پیڈوفیلیا کامحرک سویا ہوا ضمیر!

جتنی بار سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ میری آنکھوں سے گزرتی ہے تو اپنا آپ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہوا ملتا ہے۔ کہ ہم سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کچھ کر نہیں سکتے۔ ہر بار اس خبر کو پڑھ کے روح تک کانپ جاتی ہے اور جب مظلوم اور معصوم بچوں کی تکلیف اور…

Read more

بچوں کا اغوا!

کل صبح ساڑھے نوبجے سے بچہ اغوا ہے۔ ماں باپ بیچارے مارے مار ے پھر رہے ہیں اور بچے کا کوئی اتا پتہ نہیں۔ بچے کے دوست نے بتایا کہ دو موٹر سائیکل سوار بچے کے پاس آئے پیسے دیے اسے اور ساتھ بٹھا کر لے گئے۔ کتنے معصوم ہوتے ہیں یہ ننھے پھول۔ انھیں…

Read more

ہمارے ہیروز!

شہید کی جو مقت ہے وہ قوم کی حیات ہے! ہم دراصل بڑی جذباتی قوم ہیں۔ ہمارے تمام تر جذبے فوری ری ایکشن ہوتے ہیں بلکہ شدید ترین ری ایکشن۔ ہم ایک لمحے میں کسی کو بھی اپنا قومی ہیرو بنا لیتے ہیں اور پھر چار دن اس کی اس قدر واہ واہ ہوتی ہے…

Read more

پاکستان می ہسپتالوں کی حالت زار اور غریب عوام

پورا گھر ایڈز سے مرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ دو بچے پہلے سے مر چکے ہیں اور باقی بچے اور والدین سب ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہوچکے ہیں۔ غربت سانس نہیں لینے دیتی اوپر سے یہ لاعلاج مرض جو کہ غریب کے لئے سچ میں لاعلاج ہوجاتا ہے۔ پیسے والے مریض تو…

Read more

طلاق، حلالہ، زنا

کیا اتنی مشکلوں اور کہیں کہیں محبتوں سے جڑا رشتہ یوں تین سیکنڈز میں ختم ہوسکتا ہے؟ کبھی کبھی محبتوں اس لئے لکھا کہ ہمارے ہاں شادی کا محرک کبھی بھی خالصتاً صرف محبت نہیں ہوتی۔ اتنی بار اپنے سامنے کتنے خاندانوں میں یہی سب ہوتے دیکھا۔ ایک فیملی کو تو صبح ہنستے کھیلتے شاپنگ کرتے دیکھا اور شام کو مسجدوں میں مولویوں کے پاس بھاگتے اور بچوں کو شیلٹر ہوم کے اندر جانے کے خوف سے روتے بھی دیکھا۔ خیر مولویوں کی دنیا ہی الگ ہے۔

Read more

ایک دن ماں کا

تین چار دن سے فیس بک پر رولا پڑا ہوا ہے ہر کسی کو اپنی ماں سے محبت ٹوٹ ٹوٹ کر جاگ رہی ہے۔ خیر ہم کون سے مولوی ہیں جو فتویٰ لگائیں گے بلکہ ماں تو ایسی ہستی ہے جسے خراج دینے کے لئے کسی وقت، کسی لمحے یا دن کی کوئی قید نہیں۔ پھر صرف ایک دن کیوں ماں کی تصویریں لگاکے اپنی عقیدت پیش کی جائے؟ ماں نے تو ہمارے ہونے کے احساس کو نو مہینے خود میں رکھ کر لمحہ لمحہ، پل پل جیا تھا۔ پھر جس تکلیف سے وہ ہمیں اس دنیا میں لاتی ہے کیا اس کی قدر فیس بک پہ ہوسکتی ہے۔ نہیں۔ ہر لمحہ ماں کا ہے کہ ہم اس کے پر توہیں۔ جو اس نے ہمیں دیا آج ہم وہ دنیا کو لوٹارہے ہیں۔

Read more

میں چھپ کر لکھتی ہوں

”میں چھپ کر لکھتی ہوں کیونکہ ہمارے ہاں اسے کھلی بے حیائی سمجھا جاتا ہے“ اور میں جو پہلے روزے کی اینگزائٹی میں سو نہیں پا رہی تھی، نیند بالکل ہی غائب ہوگئی۔ آج ہم عورت کی خودمختاری کا نعرہ لگاتے ہیں تو سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے کہ عورت نے دنیا کی ہر…

Read more

نمل کا نیا لیڈرشپ چارج

اتنے عرصے سے لکھنے کی کوشش کررہی ہوں پر پتہ نہیں کیا بات ہے دن رات لکھنے پہ اکسانے والا دل بس ملامت کرتا رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ایڈیٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں ان کے لئے تکلیف کا باعث ہوں جوریگولر نہیں لکھ رہی پہلے کی طرح۔ پتہ نہیں یہ ستائش ہے کہ آزمائش۔ مجھ سے واقعی لکھا نہیں جارہا۔ بقول شاعر!اب کوئی معتبر آکر روئے۔

Read more

لیکن ہار مقدر تھی۔

وقتی اور لمحاتی کیفیتوں کا خمار چند لمحوں کے لئے خود سے پرے کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے اس سے زیادہ سکون اور کہاں ہوگا مگر یہ کیسا سکون ہے جس کا وجود مجھ میں سرایت ہوکے تکمیل ہی نہیں کر پاتا۔ تشنگی کتنی بھیانک ہوتی ہے اس کا ادراک اسی وقت ہوتا ہے…

Read more

وسائل اور مسائل کا درمیانی راستہ!

مجھے آج کل محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے درمیان، ہمارے بیچ نفسیاتی مریضوں کی پوری اک کھیپ پروان چڑھ رہی ہے ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہم بہت چاہ کے بھی ہاتھ سے روک نہیں پا رہے اور آج کل ہر دن ایک نیا مسئلہ ہمیں ہارٹ سٹروک دینے کے لئے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو واقعی لگتا ہے سینے سے دل گیا۔ مگر کس کے؟ میں اور میرے جیسے بہت سے لوگ صبح شام شاید اسی سوچ کی تیزابیت سے مر رہے ہیں۔ اور اس خوف و ہراس میں پھر بھی جی رہے ہیںآج دوپہر سے ایمبر الرٹ چل رہا تھا کہ ایک باپ جو قانونی طور پر اپنی بچی سے نہیں مل سکتا تھا اپنی بیٹی کو سکول سے زبردستی اٹھا کے لے گیا ہے۔ ابھی چند دن پہلے پورے ٹورنٹو نے ایک معصوم گیارہ سالہ بچی ریا کے باپ کے ہاتھوں قتل پر کئی دن سوگ منایا۔ دل نہیں مانتا نا۔ بالکل بھی نہیں مانتا۔ رات گیارہ بجے کے قریب پورے ٹورنٹو کے فونز پر ایمبر الرٹ بجے تھے اور سارا تھکا ہوا شہر اپنی تھکاوٹ بھول کر بچی کی سلامتی کے لئے اپنی اپنی کوششوں میں لگ گیا تھا۔

Read more