کورونا کی دوسری لہر اور اپوزیشن کی تحریک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رواں سال کے آغاز میں جب وطن عزیز میں کورونا کی وبا نے پہلی بار سر اٹھایا اس وقت پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور بلاول بھٹو زرداری کا موقف تھا کہ کسی بھی قسم کے معاشی نقصان کی پروا کیے بغیر سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ ہونا چاہیے کیونکہ سب سے پہلی ترجیح عوام کی جان کا تحفظ ہے اور اس وقت تمام اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے موقف کی ہمنوا تھیں۔ اس وقت مگر وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کا اصرار تھا کہ ہماری بڑی آبادی دیہاڑی دار طبقے پر مشتمل ہے جس کے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ گھر بیٹھ کر ان کا چولہا جلتا رہے اور نہ حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ اتنی بڑی تعداد کو گھروں میں بیٹھے ضروریات زندگی مہیا کر سکے لہذا ہم مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ حکومت اور اپوزیشن کی اسی لڑائی کے باعث کورونا سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح پالیسی نہ بن سکی اس کے باوجود مگر خدا نے اپنا کرم کیا اور کورونا کی پہلی لہر زیادہ نقصان پہنچائے بغیر گزر گئی۔

اب موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر شدت سے حملہ آور ہوئی ہے۔ کورونا کی صورتحال کی مانیٹرنگ اور بچاؤ کے اقدامات تجویز کرنے کی خاطر قائم کیے گئے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے گزشتہ دنوں اس حوالے سے چند فیصلے بھی کیے، جن کے مطابق 300 سے زائد افراد کے تمام آؤٹ ڈور اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ تمام اجتماعات میں ایس او پیز پر عملدرآمد کی ذمہ داری منتظمین پر ہوگی۔

کورونا کی وجہ سے موت یا کورونا پھیلنے پر منتظمین کے خلاف کارروائی ہوگی اور اب ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ لیکن اب وہی بلاول بھٹو جو کل تک سخت ترین لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہے تھے نہ صرف خود بڑے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں بلکہ ان کی اتحادی پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں بھی تحریک کو ہر صورت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف وہی وفاقی حکومت اور وہی وزیراعظم عمران خان چند ماہ قبل تک جن کا کہنا تھا کہ غریب آدمی کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن سے ہر صورت احتراز کرنا چاہیے اب اپنی سیاسی ضروریات کی وجہ سے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے اشارے دے رہے ہیں۔

قول و فعل کے اس تضاد کو دیکھتے ہوئے ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ ہماری اشرافیہ کو عوام کے مفاد اور دکھ تکلیف کی پرواہ ہے بھی یا نہیں۔ شاید حکومت اور اپوزیشن دونوں کے نزدیک اپنا مفاد مقدم ہے اور یہی مفادات ان کے شب و روز تبدیل ہوتے موقف کی وجہ ہیں۔ اگرچہ اپوزیشن کا احتجاج اور مطالبات بالکل جائز ہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت جلسے جلوس کا انعقاد عوام کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ افسوس سے لیکن یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کی دہائیوں کی وجہ بھی عوام سے ہمدردی نہیں بلکہ اس کی سیاسی ضروریات ہیں ورنہ وزیراعظم اور ان کے وزراء حافظ آباد، گلگت اور سوات میں خود جلسوں کا انعقاد نہ کرتے۔ اپوزیشن کا اعتراض بالکل بجا ہے کہ جب تک ضرورت رہی حکومت خود دھڑلے سے جلسے کرتی رہی لیکن جیسے ہی اس کا مقصد پورا ہوا کورونا کو آڑ بنا کر اجتماعات پر پابندی کا اعلان کر دیا گیا اس کے باوجود اپوزیشن کو کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی احتجاجی تحریک کم از کم سڑکوں سے ختم کر دینی چاہیے۔

بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اپوزیشن کی طرف سے احتجاجی تحریک جاری رکھنے کی ضد کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتی ہے اس کی سیاسی سرگرمیوں سے جو مومینٹم پیدا ہوا ہے یہ مومینٹم اگر کم یا ختم ہو گیا تو دوبارہ سے عوام کو متحرک کرنا نہایت مشکل ہوگا۔ میرا نہیں خیال کہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے یہ ”مومینٹم“ اتنا بڑھ چکا ہے جس سے حکومت جانے کا خطرہ ہو ویسے بھی پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں سے زیادہ اس حقیقت سے کون با خبر ہو گا کہ پاکستان میں حکومتیں جلسے جلوس سے نہیں جایا کرتیں بلکہ حکومتوں کی رخصتی کے پیچھے دیگر عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔

کوئی اگر سمجھتا ہے کہ محض ”عوامی دباؤ“ کے نتیجے میں وہ عوامل حکومت کو چلتا کر دیں گے تو یہ بھی خام خیالی ہوگی، کیونکہ چند ٹھوس وجوہات کی بنا پر وہ پس پردہ عوامل چاہیں بھی تو ان کے لیے ازخود حکومت کو رخصت کرنا ممکن نہیں رہا۔ لہذا حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے اپوزیشن کو خود ہی کوئی طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا۔ آئینی لحاظ سے تحریک عدم اعتماد ایک راستہ ہے جس کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجا جا سکتا ہے اور اس قسم کی اطلاعات بھی ہیں کہ پیپلز پارٹی کا بھی اس پر اصرار ہے۔

پی ڈی ایم کے اجلاس میں اس آپشن پر غور بھی کیا گیا تھا جس کا آغاز پنجاب میں تحریک عدم اعتماد سے ہونا تھا۔ لیکن سینیٹ چیئرمین کے خلاف لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک کے نتائج کو دیکھتے ہوئے دیگر جماعتیں دوبارہ اس قسم کا رسک لینے پر آمادہ نہیں ہو رہیں۔ وہ جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ حکومت اگر اس وار سے بچ نکلی تو ان کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی اور پھر مزید ڈھائی سال انہیں اسی طرح مار پڑتی رہی گے۔

بالفرض پارلیمان کی موجودہ صورتحال میں تحریک عدم کامیاب ہو بھی جائے تو یہ سوچنا چاہیے کہ پھر سسٹم کس طرح چلے گا؟ اس وقت ملک کی معاشی حالت جس قدر خراب ہے، خارجی سطح پر جن چیلنجز کا سامنا ہے اور داخلی و سیاسی مسائل جس سنجیدہ کاوش و مکالمے کے متقاضی ہیں موجودہ پارلیمان سے اس کا حل نکل سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ان حالات میں حکومت سنبھالنے پر تیار ہوگا۔ اپوزیشن کو مگر حکومت گرانے کی جلدی اس وجہ سے ہے کہ وہ سمجھتی ہے اس کے پاس وقت بہت کم ہے لہذا جو بھی کرنا ہے وہ مارچ سے پہلے کرنا ہوگا ورنہ سینیٹ الیکشن کے بعد اس کے ہاتھ کچھ نہیں رہ جائے گا۔

اس خدشے میں جان ہے کیونکہ تمام سیاسی قوتوں کو مارچ کے سینیٹ انتخابات کے بعد پاکستان کے موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے خطرات نظر آ رہے ہیں۔ ان حالات میں حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو اسٹیک باقی رکھنے کے لیے اپوزیشن کے پاس اجتماعی استعفوں کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ یہی ایک راستہ ہے جس سے سینیٹ الیکشن روکنے کے ساتھ قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے مگر پیپلز پارٹی اپنے مفادات داؤ پر لگانے پر تیار نہیں۔ بہرحال اپوزیشن اور حکومت دونوں آزاد ہیں کہ اپنے مفاد میں جو چاہیں حکمت عملی بنائیں لیکن کم از کم انہیں عوام کی جان کے تحفظ کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔

پس تحریر۔ مولانا خادم حسین رضوی صاحب کا انتقال ہو گیا، اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ مذہبی تعلیمات کی پاسداری نہ سہی ہماری مشرقی روایات کے کچھ تقاضے ہیں، دشمن بھی گزر جائے اس کے متعلق زبان سے کچھ اچھا نہیں نکلتا تو خاموشی اختیار کر لینی چاہیے۔ مولانا صاحب کی وفات کے بعد مخالفین نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا اس پر بہت افسوس ہوا۔ یہ درست ہے کہ مرحوم کے جذبے و سادگی کو استعمال کیا گیا لیکن دیانت کی رمق ذرا بھی موجود ہو تو ان کے حالات زندگی دیکھتے ہوئے ان کے اخلاص پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ ہماری اجتماعی اخلاقیات جس سطح تک پہنچ چکی ہے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ پاک ہم پر رحم فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •