ٹائم مینیجمنٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راوی کہتا ہے کہ کسی بادشاہ کے دربار میں ایک بازی گر بہروپیا آیا اور اپنا فن دکھانے لگا۔ اس نے ایک سو فٹ کے فاصلے پر ایک سوئی کو زمین میں عموداً گاڑا اور پھر ایک دوسری سوئی عین نشانہ تاک کر ایسی تیزی سے جو ماری کہ وہ پہلی سوئی کے ناکے میں سے ہوئی نکل گئی۔ وزیروں، مشیروں اور درباریوں نے تالیاں پیٹ پیٹ کر آسمان سر پر اٹھا لیا اور بازی گر بھی داد و انعام کی غرض لئے للچائی ہوئی نظروں سے بادشاہ کی طرف دیکھنے لگا۔

بادشاہ مگر ساکت و جامد اپنی جگہ پر سنجیدگی سے بیٹھا رہا اور گہری سانس لے کر کافی دیر بعد خزانچی سے مخاطب ہوا ”اس کو دو اشرفیاں دے دو۔“
اس کے بعد جلاد سے کہا ” الٹا لٹا کر ایک سو جوتے اس کی پشت پر مارے جائیں۔“

حکم کی تعمیل ہو گئی اور بازی گر بھی ادھ موا ہو چکا تو بادشاہ اس سے مخاطب ہوا
” دیکھو! تمھارا اور سارے حاضرین کا تعجب اپنی جگہ لیکن یہ فقط دو اشرفیاں اس لیے کہ تمہیں معلوم ہو کہ کم و بیش ایک یا دو سال کی محنت شاقہ کے بعد تم نے یہ جو ہنر حاصل کیا ہے اس کی اوقات کتنی ہے۔ یہ اس کا معاوضہ ہے کیونکہ تم انعام کی امید لے کر یہاں آئے۔ اور مجھ ایسے بادشاہ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی کا دل توڑے۔

اور دوسرا ”معاوضہ“ اس لیے دیا گیا کہ تمہیں احساس ہو کہ جس لا یعنی و لا مفید ہنر کو حاصل کرنے میں تم نے اتنا قیمتی وقت برباد کیا اسے کسی تعمیری کام میں صرف کر سکتے تھے۔ ”
دروغ بہ گردن راوی۔

تو حضور!
اس ساری داستان گوئی کا مقصد فقط یہ بتانا ہے کہ اس زیست محدودہ میں ”وقت“ ایک نہایت قیمتی خزانہ ہے۔ اسے یوں بے جا ضائع نہ کیجیئے جیسے اس بہروپیے نے ضائع کیا۔ اسے کو کارآمد بنائیے۔ صبح سے شام تک ہماری گفتگو جو ہے وہ شخصیات، مذہب اور سیاست کا احاطہ کیے رکھتی ہے۔

یہ سب سطور لکھتے ہوئے ایک چیز جو بار بار ذہن میں آ رہی ہے وہ ایک مشہور مذہبی شخصیت کی موت کی خبر ہے۔ کل سے اب تک سوشل میڈیا پر ایک ہنگام بپا ہے۔ لمبے چوڑے تبصرے و مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ ایک طبقہ مرحوم کو مطعون کر رہا ہے تو دوسرا زیب مضمون بنا رہا ہے۔

یہ ساری بحث وقت کا ضیاع نہیں تو کیا ہے؟ بھئی آپ کا اس سب سے کیا لینا دینا؟ آپ اور آپ کے اہلخانہ کی زندگیوں پر اس کا کتنا اثر پڑنے والا ہے؟

اچھا یہ بھی چھوڑیے۔
ٹیلی فون پر
”اور سناؤ؟“ کی تکرار ہے۔ بھئی کہہ دیا سب ٹھیک ٹھاک۔ اب کوئی کام کی بات ہو جائے؟ نا جی ناں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
”او یار! میرے فری منٹ پڑے تھے سوچا تجھے کال کر لوں۔“

دو منٹ بعد ، اگر اتفاق سے ایک یا دو سیکنڈ کی خاموشی ہو گئی تو دوبارہ ”اور سناؤ؟“
”بس بہترین!“
”کیا پکایا تھا آج؟“
”دال چاول اور تم نے؟“
”ہم نے ساگ“

”ساگ ہم بھی سوچ رہے ہیں کل یا پرسوں پکائیں مگر اس کمبخت میں محنت بہت ہوتی ہے اور آج کل تو سرسوں کا خالص ساگ ملتا کہاں ہے پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ۔ الخ“

اگلے پانچ منٹ ساگ کی نذر ہوئے۔

ذرا تصور کریں گراہم بیل (لینڈ لائن ٹیلی فون کا موجد) اور مارٹن کوپر (جدید موبائل فون کا موجد) کی ارواح پر کیا گزرتی ہوگی؟ تڑپ ہی تو جاتی ہوں گی۔

بالمشافہ گفتگو میں گھوم پھر کر مہنگائی سے بات شروع ہوگی اور حکومت کے ایوانوں کو روندتی ہوئی اپوزیشن کی کی منگنیوں، شادیوں اور سکینڈلز کا طواف کرتی پھر سے حکومتی ایوانوں کی خوابگاہوں میں سے پھلانگتی مسالک کی بحث میں جا پڑے گی۔

مجال ہے طرفین میں سے کسی نے تڑکے تڑکے نماز فجر ادا کی ہو لیکن ایسی روانی و طغیانی میں مذہبی مسائل اور مسلکی اختلافات پر رد و کد ہو رہی ہے کہ الحفیظ و الاماں۔

کچھ پڑھے لکھے یا باشعور ہوئے تو ماحول کی گرمی کا اندازہ کرتے ہی پہلو بدل کر موضوع پھیرا اور اپنا پنڈ چھڑا لیا ورنہ کلے، کان اور آنکھیں لال کر کے لگے بحر مغلظات میں گھوڑے دوڑانے۔

یا پھر
”فلاں کی سنو!
پچھلے ہفتے کیا ہوا میرے پاس آ گیا پیسے مانگنے۔ الخ ”
اگلا آدھ پون گھنٹہ ان فلاں صاحب کو الم نشرح کرتے گزارا۔

شام کو کام سے گھر لوٹے تو گھر میں کھانے سے سونے تک اہلخانہ سے یا تو متذکرہ بالا موضوعات میں سے ہی کسی ایک پر طبع آزمائی کی جائے گی۔ یا پھر بچوں کی شکایات سن کر کھلی کچہری کا انعقاد ہوگا یا رشتے داروں کے ”خصائص و فضائل“ پر تبادلۂ خیال فرمایا جاوے گا اور سخت سے سخت فیصلے صادر فرمائے جاویں گے جن میں سے ”آئندہ ان کے گھر قدم نہ رکھنا“ سر فہرست ہوگا۔

کیا کبھی ہم نے ٹھنڈے دماغ سے غور کیا کہ ہم خالصتاً اپنے، اپنے اعزہ و اقارب، گرد و پیش، اپنی زندگی، اپنے مستقبل اور معاشرے کو بہتر بنانے کے بارے میں روزانہ کتنا سوچتے ہیں؟

کیا ہم نے احتساب کیا کہ ہمارا کتنا وقت روزانہ ضائع ہو رہا ہے؟
بچوں کی تربیت پر ہم کتنا وقت صرف کرتے ہیں اور خود اپنی تربیت پر کتنا؟
آپ کہیں گے خود اپنی تربیت بھلا کیسے ہوتی ہے؟

جی بالکل ہوتی ہے۔ خود احتسابی سے ہوتی ہے۔ غور و فکر سے ہوتی ہے، سیکھنے سے ہوتی ہے اور زندگی کو منظم بنانے سے ہوتی ہے۔

آخر میں ہم سب کے لئے ایک فارمولہ پیش خدمت ہے۔

وقت کی اہمیت کے پیش نظر اپنے تمام امور کو چار حصوں پر مشتمل ایک جدول میں تقسیم کیجیئے۔

اول : وہ تمام کام جو آپ کو ”فوری“ کرنے ہیں مگر ”اہم“ ہرگز نہیں۔
مثلاً ”یار دوپہر کو تین بجے اپنی گاڑی لے کر آجانا میرا کزن دبئی سے آ رہا ہے اسے ائرپورٹ لینے چلیں گے۔ لازمی پہنچنا بھائی۔ کوئی بہانہ نہیں۔“

دوم: وہ تمام کام جو آپ کو ”فوری“ کرنے ہیں اور آپ کے لئے ”اہم“ بھی ہیں۔ اہم اس لئے کہ اگر نہ کیے گئے تو نقصان کا اندیشہ ہے۔
مثلاً بل ادائیگی کی آخری تاریخ ہے اور بجلی کا بل جمع کرانا ہے۔

سوم: وہ تمام کام جو نہ تو آپ کو ”فوری“ کرنے ہیں اور نہ آپ کے لئے ”اہم“ ہیں۔ مثلاً سوشل میڈیا کی سکرولنگ
چہارم: وہ تمام امور جو فی الوقت تو ”فوری“ نہیں کرنے لیکن بہرحال وہ ”اہم“ ہیں۔

گو کہ ابھی ان کے کرنے کے لئے کافی وقت باقی ہے لیکن مستقبل قریب میں اگر ان کو نہ کیا گیا تو نقصان کا اندیشہ ہے

مثلاً یکم تاریخ کو موصول ہونے والا بجلی کا بل جس کی ادائیگی کی آخری تاریخ اسی ماہ کی بارہ تاریخ ہے۔ تو یکم تاریخ کو یہ بل اسی چوتھے خانے میں آئے گا کہ اس کے کرنے کو ابھی گیارہ دن کا وقت بھی ہے اور یہ اہم بھی ہے۔

ترقی یافتہ لوگ خود کو اور اپنے امور زندگانی کو خانہ چہارم میں رکھ کر کرتے ہیں لہذا ان کو اپنا معیار زندگی بلند کرنے، سیر و تفریح کرنے، خود کو وقت دینے اور نئے منصوبوں پر کام کرنے اور انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا خاطر خواہ وقت مل جاتا ہے۔

پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ لوگ ساری زندگی اس جدول کے تیسرے اور پہلے خانے میں گزار دیتے ہیں۔
باقی مڈل و لوئر مڈل کلاس اکثریت خانہ دوم میں رہتی ہے۔
آپ کون سے خانے میں ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •