نونہالانِ عصر حاضر کی چیدہ چیدہ اقسام

ویسے تو پطرس بخاری کا بچوں کے حوالے سے ایک مضمون اردو ادب میں موجود ہے، جس میں نہایت جامع انداز میں بچوں کی اقسام، عادات و اطوار، اور ہمسایوں پہ اس کے اثرات تفصیلی طور پر بیان کیے گئے ہیں اور اس کے بعد اس موضوع پہ مزید لکھنے کی گنجائش نہیں لیکن بخاری صاحب کی روح سے پیشگی معذرت کے ساتھ میں اس موضوع پہ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں کیونکہ معروضی حالات بدل چکے ہیں اور

Read more

جوتے کو عزت دو

کہتے ہیں کہ مرد کی شخصیت کا اندازہ کرنا ہو تو اس کی گھڑی اور جوتا دیکھنا چاہیے۔ اور عورت کی شخصیت اس کے لباس کے انتخاب سے جھلکتی ہے۔ بڑے بڑے سیاسی رہنما قیمتی گھڑیوں اور دلکش جوتوں سے اپنی شخصیت کو نکھارتے رہے ہیں، ان میں قائداعظم، ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، میاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور موجودہ وزیراعظم بھی شامل ہیں۔ گو کہ موجودہ وزیراعظم اب بہت سادہ لباس پہنتے ہیں، پر جو بھی پہنتے ہیں انہیں بہت جچتا ہے۔ اور جو چپل وہ شلوار قمیض کے ساتھ پہنتے ہیں اس کا تو نام ہی کپتان چپل پڑ گیا ہے۔

Read more

دل کو لگتی ہے بات بکری کی

حضرت اسماعیل والے دنبے سے لے کر آج تک بھیڑ بکریوں کے ریوڑ خدا کی راہ میں اور انسانی شکم کی آگ بجھانے کے لئے قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ ویسے تو بکرا اور بکری دونوں مظلوم ہیں لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ بکرا زیادہ مظلوم ہے یا بکری۔اس مضمون میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے۔ اگر ضرب الامثال سے سمجھنے یا سمجھانے کی کوشش کریں تو ایک ضرب المثل ہے ”بکرے کی ماں کب تک خیر منائے

Read more

مجھے بیٹا چاہیے

فیس بک پہ ایک مقولہ پڑھا جو کہ سعادت حسن منٹو سے منسوب تھا، اب یہ انہوں نے کہا کہ نہیں لیکن فقرے میں بہت گیرائی اور گہرائی تھی۔ مقولہ کچھ یوں ہے کہ ”بیٹی کا جو ہم پہلا حق کھا جاتے ہیں وہ اس کے پیدا ہونے کی خوشی ہے“ جب بھی کسی لڑکا لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو ان کے والدین کی دن رات یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی جلد سے جلد اولاد ہو جائے

Read more

مسائل زندگی کی علامت ہیں

ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل ایک مجمع سے مخاطب تھے اور انہوں نے حاضرین سے پوچھا کہ آپ میں سے کتنے لوگ مسائل کا شکار ہیں؟ سب نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ آپ میں سے کتنے لوگ مسائل سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں؟ سب نے ایک بار پھر ہاتھ کھڑے کر دیے۔ پھر نارمن ونسنٹ پیل نے کہا کہ ابھی آتے ہوئے میں نے راستے میں ایک جگہ دیکھی جہاں سب لوگ آرام کر رہے تھے اور کسی کو کوئی مسئلہ در پیش نہیں تھا اور نہ ہی وہ کوئی شکوہ یا شکایت کر رہے تھے۔ آپ جاننا چاہیں گے کہ اس جگہ کا کیا نام ہے؟ سب کا جواب ہاں تھا۔ تو اس نے بتایا کہ اس جگہ کا نام قبرستان ہے۔ اس نے پھر پوچھا کہ آپ میں سے کون مسائل سے چھٹکارا چاہتا ہے اور پھر کسی نے ہاتھ کھڑے نہ کیے۔ تو ڈاکٹر نارمن پھر گویا ہوئے کہ مسائل زندگی کی علامت ہیں۔

Read more

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

اے ذوق دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

جس نے بھی ”سگریٹ نوشی کے نقصانات“ پہ سکول کے زمانے میں مضمون رٹا تھا اسے شیخ ابراہیم ذوق کے شعر کا دوسرا مصرعہ ضرور یاد ہو گا۔ یہ شعر ویسے تو دختر رز (انگور کی بیٹی) کے متعلق ہے لیکن دوسرا مصرع کسی بھی قسم کی علت کے لئے صادق آتا ہے چاہے وہ بادہ خواری ہو یا سگریٹ نوشی۔

ریل گاڑی، کرکٹ، چائے، انگریزی زبان، سیاسی جماعتیں اور جمہوریت کی طرح سگریٹ نوشی کو برصغیر میں روشناس کروانے کا سہرا بھی انگریز حکومت کے سر ہے۔ اس خطے کے لوگوں کو تمباکو بیڑی اور سگریٹ پہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہی لگایا

Read more

میں ہوں تیمور ( 1336۔ 1405 )

اس مضمون کا عنوان دراصل ایک کتاب سے مستعار لیا گیا ہے جو کہ ایک فرانسیسی مصنف مارسل بریون Marcel Breven کی تصنیف ہے اور اردو زبان میں اس کا ترجمہ خلیل الرحمٰن اور ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی نے کیا اور پاکستان میں سیارہ ڈائجسٹ نے شائع کیا۔ یہ کتاب تاریخ سے شغف رکھنے والوں کے لئے ایک اہم کتاب ہے۔ مارسل بریون نے امیر تیمور لنگ کی خود نوشت کا ترجمہ کیا ہے۔ امیر تیمور کی بھرپور زندگی کا احاطہ ایک مضمون میں تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اس مضمون میں اس کی زندگی کے متعلق چند دلچسپ واقعات و حقائق بیان کیے جائیں گے جو کہ مذکورہ بالا کتاب سے نقل کیے گئے ہیں۔

امیر تیمور موجودہ ازبکستان کے شہر کیش میں پیدا ہوئے جو کہ سمر قند سے 50 کلومیٹر کی دوری پہ واقع ہے۔ امیر تیمور تفاخر کے طور پر خود کو منگول نسل کا بتاتے تھے اور چنگیز خان کو اپنا پردادا بتلاتے تھے مگر مورخین کے مطابق دراصل وہ ترک منگول تھے نہ کہ خالص منگول۔ امیر تیمور نے پانچ سے زائد نکاح کیے۔ امیر تیمور کے والد کا نام ”ترقائی“ تھا۔ خیبر پختونخوا میں کچھ لوگ نام کے ساتھ ”ترکئی“ قوم لکھتے ہیں، ہو سکتا ہے ان کی آپس میں کوئی نسبت ہو کیونکہ ہندوستان فتح کرنے کے لئے تیمور باب خیبر سے ہی ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔

Read more

میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پہ رکھ دو

گیارہ اگست کو اک اندوہناک خبر راحت اندوری صاحب کے دنیا سے کوچ کر جانے کی ملی۔ شاعری کا ایک اہم باب بند ہو گیا۔ عہد حاضر میں ان جیسا طرز کلام، انداز ادائیگی، منفرد موضوعات شاعری اور اچھوتے خیالات کی شاعری شاید ہی کسی نے کی ہو۔ جدید طرز پہ مزاحمتی شاعری، شعر پڑھتے ہوئے صوتی اتار چڑھاو، مجمع کو مٹھی میں رکھنا، مجمع کو رلا دینا، روتے روتے ہنسا دینا، سٹیج پہ کسی پر جگت کس دینا یہ

Read more

درخت لگائیں، بخت جگائیں

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے پروین شاکر نے کس دلکش انداز میں درخت کے کٹنے کے کرب کی کمال خوبصورتی سے منظر کشی کی ہے۔ اگر آپ کو پرندوں کی چہچہاہٹ سننے اور پرندوں کو اپنے آس پاس دیکھنے کا شوق ہے تو پنجرے نہ خریدیں بلکہ اپنے آنگن میں درخت لگائیں۔ پرندے ان درخت نما پنجروں پہ فریفتہ ہیں اور کھنچے چلے آتے ہیں۔ ایک

Read more

گورا رنگ

عظیم باکسر محمد علی کلے نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ میں نے ایک دفعہ اپنی ماں سے پوچھا کہ ہر اچھی چیز سفید کیوں ہے۔ حضرت عیسی سنہری بالوں، نیلی آنکھوں والے سفید رنگ کے ہیں، فرشتے سفید رنگ کے ہیں، تصاویر میں کالی رنگت کے فرشتے کیوں نہیں دکھائے جاتے، اینجل کیک سفید رنگ کا ہوتا ہے جبکہ ڈیول کیک چآکلیٹ رنگت کا۔ یہاں تک امریکی صدر کی رہائش گاہ کو کاشانہ سفید White House کہتے ہیں۔

Read more

میرے (دانت) درد کو جو زبان ملے

میں نے ایک ہفتہ قبل جاوید ہاشمی صاحب کی نئی تصنیف ”زندہ تاریخ“ پڑھنا شروع کی۔ اب تک 450 صفحات پڑھ چکا ہوں۔ ان 450 صفحات میں سے تقریباً 300 صفحات پہ معمولات جیل و دانت کے درد اور دانت کی جراحی اور اس سے گزرنے والے کرب کی روداد درج ہے۔ اس کا میں نے اتنا اثر لیا کہ میری اپنی داڑھ میں درد شروع ہو گیا ہے اور تا حال جاری ہے۔ آپ شاید اسے حسن اتفاق کہیں لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ کیونکہ دانت کا درد نہ ہی حسین ہے اور نا ہی حسن اتفاق کے زمرے میں آتا ہے۔

آج کل میری تعیناتی بلوچستان کے ایک دور افتادہ علاقے میں پاکستان ایران بارڈر پر ہے جس کا نام تفتان ہے۔ یہ ضلع چاغی کی سب تحصیل ہے۔ ضلع چاغی کو کئی حوالہ جات کے اعتبار سے منفرد مقام حاصل ہے۔ مثلاً یہ وہ جگہ ہے جہاں پہ پاکستان نے 28 مئی 1998 کو پانچ ایٹمی دھماکے کیے۔ دوسرا یہ کہ یہ ضلع رقبہ کے لحاظ سے نا صرف بلوچستان کا سب سے بڑا ضلع ہے بلکہ پاکستان کا بھی سب سے بڑا ضلع ہے اور اس کا رقبہ 44748 مربع کلومیٹر ہے۔ تیسرا یہ کہ یہ پاکستان اور بلوچستان کا واحد ضلع ہے جس کا بارڈر دو ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ لگتا ہے۔

Read more