پاکستان میں یہ بھی کر گزریے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمین پر انسانوں کی تاریخ ایک لمبے عرصے پر محیط ہے اور 2000 قبل از مسیح یعنی آج سے کوئی 4000 سال پیچھے جا کر یہ مبہم ترین ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ کردار اور کہانیاں رہ جاتی ہیں لیکن نہ سراغ باقی بچتا ہے اور نہ منطقی انجام۔ کہا یہی جاتا ہے کہ پانچ یا سات ملین سال پہلے افریقہ میں انسان تب نمودار ہوا جب اس نے دو ٹانگوں پر چلنا شروع کیا۔ موجودہ شکل کے انسان دو لاکھ سال پہلے نمودار ہوئے۔

اب یہاں لوگ کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ہمارا مذہب تو کچھ اور کہتا ہے۔ اس نقطے پر کچھ لوگ اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانوں میں سے اللہ نے آدمؑ کو منتخب کر لیا تھا۔ نوم چومسکی Linguistics کے ماہر ہیں اور ان کا یہی کہنا ہے کہ ساری زبانوں کا اصل ایک ہی زبان ہے۔ اور بھی دلائل ہیں لہٰذا بقول یاسر قاضی، یہ بات بھی عقلی معیار پر پورا اترتی ہے۔ مسلمانوں کو ارتقاء کی تھیوری کو لے کر مزید بے وقوفوں کی جنت میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سائنسدان کمیونٹی کے نزدیک کافی قابل قبول ہے۔

اگرچہ تاریخ انسانی انتہائی مبہم ہے لیکن اس کے باوجود ہم ہر زمانے کے کچھ نہ کچھ سراغ پا کر اور استدلالی تحقیق کے بعد زمانوں کے سیاسی اور معاشی نظاموں کا اندازہ لگانے کے قابل بہرحال ہیں۔ بڑے وثوق سے کہا جاتا ہے کہ جب انسانی تاریخ میں زراعت کا انقلاب آیا تو انسان کے پاس وسائل بھی ضرورت سے زیادہ ہو گئے جس نے انسان کے لالچ کو بڑھایا اور اس نے مزید طاقت کے حصول کے لئے جتن کیے۔

اس زمانے میں عورت کا مقام بھی گرا جسے بلند کرنے کے لئے آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی کوششیں جاری ہیں۔ عورت کا کام محض بچے پیدا کرنا اور گھر کی دیکھ بھال کرنا رہ گیا کیونکہ بار بار حاملہ ہونے سے وہ نہ زراعت میں مردوں کا ہاتھ بٹا سکتی تھیں نہ جنگیں لڑ سکتی تھیں۔ اس سے وہ انتظامی امور اور لیڈرشپ سے بھی جاتی رہی۔

تب ترقی یافتہ تہذیبوں میں بادشاہ اور قبائلی علاقوں میں سردار کا تصور تھا۔ جنگ زن، زر اور زمین کی خاطر لڑی جاتی تھی جبکہ مذہب کے نام پر جنگ کا تصور بھی عام ہے۔ البتہ تاریخ میں مذہبی جنگیں محض دو یا تین ہی ہیں، باقی سب جنگیں زمینی فوائد اور حصول کے لئے ہی لڑی جاتی رہی ہیں۔

اس زمانے میں بادشاہ کے پاس ساری اتھارٹی تھی۔ وہ اپنے گناہوں اور جرائم کے لئے بھی جوابدہ نہیں تھا۔ اگرچہ اسلامی تاریخ کے پہلے خلفاء کا دور بھی مساوات کے لئے مشہور ہے لیکن مستقل بنیادوں پر پہلی بار انگریزوں نے بادشاہ کو قانون کے سامنے جوابدہ بنایا۔ یہ میگنا کارٹا کے دستور کا نتیجہ تھا۔

جمہوریت کا تصور اور فلسفہ یونان سے نکلا ہے۔ روم کی سلطنت کی بھی مشہور سینیٹ تھی۔ اسلام کے اولین خلفاء کے ہاں بھی قبائلی دستور کے مطابق شورٰی کا تصور تھا۔ بعد میں نہ صرف اسلامی سلطنتوں میں بلکہ پوری دنیا میں ہی بادشاہت کا دور دورہ تھا۔ بیسویں صدی میں خلافت، بادشاہت اور آمریت جیسے تصورات کو جمہوریت نے شکست دے دی۔ اب کچھ ممالک میں ان کی باقیات ہیں کیونکہ دنیا ایک نظام پر اکٹھی نہیں ہوتی۔ آج آدھی دنیا میں جمہوریت ہے، باقی بہت سے ممالک ہیں جہاں بادشاہت اور آمریت کے علاوہ ہائبرڈ نظام بھی موجود ہے اور وہاں کے لوگ کسی نہ کسی وجہ سے خاموش ہیں۔

ہم پاکستانی سینکڑوں سال بادشاہوں اور انگریزوں کے غلام رہے ہیں۔ آزادی حاصل کر کے بھی ہمارے جمہور غلام ہی رہے۔ یہاں کا جاگیرداری نظام آج تک سر نگوں نہیں ہوا اور یہی طبقہ ہمیں آج تک لیڈرشپ بھی دیتا آیا ہے کیونکہ روشن خیالی امیر گھر میں ہی جنم لیتی ہے، عام لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ جنازے میں موجود افراد کی تعداد دیکھ کر جنت جہنم کے فیصلے بھی سنا دیتے ہیں۔

ملا یہاں کا سب سے بڑا دانشور ہے، سو یہاں نظریات کی فاتحہ پڑھ لی گئی ہے اور سوال پوچھنا منع ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک یہاں مسائل ویسے نہیں حل ہونے والے جیسے ہمارا حکمران طبقہ ہمیں بتاتا ہے۔ ہمیں مزید بے وقوف مت بنایا جائے۔ یا تو ووٹ کو عزت دے کر عام آدمی کے سیاست میں آنے اور منتخب ہونے کے لئے نظام میں موجود پتھر سرکائے جائیں، تاکہ یہاں بھی کوئی ابراہم لنکن یا جؤ بائیڈن جیسے غریب لیڈ کر سکیں، یا عمران خان اور جنرل باجوہ میں سے کسی کو بھی صدر، آمر، بادشاہ یا خلیفہ ’جو مرضی بنا لیں‘ لیکن عام پاکستانی کی بھوک اور جہالت کا تدارک کر دیں۔ یہاں بہت کچھ ہوا ہے، اب یہ بھی کر گزریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •