بے حسوں کا ریوڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گئے دنوں میں ذرا ذرا سی بات پہ قتل و غارت ہوتی تھی فساد پھیلتا تھا لوگ ہلاک ہوتے جاتے تھے۔ جبکہ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہاں چند لوگ بے احتیاطی کرتے ہیں اور کتنے مرتے چلے جاتے ہیں اب ہمیں قتل و غارت اور خون خرابے کی ضرورت نہیں۔ اب صرف لوگ ہر چیز کو پس پشت ڈال کر صرف اپنی آرام طلبی دیکھتے ہیں اور احتیاطی تدابیر کو محض جان کا وبال سمجھ کر مزید کئی جانوں کے لئے وبال کا سبب بن جاتے ہیں۔

اب بھی پاکستان میں لوگ کرونا ہونے پر نہ صرف دوسروں سے چھپاتے ہیں بلکہ کرونا سے ہونے والی موت کو ہارٹ اٹیک جیسا آسان نام دے کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ اور پھر مرنے والے کے خاندان کو نہ تو اپنے دکھ کی اصلیت سمجھ آتی ہے اور نہ یہ کہ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ دکھ کتنے اور گھروں میں اتر آئے گا

بے پرواہی اور رسمی عقیدوں کی اندھادھند پیروی کی جاتی ہے اور بالکل پہلے کی طرح لوگوں کو گھر بلا کر پہلے جیسی نیازیں دی جاتی ہیں۔ لوگ کیوں نہیں سمجھ لیتے کہ وبا کے بعد دنیا یکسر بدل چکی ہے۔ یہ عارضی رسومات جو مرحوم کی مغفرت کی بجائے محض دنیا والوں کے دباؤ میں آ کر کی جاتی ہیں کتنے لوگوں کی جان لے سکتی ہیں۔

موت کو بھی غم کی سیلیبریشن بنا کے رکھ دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان دنوں جب سارے کام ٹھپ اور بزنس بند ہو رہے ہیں ایک شدید بحران پوری طرح سامنے کھڑا ہے اور ایک بحران جس سے ہم ابھی گزر رہے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ یہ انفرادی، معاشرتی، تعلیمی اور معاشی ہر لحاظ سے کس طرح پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ اور لامتناہی مدت تک کرتا چلا جائے گا۔ ایسے میں جہاں بہت سوچ سمجھ کر ہر چیز کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں نے سوچ سمجھ کو احتیاطی ماسک کی طرح اتار کر سائیڈ پر پھینک دیا ہے۔ اور بے احتیاطیوں کی بھرمار کردی اور جب بیماری زور پکڑے گی تو الزام عذاب الٰہی پہ ڈال دیا جائے گا اور کسی خاص جماعت، فرقے یا جنس کے گناہوں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

حالانکہ اس وقت بے احتیاطی اور غیر سنجیدگی کسی بھی جماعت، فرقے اور جنس کے نظریے سے بالاتر ہے۔ حکومتیں چاہتی ہیں کہ عوام اب اس وبا کے ساتھ اپنے کاموں کو چلانا سیکھ جائیں مگر دوسری طرف عام انسان ذرا سی احتیاط کا بیڑا بھی اپنے سر نہیں لے سکتا۔ اگر سب اپنی اپنی جگہ پر ضروری احتیاطیں برتیں تو اس وبا کے بیچ رہ کر بھی کاروبار زندگی معطل کیے بنا بھی جیا جا سکتا ہے مگر یہ غیر سنجیدہ رویے زندگیوں، کاروبار اور تعلیم کا بیڑا غرق کر کے ہی رہیں گے۔

ساری زندگی یہ عیش و عشرت قائم رہنی ہی ہے بس یہ سال صرف اگر سکون سے گزارا جاسکے لیکن پکی بات ہے کہ لاک ڈاؤن ہی لگیں گے پہلے جیسے تب ہی عوام سنبھالی جائے گی۔ کبھی کبھی تو لوگ واقعی بے حسوں کا ریوڑ لگتے ہیں جو بنا سوچے سمجھے بس بھاگ رہے ہیں جب تک کھدیڑے نہ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •