زندگی روز نئی ایک کہانی مانگے


پورے ملک میں موسم کا درجہ حرارت تیزی کے ساتھ گرتا جا رہا ہے لیکن سیاست کا پارہ ہے کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ آسمان کی بلندیوں کی جانب چڑھتا جا رہا ہے۔ ایک جانب حکومت وقت کورونا کے ہاتھوں شدید پریشان ہے تو دوسری جانب سیاسی پارٹیوں کی اڑ اس کے لئے مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی مرضی و منشا کے مطابق ملک کے ہر گوشے میں ریلیاں، جلوس اور جلسے کرنے کا مصمم ارادہ کر کے بیٹھی ہوئی ہیں تو دوسری جانب حکومت اپنا فرض اولین سمجھتے ہوئے ایسا کرنے میں مانع ہے۔

ویسے تو ہر حکومت کا آئینی و قانونی فرض ہوتا ہے کہ وہ ہر ایسے قدم جس کی وجہ سے حکومت کے خلاف بغاوت جیسی کیفیت جنم لینے لگے، اسے جس انداز میں بھی چاہے روکے اور کوئی ایسی بات پیدا نہ ہونے دے جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو لیکن جمہوری تقاضے ہر سیاسی پارٹی، ان کے رہنماؤں، یہاں تک کہ ملک میں موجود ہر ہر فرد کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے، اپنی رائے کا اظہار کرے اور حکومت کا فرض بھی ہے کہ وہ کسی بھی فرد، رہنما یا سیاسی جماعت پر جلسے جلوس کی پابندیاں عائد نہ کرے۔ جمہوریت میں بات چیت کے ذریعے بہت سارے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں لیکن مسئلہ اگر یہ پیدا ہو جائے کہ فریق ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت تو کجا، ساتھ بیٹھنا تک گوارا نہ کریں تو معاملہ بہت ہی سنگین صورت اختیار کر جاتا ہے۔

اس وقت پاکستان کی سیاسی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جلسے جلوس یا ریلیوں کا انعقاد کسی بھی حکومت کے لئے کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا کرتا بلکہ ہر جمہوری حکومت اسے جمہوریت کا حسن سمجھ کر فراخ دلی کے ساتھ ایسا کرنے کی اجازت دیدیا کرتی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کے ایسے جلسے جلوس اور ریلیاں جس کا مقصد ہی حکومت کو ہٹانا بن جائے اور ان کا طرز بیان و انداز باغیانہ ہو جائے تو پھر حکومت کافی کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور اپنے قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے ہر قسم کی تادیبی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے کافی حد تک جارحانہ عزائم کے باوجود ابھی تک تو حکومت نے کوئی ایسا تاثر نہیں دیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرتے ہوئے ان کے عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے البتہ کورونا کی دوسری لہر کی تباہ کاریوں کو جواز بنا کر یہ چاہتی ہے کہ ایسے اجتماعات جن میں کورونا کے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، ان کو کسی مقام بھی پر منعقد کیا جا سکے۔

پاکستان میں کورونا ایک مرتبہ پھرسے بہت تیز رفتاری سے پھیلتا جا رہا ہے۔ اب کورونا پھیلنے کے جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں وہ حقیقتاً بہت ہی ہوشربا ہیں اور اگر یہی صورت حال رہی تو پاکستان اللہ نہ کرے، بہت جلد دنیا کے ان ممالک کی صفوں میں شامل ہو جائے گا جہاں اس وائرس نے تباہی مچا کر رکھی ہوئی ہے جس کا نتیجہ معیشت کی خوفناک تباہی کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔

ویسے تو حکومت کے پاس مخالفانہ جلسے جلوسوں کے روکنے کے کئی آئینی و قانونی راستے ہوتے ہیں لیکن اس وقت ایک اضافی راستہ کورونا کا بھی ہے جس کا سہارا لے کر ملک میں ہر قسم کی ایسی سیاسی سرگرمی جس میں ہزاروں افراد کے جمع ہو جانے کا امکان ہو اور ان کے جمع ہو جانے سے کورونا کا مزید پھیل جانا یقینی بن جائے، اس پر پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ شہروں، گاؤں اور دیہاتوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ چنانچہ حکومت نے واضح اعلان کیا ہے کہ ہر قسم کے عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی لگائی جا رہی ہے لہٰذا اپوزیشن کے اتحاد نے جہاں جہاں بھی جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہوا ہے، ان کو منسوخ کرے کیونکہ حکومت اب کسی بھی سیاسی جماعت کو ایسا کرنے کی اجازت کسی طور نہیں دے گی جس سے امن و امان کے مسئلے کے علاوہ لوگوں کی خرابی صحت کا کوئی مسئلہ سر اٹھائے۔

حکومت کا واضح اعلان اپنی جگہ، اپوزیشن کے اتحاد نے حکومت کے اس حکم نامے کو مسترد کرتے ہوئے بہت ہی واشگاف انداز میں اعلان کیا ہے کہ اس نے جہاں جہاں بھی اپنے جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے، کرے گی اور حکومت نے ایسا کرنے سے روکا تو امن و امان کے خراب ہو جانے کی ساری ذمے داری حکومت کے سر جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سیر ہے اور کون سوا سیر، آیا حکومت اپنی رٹ منوانے میں کامیاب ہوتی ہے یا اپوزیشن حکومت کو اپنے پیروں پر جھک جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

یہ صورت حال اور اس کی سنگینی اپنی جگہ لیکن لگتا ہے کہ چوہا بلی کا یہ کھیل پاکستان کا مقدر بن کر رہ گیا ہے۔ جب ملک میں آمریت اس بات کی دعویدار ہوتی ہے کہ وہ ریاست کی تقدیر بدل کر رکھ دیگی، عوام اور عوامی جماعتوں کو جمہوریت کا روگ لگ جاتا ہے اور جب جمہوریت بحالی کی جانب گامزن ہونے لگتی ہے تو ان کو سابقہ عامرانہ دور بھلا لگنے لگتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جمہوریت کے اس پیٹ کے درد کا انجام جمہوریت کی مزید مضبوطی کی صورت میں سامنے آتا ہے یا ایک مرتبہ قوم پھر کسی آمریت کے شکنجے جکڑ لی جاتی ہے۔ میں نے ایسے ہی نشیب و فراز کے لئے کہا تھا کہ

کبھی منزل تو کبھی نقل مکانی مانگے
زندگی روز نئی ایک کہانی مانگے

Facebook Comments HS