سوال

اپریل کی ایک سرمئی شام کا وہ وقت جب سورج جامن کے درختوں کے برابر آ چکا تھا۔ علی اور حسن جامن کے ایک بوڑھے درخت سے ٹیک لگائے سامنے سڑک کی جانب دیکھ رہے تھے۔ وقفے وقفے سے کوئی کار یا موٹرسائیکل سڑک سے جب گزرتی تو دھول کے کئی دائرے ہوا میں اپنے پیچھے پیچھے بناتی چلی جاتی۔ سڑک کی دوسری جانب گندم کے کھیت تھے اور دن بھر گندم کے سٹے بھٹی میں پکتے رہے تھے اور

Read more

کھلے پنجرے کا قیدی

میں ایک قیدی ہوں مگر میرا پنجرہ کھلا ہوا ہے۔ اب آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا ہو گا کہ میاں تم پنجرے سے باہر نکل کر آزاد کیوں نہیں ہو جاتے۔ کیا تم کو آزادی پسند نہیں ہے یا تم کو اسیری میں مزہ آتا ہے یا تم؟ ارے ارے ٹھہر جائیے اس سے پہلے کہ آپ کے سوالات کی مزید بوچھاڑ ہو، میرے پنجرے کے قریب آ جائیے اور میرے ساتھ میرے فاتحین مغلیہ دربار میں چلیے۔ یہ جو منظر میں آپ کے سامنے دربار لگا ہے اس میں میرے پنجرے کا بھاؤ تاؤ ہو رہا ہے اور میں داہنی آنکھ کو بند کر کے، اپنا بایاں پاؤں اٹھا کر مسرت کے ساتھ ان کو دیکھ رہا ہوں۔

Read more