پاکستان کے واجب الادا قرضے اور بقا کی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار بیس میں عالمی وبا کی وجہ سے جہاں دنیا بھر کے معاملات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں، وہیں تعلیمی ادارے بھی اس کے اثرات بد سے محفوظ نہ رہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد پہلا دھچکا تنخواہوں کے بڑے حصے پر سیلری کٹ کی صورت لگا کہ والدین کے کاروبار اور روزگار متاثر ہونے کی وجہ وہ فیسیں دینے سے قاصر تھے اور اس سب کی وجہ کورونا سے پیدا ہونے والا عالمی معاشی بحران ہے۔ تعلیمی اداروں کے پاس دو آپشن تھے یا تو سٹاف محدود کر کے ان کو پوری تنخواہیں دے یا پھر تمام سٹاف کی تنخواہ کا ایک حصہ کاٹ کر سب کی نوکریاں بحال رکھے، فیصلہ تلخ اور مشکل تھا پر بقا کی جنگ کے لئے یہ کڑوا گھونٹ پی لیا گیا۔

یہ صورت حال صرف تعلیمی اداروں، کارخانوں یا دیگر شعبہ جات تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کا ہر غریب اور متوسط خاندان اس بحران کی زد میں ہے۔ تعلیم کی طرح صحت کا شعبہ بھی بدحالی کے آسیب کے شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے، وبا کے دنوں میں جو حال ہسپتالوں کا رہا اور جو بدسلوکیاں اور جہالت شعبہ طب جھیل چکا ہے اس کا ازالہ شاید ہی ممکن ہو۔ اشیائے خورد و نوش کی طرح ادویات اور خصوصاً زندگی بچانے والی ادویات مستحق طبقے کی دسترس سے بالکل باہر ہیں۔

اس چیلنج سے نپٹنے کے لئے لاک ڈاؤن کے آغاز میں احساس کے تحت فنڈز تقسیم کیے گئے پر وہ راشن وغیرہ کی خریداری کی مد میں عارضی حل میں خرچ کیے گئے، چھوٹے پیمانے کے کاروباروں کی بحالی کو نظر انداز کر دیا گیا ورنہ بہتری کے کچھ امکانات پیدا ضرور ہوتے۔ اب حالات اس نہج پر ہیں کہ متوسط طبقہ غربت کی لکیر کو چھو رہا ہے اور غریب کا تو پرسان حال ملنا ہی ناممکن سی بات لگتی ہے۔ کاروباروں کی تباہی، بے روزگاری، صحت کے مخدوش حالات کی وجہ سے دہائیوں سے بقا کی جنگ لڑتا معاشرہ مزید کڑی آزمائش کا شکار ہو گیا۔

پاکستان کے مالی خسارے اور بین الاقوامی اداروں سے لئے گئے متعدد قرضوں اور ان کی واجب الادا قسطوں کی وجہ سے گھریلو صارفین کا قرضہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مالی سال دو ہزار انیس، بیس کے اختتام تک پاکستان 44563.9 بلین امریکی ڈالر کا مقروض ہے، صورت حال ایسی مشکل ہے کہ نئے لئے جانے والے قرضے پرانے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں صرف ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مالی خسارہ بڑھتا جاتا ہے اور صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر قابل ذکر شعبہ جات یکسر نظرانداز ہو جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک تحریک شروع کی گئی جس میں ورلڈ بنک، آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بنک اور دیگر تمام قرض خواہ اداروں سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ اس سال پاکستان کے واجب الادا قرضے کی قسط معاف کردی جائے تاکہ وہ رقم کورونا ویکسین کی عوامی سطح پر مفت تقسیم کی مد میں استعمال کی جاسکے، ویکسین کی نچلے طبقے تک تقسیم سے معاشیات کے رکے ہوئے پہیے میں کچھ حرکت برکت پیدا ہونے کی نوید پیدا ہوگی۔ صحت، تعلیم اور روزگار کا سلسلہ واپس بحال ہو سکے گا، دوسری صورت میں مالی خسارے کے سبب حالات مزید تباہی کی طرف چلے جائیں گے اس لئے اس تحریک میں ہم آواز ہو کر ہماری آواز حکام بالا تک پہنچائیں تاکہ بقا کا کوئی وسیلہ پیدا ہو۔ آئیے ہمارے ساتھ سوشل میڈیا کی اس تحریک کا حصہ بنیں کہ ”قرضہ نہیں، صحت“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •