انسان کی آزادی، اقلیتیں اور ریاست کا مذہب


\"husnainہم لوگ جتنی مرضی گالیاں دیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر آج امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، انگلینڈ اور دوسرے ترقی یافتہ ملک اپنی امیگریشن پالیسی نرم کر لیں اور ان میں پاکستانیوں کے لیے کوئی خاص گنجائش نکال لیں تو پوری قوم سر کے بل قطاروں میں کھڑی نظر آئے گی۔ ابھی پالیسیاں سخت ہیں، سری لنکا، چین اور نیپال جیسے ملک بھی سبز پاسپورٹ کے لیے نت نئے قانون بنا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک کروڑ پاکستانی ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ دو تین ہفتے پرانی اس خبر کے مطابق امیگریشن بیورو نے باقاعدہ اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ ملکی آبادی بیس کروڑ تصور کی جائے تو سمجھیے پانچ فیصد لوگ دوسرے ملکوں کا رخ کر چکے ہیں، چاہے وہ بہتر روزگار کی تلاش ہو، معیار زندگی بہتر بنانے کی خواہش ہو یا کوئی اور مجبوری ہو۔

اس کے مقابلے میں پچھلے پندرہ برسوں کے دوران پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد آدھی رہ چکی ہے۔ یہ تعداد پہلے بھی کوئی ایسی زیادہ نہیں تھی، صرف بیس لاکھ تھی جو دس لاکھ کے قریب رہ گئی ہے۔ مسئلہ کیا ہے، ہمارے لوگ بھاگ بھاگ کر باہر کیوں جا رہے ہیں اور یہاں پاؤں تک نہیں دھرنا چاہتے، ایسا کیوں ہے؟  تین چار سو وجوہات گنوائی جا سکتی ہیں لیکن اس سب کی جڑ پر اگر غور کیا جائے تو وہ انسان اور اس کی آزادی کے احترام کا نہ ہونا ہے۔

لوگ اخباروں میں پڑھتے ہیں اور اپنے ملک میں بیٹھے بیٹھے جان لیتے ہیں کہ دنیا بھر میں جس مسئلے کو سیاسی سطح پر ڈیل کیا جاتا ہے ہمارے یہاں اس کے لیے مذہبی راہنماؤں کے پاؤں چھوئے جاتے ہیں۔ سندھ میں شراب کی بندش ہو یا دوبارہ کھلنے کا عدالتی فیصلہ ہو شدت پسند بیچ میں بیان بازی کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ سندھ اسمبلی اقلیتوں کو زبردستی مسلمان کرنے سے روکنے کے لیے قانون پاس کرے تو اس کے خلاف بھی وہی نصابی دانشور بیان داغتے چلے جاتے ہیں۔ بلاول مندر میں چلا جائے تو انہیں اعتراض ہے، نوازشریف دیوالی میں چلے جائیں تو انہیں مسئلہ درپیش ہے۔ خواتین پر تشدد کے خلاف بات ہو، وہ اس پر تقاریر اور احتجاجی جلوس نکالنے لگ جائیں گے۔ جبری زیادتی کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ کا سوال اٹھے تو پورا پرنٹ میڈیا قصباتی سوچ کا بیوپاری بنا نظر آئے گا اور چاہے تیس برس بعد ہی سہی، حکومت کسی ایک ڈیپارٹمنٹ کا نام ملک کے واحد نوبیل انعام یافتہ سائنسدان کے نام پر رکھنے کا ارادہ کر ہی لے تو وہاں بھی یہ مقبولیت پسند صرف اعتراض برائے اعتراض کریں گے۔ یقین رکھیے کہ اپنے یہاں کوئی دیکھے نہ دیکھے دنیا پوری دیکھتی ہے!

جب برصغیر متحد تھا، انگریزوں کی حکومت تھی تو مسلمان بھی اقلیت میں تھے، شخصی آزادی کے احترام کا سوال وہاں بھی اٹھتا تھا۔ قیام پاکستان کے سفر کی ٹائم لائن اگر دیکھنا شروع کریں تو نظر آتا ہے کہ سب سے پہلے برصغیر میں اقلیتوں کے سیاسی مقام کے حوالے سے ہی بات شروع ہوئی تھی۔ اقلیتوں کے الگ الیکشن، عقیدے کے مطابق عبادت کرنے، تعلیمی نصاب مرتب کرنے، مکمل آزادی سے مذہبی تیوہار منانے اور تنظیمیں بنانے کی بات تو پہلی عالمی جنگ کے فوراً بعد ہی شروع ہو چکی تھی۔ 1920 کے بعد سے ہونے والے مسلم لیگ کے تمام اجلاسوں میں قائداعظم ان تمام چیزوں کی پر زور تائید بھی کرتے تھے اور قوانین مزید بہتر بنانے کے لیے ترامیم بھی پیش کی جاتی تھیں۔ شروع شروع میں مسلمان لیڈروں نے اپنے حقوق کے تحفظ کی کوششیں کانگریس کے ساتھ مل بیٹھ کر صلاح مشورے سے کرنا چاہیں لیکن 1930 کی دہائی کے آخری برسوں میں انہیں احساس ہونے لگا کہ بھئی یہ کام نہیں ہونے والا۔ جہاں جہاں کانگریس کی حکومت تھی وہاں اس کا رویہ عین ایسا تھا جیسا آج ہمارے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ جائز سمجھا جاتا ہے، تو یہ طے پایا کہ جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں وہاں اپنی حکومت کا مطالبہ کر دیا جائے۔ اسی عرصے میں قائد اعظم نے مسلم لیگ کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

قائد اعظم یہ جانتے تھے کہ اقلیتوں کا مسئلہ مکمل طور پر سیاسی مسئلہ ہے اور اسے حل بھی اسی طریقے سے کیا جا سکتا ہے نہ کہ اس چکر میں اہل مذہب کو زحمت دی جائے۔ اس معاملے پر ان کی بہت سی تقریروں کے اقتباس بھی موجود ہیں۔ پھر پاکستان بن گیا اور وہ گیارہ اگست والی تقریر سمجھنے والوں کے لیے روشنی اور ہدایت کا مینار ٹھہری۔

جب پاکستان بنا تو یہاں ہندو، سکھ، پارسی، اور مسیحی اقلیت میں شمار ہوتے تھے۔ بھٹو احمدیوں کو اقلیت بنا گئے، ضیا دور میں شیعہ اقلیت ہوئے، ملک کی پچاس فیصد آبادی – ہماری خواتین، وہ بھی اسی دور میں اقلیت بنیں، بلوچ بھائی اقلیت ہوئے، اندرون سندھ والوں کو کچھ اقلیت اقلیت سا ہونا محسوس ہوا، فاٹا والے الگ روتے تھے، کل ملا کر اگر دیکھا جائے تو اب اس وقت یہاں کسی اکثریت سے زیادہ اقلیتیں موجود ہیں بات صرف ماننے اور نہ ماننے کی ہے۔ اور نہ ماننے کی بات آ ہی گئی ہے تو اس سلسلے کی اعلیٰ مثال ایک بزرگ صحافی نے تین چار ماہ پہلے ان الفاظ میں پیش کی، \”جی چاہتا ہے کہ وہ لوگ جو پاکستان کو جائے امن نہیں سمجھتے انھیں کسی ٹرین میں بٹھا کر احمد آباد چھوڑ دیا جائے، وہ اپنے ناموں وجاہت، حسنین، حنیف، نجم وغیرہ کے ساتھ اس شہر میں رہنے کی کوشش کریں۔ نفرت سہیں، تشدد برداشت کریں \” ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ فقیر کو دو کلومیٹر طویل چھلانگ لگوا کر اس صف میں شامل کر دیا۔

ملک کوئی بھی ہو، اقلیتیں وہاں آزادانہ طور پر رہنے کے قابل تب ہوتی ہیں جب انسان اور اس کی شخصی آزادی کا تصور موجود ہو۔ ریاست یہ جانتی ہو کہ مذہب انسانوں کا ہوتا ہے ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ سادہ الفاظ میں یوں دیکھیے کہ ایک پتھر ہے، ایک درخت ہے، ہوا ہے، پانی ہے، آگ ہے، زمین ہے، پہاڑ ہے، ان سب کا مذہب کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سب ملتے ہیں تو وہ علاقہ بنا دیتے ہیں جو ریاست کہلاتا ہے یا ملک کہلاتا ہے۔ تو مذہب پھر ریاست کا کیسے ہوا، وہاں رہنے والوں کا ہو گا، سر آنکھوں پر ہو گا لیکن وہ سب پھر برابر سمجھے جائیں گے۔

وہ علاقہ جہاں پچیس مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہوں وہاں کسی بھی ایک مذہب کی بالادستی قائم کرنا بنیادی انسانی حقوق کو بھی نہ ماننے والی بات ہو گی۔ لیکن جب ایسا ہو جائے تو نتیجے میں پھر وہی سب ہوتا ہے جس کا تماشہ پوری دنیا دیکھتی ہے اور انسان کا احترام بہرحال پیچھے رہ جاتا ہے۔ جب انسانیت والا معاملہ ختم ہو گیا پھر کچھ بھی ممکن ہے۔ بہتر روزگار، بہتر معیار زندگی، ڈر اور خوف سے آزاد فضا، یہ سب چیزیں تبھی ممکن ہیں جب ہم انسانوں کے درمیان اس بنیادی فرق کو ریاست کی طرف سے مسلط نہ کریں۔

اسلام آباد میں ہندو بھائیوں کی تعداد لگ بھگ آٹھ سو کے قریب ہے۔ آج انہیں سرکار کی جانب سے چار کنال زمین دے دی گئی ہے کہ وہ اپنا مندر تعمیر کریں، اس میں ہولی کھیلیں، دیوالی منائیں، جنم اشٹمی ہو، زندوں کے تمام تیوہار ہوں اور مردوں کی آخری رسومات بھی آرام سے پوری کی جا سکیں۔ ایسے ہی فیصلے اگر آہستہ آہستہ ہوتے رہے تو ہم نہ سہی ہمارے بچے شاید وہ دن ضرور دیکھیں گے جب اقلیتوں کی بات کرنے پر، انسانوں کی بات کرنے پر، عورتوں کے لیے بولنے پر کوئی کسی کو ٹرین میں بٹھا کر ملک بدر کرنے کا نہیں سوچے گا۔ جو ایک کروڑ گئے ہوئے ہیں، وہ بھی واپس آتے جائیں گے، سب ساتھ ہوں گے، پیار محبت ہو گی، انسانیت ہو گی!

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain