گرو تیغ بہادر کی برسی پر انڈیا میں مغل بادشاہ اورنگزیب ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں کیوں شامل ہیں؟

مرزا اے بی بیگ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں سکھوں کے نویں گرو یعنی گرو تیغ بہادر کی برسی پر انھیں یاد کیا جا رہا ہے۔ اس دن کو انڈیا میں ‘شہید دیوس’ یعنی یوم شہادت بھی کہا جاتا ہے۔

اس موقعے پر اگرچہ صبح سے گرو تیغ بہادر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ میں شامل نہیں تھے لیکن مغل حکمراں اورنگزیب ٹرینڈ کر رہے تھے۔ انڈیا میں مغل یا مغل حکمراں اورنگزیب کا ٹرینڈ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ موجودہ دور میں مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاست کو وہ یہ راس آتا ہے۔

انڈیا میں عام طور پر اورنگزیب کو ایک ’جابر، ظالم، سخت گیر اور ہندو مخالف‘ بادشاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور آج کے ٹرینڈ میں بھی یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے۔

سوشل میڈیا اور بطور خاص ٹوئٹر پر گرو تیغ بہادر کی 345 ویں برسی پر جہاں انھیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے وہیں اورنگزیب کو ’ہندو دشمن‘ اور سخت گیر مسلمان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

تاریخ کے مطابق گرو تیغ بہادر کو اورنگزیب کے حکم پر سنہ 1675 میں اِس دن قتل کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس کی سیاسی وجوہات تھیں لیکن آج اسے مذہبی نظریے سے ہی دیکھا جاتا ہے۔

چنانچہ ایک صارف نے اورنگزیب پر کتاب تصنیف کرنے والی مورخ آڈری ٹرشکی کو مخاطاب کرتے ہوئے لکھا ‘جو لوگ اورنگزیب کو عظیم رہنما کہتے ہیں۔۔۔ آج ہی کے دن 1675 میں گرو تیغ بہادر کو اورنگزیب کے حکم پر دہلی میں اسلام نہ لانے کی وجہ سے عوام کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ ہندو کے لیے لڑے وہ کشمیریوں کے لیے لڑے۔’

اس کے جواب میں سیفی فیراسہ نامی صارف نے لکھا کہ ‘انھیں ’اسلام قبول نہ کرنے‘ کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ مبالغہ ہے۔ انھوں نے پورے برصغیر پر حکومت کرنے والے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے خلاف بغاوت کی تھی اور مغل دور میں باغی کی یہی سزا تھی جو آج بھی ہے۔’

مغل اور سکھ تعلقات کی پیچیدہ تاریخ

مغل اور سکھوں کی تاریخ بہت پیچیدہ رہی ہے اور اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔

سکھوں کی تاریخ کے مطابق سکھ مت کے بانی اور پہلے گرو یعنی گرو نانک کی برصغیر میں مغل سلطنت کی بنیاد ڈالنے والے حکمراں ظہیر الدین محمد بابر سے سامنا ہوا تھا جنھوں نے انھیں قید کروا دیا تھا لیکن ان کی روحانیت کے علم کے بعد انھیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ دوسری جانب اس زمانے کی مغل تاریخ میں ایسے کسی واقعے کا ذکر معدوم نظر آتا ہے۔

اسی طرح جہانگیر نے اپنے دور حکومت کی ابتدا میں ہی سکھوں کے پانچویں رہنما گرو ارجن دیو کو قتل کرا دیا تھا۔ سکھوں کی تاریخ میں اسے مذہبی کشمکش کا نتیجہ بتایا جاتا ہے جبکہ مغل تاریخ میں اس کی سیاسی وجوہات موجود ہیں کیونکہ جانشینی کی لڑائی میں انھوں نے جہانگیر کی جگہ ان کے بیٹے خسرو کی حمایت کی تھی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے مورخ عقیل عباس جعفری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گرو ارجن دیو جی کے قتل کا سبب ان کی سکھ مذہب سے وابستگی نہیں بلکہ جہانگیر کے باغی صاحبزادے خسرو کی امداد کرنا تھا۔ گرو ارجن دیو جی وہ پہلے سکھ رہنما تھے جنھوں نے اپنی قوم کو ایک منظم اور ہتھیار بند فوجی شکل دی اور اس قوم کو سکھ راج قائم کرنے کا نصب العین بھی دیا۔ انھوں نے سکھوں سے نذرانے کی وصولی کو باقاعدہ اور باضابطہ بنایا ،ان کے کارناموں میں گولڈن ٹیمپل امرتسر کی تعمیر اور گرنتھ صاحب کی تدوین شامل ہیں۔ انھوں نے اتنی فوجی قوت حاصل کرلی تھی کہ جہانگیر کے باغی صاحبزادے خسرو کو سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے گرو جی کا عملاً سہارا لینا پڑا تھا۔’

جبکہ گرو تیغ بہادر کے قتل کے بارے میں سکھ تاریخ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کچھ کشمیری پنڈتوں نے مغل ٹیکس سے پریشان ہو کر گرو تیغ بہادر سے اپیل کی تھی اور گرو تیغ بہادر نے اپنے بیٹے گرو گوبند سنگھ کے، جو بعد میں دسویں اور آخری گرو بنے، کہنے پر دہلی میں جا کر مغل بادشاہ اورنگزیب سے اس کے متعلق ملاقات کی تھی اور اس کے بعد انھیں دہلی میں ایک بڑے مجمعے کے سامنے قتل کرا دیا گیا تھا۔

دوسری جانب سکھوں کی تاریخ لکھنے والے معروف مورخ جوزف ڈیوی کننگھم نے گرو تیغ بہادر کے گرو بننے کے واقعے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اس کے لیے اپنے طریقے استعمال کیے تھے۔

تیغ بہادر کا اصل نام تیاگ مل

عقیل عباس جعفری گرو تیغ بہادر کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’تیغ بہادر جی کا اصل نام تیاگ مل تھا۔ وہ کرتار پور کی جنگ میں اس بہادری سے لڑے کہ ان کے والد گرو ہرگوبند سنگھ نے انھیں تیغ بہادر کا خطاب دیا اور پھر یہی ان کا نام بن گیا۔ گرو تیغ بہادر جی نے سکھ قوم کو ایک منظم فوج بنانے کے لیے ہر ممکن اور منظم کوشش کی۔ وہ سکھوں کے مسلح ہونے کو مذہب کا نمایاں ترین وصف اور اعزاز قرار دیتے تھے۔’

ان کے قتل کے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ ‘تحقیق کی روشنی میں ان کے قتل کے تجزیے کا مرحلہ آیا تو نہ صرف سکھ بلکہ ہندو مؤرخین بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ گرو تیغ بہادر کو اورنگزیب سے آمادۂ پیکار کرنے اور بالآخر ان کے قتل تک میں بھی اصل سازش اور منصوبہ بندی ہندو برہمنوں کی تھی۔

‘ان مؤرخین نے لکھا کہ یہ برہمن گرو تیغ بہادر جی کی مذہبی، سیاسی اور فوجی قوت سے بے حد خائف ہوچلے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سکھ دھرم اس قدر فروغ پاچکا ہے کہ اب ہندو مت کا وجود معرض خطر میں ہے۔ انھوں نے پہلے اپنے راجاؤں اور پنڈوں کے جتھے گرو جی کے پاس بھجوائے اور ان سے کہا کہ اورنگزیب ہم سے جزیہ وصولنے اور زبردستی مسلمان بنانے کے درپے ہے اور صرف آپ کی مدد ہی ہمیں اس ظلم سے بچا سکتی ہے۔ ایسا ہی ایک پیغام انھیں کشمیر سے پنڈت کرپا رام کا موصول ہوا جس میں گرو تیغ بہادر جی سے فریاد کی گئی تھی کہ اورنگزیب پورے ہندوستان کو مسلمان بنانا چاہتا ہے اور صرف گرو تیغ بہادر جی ہی انھیں اس افتاد سے محفوظ کر سکتے ہیں۔’

ان کے مطابق ‘یہ ہندو برہمنوں کی دو رخی چال تھی، ان کا خیال تھا کہ اورنگزیب نے گرو جی کو مسلمان بنالیا تو برہمنوں کے دشمن کا خاتمہ ہوجائے گا اور اگر گروجی نے مسلمانوں کو شکست دے دی تو بھی فائدہ برہمنوں کا ہوگا۔ ادھر اورنگزیب کے درباریوں رام رائے اور دھیرمل نے اورنگزیب کو گرو تیغ بہادر جی کی بڑھتی ہوئی فوجی اور مذہبی طاقت سے خوف زدہ کیا اور اورنگزیب سے گرو جی کو دہلی طلب کرنے کے احکامات حاصل کروا لیے۔ یہ سکھوں کی مذہبی اور سیاسی تاریخ کا انتہائی اہم مگر جذباتی اور واقعاتی موڑ تھا۔’

خیال رہے کہ جزیہ (مذہبی ٹیکس) اورنگزیب سے بھی پہلے کئی بادشاہوں نے برصغیر میں نافذ کیا تھا لیکن انھوں نے اس سے برہمنوں کو استثنیٰ دے رکھی تھی جبکہ اورنگزیب کے معاملے میں کسی کو چھوٹ نہیں تھی۔

پہلے بھی شور اٹھا تھا

سنہ 2001 میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے کانگریس رہنما اروندر سنگھ لولی نے چھٹی جماعت کو پڑھائی جانے والی تاریخ میں گرو تیغ بہادر کے بارے میں درج باتوں پر احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے ’بچوں کے ذہن میں گرو کے بارے میں لوٹ مار اور قتل و غارت کرنے والے کی شبیہ بنے گی‘۔

انھوں نے کہا تھا ’تاریخ دان نے فارسی ماخد کا استعمال کیا ہے جو کہ گرو کے بارے میں ‘مسخ تصویر’ پیش کرتی ہے اور یہ ان کی ‘بے حرمتی‘ ہے۔

دی ہندو میں شائع خبر کے مطابق ان کے اعتراضات کے جواب میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش چندر نے کہا تھا کہ وہ تاریخ میں سیاسی، سماجی اور معاشی پہلو کو بھی پیش کرتے ہیں جہاں مذہبی پہلو صرف ایک جہت ہے۔ بہر حال انھوں نے کہا تھا کہ سرکاری تاریخ نویسی کی اپنی کمیاں ہوتی ہیں اور بہت سے الفاظ کو بدلا جا سکتا ہے۔

چھٹی جماعت کی تاریخ کی کتاب میں گرو تیغ بہادر کے قتل کا ذکر اِن الفاظ میں ہوا تھا جو اب بدلا جا چکا ہے۔

‘بہر حال سنہ 1675 میں گرو تیغ بہادر کو ان کے پانچ پیروؤں کے ساتھ پکڑ کر دہلی لایا گیا۔ اس کے لیے سرکاری جواز بعد کے فارسی ماخذ میں یہ دیا گیا کہ آسام سے واپسی کے بعد انھوں نے شیخ احمد سر ہندی کے ایک پیرو حافظ آدم کے ساتھ مل کر پنجاب کے صوبے میں لوٹ اور قتل و غارت گری مچا رکھی تھی۔’

اس وقت جب وزیر اور بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی نے اسے ہٹانے کی بات کہی تھی تو انڈیا کے تاریخ دانوں نے بڑے پیمانے پر اس کی مخالفت کی تھی جس میں دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش چندر اور پروفیسر بپن چندر کے ساتھ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر کے ایم شریمالی، پروفیسر ارجن دیو اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر عرفان حبیب شامل تھے۔

اورنگزیب ٹرینڈ کیوں؟

انڈیا میں سوشل میڈیا پر سال کے بارہ مہینوں میں کم از کم 12 بار تو اورنگزیب ٹرینڈ ضرور ہی کرتے ہیں اور عام طور پر اورنگزیب کو ایک ’ظالم، جابر اور ہندو دشمن‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہی باتیں آج کے ٹرینڈز میں بھی نظر آ رہی ہیں۔

سابق فوجی اور بی جے پی کے رکن میجر سوریندر پونیا نے لکھا ‘گرو تیغ بہادر جی کو ان کے یوم شہادت پر یاد کرتے ہیں۔ اسی دن انھیں دہشت گرد اورنگزیب نے اسلام قبول نہ کرنے کے لیے قتل کرا دیا تھا۔ بھارت کی ہندو تہذیب کے دفاع کے لیے ان کی بہادری اور قربانی کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور آنے والی نسلیں اس سے ترغیب حاصل کریں گی۔’

ناول نگار اور شاعر مکراند پرانچپے نے لکھا ‘آج گرو تیغ بہادر کی شہادت کو یاد کر رہے ہیں۔ وہ اورنگزیب کے سیاسی اور مذہبی ظلم و ستم کی مخالفت کے لیے جیے اور جان دی۔ جہاں ان کا سر کٹ کر گرا وہاں چاندنی چوک پر گرودوارہ سیشگنج ہے‘۔ اور ان کے مطابق جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں وہاں گرودوارہ رکاب گنج قائم کیا گیا۔

بہر حال اورنگزیب کے ٹویٹ کرنے کے معاملے میں جب ہم نے یہ سوال انڈیا میں مغل تاریخ کی ماہر رحما جاوید راشد سے کیا تو انھوں نے کہا کہ ’ہمارے یہاں تاریخ کو ایک مضمون کے طور پر پڑھنے سے زیادہ ایک کہانی کے طور پر لیا جاتا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’اس میں ایک ہیرو ہوتا ہے اور اگر مغل تاریخ میں اکبر کے روپ میں ہیرو پیش کیا گیا ہے تو اورنگزیب کے روپ میں ایک ولن کو پیش کر دیا گیا ہے‘۔

انھوں نے اس کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘نوآبادیاتی دور کے برطانوی تاریخ دانوں نے یہ پیش کرنے کی کوشش کی کہ انڈیا کے لیے مسلم حکومت بہتر نہیں تھی، وہ ظالم و جابر تھی اور یہ ان کی ’ڈیوائڈ اینڈ رول‘ کی پالیسی کا حصہ تھا‘۔

وہ کہتی ہیں ‘اسی طرح جب معروف تاریخ داں جادو ناتھ سرکار نے اورنگزیب کی مذہبی پالیسی کو مغل حکومت کے زوال کا سبب قرار دیا تو مغل حکومت کے خلاف جاری تمام سیاسی اور علاقائی کشمکش کو مذہبی رنگ سے دیکھا جانے لگا اور یہ بات صرف سکھ اور مغلوں کی کشمکش تک ہی محدود نہیں بلکہ مغل اور مراٹھا، مغل اور جاٹ، مغل اور راجپوت تمام معاملوں میں دیکھا جانے لگا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17324 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp