چالیسویں منزل سے گرتے میں نے سوچا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے اپنے آپ سے ایک سوال پوچھا: دنیا میں اتنا درد کیوں ہے؟ الفاظ بے حس و حرکت زبان کی تہ میں پڑے رہے۔ کسی میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ جواب کا ساتھ دے پاتا۔ ڈستی ہوئی خاموشی کے نہ سرکتے ہوئے لمحے پاؤں پسار کے بیٹھ گئے۔ ایک بے نام کی آواز نے مجھے اندر اور باہر سے گھیر لیا۔ میرا حال اس سیارے کی مانند تھا جس کے باہر کی جانب کڑکتی ہوئی خلا کا ماضی تھا۔ اور اندر کی طرف دہکتے ہوئے سورج سا مستقبل۔ اور میں ان کے درمیان معلق۔ کانوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں جو ذہن کی کھڑکیوں تک پہنچتے پہنچتے طوفان کی شکل اختیار کر گئیں۔ شعور ریزہ ریزہ ہو گیا اور لاشعور میں ایک بازگشت سنائی دینے لگی۔ مجھے مر جانا چاہیے۔ مجھے مر جانا چاہیے۔

میرے ہوش بحال ہوئے تو میں اپنے دفتر کی اڑتیسویں منزل پر بیٹھا تھا۔ اچانک کمرے سے نکل کر سیڑھیوں کی طرف لپکا اور چھت پر آ نکلا۔ یعنی عمارت کی چالیسویں منزل پر۔ میں آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ بادل یوں دکھائی دے رہے تھے گویا ایٹم بم کے دھویں ہوں اور گیس کے اڑتے ہوئے ہیولے ہوں۔ میں کنارے پر آ گیا اور نیچے دیکھنے لگا۔ ایسا لگا کہ جیسے زمین کو دیمک چاٹ گئی ہے۔ گاڑیاں حشرات کی طرح رواں دواں تھیں۔ انسان کا تو نشان ہی مٹ گیا تھا! میں دیوار پر چڑھ گیا۔ پسینے کے قطرے ہوا کے پنکھوں سے مل کر خوب روئے۔ پھر درد کی حدت سے یہ آنسو بھی ابل کر جسم کو داغنے لگے۔ میں نے اپنے آپ کو سرکتا ہوا محسوس کیا۔ یہاں ٹھہرنا فضول ہے، بے ثمر ہے۔ اور میرے قدم دیوار کے آہنی وجود کو کھو بیٹھے۔ میں ہواؤں میں آ چکا تھا۔

فرش کے چھوٹتے ہی گویا تکلیفوں کا خاتمہ ہو گیا۔ جسم کو تیزی سے چھوتی ہوئی ہوا مجھے تھپکیاں دینے لگی۔ میں اپنے آپ سے مطمئن تھا اور خوش تھا۔ دنیا کے جھمیلوں کو میں بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا اور دنیا والوں پر ہنس رہا تھا۔ کیسے ڈھور ڈنگروں کی طرح ڈھوئے جا رہے تھے! فتح مندی کے نشے میں میں انہیں پکار پکار کر کہ رہا تھا: لوگو، مجھ سے سبق سیکھو۔ میں وہ سورما ہوں جس نے دکھ کو مات دی۔ میں صحیح معنوں میں انسان کے درد کا نجات دہندہ ہوں۔

مجھے انسانیت پر ترس آنے لگا۔ زندگی کی حماقت پر ہنس رہا تھا میں۔ کیا دنیا ہے! ایک آدمی ہے جس کے پاس اپنے طویل کنبے کو دینے کے لئے دو وقت کی روٹی نہیں۔ ایک عورت ہے جو ہر سال ایک نئے بچے کو جنم دینے کے لیے موت کو گلے لگاتی ہے۔ ایک باپ ہے جس کا بیٹا آوارگی اور نالائقی کی تمام حدیں پار کر چکا ہے۔ ایک ماں ہے جس کی بیٹی کا سسرال اس کے لئے جہنم بن چکا ہے۔ آہ، یہ زندگی کی ڈور ہی تو ہے جس میں درد کے یہ سارے مجسمے پروئے ہوئے ہیں۔ اگر یہی دھاگہ ٹوٹ جائے تو کون سا بت ٹھہر سکے گا؟ سب ہواؤں میں بکھر جائیں گے۔ خلاؤں میں رقص کرنے لگیں گے۔ میری طرح۔ میرا چہرہ فخر سے سرخ ہو گیا۔

دس منزلوں کا فاصلہ طے ہو چکا تھا۔ اب میں دنیا کے دکھوں کو ایک طرف رکھ کر اپنی گزشتہ تکلیفوں کو شمار کرنے لگا۔ سامنے کی اتنی بڑی عمارت میں میں ایک معمولی سی نوکری کرنے پر مجبور تھا۔ میں نے بہت پڑھا۔ لیکن اس ملک میں میری ڈگری کی اہمیت کا کسی کو احساس نہ ہوا۔ گھر کو پالنے کے لئے کچھ تو کرنا ہی تھا۔ رضا مند ہو گیا۔ میری کمائی گھر کے خرچ کے آگے ہمیشہ شرمندہ رہی۔ میں قرض کے بوجھ تلے آ دبا۔ یہاں تک کہ میری خوشیوں کا، جو بہت پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں، جنازہ بھی نکل آیا۔ اب ہوائیں مجھے اپنے کندھوں پر اٹھائے زمین کی طرف لے جا رہی تھیں۔ جو مجھے اتنی زور سے زمین پر پٹخیں گی کہ میں خود بخود خون کے کفن میں لت پت ہو جاؤں گا۔ ایک شخص جسے دکھوں نے شہید کر دیا۔

آدھا سفر طے ہو چکا تھا۔ یعنی موت سے صرف بیس منزلوں کی دوری۔ اس لفظ ’موت‘ پر آ کر میں چونک پڑا۔ میں اتنی دیر سے دنیا، اس کے درد اور تباہ حالیوں کا رونا رو رہا تھا۔ یہ تو فقط ایک رخ ہے تصویر کا۔ اور دوسرا ہے موت۔ سو مجھے اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ موت کے ’لفظ‘ نے میرا خیر مقدم فراخ دلی سے کیا اور اپنا تعارف کرانے لگا۔ روح کے نکلنے کی شدت، قبر کی اندھیری، جہنم کی ہولناکیاں۔ میں نے اس سے منہ پھیر لیا۔

دراصل میں ابھی کچھ اور دیر ’دنیا کے مسائل‘ پر غور و فکر کرنا چاہتا تھا۔ مگر یہ میرا طواف کرنے لگا۔ میں چاہتا بھی تو اس سے نجات حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اپنی مرضی سے چل کر تو اس کے پاس آیا تھا۔ سب کشتیاں جل چکی تھیں۔ واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہر چیز متعین ہو چکی تھی۔ صرف کچھ ہی لمحوں کی بات تھی۔

دس منزلیں رہ گئی تھیں۔ ہر دھندلی چیز اب واضح ہونے لگی۔ رنگ برنگی گاڑیاں برق رفتاری سے سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں۔ لوگ خراماں خراماں فٹ پاتھ پر چل رہے تھے۔ کچھ ساتھ پارک میں شام کی سیر کے مزے لوٹ رہے تھے۔ موسم ابر آلود تھا۔ ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی۔ موت کا ’لفظ‘ میری آنکھوں پر پٹی باندھنے لگا۔ میں بے تابی سے اسے اتار لیتا اور گھور گھور کر دنیا کی طرف دیکھنے لگتا۔ وہ پھر باندھ دیتا۔ میں پھر اتار لیتا۔

تم جیسوں کو قابو میں کرنا آتا ہے مجھے۔ وہ قہر آلود آواز میں بولا۔ اس کے تن بدن میں تلخی کی آگ بھڑک اٹھی۔ چار منزلیں باقی رہ گئی تھیں۔ موت کا خوف مجھے ڈس رہا تھا۔ ہڈیوں کا تڑخنا سنائی دینے لگا۔ بہنے والا خون ابھی سے مجھے بھگو رہا تھا۔ اپنے چیخنے کی آواز چیخنے سے پہلے ہی سنائی دینے لگی۔ دو منزلیں رہ گئی تھیں۔

ہائے، میرے خدا، یہ میں نے کیا کیا؟ اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا گلا گھونٹ دیا۔ کتنی آسانی اور ڈھٹائی کے ساتھ اس خوبصورت دنیا کو خیر آباد کہہ دیا۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور اپنی روح کو جسم سے نکلنے پر زبردستی مجبور کیا۔

صرف ایک منزل باقی رہ گئی تھی۔ اب زیادہ وقت نہیں تھا۔ حتی کہ سوچنے کے لئے بھی کچھ نہ بچا تھا۔ داد رسی کے لئے کوئی لفظ بھی آگے نہ آیا۔ ’درد‘ عین وقت پر ساتھ چھوڑ گئے۔ لوگ بے فکری میں مگن تھے۔ اور میں حسرت بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ زندہ وہ بھی تھے۔ زندہ میں بھی تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ان کے پاس زندگی کی امانت محفوظ تھی۔ جبکہ میں اس میں خیانت کر چکا تھا۔ اور میں زمین پر آ گرا۔

صبح کے اجالے کی ایک باریک سی دھنک دروازے سے چھن کر اندر کی جانب آ رہی تھی۔ کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں؟ یا کسی بھیانک خواب سے بیدار ہوا ہوں؟ میں اپنے بستر سے الگ ہو گیا۔ کمرے کی ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی تھی۔ زندگی ہر چیز میں رواں دوں تھی۔ مجھ سمیت۔ دروازے پر کھڑے میرے درد مسکرا رہے تھے۔ میں نے ہنس کر انہیں گلے لگا لیا۔ خوشی کے آنسو میری آنکھوں سے کوٹ کوٹ کر نکلنے لگے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •