پاکستان می ہسپتالوں کی حالت زار اور غریب عوام

پورا گھر ایڈز سے مرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ دو بچے پہلے سے مر چکے ہیں اور باقی بچے اور والدین سب ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہوچکے ہیں۔ غربت سانس نہیں لینے دیتی اوپر سے یہ لاعلاج مرض جو کہ غریب کے لئے سچ میں لاعلاج ہوجاتا ہے۔ پیسے والے مریض تو…

Read more

طلاق، حلالہ، زنا

کیا اتنی مشکلوں اور کہیں کہیں محبتوں سے جڑا رشتہ یوں تین سیکنڈز میں ختم ہوسکتا ہے؟ کبھی کبھی محبتوں اس لئے لکھا کہ ہمارے ہاں شادی کا محرک کبھی بھی خالصتاً صرف محبت نہیں ہوتی۔ اتنی بار اپنے سامنے کتنے خاندانوں میں یہی سب ہوتے دیکھا۔ ایک فیملی کو تو صبح ہنستے کھیلتے شاپنگ کرتے دیکھا اور شام کو مسجدوں میں مولویوں کے پاس بھاگتے اور بچوں کو شیلٹر ہوم کے اندر جانے کے خوف سے روتے بھی دیکھا۔ خیر مولویوں کی دنیا ہی الگ ہے۔

Read more

ایک دن ماں کا

تین چار دن سے فیس بک پر رولا پڑا ہوا ہے ہر کسی کو اپنی ماں سے محبت ٹوٹ ٹوٹ کر جاگ رہی ہے۔ خیر ہم کون سے مولوی ہیں جو فتویٰ لگائیں گے بلکہ ماں تو ایسی ہستی ہے جسے خراج دینے کے لئے کسی وقت، کسی لمحے یا دن کی کوئی قید نہیں۔ پھر صرف ایک دن کیوں ماں کی تصویریں لگاکے اپنی عقیدت پیش کی جائے؟ ماں نے تو ہمارے ہونے کے احساس کو نو مہینے خود میں رکھ کر لمحہ لمحہ، پل پل جیا تھا۔ پھر جس تکلیف سے وہ ہمیں اس دنیا میں لاتی ہے کیا اس کی قدر فیس بک پہ ہوسکتی ہے۔ نہیں۔ ہر لمحہ ماں کا ہے کہ ہم اس کے پر توہیں۔ جو اس نے ہمیں دیا آج ہم وہ دنیا کو لوٹارہے ہیں۔

Read more

میں چھپ کر لکھتی ہوں

”میں چھپ کر لکھتی ہوں کیونکہ ہمارے ہاں اسے کھلی بے حیائی سمجھا جاتا ہے“ اور میں جو پہلے روزے کی اینگزائٹی میں سو نہیں پا رہی تھی، نیند بالکل ہی غائب ہوگئی۔ آج ہم عورت کی خودمختاری کا نعرہ لگاتے ہیں تو سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے کہ عورت نے دنیا کی ہر…

Read more

نمل کا نیا لیڈرشپ چارج

اتنے عرصے سے لکھنے کی کوشش کررہی ہوں پر پتہ نہیں کیا بات ہے دن رات لکھنے پہ اکسانے والا دل بس ملامت کرتا رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ایڈیٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں ان کے لئے تکلیف کا باعث ہوں جوریگولر نہیں لکھ رہی پہلے کی طرح۔ پتہ نہیں یہ ستائش ہے کہ آزمائش۔ مجھ سے واقعی لکھا نہیں جارہا۔ بقول شاعر!اب کوئی معتبر آکر روئے۔

Read more

لیکن ہار مقدر تھی۔

وقتی اور لمحاتی کیفیتوں کا خمار چند لمحوں کے لئے خود سے پرے کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے اس سے زیادہ سکون اور کہاں ہوگا مگر یہ کیسا سکون ہے جس کا وجود مجھ میں سرایت ہوکے تکمیل ہی نہیں کر پاتا۔ تشنگی کتنی بھیانک ہوتی ہے اس کا ادراک اسی وقت ہوتا ہے…

Read more

وسائل اور مسائل کا درمیانی راستہ!

مجھے آج کل محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے درمیان، ہمارے بیچ نفسیاتی مریضوں کی پوری اک کھیپ پروان چڑھ رہی ہے ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہم بہت چاہ کے بھی ہاتھ سے روک نہیں پا رہے اور آج کل ہر دن ایک نیا مسئلہ ہمیں ہارٹ سٹروک دینے کے لئے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو واقعی لگتا ہے سینے سے دل گیا۔ مگر کس کے؟ میں اور میرے جیسے بہت سے لوگ صبح شام شاید اسی سوچ کی تیزابیت سے مر رہے ہیں۔ اور اس خوف و ہراس میں پھر بھی جی رہے ہیںآج دوپہر سے ایمبر الرٹ چل رہا تھا کہ ایک باپ جو قانونی طور پر اپنی بچی سے نہیں مل سکتا تھا اپنی بیٹی کو سکول سے زبردستی اٹھا کے لے گیا ہے۔ ابھی چند دن پہلے پورے ٹورنٹو نے ایک معصوم گیارہ سالہ بچی ریا کے باپ کے ہاتھوں قتل پر کئی دن سوگ منایا۔ دل نہیں مانتا نا۔ بالکل بھی نہیں مانتا۔ رات گیارہ بجے کے قریب پورے ٹورنٹو کے فونز پر ایمبر الرٹ بجے تھے اور سارا تھکا ہوا شہر اپنی تھکاوٹ بھول کر بچی کی سلامتی کے لئے اپنی اپنی کوششوں میں لگ گیا تھا۔

Read more

پرتشدد تعلیمی ماحول!

سات سالہ بچہ جب ہسپتال پہنچا تو وہ اساتذہ کے تشدد کی تاب نہ لا سکا اور جان سے چلاگیا۔ اور سات سالہ جسم ہوتا ہی کتنا ہے کہ تشدد برداشت کر سکے اور اس عمر کے بچے پہ اتنا ظلم کیوں کیا گیا۔ رپورٹ میں کچھ نہیں ملا۔

Read more

محبت، نفسیاتی ہٹ دھرمیاں، شادی اور توڑ پھوڑ!

وہ جب اپنا ہاتھ اس کے پاس لاتا ہے تو اسے اس سے گھن کے مارے ابکائی آنے لگتی ہے اور یہ ہاتھ اس شخص کا ہاتھ تھا جس کے ساتھ اس نے ساری زندگی گزارنی ہے۔ ان ہاتھوں کی جنبشوں سے لڑکیوں کے بے شمار جذبات اور ان میں بستے خواب وابستہ ہوتے ہیں۔…

Read more

معصوم نوحے!

چھوٹی سی بچی خون میں لتھڑے کپڑے پہنے ہاتھ میں فیڈر اٹھائے ریاست کے رکھوالوں کے لئے اک سوال لئے کھڑی ہے کہ یہی وہ ریاست مدینہ ہے جہاں فیڈر تو بچ گیا مگر بنا کے دینے والی ماں کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال کر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ جہاں دہشت گرد…

Read more