ایک دن ماں کا

تین چار دن سے فیس بک پر رولا پڑا ہوا ہے ہر کسی کو اپنی ماں سے محبت ٹوٹ ٹوٹ کر جاگ رہی ہے۔ خیر ہم کون سے مولوی ہیں جو فتویٰ لگائیں گے بلکہ ماں تو ایسی ہستی ہے جسے خراج دینے کے لئے کسی وقت، کسی لمحے یا دن کی کوئی قید نہیں۔ پھر صرف ایک دن کیوں ماں کی تصویریں لگاکے اپنی عقیدت پیش کی جائے؟ ماں نے تو ہمارے ہونے کے احساس کو نو مہینے خود میں رکھ کر لمحہ لمحہ، پل پل جیا تھا۔ پھر جس تکلیف سے وہ ہمیں اس دنیا میں لاتی ہے کیا اس کی قدر فیس بک پہ ہوسکتی ہے۔ نہیں۔ ہر لمحہ ماں کا ہے کہ ہم اس کے پر توہیں۔ جو اس نے ہمیں دیا آج ہم وہ دنیا کو لوٹارہے ہیں۔

Read more

میں چھپ کر لکھتی ہوں

”میں چھپ کر لکھتی ہوں کیونکہ ہمارے ہاں اسے کھلی بے حیائی سمجھا جاتا ہے“ اور میں جو پہلے روزے کی اینگزائٹی میں سو نہیں پا رہی تھی، نیند بالکل ہی غائب ہوگئی۔ آج ہم عورت کی خودمختاری کا نعرہ لگاتے ہیں تو سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے کہ عورت نے دنیا کی ہر…

Read more

نمل کا نیا لیڈرشپ چارج

اتنے عرصے سے لکھنے کی کوشش کررہی ہوں پر پتہ نہیں کیا بات ہے دن رات لکھنے پہ اکسانے والا دل بس ملامت کرتا رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ایڈیٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں ان کے لئے تکلیف کا باعث ہوں جوریگولر نہیں لکھ رہی پہلے کی طرح۔ پتہ نہیں یہ ستائش ہے کہ آزمائش۔ مجھ سے واقعی لکھا نہیں جارہا۔ بقول شاعر!اب کوئی معتبر آکر روئے۔

Read more

لیکن ہار مقدر تھی۔

وقتی اور لمحاتی کیفیتوں کا خمار چند لمحوں کے لئے خود سے پرے کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے اس سے زیادہ سکون اور کہاں ہوگا مگر یہ کیسا سکون ہے جس کا وجود مجھ میں سرایت ہوکے تکمیل ہی نہیں کر پاتا۔ تشنگی کتنی بھیانک ہوتی ہے اس کا ادراک اسی وقت ہوتا ہے…

Read more

وسائل اور مسائل کا درمیانی راستہ!

مجھے آج کل محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے درمیان، ہمارے بیچ نفسیاتی مریضوں کی پوری اک کھیپ پروان چڑھ رہی ہے ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہم بہت چاہ کے بھی ہاتھ سے روک نہیں پا رہے اور آج کل ہر دن ایک نیا مسئلہ ہمیں ہارٹ سٹروک دینے کے لئے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو واقعی لگتا ہے سینے سے دل گیا۔ مگر کس کے؟ میں اور میرے جیسے بہت سے لوگ صبح شام شاید اسی سوچ کی تیزابیت سے مر رہے ہیں۔ اور اس خوف و ہراس میں پھر بھی جی رہے ہیںآج دوپہر سے ایمبر الرٹ چل رہا تھا کہ ایک باپ جو قانونی طور پر اپنی بچی سے نہیں مل سکتا تھا اپنی بیٹی کو سکول سے زبردستی اٹھا کے لے گیا ہے۔ ابھی چند دن پہلے پورے ٹورنٹو نے ایک معصوم گیارہ سالہ بچی ریا کے باپ کے ہاتھوں قتل پر کئی دن سوگ منایا۔ دل نہیں مانتا نا۔ بالکل بھی نہیں مانتا۔ رات گیارہ بجے کے قریب پورے ٹورنٹو کے فونز پر ایمبر الرٹ بجے تھے اور سارا تھکا ہوا شہر اپنی تھکاوٹ بھول کر بچی کی سلامتی کے لئے اپنی اپنی کوششوں میں لگ گیا تھا۔

Read more

پرتشدد تعلیمی ماحول!

سات سالہ بچہ جب ہسپتال پہنچا تو وہ اساتذہ کے تشدد کی تاب نہ لا سکا اور جان سے چلاگیا۔ اور سات سالہ جسم ہوتا ہی کتنا ہے کہ تشدد برداشت کر سکے اور اس عمر کے بچے پہ اتنا ظلم کیوں کیا گیا۔ رپورٹ میں کچھ نہیں ملا۔

Read more

محبت، نفسیاتی ہٹ دھرمیاں، شادی اور توڑ پھوڑ!

وہ جب اپنا ہاتھ اس کے پاس لاتا ہے تو اسے اس سے گھن کے مارے ابکائی آنے لگتی ہے اور یہ ہاتھ اس شخص کا ہاتھ تھا جس کے ساتھ اس نے ساری زندگی گزارنی ہے۔ ان ہاتھوں کی جنبشوں سے لڑکیوں کے بے شمار جذبات اور ان میں بستے خواب وابستہ ہوتے ہیں۔…

Read more

معصوم نوحے!

چھوٹی سی بچی خون میں لتھڑے کپڑے پہنے ہاتھ میں فیڈر اٹھائے ریاست کے رکھوالوں کے لئے اک سوال لئے کھڑی ہے کہ یہی وہ ریاست مدینہ ہے جہاں فیڈر تو بچ گیا مگر بنا کے دینے والی ماں کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال کر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ جہاں دہشت گرد…

Read more

چلتی پھرتی لاشیں!

”جلتی ہوئی جھونپڑی میں سے تڑپتی ہوئی ماں کو اس کی سات سالہ بیٹی نے بچاکے باہر نکالا“ ایک ایسی عورت کو جس کے ایک بیٹے کو سر پر بھاری لکڑی مار کے اور دوسرے بچے کو گود سے چھین کے آگ میں ڈال کے مار دیا گیا۔ وہ رورہی تھی کہ میں کیوں بچ گئی میں کیوں نہ مر گئی میرے تین بیٹے میری آنکھوں کے سامنے ماردیے گئے۔ سی این این نے اس عورت کی ویڈیو جاری کی تو دیکھ کے روح کانپ کے رہ گئی کہ اس سے تو بہتر تھا کہ مر ہی جاتی۔

اس کے سارے بال جل چکے تھے چہرہ ایک سائیڈ سے بری طرح مسخ ہوچکا تھا۔ اس کی ٹانگیں زخموں سے رس رہی تھیں اور۔ اس کا گینگ ریپ ہوا تھا۔ میانمار کے فوجیوں کی ستائی ہوئی یہ عورت شاید جل کے ہی مر جاتی مگر اس کی کل جمع پونجی اس کی سات سالہ سروائیور نے ماں کو بچالیا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے ایک پوسٹ پہ حسن اور خوبصورتی کے متعلق لکھا اور ابھی یہ ویڈیو دیکھ کر اپنے لکھے الفاظ بھالے کی طرح میرے دل پہ لگ رہے ہیں کہ یہ عورت جس کے ساتھ درندوں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا یہ جلا ہوا مسخ چہرہ اور یہ رستے ہوئے زخموں سے بھری ٹانگوں والی یہ عورت کدھر سے خوبصورت رہ گئی۔

Read more

ڈرامہ انڈسٹری کا اندوہناک ڈرامہ !

"مجھے ایسے ایسے سین لکھنے پڑتے ہیں کہ مجھے خود رونا آتا ہے میں نہیں لکھنا چاہتی مگر کیا کروں مجبوری میں لکھنے پڑتے ہیں ۔ عزت لٹنے کے سین کی جو سنسنی تفصیلات مجھ سے لکھوائی گئیں تو مجھے اتنا رونا آیا کہ میں نے دو رکعت نماز پڑھ کے اللہ سے معافی مانگی"…

Read more