئی تھی۔ پھر معلوم ہوا کہ گرنے سے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔

میں نے سوچا تگڑا بندہ ہے ٹھیک ہو جائے گا‘ پھر اطلاع ملی کہ اسی تکلیف کے دوران ہارٹ اٹیک ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا ”۔ ارشاد احمد عارف صاحب بتا رہے تھے قاضی جاوید بلوچستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں اپنی تحریر کے ذریعے مقبول تھے۔ ماڈل ٹاؤن پارک میں پروفیسر تنویر صادق نے لیکچر سیریز شروع کی تو قاضی صاحب خوشی خوشی نوجوانوں کو فیضیاب کرنے آتے۔ اب سب رونقیں ماند دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان کا ایک اہم علمی حوالہ رخصت ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •