میں ہوں تیمور ( 1336۔ 1405 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس مضمون کا عنوان دراصل ایک کتاب سے مستعار لیا گیا ہے جو کہ ایک فرانسیسی مصنف مارسل بریون Marcel Breven کی تصنیف ہے اور اردو زبان میں اس کا ترجمہ خلیل الرحمٰن اور ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی نے کیا اور پاکستان میں سیارہ ڈائجسٹ نے شائع کیا۔ یہ کتاب تاریخ سے شغف رکھنے والوں کے لئے ایک اہم کتاب ہے۔ مارسل بریون نے امیر تیمور لنگ کی خود نوشت کا ترجمہ کیا ہے۔ امیر تیمور کی بھرپور زندگی کا احاطہ ایک مضمون میں تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اس مضمون میں اس کی زندگی کے متعلق چند دلچسپ واقعات و حقائق بیان کیے جائیں گے جو کہ مذکورہ بالا کتاب سے نقل کیے گئے ہیں۔

امیر تیمور موجودہ ازبکستان کے شہر کیش میں پیدا ہوئے جو کہ سمر قند سے 50 کلومیٹر کی دوری پہ واقع ہے۔ امیر تیمور تفاخر کے طور پر خود کو منگول نسل کا بتاتے تھے اور چنگیز خان کو اپنا پردادا بتلاتے تھے مگر مورخین کے مطابق دراصل وہ ترک منگول تھے نہ کہ خالص منگول۔ امیر تیمور نے پانچ سے زائد نکاح کیے۔ امیر تیمور کے والد کا نام ”ترقائی“ تھا۔ خیبر پختونخوا میں کچھ لوگ نام کے ساتھ ”ترکئی“ قوم لکھتے ہیں، ہو سکتا ہے ان کی آپس میں کوئی نسبت ہو کیونکہ ہندوستان فتح کرنے کے لئے تیمور باب خیبر سے ہی ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔

امیر تیمور کے سات بیٹے تھے جن کے نام حسب ذیل ہیں۔ ان میں سب سے بڑا بیٹا جہانگیر مرزا، عمر شیخ، میران شاہ، شاہ رخ، خلیل، ابراہیم، اور سعد وقاص شامل ہیں لیکن ان سب میں شاہ رخ امیر تیمور کے مقام کو پہنچ سکا۔ شاید بالی ووڈ ایکٹر شاہ رخ کا والد بھی امیر تیمور کے بیٹے شاہ رخ سے متاثر تھا اس لیے اس نے بیٹے کا نام شاہ رخ خان رکھا۔ کرینا کپور اور سیف علی خان نے اپنے بیٹے کا نام تیمور رکھا ہے اور اس پہ انتہا پسند ہندووں نے اس بالی ووڈ کپل پہ خوب تنقید کی پر وہ ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔

خیر امیر تیمور کے بیٹوں سے بات بالی ووڈ نکل گئی۔ عمر شیخ اہل فارس سے جنگ کرتے ہوئے مارا گیا اور سعد وقاص ہندوستان میں لونی قلعہ کے محاصرے کے دوران مارا گیا۔ سعد وقاص بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے امیر تیمور کا لاڈلا تھا لیکن امیر تیمور ایسا سنگدل تھا کہ دوران جنگ اپنے بیٹوں کی زندگی کو ایک سپاہی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی سپاہ امیر تیمور کی اندھی تقلید کرتی تھی۔ وہ انہیں اگر کھائی میں چھلانگ لگانے کا حکم دیتا تو بھی وہ انکار نہ کرتے تھے۔

امیر تیمور کو قدرت نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا۔ وہ اپنے بائیں بازو سے بھی اسی طاقت سے شمشیر زنی کر سکتا تھا جتنا کہ دائیں بازو سے۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے بھی اتنی ہی سرعت سے لکھ سکتا تھا جتنا کہ دائیں ہاتھ سے۔ میدان جنگ میں اکثر گھوڑے کی لگام کو منہ میں پکڑ کر دائیں ہاتھ سے شمشیر زنی کرتا اور بائیں ہاتھ میں کلہاڑے سے دشمن پہ حملہ آور ہوتا اور تہس نہس کر دیتا۔

امیر تیمور میں اتنی متضاد خصوصیات موجود تھیں کہ پڑھنے والا امیر تیمور کی شخصیت کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کر سکتا کہ وہ اسے اچھا کہے یا برا۔ تیمور حافظ قرآن تھا اور دنیوی علوم کا ماہر بھی، دینی علوم پہ دسترس کی بناء پہ اس مفتی اور فقیہہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن یہی شخص ڈیڑھ لاکھ انسانوں کے سر کٹوا کر ان سے مینار بنواتا ہے، کٹی ہوئی انسانی گردنوں سے خوں کا فوارا پھوٹتا دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہے۔ اور پھر یہ خونخوار انسان صرف ایک کتاب کی وجہ سے ایک شہر کے رہنے والوں کا قتل عام معاف کر دیتا ہے۔

سعد الدین محمودی شبستری ایران کے اس وقت کے مشرقی صوبہ آذربائیجان کے شہر شبستر میں پیدا ہوئے ان کا شمار اپنے عہد کے برجستہ عرفاء میں ہوتا ہے۔ انہوں نے سن 717 ہجری میں اپنی کتاب ”گلشن راز“ تصنیف کی۔ گلشن راز کے مطالعہ سے امیر تیمور اتنا متاثر ہوا کہ آذربائیجان کے صوبے کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد جب وہ شبستر فتح کرتا ہے تو شہر میں قتل عام کی بجائے عام معافی کا اعلان کر دیتا ہے کیونکہ اس کی پسندیدہ کتاب ”گلشن راز“ کا مصنف شبستر کا رہنے والا تھا۔

جب امیر تیمور نے شیراز فتح کیا تو دوسرے علماء سے ملاقات کرنے سے پہلے یہ حکم دیا کہ مشہور شاعر جہانگیر شمس الدین محمد کو میرے روبرو پیش کیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ اور شمس الدین محمد کو امیر تیمور کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ تو تیمور نے اس سے پوچھا کہ یہ شعر تمہارا ہے؟

اگر آن ترک شیرازی بدست آرد دل مارا
بخال ہندویش بخشم سمر قند و بخارا را

(اگر وہ ترک شیرازی ہمارا دل لبھا جائے، تو بخشوں خال ہندو پہ سمرقند و بخارا کو ) خال ہندو چہرے کے سیاہ تل کو کہتے ہیں۔

امیر تیمور نے قدرے بگڑتے ہوئے کہا کہ ”میں ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور خون کی ندیاں بہا کر سمرقند و بخارا حاصل کروں اور تم یہاں بیٹھے بیٹھے صرف ایک خال (تل) پہ دونوں شہر نچھاور کیے جا رہے ہو“

جواب میں شمس الدین نے شیروانی کے بٹن کھولے اور اپنی چیتھڑا نما قمیض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، ”ہماری اس فیاضی نے تو ہمیں یہ دن دکھایا ہے سرکار“

ایک دفعہ امیر تیمور کو ایک عارضہ لاحق ہوا تو اطباء نے تجویز کیا کی فارس کا لیموں اگر استعمال کیا جائے تو افاقہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ تیمور نے شاہ منصور کو، جو کہ فارس کا بادشاہ تھا، لیموں بھیجنے کے لئے خط ارسال کیا۔ لیکن شاہ منصور نے اس خط کا بڑا ہتک آمیز جواب دیا اور جو بالآخر فارس پہ تیمور کے حملے کی صورت منتج ہوا۔ اس جنگ میں شاہ منصور کو زندہ گرفتار کر لیا گیا، اس نے رحم کی بھیک مانگی لیکن تیمور کو اس پر رحم نہ آیا اور تیمور نے ایک بڑا چبوترہ بنوایا اور اگلے دن تمام شہر کو بلوایا اور ان کے سامنے سارا ماجرا بیان کیا اور شاہ منصور کا خط پڑھ کر سنایا۔

جس میں شاہ منصور، تیمور سے اس طرح سے مخاطب ہوا تھا ”اے پلید و منحوس ازبک، میرا دربار سبزی فروش کی دکان نہیں جو تو مجھے سے لیموں مانگ رہا ہے۔ میں عطار ہوں نہ شربت فروش بلکہ فارس کا بادشاہ ہوں۔ تجھے چنگیز کی اولاد ہونے کا گھمنڈ ہے شاید اس لیے تو نے مجھ حقارت سے دیکھا ہے لیکن یاد رکھ تیرا پردادا بھی فارس کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات نہ کر سکا، تیری حیثیت تو چنگیز کے معاملے میں چیونٹی برابر بھی نہیں“ اس کے بعد شاہ منصور کو چبوترے پر لایا گیا اور اس کے گیارہ بیٹوں سمیت اس کی گردن اڑا دی گئی۔

یوں جو معاملہ لیموں مانگنے سے شروع ہوا تھا، وہ ایک ہتک آمیز خط کی بدولت ایک جنگ پر اور شاہ منصور کی گردن زنی پہ اختتام پذیر ہوا۔ آپ نے شاید کبھی نہ سنا یا پڑھا ہو کہ کوئی شخص لیموں نہ دینے پر اپنے تخت، بخت اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہو۔ اس لیے کوئی لیموں مانگے تو دے دیا کریں، یہ نہ ہو کہ مانگنے والا تیموری مزاج کا ہو۔

جب تیمور نے دہلی شہر پہ حملہ کیا تو شہر کے دروازے بند ہو چکے تھے اس لیے اس کی فوج نے شہر کے باہر ہی پڑاو ڈال دیا۔ اگلے روز دن چڑھنے پہ ایک برہمن جس نے اپنا نام گانی ہورتا بتایا، فصیل پہ نمودار ہوا اور تیمور سے آ کر کہا کہ کیونکہ تو دہلی پہ حملہ آور ہوا ہے اس لیے تیری عمر اب سات برس سے زیادہ نہ ہو گی۔

بعد میں تیمور نے دہلی فتح کر لیا اور گانی ہورتا کو تیمور کے سامنے لایا گیا تو تیمور گویا ہوا کہ تو نے کہا تھا کہ میں سات برس سے زیادہ نہیں جیؤں گا اور تجھے اتنا شعور ضرور ہو گا کہ تو نے تلخ بات کی تھی سو جب کوئی شخص اپنی ایک تلخ بات سے مجھ ایسے آدمی کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ سزائے موت کا مستحق ہوتا ہے۔ برہمن بولا، اے امیر کیا تو میری بات سے ڈر گیا تھا۔ امیر تیمور نے جواب دیا اے مرد اگر تجھے میرے بارے میں علم ہوتا تو تو سمجھ جاتا کہ مجھے موت کا ڈر نہیں ہے، خاص طور پر میدان جنگ میں آنے والی موت کا۔

گانی ہورتا بولا، اے عظیم سردار تو جنگ میں نہیں مرے گا۔ امیر نے کہا تو نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میں سات برس سے زیادہ زندہ نہ رہوں گا اور اب تو یہ کہہ رہا ہے کہ میں میدان جنگ میں نہیں مروں گا تو یہ تیری پیش بینیاں کس بناء پر ہیں۔ گانی ہورتا بولا، اے امیر میں نے زندگی بھر نفس کشی کی، حرص و ہوا اور حیوانی جذبوں سے دور رہا اور برہما کے وضع کردہ اصولوں کی سرتابی نہ کی، تو مجھے ایسی استعداد و لیاقت ملی کہ میں مستقبل کا مشاہدہ کر سکتا ہوں۔ تیمور نے اس سے پوچھا کہ تو اب اپنے مستقبل بارے بتا کہ تو کب اور کس طرح مرے گا۔ برہمن نے بڑا دلچسپ جواب دیا۔ اے عظیم امیر، آنکھ ہر چیز دیکھ لیتی ہے، لیکن خود کو نہیں دیکھ سکتی۔ تیمور کو اس کی بات بھائی اور برہمن کی جاں خلاصی ہو گئی۔

تیمور اپنی خود نوشت میں لکھتا ہے کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے بچپن کا استاد عبداللہ قطب میرے خواب میں آیا اور غمزدہ نظر آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو غمزدہ کیوں ہے کیا تیرے بچوں کو وظیفہ وقت پہ نہیں مل رہا۔ عبداللہ قطب بولا: یہ کیسے ممکن ہے کہ تو کسی کا وظیفہ مقرر کرے اور کس میں اتنی جرات ہے کہ وہ وظیفہ ادا نہ کرے۔ میں نے پھر پوچھا کہ تو غمگین کیوں ہے تو عبداللہ قطب بولا میں غمگین اس لیے ہوں کہ تو مر جائے گا۔

تو اگلے تین برس میں مر جائے گا۔ عبداللہ قطب کی اس بات سے مجھے ہندوستانی برہمن کی بات یاد آئی جس نے میری بقیہ عمر کی بات کی تھی۔ ہندوستان سے واپسی کے بعد میں نے عمر رفتہ کا حساب کیا تو باقی تین ہی سال بچتے تھے۔ میں یہ بات اپنے استاد کو بتانا چاہ رہا تھا اور منظر بدل گیا۔ عالم خواب میں ہی تین برس کا عرصہ بیتا اور میں نے خود کو ایک وسیع و عریض دشت میں اپنے لشکر کے درمیان پایا اور جنوب کی جانب افق پہ ایک لکیر دکھائی دیتی ہے اور میرا سردار بتاتا ہے کہ یہ دیوار اتنی لمبی ہے کہ ایک سرا مشرق میں اور دوسرا مغرب میں یزدان تک ہے۔

میں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہی دیوار چین ہے؟ وہ سردار ہاں میں جواب دیتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ دیوار کتنی ہی طویل اور مضبوط سہی لیکن پھر بھی حصار اصفہان، دیوار دہلی، اور حصار دمشق جتنی مضبوط نہیں اس لیے میں اس سے گزر جاؤں گا۔ (اسی طرح عالم خواب میں ) میں نے اٹھنا چاہا لیکن میں نے محسوس کیا کہ مجھ میں اٹھنے کی طاقت نہیں، میں نے آواز دی کہ کوئی آئے لیکن میری آواز قابل فہم نہ تھی اور میں بات کرنے کے قابل نہ تھا۔

میری آواز سن کر میرے غلام کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے مجھے اٹھانا چاہا لیکن میں کھڑا نہ ہو سکا اور انہوں نے مجھے لٹا دیا۔ طبیب نے میرا معائنہ کیا، نبض پہ انگلیاں رکھیں، میری پلکوں کو الٹا کر جائزہ لیا اور آخر میں میرے کان میں سرگوشی کی کہ اے امیر تو سکتے کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اس لیے تو اب آرام کر۔ میں نے کہا کہ میرا ٹھہرنا جنگی کاموں میں تاخیر کا سبب بنے گا اس لیے مجھے تخت رواں پہ لٹا کر چل پڑو، لیکن یہ کہنے کے لئے بھی میرے منہ سے ایک لفظ نہ نکل سکا۔ میں نے قلم دوات منگوائی تا کہ میں لکھ کر حکم جاری کر سکوں لیکن میں یہ بھی نہ کر سکا۔ میرے ہاتھ میں قلم اٹھانے کی سکت بھی نہ رہی۔ میرے اردگرد لوگ یہ سمجھنے لگے کہ میں مردہ ہوں اور وہ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ اس کے جسد خاکی کو دفنانے کے لئے سمرقند لے جانا چاہیے۔ عین اس موقع پر میری آنکھ کھل گئی۔

گو کہ یہ سب خواب تھا اور تیمور نے خود نقل کیا لیکن حیران کن طور پر تیمور کی موت طبعی حالت میں تین سال بعد ملک چین کی مہم جوئی کے دوران انہی حالات میں سکتے کے عالم میں ہوئی جو اس نے خواب میں دیکھا۔ سات روز تک بستر پہ رہا اور پھر وہیں اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ اس کی میت کو سمر قند میں دفنا دیا گیا۔ اور یوں ہندوستانی برہمن اور عبداللہ قطب کی پیش بینی اور تیمور کا عجیب و غریب خواب درست ثابت ہوا۔

تیمور نے موجودہ ہندوستان، پاکستان، ایران، افغانستان، آذربائیجان، ترکی، شام، عراق، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان، کرغستان جیسے ممالک اپنی قلمرو میں شامل کیے۔ وہ ملک چین فتح کرنا چاہتا تھا لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور یوں یہ ظالم و جابر حکمران جس نے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا، عظیم سپہ سالار جس نے کروڑوں مربع کلومیٹررقبہ اپنی راجدھانی میں شامل کیا، حافظ قرآن جس نے قرآن کی سورہ کی ترتیب بدلنا چاہی اور ان کو نزولی ترتیب میں لانا چاہا لیکن علماء کے منع کرنے پہ باز رہا، عالم دین کہ جس کا کوئی مقابلہ نہ کر سکتا تھا، قابل فقیہہ کہ فقہ پہ اس جیسی دسترس نہ تھی، علم دوست ایسا کہ علماء کے گھروں کو دارالامان قرار دینے والا، جنگجو ایسا کہ شاید ہی کرہ ارض پہ کوئی ایسا بہادر پیدا ہوا ہو، سنگدل ایسا کہ اپنے بیٹے کے قتل پہ بھی آنسو نہ بہانے والا، براعظم ایشیا کا بیشتر حصہ زیر نگیں کرنے والا اپنے منطقی انجام کو آن پہنچا اور 1405 عیسوی میں وفات پا گیا۔ یوں ایک چرواہے کے بیٹے نے بہادری کی بناء پہ تاریخ میں اپنا نام رقم کروایا۔ اس کا مقبرہ سمرقند میں واقع ہے جو کہ اس نے اپنی زندگی میں ہی تعمیر کروایا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •