ایک اسٹیج آرٹسٹ۔۔۔ دو کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


\"khurram پہلی مرتبہ ان کی پرفارمنس دیکھی تھی تو میں بہت چھوٹا تها۔ ممی ڈیڈی کے ساتھ گیا تھا۔ یہ اسٹیج پر تالیوں کی گونج اور آرکسٹرا کی گھن گرج میں نمودار ہوئے۔ انہوں نے گرے کلر کا کوٹ پینٹ زیب تن کیا ہوا تها۔ گلے میں شوخ سی ٹائی بڑے سلیقے سے رنگ برنگی ٹائی پن سے اڑسی ہوئی تھی۔ بال کنگهی سے پیچهے کئے ہوئے تهے لیکن ایک آوارہ لٹ ماتهے پر شرارت سے لہرا رہی تھی۔
باریک کتری ہوئی مونچھیں، لمبی لمبی قلمیں، آنکھوں میں سرخ سرخ ڈورے لئے۔ اپنی معاون اداکارہ کے بالکل قریب جاکر جهکتے ہوئے انہوں نے انگریزی ملی اردو میں کوئی رومانی جملہ کہا ہوگا کہ وہ سن کر شرمائی اور ہنستے ہنستے بل کھاتی ہوئی دوہری ہو گئی۔ پورے ہال میں زور دار تالیوں، سیٹیوں اور آرکسٹرا کی گونج میں وائو!، واٹ اے پرفارمنس!!، چییرز! اور گریٹ!! کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

اداکارہ نے بغیر آستینوں کے بلاوز پر مہین سی ساڑھی پہنی ہوئی تهی۔ سر پر اونچا جوڑا بندھا تها۔ بڑی بڑی سیاه پلکوں کو وہ بار بار جھپکا رہی تهی، اور گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ میں نے ڈیڈی ممی کو دیکھا۔ ان کے لباس بهی ایسے ہی تهے بس ڈیڈی نے ٹائی کے بجائے بو ٹائی لگائی ہوئی تھی اور ممی اداکارہ سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھیں۔ میں نے ہال میں موجود دوسرے حاضرین کی طرف نظر ڈالی۔ سب کے سب سوٹ، ساڑھی یا بیل باٹم میں ملبوس نظر آئے بس رنگ مختلف تهے۔

ڈیڈی کے پاس سے آتی انگریزی پرفیوم کی مہک میں میں جیسے کھو سا گیا۔ میں نے بھی اداکارہ کی طرح دوچار گہرے گہرے سانس لئے تاکہ اس خوشبو کو ہمیشہ کے لئے سینے میں محفوظ کرلوں۔

والدین آگے پیچھے رخصت ہوگئے۔ ایک عرصہ بعد وطن جانا ہوا۔ پتہ چلا ان کا اسٹیج شو ہے تو رہ نہیں سکا۔ بیگم کو تیار کرایا اور پہنچ گیا۔ اتنے سالوں کے بعد بھی وہ ویسے کے ویسے ہی لگے، ان کی صحت، جوانی، تازگی اور شادابی، کچھ بھی نہ بدلا تھا، سدا بہار۔ بس کردار کے لحاظ سے گیٹ اپ اور میک اپ مختلف تها۔ بغیر چاک والا گول گلے کا سادہ کرتا، توند نکلی ہوئی، کرتے کے دونوں طرف جیبیں کسی وزن سے لٹکی ہوئی، سامنے کی جیب کے سائیڈ میں ایک پتلی سی درز سے مسواک کی چبائی ہوئی شاخ جھانکتی ہوئی۔ مونچھیں صاف، چهدری داڑهی جس کے کچھ بال کالے سفید اور کچھ مہندی سے سرخ، سر پر گول ٹوپی کے نیچے کٹے پیچهے سے چوکور بال، سرمہ لگی آنکھوں میں وہی سرخ سرخ ڈورے، شلوار پنڈلی تک چڑهی، ماتھے پر گہرے رنگ کی سلوٹیں۔ وہی نیچرل اداکاری اور ڈائلاگ کی ادائیگی کا منفرد انداز۔

اظہارِ عشق کا سین تھا، کسی سے عہد وپیمان باندھے جارہے تھے۔ پچھلے وعدے پورے نہ کرنے پرتاسف اور ندامت کا اظہار تھا۔ عربی الفاظ کا بکثرت استعمال کرتے ہوئے عین اور قاف کو حلق سے انتہائی خوبصورتی سے ادا کرتے۔ عشق جس سے جتایا جا رہا ہے وہ ہستی اسٹیج پر نہیں ہے۔ ان کا کمال کہئے کہ ایسا تاثر قائم تھا جیسے مخاطب سامنے موجود ہو اور مکالمہ دو طرفہ ہو۔ ہال کی چھت تکتے ہوئے یہ مسلسل محو گفتگو تھے۔ کبھی آواز بالکل دھیمی کرتے کبھی بلند آہنگ۔ حاضرین کو سانپ سونگھا ہوا تھا۔ یکایک انہوں نے بلک بلک کر رونا شروع کردیا پس منظر سے آتی دف کی آواز بھی خاموش ہوگئی۔ ایسا لگا کہ پورا ماحول ان کی مٹھی میں بند ہے۔ خود مجھے محسوس ہوا کہ برفیلی ہوائیں چل پڑی ہوں۔ میرا رواں رواں کانپ اٹھا اچانک ان کی سرخ آنکھوں سے دو آنسو کیا ٹپکے پورا ہال واللہ! سبحان اللہ! اور اللہ اکبر! کے نعروں سے گونج اٹھا۔ میں نے کن انکھیوں سے آس پاس بیٹهے حاضرین کو دیکها۔ سب نے اپنے محبوب اداکار سے ملتے جلتے لباس پہنے ہوئے تھے۔ بس کچھ کے سر پر ٹوپی کی جگہ مختلف رنگوں کی پگڑیاں اور صافے تھے۔

اس حصے میں صرف مرد بیٹهے تھے۔ عورتوں کا سیکشن دور سے نظر آتا تھا لیکن عقیدت و احترام سے بیٹھی خواتین کے درمیان اپنی بیگم کو پہچاننے میں ناکام ہوگیا کیونکہ سب نے سر اور کچھ نے چہرے بھی چھپائے ہوئے تھے۔ برابر بیٹھے شخص نے کہنی سے ٹہوکا مار کر توجہ اسٹیج کی جانب مبذول کرائی۔ میں اس کے بدن سے اٹهتی عطر کی خوشبو پر غور کرنے لگ گیا یقیناً خلیجی عود ہے شاید سعودیہ سے آیا ہوگا۔ مجھے ڈیڈی کے پاس سے آتی انگریزی پرفیوم کی مہک یاد آگئی۔ میری آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے۔

سنا ہے ہمارے اس ہر دلعزیز آرٹسٹ کو ایک بالکل نیا کردار ملنے والا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ یہ ہر رول میں زندگی کا رنگ بهر دیں گے ان کے چاہنے والے کبهی مایوس نہیں ہوں گے۔ یہ ہمیشہ کی طرح کروڑہا شائقین کے دلوں پر راج کرتے رہیں گے۔ ان کا فن امر ہے، امر ہی رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *