کھلے پنجرے کا قیدی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک قیدی ہوں مگر میرا پنجرہ کھلا ہوا ہے۔ اب آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا ہو گا کہ میاں تم پنجرے سے باہر نکل کر آزاد کیوں نہیں ہو جاتے۔ کیا تم کو آزادی پسند نہیں ہے یا تم کو اسیری میں مزہ آتا ہے یا تم؟ ارے ارے ٹھہر جائیے اس سے پہلے کہ آپ کے سوالات کی مزید بوچھاڑ ہو، میرے پنجرے کے قریب آ جائیے اور میرے ساتھ میرے فاتحین مغلیہ دربار میں چلیے۔ یہ جو منظر میں آپ کے سامنے دربار لگا ہے اس میں میرے پنجرے کا بھاؤ تاؤ ہو رہا ہے اور میں داہنی آنکھ کو بند کر کے، اپنا بایاں پاؤں اٹھا کر مسرت کے ساتھ ان کو دیکھ رہا ہوں۔

اسی لمحے وہ پنجرہ میرے اوپر رکھ دیا جاتا ہے اور جب میری آنکھ کھلتی ہے تو 1857 ء کا سورج طلوع ہو چکا ہوتا ہے۔ اب میرا پاؤں زمین پر لگ جاتا ہے۔ میں پنجرے کی آہنی سلاخوں کے ساتھ اپنا سر مارتا ہوں کبھی کبھی جوش میں آ کر اپنا وجود سلاخوں سے ٹکرا دیتا ہوں اور کبھی بھوک ہڑتال کرتا ہوں، کبھی ننگا ہو جاتا ہوں اور کبھی رات کے سناٹے میں آزادی، آزادی کی گردان کرتا ہوں۔ ایک رات اسی حالت میں بے ہوش ہو جاتا ہوں اور جب میری آنکھ کھلتی ہے تو 1947 ء کے سورج کی سنہری کرنیں میرے چہرے کو حرارت دے رہی ہوتی ہیں اور میں ادھر ادھر دیکھتا ہوں تو ششدر رہ جاتا ہوں کہ میرا پنجرہ سونے کا ہو چکا ہے اور اس کا دروازہ کھلا ہے مگر میں اس قدر لاغر ہو چکا ہوں کہ اٹھنے کی سکت باقی نہیں رہتی۔

میں نڈھال حالت میں سارا دن ایک کونے میں پڑا رہتا ہوں۔ وقفے وقفے سے چند آوازیں میرے کانوں تک آتی ہیں ”باہر آ جاو“ ۔ ”اب بس کر دو“ ۔ ”آزادی زندہ باد“ مگر میں ان سب سے بے نیاز دن بھر خالی آنکھوں سے کبھی زمین کو دیکھتا ہوں تو کبھی آسمان کو تکتا رہتا ہوں۔ رفتہ رفتہ پنجرہ زنگ آلود ہونا شروع ہو جاتا ہے مگر آوازوں کا شور کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا شور اور کبھی ادھر تم ادھر ہم کا شور بے چین کرتا ہے۔

ایک رات جب میری آنکھ کھلتی ہے تو ہر جانب ایک ہنگامہ برپا ہوتا ہے، ہر طرف آہ و بکا ہوتی ہے اور ہوا میں لہو کی خوشبو بسی ہوتی ہے۔ اسی ہنگامے میں میری آنکھ لگ جاتی ہے اور جب سورج کی چمک مجھے بیدار کرتی ہے تو 1971 ء آ چکا ہوتا ہے۔ میرے پنجرے میں خون کے چند قطرے ہوتے ہیں اور میرا آدھا پنجرہ غائب ہو چکا ہوتا ہے۔

میں آہستہ آہستہ اپنے حواس بحال کرتا ہوں اور پنجرے کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتا ہوں۔ اب مجھ میں ہمت نہیں رہتی کہ میں اپنا منہ آسمان کی جانب کروں کیونکہ میرا آدھا کٹا پنجرہ میرا منہ چڑاتا ہے۔ شب و روز اسی طرح گزرتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی کافر، کافر کا شور، غدار غدار کی گونج سنائی دیتی رہتی ہے اور میں اپنا سر باقی ماندہ پنجرے کے ساتھ لگا کر بیٹھ جاتا ہوں۔ کبھی کبھی چند آوازیں مجھے اپنی جانب متوجہ کرتی رہتی ہیں مگر سب کے لفظ ایک سے، قول ایک سے ہوتے ہیں اور میں بے چینی کے عالم میں کبھی ایک کان پر ہاتھ رکھتا ہوں کبھی دوسرے پر۔

لگتا ہے آپ کو پنجرے کے پاس کھڑے ہونے سے اب اکتاہٹ ہو رہی ہے آپ جا سکتے ہیں مگر اس پنجرے پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالتے جائیے، جس کو عدم برداشت کا پانی اور نفرت کی ہوا نے مزید زنگ آلود کر دیا ہے۔ جسں کی سلاخوں پر خون کے دھبے ہیں۔ اب میرا سر اس پنجرے کی سلاخوں پر ہے۔ میرا آدھا پنجرہ غائب ہے مگر میں آج بھی کھلے پنجرے کا قیدی ہوں۔

Latest posts by عاصم علی پنو (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عاصم علی پنو کی دیگر تحریریں