”جلے ہوئے آسماں کے پرندے“ کا ادبی تجزیہ!

کتاب سے میرا تعارف شائع ہونے سے چند سال پہلے ہی ہو چکا تھا جب زاہد امروز کی چند نظمیں ”اسلام پورہ میں ایک بدروح افسردہ ہے“ اور ”نظم کے لئے غسل واجب نہیں“ پڑھیں۔ یہ نظمیں انسانی کیفیات، حقیقت، بے بسی اور عصر حاضر کی جدیدیت لئے اپنی الگ تاثیر رکھتی تھیں۔ کہیں رومان نہیں تھا، لفاظی نہیں۔ زاہد امروز کی نظمیں اپنے موضوعات، امیجری، خاص اسلوب اور منفرد استعاراتی نظام کی وجہ سے اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔

Read more

گلزار! تجزیہ!

ہاتھ میں پسٹل اٹھائے کوئی شخص گلزار کی شاعری، طبلے اور موسیقی پہ بات کرے تو کچھ اور سوچے بنا پہلا وار ”حیرت“ کا ہی ہوتا ہے، جو کہ اس ڈرامے کے انتظار کی سب سے بڑی وجہ بھی تھی، ڈرامہ شروع ہوتے ہی تمکنت کا جو سین چلتا ہے تو ایک معصوم پیشہ ور عورت اپنے جسم اور میک اپ کی فکر میں غلطاں ہے لیکن پھر بھی خوش ہے اور مکمل طور پر شوخ ہے۔ پیشہ ور عورت

Read more

وفا کے نام پہ پاگل پن

”رہتی تو میں تمھارے گھر میں ہوں پورا دن پھر پیسے آدھے کیوں دوں“ میں نے ہمیشہ کی طرح باغیانہ مشورہ دے دیا ”مجھے نیگیٹو خیالات بہت ستاتے ہیں سوچتی ہوں جاب شروع کردوں۔“ جب کوئی بہت اپنا حتیٰ کہ غیر بھی مشکل میں ہو اسے اس سٹیٹ سے نکالنا، اس کی بات سننا، سمجھنا اور اس کے ساتھ چلنا اور اسے یہ یقین دلانا کچھ بھی ہو جائے میں تمھارے ہر فیصلے، ہر قدم پہ تمھارے ساتھ ہوں۔ یہ

Read more

عورت، پنکھا، لاش اور وہی ہم سب!

ایک جوان عورت، دو بچوں کی ماں، ایمبیشئس ڈاکٹر تیرہ چودہ سالہ شادی شدہ زندگی کے بعد اپنے گلے میں پھندا لگا کے کیسے مر سکتی ہے۔ اوپر والی ساری وجوہات ایک کامیاب زندگی کی بہترین علامات ہیں لیکن ان سب کامیابیوں کے باوجود کوئی لڑکی/عورت خودکشی کیسے کر سکتی ہے اور اگر کی بھی تو اتنی کامیاب زندگی کے بعد ایسا کیا تھا۔ اتنی پڑھی لکھی اور ویل سیٹلڈ لڑکیاں بھی اپنے لئے سٹینڈ نہیں لے پاتیں کیونکہ سب

Read more

پیرنٹس ویزا اور لبرلز گورنمنٹ

یہاں کینیڈا میں ہماری پاکستانی کمیونٹی کو لبرلز بہت پسند ہیں الیکشنز کے دنوں میں تو یہاں بھی اکثر لوگوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ اس بار الیکشن اچانک افتاد کی طرح آیا اور ہم سب کے پیارے ٹروڈو صاحب ایک بار پھر پی ایم بنے مسکرا رہے ہیں ان کی تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی سے شاید ہی دنیا کا کوئی شخص ہو جو انھیں پسند نہ کرتا ہو سوائے ان کے مخالفین کے۔

Read more

تھیٹر پلے ”دی جاب“ کا تجزیہ

نائن الیون کے بعد پاکستان میں ہونے والے سنگین حالات کے پس منظر میں معروف پلے رائٹ اکرام بسرا کا یہ ڈرامہ اس وقت امریکہ کے تھیٹرز میں پیش کیا جا رہا ہے پلے کا ٹائٹل سامنے آتے ہی جو پہلا امپریشن ذہن پہ پڑتا ہے وہ جاب/نوکری سے ہی متعلق ہے۔ وائٹ بورڈ کے گرد پھیلا اندھیرا بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی عام شخص کے لئے ایک نوکری کی چمک کے گرد پھیلتے ہوئے مسائل کی تاریکیوں کا

Read more

ذہنی غلاظت اور اخلاقیات کا فقدان!

ہمارے معاشرے کا ایک المیہ بڑا افسوسناک ہے اور وہ ہے ذہنی غلاظت اور اخلاقیات کا فقدان! کہ ایک تو ذہن کے گوشے گوشے میں صرف گند ہے اور سٹور ہوتا رہتا ہے اور زبان اس کی ترجمانی کرنے میں ذرا نہیں جھجکتی۔ یا تو ذہنوں میں پلنے والا گند ابلنے لگتا ہے جیسے کہ گندی نالیاں یا گٹر۔ یا زبان زہر اگلنے سے باز نہیں آتی۔ اور کرنے والوں کا کچھ نہیں جاتا۔ دوسروں کی زندگی میں مشکلات بڑھتی

Read more

دیار غیر میں پاکستانی خواتین کی زندگی

پاکستانی لڑکیوں کو جب کسی بھی بیرون ملک مقیم لڑکے کا رشتہ آتا ہے تو ہر طرف رشک، حسد، فخر اور اس سے ملتے جلتے تاثرات کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔ چاہے لڑکی خود کتنی ہی پڑھی لکھی کیوں نہ ہو، اسے بھی یہی لگتا ہے جیسا کہ فلموں میں دکھایا جاتا ہے باہر کی زندگی پاکستان کی زندگی کی نسبت آسان ہو گی۔ کم از کم یہاں پہ ہر موقع پہ ہونے والی ذلالت سے سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پھر حقوق کی پاسداری ہو گی اور ہر چیز میں آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی۔ دوست، رشتے داروں کو لگتا ہے بس پیسہ ہی پیسہ ہو گا، تالی بجا کے ہر کام ہو جایا کرے گا۔ اور بیچاری لڑکیاں آنکھوں میں برف زاروں کے خواب سجائے خود کو کسی رومانوی فلم کا حسین ترین کردار سمجھتی ہوئی، برف جیسے بندھن نبھانے پہنچ جاتی ہیں۔

Read more

ڈپریشن، سٹریس اور لاک ڈاؤن

جوں جوں زندگی ایک ہاتھ میں سمٹتی جا رہی ہے اصل میں زندگی کی ڈور ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ آنکھوں کے وژن کو ہر چیز میسر ہونے لگی تو سوچ، احساس کا وژن تنگ ہوتا گیا۔ محبت، دوستیاں ظاہری طور پہ ساتھ ساتھ نظر آنے لگیں تو تنہائی اور بڑھنے لگی۔ پہلے صرف اپنی باتیں ہوا کرتی تھیں ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ہر چیز تک پہنچ بھی محدود تھی۔ ایک طرف یہ سب لامحدود ہوا تو بہت کچھ اندر دبتا رہ گیا۔ اپنی باتیں بیچ میں دب گئیں۔ ہم بس

Read more

گھسی پٹی محبت: دوسرا تجزیہ

اپنے لیے خوابوں کے آسمان کے ساتھ ساتھ زمین پر بسنے والے گھر بھی خود ہی بنانے پڑتے ہیں۔ اب کوئی شہزادہ کسی بھی گلی محلے میں پلنے والی لڑکی کے لئے آسمان سے تارے توڑ کے نہیں لاتا۔ میں نے زندگی میں بہت پہلے سے صرف ایک ہی بات سیکھی تھی اور سکول کے لیول سے ہی اپنے اردگرد سب کو نہ صرف سمجھاتی تھی بلکہ ہر طرح مدد بھی کرتی تھی اور وہ تھی تعلیم اور کرئیر! ہر لڑکی کی زندگی میں ایک مکمل تصور ہونا چاہیے کہ اسے اپنا کرئیر بنانا ہے، ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے اچھے اور مالدار لڑکے کے رشتہ لانے کا انتظار نہیں کرنا۔

Read more

گھسی پٹی محبت: ڈرامہ ریویو

ڈرامے کی ساری سچائیاں، معاشرتی رویوں پہ طنز ہر ہر سین میں عروج پہ رہا مگر ایک سین پہ دل بے تحاشا خراب ہوا کہ ایک لڑکی/ عورت جب اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ اسے زندگی گزارنے کے لئے صرف ایک مرد کا مکمل ساتھ چاہیے اور کچھ بھی نہیں۔ کتنی سچائی تھی ان الفاظ میں۔ ڈرامے کی ہیروئن بہت بولڈ دکھائی گئی لیکن اس کی خواہش انتہائی معصوم ہے،  صرف ایک مرد کا مکمل ساتھ اور بیچارہ بدنصیب مرد اسے وہ بھی نہیں دے پاتا۔

Read more

شہرت سے بہتر حقہ!

اکثر جب مجھے کسی ٹی وی چینل سے کسی پروگرام کو ہوسٹ کرنے کے لئے کہاجاتا ہے تو مجھے اک بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ اتنے ڈھیر چینلز ہیں اور اتنے ہی ڈھیر پروگرامز۔ اتنی افراتفری ہے، بھاگم بھاگ، لگتا ہے کوئی بے انت ریس ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بھاگ رہا ہے۔ پیچھے کوئی بچا ہی نہیں۔ کیسی دوڑ ہے کیسی ریس ہے کچھ پلے پڑتا ہی نہیں بس سب بھاگ رہے ہیں اور ان

Read more

رگوں میں اترتے سکوں کے جزیرے!

کچھ سانحے دل پہ گہری ثبت لگاجاتے ہیں جب زندگی سے بھرپور چہرے اچانک موت کی وادی میں اتر جائیں۔ رگوں میں آرٹیفشل سکون کے جزیرے اور خوابوں کی دنیا فشار خون میں شامل کر دی جائے۔ اور وہ سکون جو دلوں پہ اترتا ہے کسی غبار کی شکل آنکھوں کے پردے پہ اتر آئے تو راستہ موت نہیں بلکہ اموات کی طرف جاتا ہے۔ نشہ کسی بھی شے کا ہو جان لیوا ہی ہوتا ہے اور پھر اگر اس

Read more

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟

بات صرف پنکی تک رہتی تو ہم قوم کی بیٹی کا نعرہ لگاتے رہتے تاعمر کیونکہ ہم تو ویسے بھی شخصیت پسندی کی ماری ہوئی قوم ہیں اور شخصیت پسندی کی بہترین مثال ہمارے ہاں کی موروثی سیاست ہے۔ موروثیت ہر طرح سے وطن کے مفاد سے زیادہ بکتی ہے۔ اور ہمارے پاس اس وقت ایک نہیں بلکہ دو دو پنکیاں چلی آئیں۔ قوم کی دو دو بیٹیاں۔ بات بیٹیوں اور پنکیوں تک ہی رہتی تو بھی تھا پر یہاں تو ایک ہی میان میں دو تلواریں اکٹھی رکھ دی گئیں۔

Read more

بے حسوں کا ریوڑ

گئے دنوں میں ذرا ذرا سی بات پہ قتل و غارت ہوتی تھی فساد پھیلتا تھا لوگ ہلاک ہوتے جاتے تھے۔ جبکہ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہاں چند لوگ بے احتیاطی کرتے ہیں اور کتنے مرتے چلے جاتے ہیں اب ہمیں قتل و غارت اور خون خرابے کی ضرورت نہیں۔ اب صرف لوگ ہر چیز کو پس پشت ڈال کر صرف اپنی آرام طلبی دیکھتے ہیں اور احتیاطی تدابیر کو محض جان کا وبال سمجھ کر مزید کئی جانوں کے لئے وبال کا سبب بن جاتے ہیں۔

Read more

کچھ علاج ہی سہی!

کبھی کبھی اتنی بری ساری خبروں میں کوئی چھوٹی سی اچھی خبر اس اطمینان کا باعث ہوتی ہے کہ کہیں کہیں انسانیت کی بچی کھچی سانسیں ابھی بھی جاری ہیں۔ برائی پہ کڑھنا زندہ رہنے کی علامت ہے لیکن اس برائی کو ختم کرنے کے لئے اپنا آپ پیش کرنا چاہے کسی بھی طرح، انسانیت اور معاشرے کی اصل اساس ہے اور ابھی شاید یہی وہ اساس ہے کہ ہم سکون سے سو پاتے ہیں حالانکہ جاگتے ہوئے ہر لمحہ بے سکونی میں گزرتا ہے

Read more

سالی اور بہنوئی: بس یہی کسر باقی تھی

شاید یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے لیکن اب احساس زیادہ ہوتا ہے کہ رشتوں کی بنیاد ان کے تقدس، مان اور محبت پہ ہی رکھی جا سکتی ہے جہاں پر رشتوں سے یہ مان، تقدس اور باہمی رواداری ختم ہوتی ہے ان کے کے سانس گھٹنے لگتے ہیں۔ گرانٹڈ لئے جانے کی بھی کوئی تو حد ہوتی ہے۔ ہر تعلق اپنی ہیئت رکھتا ہے اور حیثیت بھی اور کاش کہ ہم قائم شدہ رشتوں کو ان کی ہیئت اور

Read more

یہ جھنڈا کیک نہیں ہے!

یہ جھنڈا کسی طور پر بھی کیک نہیں ہے اس کا کیک بنا کے مت کاٹئے۔ جب جھنڈے والا کیک ہو اور اس پہ پاکستان بھی لکھا ہو تو کیک کو کٹتے دیکھ کے جانے کیوں دل کو کچھ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت جھنڈے والے درجنوں کیک کٹتے دیکھنے کے بعد دل بیچارہ خاموش ہوکے بیٹھ گیا۔ ہمیشہ کی طرح ڈھیروں ڈھیر رنگارنگ تقریبات۔ عشائیے، گانے، ڈانس، سفید ہرے کپڑے، نعرے، پینڈیمیک کے باوجود زندہ دلان پاکستان کے

Read more

انتظار کی نمی

اے سی اور بند کمروں سے دل گھبرانے لگا تو ڈھلتی شام میں کھڑکی کو پورا کھول کے پاس پڑے صوفے پہ بیٹھ کر باہر شور مچاتی ہوا کی آواز بے حد پرسکون لگی۔ یہ کھڑکی، یہ صوفہ کسی لگژری سے کم نہیں میرے لئے۔ ابھی دو دن پہلے رات کو تیز بارش ہو رہی تھی تو میں نے تب بھی ایسے ہی پوری کھڑکی کھول دی اور اندھیرے میں ہوتی بارش کی تیز رم جھم سننے لگی۔ مٹی کی

Read more

بچوں پر جنسی تشدد کے معاشرتی اثرات!

بچے کے جھکے ہوئے سر نے دل دہلا دیا اور اس دن سے جب بھی خیال آتاہے نہ تو تکلیف کم ہوتی ہے نہ آنسو تھمتے ہیں۔ خدا نے اسی لیے ماؤں کے دل نرم رکھے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے بچے کی ذرا سی تکلیف پر بے چین ہوجاتی ہیں بلکہ راہ چلتے کسی بھی انجان بچے کی تکیلف ان کی برداشت سے باہر ہوجاتی ہے اور ایسے میں دل رو روکے چاہتا ہے کہ ان معصوموں کو

Read more

وبا کے دنوں میں ڈپریشن اور سوشل میڈیا کی ماڈل لڑکی

بہت دنوں بعد ایک دوست سے یونہی سر راہ ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ اچھے خاصے فریش چہرے پہ اداسی رقم ہے۔ یہ ان دنوں کا اثر ہے کہ ہر طرف ایک اداسی کی فضا ہے سوگواری ہے۔ اتنی اموات بھی تو ہو رہی ہیں۔ چاہے پرائے لوگ ہوں پر ساری انسانیت ایک کرب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ایک نقطے پہ آکے پھنس سے گئے ہیں نکلنے کی سمت بھی متعین نہیں۔ اور یہ اتنے سارے انسانوں کی

Read more

عشق اسلام اور فلاحِ انسانی

کچھ دنوں سے ایک عجیب سے فلسفے میں الجھ گئی ہوں۔ کچھ چیزیں ایسی سامنے آئیں جن پہ کبھی اس انداز میں سوچا نہیں۔ ضرورت نہیں پڑی یا پھر شاید ڈائریکشن نہیں ملی کبھی اس طرح۔ ایک سوچ تو وہ وہ آئی تھی کہ ہمیں مذہب ایک انجام، ایک سزا، جزا کے پیمانے پر رکھ کر سکھایا جاتاہے۔ یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ فرض ہے تو یہ کرنا ہی کرنا ہے۔ ذرا سا کام یا فرض نبھاتے ہی جزا

Read more

مسائل کا حل سوچنا چاہیے

کچھ دن پہلے کی بات ہے ایک لڑکی جاب کے سلسلے میں کاؤنسلنگ لیتے ہوئے مجھے کہتی ہے کہ ٹیکس ایبل انکم سے تو میرے گورنمنٹ والے بینیفٹس کم ہوجائیں گے۔ اور پھر مجھے ٹیکس بھی ادا کرنا پڑے گا۔ میرے ذہن میں بہت پرانا فارمولا کلک کیا کہ ہمیشہ اپنے وسائل کو بڑھانے کا سوچنا چائئے نا کہ ایسے بینیفٹس لئے جائیں جس کے لئے ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے۔ گورنمنٹ کب تک ایسی سہولیات دیتی ہے اور پھر

Read more

ہائے اک ڈبہ اور پھر مجمع!

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق کل سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر بار بار آنکھوں کے سامنے سے گزررہی ہے جس کا پہلا امپریشن جتنا دل دکھانے والا تھا جتنی بار دوبارہ نظر آتی ہے اتنی ہی تکلیف بڑھتی جاتی ہے میرے آج کے کالم سے شاید بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو۔ ہر ایک کو اختلاف کا حق ہے اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے یہ کالم بہت

Read more

کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اٹھا؟

میں نے آج کرونا کے بارے میں کچھ بھی نہیں لکھنا کیونکہ اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس ایکسپرٹ ہوئی پڑی ہے۔ بچے بچے کو قرنطینہ کا پتہ ہے کوئی عمل کرنے نہ کرے۔ ویسے بھی یہ تو صدیوں سے چلا آرہا ہے کہ کسی ایک کے کیے گئے اعمال کی سزا بہت سوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔ اب کون کس کے کیے کیا بھگت رہا ہے۔ ابھی تک اس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ قیاس آرائیوں اور تکوں کے

Read more

کرونا وائرس میں شوہر کی خدمت کرنے والی نیک بیویاں

دن تو ڈھیر مصروفیات کی نذر ہو جاتا ہے مگر رات کو جب بھی سونے لگوں تو خوف سے آنکھ کھل جاتی ہے۔ اپنی اصل سے جتنا بھی دور چلے جائیں یہ لاشعوری لمحوں میں ہمارے اند آبستی ہے اور اک خوف کنڈلی مار کے بیٹھ جاتاہے۔ لاشعور کی یہ بے بسی بھی شعور آنے کے بعد کی واردات ہے۔ اس خوف کو زائل کرنے کا ایسے وقت میں صرف ایک ہی طریقہ ملتا ہے اور شاید دنیا کا سب

Read more

عہدِ وفا

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم دہلی میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم کو خاموشی سے دیکھتے ہوئے اور کشمیر پہ لگنے والے بار بار کے شٹ ڈاؤن پر اللہ کی مصلحتوں کو سمجھتے ہوئے، شام کے بچوں کی آہ و بکا سے بیگانہ ہوتے ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ روہینگیا، اور چائنہ میں مولی گاجر کی طرح کٹتے انسانوں، بار بار ریپ ہوتی ہوئی بچیوں، عورتوں کے مقتول جسموں پہ اللہ بہتر کرے گا

Read more

کس کا جسم، کہاں کی مرضی!

جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے گئے وقتوں میں محبت کے نام پر صرف دھوکا ہوتا تھا اور آج اس ترقی یافتہ معاشرے میں محبت، دھوکے جیسے چھوٹے سے لفظ سے بہت دور کہیں اتھاہ گہرائیوں میں گر چکی ہے۔ حوا کی بدقسمتی یہ ہے کہ محبت کے ہر پہلو نے اسے تکلیف میں مرتے چلے جانے کے سوا شاید ہی کوئی راہ دکھائی ہو۔ اور تکلیف کی

Read more

چار سال کی بچی اور نفسیاتی باپ

”چار سال کی بچی ہائیکنگ کرنے کیسے جاسکتی ہے“ لائبریری سے نکلتے ہی ٹھنڈ کی جھرجھری نے پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ برف سے ڈھکے ہوئے، درختوں سے بھرے ہوئے پبلک پوائنٹ پہ جہاں اتنی شدید سردی میں اتوار کی چھٹی والے دن کوئی بھی نہ تھا، باپ اپنی چار سالہ بچی کو لے کر ہائیکنگ کے لئے پہنچا۔ سگنل پر کھڑی سامنے سے ایک عورت کو سڑک کراس کرتے ہوئے دیکھا جس نے کارٹ میں ایک

Read more

پیڈوفیلیا کامحرک سویا ہوا ضمیر!

جتنی بار سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ میری آنکھوں سے گزرتی ہے تو اپنا آپ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہوا ملتا ہے۔ کہ ہم سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کچھ کر نہیں سکتے۔ ہر بار اس خبر کو پڑھ کے روح تک کانپ جاتی ہے اور جب مظلوم اور معصوم بچوں کی تکلیف اور اذیت کا خیال آتا ہے تو سوائے رونے کے میرے بس میں کچھ نہیں رہتا۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی زندہ تڑپتی بچیوں کے اوپر

Read more

بچوں کا اغوا!

کل صبح ساڑھے نوبجے سے بچہ اغوا ہے۔ ماں باپ بیچارے مارے مار ے پھر رہے ہیں اور بچے کا کوئی اتا پتہ نہیں۔ بچے کے دوست نے بتایا کہ دو موٹر سائیکل سوار بچے کے پاس آئے پیسے دیے اسے اور ساتھ بٹھا کر لے گئے۔ کتنے معصوم ہوتے ہیں یہ ننھے پھول۔ انھیں کیا پتہ کہ دس بیس روپے کی چیجی جان بھی لے سکتی ہے۔ پتہ نہیں اب وہ بچہ کیسا ہوگا اور کہاں ہوگا۔ ہوگا بھی

Read more

ہمارے ہیروز!

شہید کی جو مقت ہے وہ قوم کی حیات ہے! ہم دراصل بڑی جذباتی قوم ہیں۔ ہمارے تمام تر جذبے فوری ری ایکشن ہوتے ہیں بلکہ شدید ترین ری ایکشن۔ ہم ایک لمحے میں کسی کو بھی اپنا قومی ہیرو بنا لیتے ہیں اور پھر چار دن اس کی اس قدر واہ واہ ہوتی ہے کہ لگتا ہے اس سے پہلے کوئی ایسا آہی نہیں سکتا تھا حالانکہ تاریخ ایسے ہیروز سے لبالب بھری پڑی ہے۔ جن کے کارناموں نے

Read more

پاکستان می ہسپتالوں کی حالت زار اور غریب عوام

پورا گھر ایڈز سے مرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ دو بچے پہلے سے مر چکے ہیں اور باقی بچے اور والدین سب ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہوچکے ہیں۔ غربت سانس نہیں لینے دیتی اوپر سے یہ لاعلاج مرض جو کہ غریب کے لئے سچ میں لاعلاج ہوجاتا ہے۔ پیسے والے مریض تو پھر اچھی خوراک کھاکے بہتر لائف سٹائل کی وجہ سے اکثر اس مرض سے زیادہ دیر لڑ پاتے ہیں مگر ان غریب بچوں کی بیچارگی

Read more

طلاق، حلالہ، زنا

کیا اتنی مشکلوں اور کہیں کہیں محبتوں سے جڑا رشتہ یوں تین سیکنڈز میں ختم ہوسکتا ہے؟ کبھی کبھی محبتوں اس لئے لکھا کہ ہمارے ہاں شادی کا محرک کبھی بھی خالصتاً صرف محبت نہیں ہوتی۔ اتنی بار اپنے سامنے کتنے خاندانوں میں یہی سب ہوتے دیکھا۔ ایک فیملی کو تو صبح ہنستے کھیلتے شاپنگ کرتے دیکھا اور شام کو مسجدوں میں مولویوں کے پاس بھاگتے اور بچوں کو شیلٹر ہوم کے اندر جانے کے خوف سے روتے بھی دیکھا۔ خیر مولویوں کی دنیا ہی الگ ہے۔

Read more

ایک دن ماں کا

تین چار دن سے فیس بک پر رولا پڑا ہوا ہے ہر کسی کو اپنی ماں سے محبت ٹوٹ ٹوٹ کر جاگ رہی ہے۔ خیر ہم کون سے مولوی ہیں جو فتویٰ لگائیں گے بلکہ ماں تو ایسی ہستی ہے جسے خراج دینے کے لئے کسی وقت، کسی لمحے یا دن کی کوئی قید نہیں۔ پھر صرف ایک دن کیوں ماں کی تصویریں لگاکے اپنی عقیدت پیش کی جائے؟ ماں نے تو ہمارے ہونے کے احساس کو نو مہینے خود میں رکھ کر لمحہ لمحہ، پل پل جیا تھا۔ پھر جس تکلیف سے وہ ہمیں اس دنیا میں لاتی ہے کیا اس کی قدر فیس بک پہ ہوسکتی ہے۔ نہیں۔ ہر لمحہ ماں کا ہے کہ ہم اس کے پر توہیں۔ جو اس نے ہمیں دیا آج ہم وہ دنیا کو لوٹارہے ہیں۔

Read more

میں چھپ کر لکھتی ہوں

”میں چھپ کر لکھتی ہوں کیونکہ ہمارے ہاں اسے کھلی بے حیائی سمجھا جاتا ہے“ اور میں جو پہلے روزے کی اینگزائٹی میں سو نہیں پا رہی تھی، نیند بالکل ہی غائب ہوگئی۔ آج ہم عورت کی خودمختاری کا نعرہ لگاتے ہیں تو سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے کہ عورت نے دنیا کی ہر فیلڈ میں اپنا آپ منوایا ہے مرد کے نہ صرف شانہ بشانہ بلکہ عین مقابل آکر۔ ”بس آٹھویں جماعت تک پڑھی ہوں آگے پڑھنے نہیں

Read more

نمل کا نیا لیڈرشپ چارج

اتنے عرصے سے لکھنے کی کوشش کررہی ہوں پر پتہ نہیں کیا بات ہے دن رات لکھنے پہ اکسانے والا دل بس ملامت کرتا رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ایڈیٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں ان کے لئے تکلیف کا باعث ہوں جوریگولر نہیں لکھ رہی پہلے کی طرح۔ پتہ نہیں یہ ستائش ہے کہ آزمائش۔ مجھ سے واقعی لکھا نہیں جارہا۔ بقول شاعر!اب کوئی معتبر آکر روئے۔

Read more

لیکن ہار مقدر تھی۔

وقتی اور لمحاتی کیفیتوں کا خمار چند لمحوں کے لئے خود سے پرے کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے اس سے زیادہ سکون اور کہاں ہوگا مگر یہ کیسا سکون ہے جس کا وجود مجھ میں سرایت ہوکے تکمیل ہی نہیں کر پاتا۔ تشنگی کتنی بھیانک ہوتی ہے اس کا ادراک اسی وقت ہوتا ہے جب آشتی کے دریا میں غوطے کھاتے ہوئے وجود اچانک ریت پر پھینک دیا جائے۔ باقی سب جو بھی ہے اس کی واقعتاً کوئی حقیقت

Read more

وسائل اور مسائل کا درمیانی راستہ!

مجھے آج کل محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے درمیان، ہمارے بیچ نفسیاتی مریضوں کی پوری اک کھیپ پروان چڑھ رہی ہے ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہم بہت چاہ کے بھی ہاتھ سے روک نہیں پا رہے اور آج کل ہر دن ایک نیا مسئلہ ہمیں ہارٹ سٹروک دینے کے لئے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو واقعی لگتا ہے سینے سے دل گیا۔ مگر کس کے؟ میں اور میرے جیسے بہت سے لوگ صبح شام شاید اسی سوچ کی تیزابیت سے مر رہے ہیں۔ اور اس خوف و ہراس میں پھر بھی جی رہے ہیںآج دوپہر سے ایمبر الرٹ چل رہا تھا کہ ایک باپ جو قانونی طور پر اپنی بچی سے نہیں مل سکتا تھا اپنی بیٹی کو سکول سے زبردستی اٹھا کے لے گیا ہے۔ ابھی چند دن پہلے پورے ٹورنٹو نے ایک معصوم گیارہ سالہ بچی ریا کے باپ کے ہاتھوں قتل پر کئی دن سوگ منایا۔ دل نہیں مانتا نا۔ بالکل بھی نہیں مانتا۔ رات گیارہ بجے کے قریب پورے ٹورنٹو کے فونز پر ایمبر الرٹ بجے تھے اور سارا تھکا ہوا شہر اپنی تھکاوٹ بھول کر بچی کی سلامتی کے لئے اپنی اپنی کوششوں میں لگ گیا تھا۔

Read more

پرتشدد تعلیمی ماحول!

سات سالہ بچہ جب ہسپتال پہنچا تو وہ اساتذہ کے تشدد کی تاب نہ لا سکا اور جان سے چلاگیا۔ اور سات سالہ جسم ہوتا ہی کتنا ہے کہ تشدد برداشت کر سکے اور اس عمر کے بچے پہ اتنا ظلم کیوں کیا گیا۔ رپورٹ میں کچھ نہیں ملا۔

Read more

محبت، نفسیاتی ہٹ دھرمیاں، شادی اور توڑ پھوڑ!

وہ جب اپنا ہاتھ اس کے پاس لاتا ہے تو اسے اس سے گھن کے مارے ابکائی آنے لگتی ہے اور یہ ہاتھ اس شخص کا ہاتھ تھا جس کے ساتھ اس نے ساری زندگی گزارنی ہے۔ ان ہاتھوں کی جنبشوں سے لڑکیوں کے بے شمار جذبات اور ان میں بستے خواب وابستہ ہوتے ہیں۔ وہ پاس آتا ہے تو اس سے اٹھنے والی بدبو اس کی برداشت سے باہر ہوجاتی ہے اور جب وہ اسے پیچھے ہٹنے کا بولتی

Read more

معصوم نوحے!

چھوٹی سی بچی خون میں لتھڑے کپڑے پہنے ہاتھ میں فیڈر اٹھائے ریاست کے رکھوالوں کے لئے اک سوال لئے کھڑی ہے کہ یہی وہ ریاست مدینہ ہے جہاں فیڈر تو بچ گیا مگر بنا کے دینے والی ماں کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال کر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ جہاں دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں اور لوگ پولیس سے ڈرتے ہیں کہ پولیس لوگوں کی حفاظت کرنے کی بجائے خود سب سے بڑی دہشت گرد ہے۔ کیا

Read more

چلتی پھرتی لاشیں!

”جلتی ہوئی جھونپڑی میں سے تڑپتی ہوئی ماں کو اس کی سات سالہ بیٹی نے بچاکے باہر نکالا“ ایک ایسی عورت کو جس کے ایک بیٹے کو سر پر بھاری لکڑی مار کے اور دوسرے بچے کو گود سے چھین کے آگ میں ڈال کے مار دیا گیا۔ وہ رورہی تھی کہ میں کیوں بچ گئی میں کیوں نہ مر گئی میرے تین بیٹے میری آنکھوں کے سامنے ماردیے گئے۔ سی این این نے اس عورت کی ویڈیو جاری کی تو دیکھ کے روح کانپ کے رہ گئی کہ اس سے تو بہتر تھا کہ مر ہی جاتی۔

اس کے سارے بال جل چکے تھے چہرہ ایک سائیڈ سے بری طرح مسخ ہوچکا تھا۔ اس کی ٹانگیں زخموں سے رس رہی تھیں اور۔ اس کا گینگ ریپ ہوا تھا۔ میانمار کے فوجیوں کی ستائی ہوئی یہ عورت شاید جل کے ہی مر جاتی مگر اس کی کل جمع پونجی اس کی سات سالہ سروائیور نے ماں کو بچالیا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے ایک پوسٹ پہ حسن اور خوبصورتی کے متعلق لکھا اور ابھی یہ ویڈیو دیکھ کر اپنے لکھے الفاظ بھالے کی طرح میرے دل پہ لگ رہے ہیں کہ یہ عورت جس کے ساتھ درندوں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا یہ جلا ہوا مسخ چہرہ اور یہ رستے ہوئے زخموں سے بھری ٹانگوں والی یہ عورت کدھر سے خوبصورت رہ گئی۔

Read more

ڈرامہ انڈسٹری کا اندوہناک ڈرامہ !

"مجھے ایسے ایسے سین لکھنے پڑتے ہیں کہ مجھے خود رونا آتا ہے میں نہیں لکھنا چاہتی مگر کیا کروں مجبوری میں لکھنے پڑتے ہیں ۔ عزت لٹنے کے سین کی جو سنسنی تفصیلات مجھ سے لکھوائی گئیں تو مجھے اتنا رونا آیا کہ میں نے دو رکعت نماز پڑھ کے اللہ سے معافی مانگی” ایک دوست ٹی وی چینل پر کام کرتے ہوئے اپنی بپتا سنا رہی تھی اور میں آج سے پندرہ سترہ سال پہلے اپنے ابو کے

Read more

طلاق سے آگے۔۔۔؟

دوست کا بار بار فون آرہا تھا۔ مصروفیت کی بنا پر اٹھا نہیں پارہی تھی۔ پھر کال بیک کیا تواس نے ایک خاتون کے بارے میں خبر دی کہ وہ میاں سے علیحدہ ہوگئی۔ یقینا ً ہر عورت کا حق ہے مذہبی اور قانونی بھی کہ اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی بھی طرح سے خوش یا مطمئن نہیں تو وہ اس سے علیحدہ ہونے کا مکمل اختیار بھی رکھتی ہے اور حق بھی۔ پر مجھے پریشانی ہورہی تھی حالانکہ میرا اس خاتون سے کوئی دور کابھی واسطہ نہیں لیکن ایک عورت ہونے کے ناطے میں اس کے financial statistics پر غور کرنے کی ناکام کوشش کرنے پرمجبور تھی۔

Read more

معاشرتی معذوری اور معذور افراد

بہت سال پیچھے جاؤں تو یاد آتا ہے چوک کے پاس پرچون کی دکان کے باہر بندھی ہوئی میری ہی عمر کی اک لڑکی۔ گندے کپڑے، میلا حلیہ، چیخیں مارتی ہوئی، یہاں سے وہاں بھاگنے کی بے چین کوشش میں ناکام۔ اس گھر کے باقی بچے تو کھلے پھرتے تھے تو پھر وہ کیوں اس طرح بندھی ہوئی تھی۔ ظلم اور سفاکی جیسے الفاظ میرے ذہن کی سلیٹ پہ ابھی تک ابھرے نہیں تھے۔ سلیٹ اس لئے کہا کہ اس وقت سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت صرف سلیٹ تک ہی محدود تھی۔ کاپیوں سے تعارف نیا نیا تھا ”انکل وہ آپ کی بیٹی ہے“ دوکان سے ٹافیاں بسکٹ لیتے ہوئے میری نظر اس پر ہی تھی۔ انکل چپ۔ ”انکل اسے کھول دیں وہ بھاگنا چاہتی ہے“ انکل نے ایسا گھورا کہ مجھے بھاگنا پڑا۔

Read more

برف اتری ہے خالی آنکھوں پر!

کبھی کبھی لگتا ہے ہم بلاوجہ زندگی کو سنوارنے کے لئے اپنی خوشیاں تیاگ دیتے ہیں، اپنے جذبوں کو دبا دیتے ہیں اور اچھی بھلی دل کو لبھاتی ہوئی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں۔ حاصل وہی روایتی سے سمجھوتے ہوتے ہیں وہی روٹین کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اور خوشی۔ خالی مٹھی سے ریت کی طرح سرک چکی ہوتی ہے۔ پھر یہ بیزاری اور یبوسیت لئے ہم زندگی سے قدم ملاتے چلے جارہے ہوتے ہیں وہی روزمرہ کی بے

Read more

بھوک یا روشن خیالی

پاکستان کی دن رات ڈولتی ہوئی سیاست اور کرپٹ، وعدہ خلاف سیاست دان ہمارے ملک کا ٹریڈ مارک بن چکے ہیں۔ پاکستان کا نام آئے تو دہشت گردی، کرپشن، سیاسی رہنماؤں کی منی لانڈرنگ، اربوں کھربوں کے گھپلے۔ دوسرے ملکوں کے لوگ بھی سوچتے ہوں گے کہ اتنے چھوٹے سے ملک میں جہاں پینے کا صاف پانی تک مہیا نہیں وہاں پراتنا پیسہ کدھر سے پیدا ہوتا ہے کہ ہر کوئی دنوں میں امیر کبیر بن جاتا۔ دہشت گردی کی

Read more

پھانسی کون سے مجرم کو؟

جنوری میں جب ابو کی عیاد کے لئے میں پاکستان میں تھی۔ عجیب سا وزٹ تھا پاکستان کا۔ سارا دن بس ابو کے پاس ایک کمرے میں رہنا! ان سے دھیان ہٹتا ہی نہیں تھا شروع میں تو ان کی طبیعت اتنی خراب رہی کہ وہ سو نہیں پاتے تھے پھر ڈاکٹر بدلا، اس نے دوا بدلی تو ابو کی حالت بہتر ہونا شروع ہوئی اور میں پنجاب کارڈیالوجی کے پرائیوٹ سیکٹر میں ابو کی باری کا انتظار کرنے کے

Read more

ناموں سے آگے کا ادب

بہت پہلے سے لیکرآج تک ہم صرف نام پڑھتے ہیں اس کے علاوہ شاید ہماری ذہانت ہمارا ساتھ نہیں دیتی یا ہمارا ضمیر خود اپنے ہی استعمال سے ناراض ہوجاتا ہے! ہم برانڈ سے آگے سوچتے ہی نہیں بس برانڈ کا نام دیکھا، آنکھیں بند کیں اور شاپنگ کارٹ میں ڈال لیا۔ پھر برانڈ ہوتی بھی مہنگی ہے لیکن بھئی ہمیں تو چاہیے ہی وہی۔ کیا کریں نا ہم لکیر کے فقیر جو ہوئے۔ ہم میں ہٹ کے چلنے کا

Read more

طلائی اور ویشیا

چے صحن میں اتنی شدید دھوپ پڑرہی تھی کہ مٹی کی سوندھی خوشبو میں حبس زدہ تھکن اور اکتائی ہوئی جلن شامل ہونے لگی۔ اندر کا موسم تو پہلے ہی بان کی سخت کھردی چارپائی کی طرح جسم پر گرم پھپھولے بنا ہی رہا تھا لان کا پرانا، پسینے سے اکڑا ہوا کرتا چبھن میں اور اضافہ کررہا تھا ایک ہی پیڈسٹل فین تھا جو کل سے بند پڑا تھا ٹاٹ کے پردے کے چیتھڑوں میں سے امڈ کے آتی

Read more

دوسری شادی اورحقوق

معاشرہ اور مذہب ہمیں جینے کے اصول دیتے ہیں ۔ مذہب کو پہلے اس لئے نہیں لکھاکہ اکثر لوگ مذہب کو زبردستی کے معاملات ٹھہراتے ہیں ۔ لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ مذہب اور معاشرہ مل کے معاشرے کے قوانین کو مرتب کرتے ہیں۔ اخلاقیات اور انسانیت زندگی کے وہ پہلو ہیں کہ اگر ان کی مناسب نگہداشت نہ کی جائے تو کسی بھی قانون کو توڑنا مشکل نہیں۔ اور کچھ حقائق قدرت کے قانون کو چیلنج کرتے

Read more

دل سے دل تک! عمران اور پاکستان

کچھ لمحے، کچھ باتیں صرف محسوس کی جاسکتی ہیں ان کا رنگ دل کی آنکھ سے جاملتا ہے اور ہر بات آیت کی طرح اترتی چلی جاتی ہے۔ آجکل پاکستان کے سب عوام کا یہی حال ہے کہ ایک روشنی کی کرن ان کے دلوں کو روشن کررہی ہے اور میرا آج کا کالم جس رومینٹک انداز میں شروع ہوا ہے پڑھنے والوں کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہمیشہ کی طرح میں کوئی سیاسی بیان نہیں دوں گی اور کچھ

Read more

میرا لیڈر میرا وزیر اعظم

روزمرہ کی مصروفیات کا اثر ہماری تخلیقی صلاحیتوں پر بہت طرح اثرانداز ہوتا ہے اور معاشرے کے اہم ایشوز پہ جب لکھا نہ جاسکے تو سوچ کی دیوی بھی روٹھنے لگتی ہے کہ دیکھ تو سب رہے ہوتے ہیں مگر محسوس کرنا، اس پہ سوچنا اور پھر کرنے کے لئے میدان میں اتر آنا بڑے حوصلے کا کام ہے اور آج ایک شخص کو ٹی وی پر کسی نے واسکٹ اتار کر دی کہ یہ پہن کر تصویر اتروالیں، کھیڑی

Read more

ٹوٹے ہوئے گھر، حقوق نسواں کی علمبردار خاتون اور بے راہرو شوہر

وہ کئی دن سے مجھے فون کررہی تھی اور میں نمبر دیکھ کے فون ہی نہیں اٹھاتی تھی ”کوئی کام نہیں ان لوگوں کو سوائے اشتہار بازی کے“ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی ایسے ہائی پروفائلوں کو مجھ سے کیا کام۔ میری تو شکل پہ لکھا ہے“گریز“ مگر اس نے گریز نہ کیا اور مسلسل رابطوں کی کوشش کرتی رہی۔ میں میسیج پہ ہلکا پھلکا جواب دیتی رہی اب اتنی بدتمیز بھی نہیں تھی نا۔ تو پتہ چلا کہ وہ

Read more

بیٹا نہ دیجئو

زمانہ نیا ہو یا پرانا رسمیں روایتیں اور ان کی بدصورتیاں ہمارے خون میں رچ بس گئی ہیں چاہ کربھی جان چھڑانا ناممکن لگتا ہے۔ اور جس گھر میں بیٹی جوان ہوجائے اورجہیز جوڑنے کےلئےپیسے تک نہ ہوں۔ جہاں کبھی ماں کی سسکیاں دبتی ہیں تو کبھی بیٹی کی آرزوئیں اور کبھی باپ کا حوصلہ۔ فضل دین کے گھر کے حالات بہت کشیدہ تھے چار بیٹیوں کا بوجھ سر پہ اور جہاں کھانے کے لالے پڑے ہوں وہاں جہیز کے

Read more

خواتین کی خود مختاری کا مطلب کیا ہے

ابتدائی تعلیم سے ہی ہمیں خواتین کے حقوق اور ان کی پاسداری کے بارے میں نصابی اور اسلامی ہر طرح کی تعلیم سے روشناس کرایا جاتا رہا جس کی رو سے ہمیشہ عورت کی ایک مختلف صورتحال سامنے آئی جو کہ ہمارے اپنے گھروں اور معاشرے میں پھیلے ہوئے رویوں سے یکسر مختلف تھی مطلب ہم پڑھ کچھ اور رہے تھے دیکھ کچھ اور رہے تھے اور ہماری سوچ کے زاویے یکسر مختلف سانچے میں ڈھل رہے تھے جس میں

Read more