پناہ گاہوں کا قیام: فلاحی ریاست کی طرف ایک اہم قدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ کو کبھی کسی فورم پر پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے خیالات سننے اور جاننے کا موقع ملا ہو تو ایک بات طے ہے کہ سب کے سب پاکستان کے لئے کچھ کر گزرنے کے جذبے سے سرشار ملیں گے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان آزادی کے تہتر سال بعد بھی مسائل کے گرداب سے نہیں نکل پا رہا؟ ہو سکتا ہے کہ آپ کا مشاہدہ مجھ سے مختلف ہو لیکن میری اس بارے رائے یہ ہے کہ لفاظی کی حد تک اخلاص اپنی جگہ لیکن عملی طور پر کچھ اچھا کرنے کے لئے خالی باتیں کرنے والوں اور نام نہاد وفاداروں کی نہیں بلکہ آپ کو متعلقہ شعبے کے ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے۔

اور یہیں پر جاگیردارانہ پس منظر اور ماحول میں پروان چڑھنے والی ہماری اشرافیہ مار کھاتی ہے۔ اگرچہ روایتی جاگیردارانہ نظام تیزی سے زوال پذیر ہے لیکن صدیوں تک ہمارے معاشرے پر حاوی رہنے والے اس نظام نے قوم کا مجموعی مزاج خراب کر دیا ہے اور سست سماجی ارتقا ء کے سبب آج بھی جاگیردارانہ معاشرے کی خامیاں ہمارے رویوں میں جوں کی توں ہیں۔ چونکہ خوشامد پسندی، جاہ پسندی، خود نمائی اور خود پسندی جاگیردارانہ کلچر کا ایک اہم خاصہ ہے تو ہمارے ہاں جیسے ہی کوئی اقتدار میں آتا ہے تو سب سے بڑی غلطی یہ کر بیٹھتا ہے کہ میرٹ کی بنیاد پر اہل اور پروفیشنل ماہرین پر مشتمل ٹیم بنانے اور ان پر انحصار کرنے کی بجائے نالائق، نا اہل، باتوں کے دھنی موقع پرستوں اور چغل خوروں یا قریبی رفقا اور دوستوں کو بزعم خود اپنا خیر خواہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔

جب ذاتی ایجنڈا رکھنے والے بدقماش عناصر حکمرانوں کی آنکھ اور کان کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں اور اہل لوگ ان کے رحم و کرم پر ہوں تو اداروں کی بربادی کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور جب ادارے برباد ہوتے ہیں تو اس کا اثر مجموعی طور پر معاشرے پر بھی پڑتا ہے اور پھر ”مجھے کیوں نکالا“ جیسی صدائیں بھی بلند ہوتی ہیں۔ اور آج ہماری معاشرتی حالت کیسی ہے اور ماضی یا حال میں اہل اقتدار کو عزت ملی یا رسوائی ان کا نصیب ٹھہری، اس کی وضاحت کرنے کی مجھے چنداں ضرورت نہیں۔

بہرکیف موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر بھی ٹیم کی سیلیکشن کے حوالے سے کچھ ایسے ہی الزامات عائد کیے گئے اور انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔ اوروں کا حال تو مجھے معلوم نہیں لیکن اب تک منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال عون عباس بپی، وزیر اعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری اور وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پناہ گاہ نسیم الرحمٰن کے کام کو قریب سے دیکھنے اور ان کے خیالات سننے کا موقع ملا ہے جو واقعی اپنے اپنے شعبوں میں متاثر کن خدمات انجام دے کر حکومت کی نیک نامی کا باعث بن رہے ہیں۔

خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے ویژن کی تکمیل کے لئے ملک بھر میں پناہ گاہوں کا قیام سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان پناہ گاہوں کے قیام کے لئے وزیر اعظم کا پاکستان بیت المال جیسے ادارے پر اعتماد کا اظہار ایک درست قدم ہے کیونکہ مذکورہ ادارے کو فلاحی کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور احسن طریقے سے چلانے کا بھر پور عملی تجربہ حاصل ہے اور اس محکمے کے زیر انتظام پورے پاکستان میں سینکڑوں ادارے عوامی فلاح و بہبود کا کام کر رہے ہیں۔

یوں تو پاکستان میں نجی سطح پر بہت سے لنگر خانے اور پناہ گاہیں قائم ہیں لیکن یہ کسی مربوط نظام کے تابع نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی باقاعدہ ڈیٹابیس موجود ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے غریب، نادار اور محنت کش طبقے کی ضروریات کا خیال رکھے۔ مجھے نئے پاکستان کے غریب دوست احساس پروگرام کے تحت قائم ہونے والی اب تک ایسی تین پناہ گاہوں میں جانے کا موقع ملا ہے جن میں عزت نفس کے ساتھ ضرورت مندوں کو مفت کھانے، رہائش اور بنیادی علاج و معالجہ کی بہترین و معیاری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور پاکستان بیت المال نے ان پناہ گاہوں میں آنے والے مستحقین کے کوائف و اعداد و شمار کو محفوظ، مستند اور خاص طور پر کسی بھی طرح کی اکیڈمک ریسرچ اور عام شہریوں کی معلومات کے لئے کارآمد بنایا ہے۔

ان پناہ گاہوں میں آنے والے مستحقین کے روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ ہونے والے اعداد و شمار کو پاکستان بیت المال کی ویب سائیٹ پر کوئی بھی شہری دیکھ سکتا ہے۔ ہر پناہ گاہ میں سو مستحقین کے سونے کی اور چار سو مستحقین کے لئے کھانے کی سہولت موجود ہے۔ جبکہ ان پناہ گاہوں کی نگرانی اور آپریشن کے لئے مستعد، چاق و چوبند، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت سٹاف بھرتی کیا گیا ہے۔ پاکستان بھر کے بڑے شہروں میں بتدریج قائم ہونے والی یہ پناہ گاہیں ان شہروں میں آنے والے بے گھر مزدوروں، طالبعلموں، عمر رسیدہ افراد، ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ آنے والے ان کے لواحقین اور کم آمدنی والے دیگر ضرورت مندوں کے لئے ایک نعمت سے کم ثابت نہیں ہوں گی۔

سرکاری شعبے میں ریڈ ٹیپ ازم کی بدولت خودکار رکاوٹوں اور ان پناہ گاہوں کے سیاسی اغراض و مقاصد کے حوالے سے لوگوں میں بہت سی چہ مگوئیاں پائی جاتی ہیں۔ لیکن وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پناہ گاہ محترم نسیم الرحمٰن نے اس بارے میں تمام خدشات دور کر دیے۔ پناہ گاہوں کے قیام کوایک منظور شدہ پالیسی کے تحت باقاعدہ تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور اس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ انشاء اللہ آئندہ جو بھی حکومت آئے گی وہ ریسکیو 1122 کی طرز پر ان پناہ گاہوں کی افادیت کے حوالے سے انھیں چلانے اور ان کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر مجبور ہو گی۔

نسیم الرحمٰن جیسے جہاندیدہ اور فلاح و بہبود کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھنے والے شخص کا ان پناہ گاہوں کے قیام کے لئے انتخاب وزیر اعظم کی مردم شناسی کو ظاہر کرتا ہے۔ نسیم الرحمٰن سابقہ (سی ایس ایس) سول سرونٹ ہیں، انھوں نے بعد ازاں نوکری سے استعفیٰ دے کر فلاحی و سماجی بہبود کے بین الاقوامی اداروں جیسے یونیسف، ورلڈ بینک اور دیگر انٹرنیشنل این جی اوز میں ایک لمبے عرصے تک کام کیا ہوا ہے۔ پوری دنیا میں فلاحی کاموں کو انجام دینے کا تجربہ رکھنے والے نسیم الرحمٰن نہ صرف ایک اعلیٰ پائے کے پروفیشنل ہیں بلکہ ایک بہترین انسان بھی ہیں۔ اس سب کے علاوہ وہ پاکستان کے زمینی حقائق کا بجا طور پر ادراک رکھنے والے، نفیس، مہذب و تعلیم یافتہ، بذلہ سنج، دانشور اور جذبہ خدمت سے سرشار سادگی پسند شخص ہیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال عون عباس بپی اور وزیر اعظم کے فوکل پرسن نسیم الرحمٰن ان پناہ گاہوں کے قیام اور پاکستان میں فلاحی خدمات کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں جس کے لئے تمام پاکستانیوں کو اپنی بساط کے مطابق ان کا دست بازو بننا چاہیے۔

مجھے قوی امید اور یقین ہے کہ ان پناہ گاہوں کے قیام میں جذبہ خدمت، شفافیت اور میرٹ کے جن اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے ان کی بدولت لوگوں کا سرکاری اداروں پہ اعتماد بحال ہو گا اور پناہ گاہوں کے قیام کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں اضافہ ہو گا۔ عون عباس بپی اور محکمے کے ڈی ایم ڈی مبشر حسن کی قیادت میں پاکستان بیت المال محدود مالی وسائل و بجٹ میں اپنے دیر پا منصوبوں (sustainable projects) اور مالی اعانت کے دیگر پروگراموں میں پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو ریلیف دینے کے لئے بہترین پرفارمنس دے رہا ہے۔

حکومت کے متعدد فلاحی منصوبہ جات کے باوجود ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں غربت کا گراف نیچے نہیں آ رہا اور غربت کے مربوط خاتمے کے لئے حکومتی وسائل کم ہیں۔ اس لئے پاکستان کے خوشحال، سرمایہ دار اور خدمت کاجذبہ رکھنے والے افراد کو بڑھ چڑھ کر پناہ گاہوں کے کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اس سلسلے میں پاکستان بیت المال نے عطیات کے حصول کا ایک انتہائی آسان، بہترین اور شفاف طریقہ کار وضع کیا ہے۔ جس کے تحت مخیر حضرات نہ صرف نقد (cash) بلکہ جنس ( kind) کی صورت میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

عطیات کے سلسلے میں ڈونرز کے لئے پاکستان بیت المال کی ویب سائٹ
www.pbm.gov.pk
پر مکمل راہنمائی اور متعلقہ اکاؤنٹ نمبر موجود ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ نیکی کے کام میں اپنا حصہ صرف عطیات کی صورت میں ہی ڈالیں بلکہ ایک اچھے مقصد کی مثبت تشہیر سے بھی آپ اچھے شہری ہونے کے ناتے سے اپنا فرض ادا کر سکتے ہیں۔ آئیں اور ایک نئے پاکستان کی تعمیر میں اپنا عملی کردار ادا کریں کیونکہ تبدیلی صرف باتوں سے نہیں عمل اور کردار سے آتی ہے اور ریاست کے ہر شہری کا عمل و کردار تبدیلی کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •