ورچول جلسے


وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوھدری نے پشاور میں پی۔ ڈی۔ ایم کے جلسے کے تناظر میں کہا کہ اپوزیشن کو چاہیے کہ کورونا کے پیش نظر ورچول جلسوں کا انعقاد کریں۔ کبھی کبھار کوئی ایسی بات یا کوئی ایسا کام کسی کے سامنے ضرور ہوتا ہے کہ وہ تھوڑی دیر کے لئے بندے کو غیر ارادی طور پر ماضی کی جانب لے جاتا ہے۔ ورچول لفظ ممکن ہے پرانا ہو لیکن اپنی تاریخ یا کلاسک یا یوں کہہ لیجیے کہ عمل میں آنے کا شاید اتنا پرانا اور توانا ماضی نہ رکھتا ہو، کیونکہ ابھی کی بات ہے جب ہر چوراہے، دوراہے پر یا اپنے ماحول یا اردگرد کے کسی بھی ایسے مقام پر ایک بورڈ آویزاں ہوتا تھا اور اس پر لکھا ہوا ہوتا تھا ورچول یونیورسٹی، اب میری طرح بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہوں گے کہ یہ ورچول کوئی بیرونی یا امپورٹڈ کسی برانڈ، کسی مشہور جگہ یا شخصیت کا نام ہوگا جس کی شہرت کی وجہ سے اس یونیورسٹی کا نام رکھا ہوگا۔

لیکن یہ لفظ اس وقت عوامی شہرت یا عوامی ضرورت کا باعث بنا جب کورونا نے ساری دنیا میں اپنے پنجے گاڑے، اور ایک عام بندہ بھی آن لائن خریدو فروخت یا آن لائن فوڈ آرڈر دینے کا عادی بنا اور ہر آرڈر لوگوں کو انصاف کی طرح گھر کی دہلیز پر ملنے کی سیاسی نعرے کے مصداق ملتا رہا اور اس کی دیکھا دیکھی لکچر بھی آن لائن شروع ہوئے اور ورچول لفظ پڑھے لکھے، دانشمند حلقے اور دانشور طبقے میں اس سرایت سے خاص ہوا کہ عام و خاص میں کوئی حد فاصل ہی نہ رہا۔

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ اگر جلسے ورچول ہوں گے تو وہ کس نہج پر ہوں گے۔ اور یہ اصول صرف اپوزیشن کے لئے ہوگا یا حکومت بھی اس پابندی، قاعدے یا ضابطے کو بروئے کار لائے گی۔ اب اس کا انداز کیا ہوگا۔ کیا یہ سہولت حکومت فراہم کرے گی؟ جس طرح برسر اقتدار حکومت اپنے سربراہ حکومت اور ریاست کے لئے کرتی ہیں اور وہ جب قوم سے خطاب کرتے ہیں تو ایک قسم کی ورچول یا ان لائن تقریر ہوتی ہیں جس کو عوام گھروں میں دستیاب میڈیا ڈیوائسز کے ذریعے سنتے ہیں۔

کیا اسی طرح تمام پارٹیوں کے سیاسی رہنماؤں کو بھی میڈیا پر آنے کا موقع دیا جائے گا اور اپنے لوگوں یا بالفاظ دیگر عوام کے سامنے محو تقریر ہوں گے۔ میرے خیال سے ورچول جلسوں سے اپوزیشن کو اتنا فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ روز روز جلسے نہیں کرتے اور نہ حکومتی وزراء، مشیران اور ترجمانوں کی طرح ہر روز عوامی تقریبات یا ضروریات میں محو فرائض ہوتے ہیں۔ اب اگر کسی وزیر کو کہیں پر تقریب رونمائی کرنی ہو تو وہ اس عمل کو اپنے بند کمرے میں کیسے سرانجام دیں گے۔

اب جب مدعو کرنے والے اپنے وزیر کو ہار وغیرہ نہ پہنائے، گلے نہ ملے اور اپنے وزیر، مشیر کے ساتھ ان کا فوٹو نہ آئے تو ایسے تقریب کون کرے گا اور اس کے انعقاد کا سہرا اپنے سر کون لے گا۔ جب مشیر، وزیر کا خرچہ نہ ہوگا، پروٹوکول نہ ہوگا اور ان کی آمد و برخاست پر ہائی الرٹ اور ٹریفک جام نہ ہو تو کیا ایسے پورٹ فولیو کے لئے یہ لوگ تیار ہوں گے اور میرے خیال سے حکومتی وزراء اور ترجمان کہنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ چودھری فواد کا اپنا ذاتی بیان یا رائے ہو سکتی ہے یہ حکومت کا حکمنامہ یا پالیسی بیان نہیں۔

اور سب سے پہلے حکومت کے اپنے وزراء اور مشیران اس ورچول احکامات کی خلاف ورزیاں کرتے نظر آئیں گے بلکہ میڈیا میں بھی آئے روز ان کی اس عمل کی خوب خبر لی جائی گی اور ایک اور نئے لاحقے ورچول گردی کا اضافہ ہو جائے گا۔ دوسری جانب اپوزیشن جب حکومتی ارکان، وزرا اور مشیران اور ترجمانوں کا اپنے ہی حکومت کی دی ہوئی تجویز یا حکم کا کھلے عام خلاف ورزی دیکھیں گے تو وہ بھی پھر اپنے پرانے ڈگر کی جانب گامزن ہوجائیں گے اور ورچول لفظ جو ایک جدید اور حسب حال لفظ ہے محض ایک دوسرے کے لئے ورچول گردی کے لئے استعمال ہوگا۔

Facebook Comments HS