لطیف فاطمہ اور مٹور کا پہلا جرنیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی چلتی رہتی ہے۔ لڈو کی چورنگی پہ پہلا دوسرے سے پوچھتا ہے کہ آپ کے حساب سے پاپ اور پنہ کی پری بھاشا کیا ہے؟

سیاہ کوٹ پہنے بڑے میاں، سفید پاجامے والے نوجوان کو مہابھارت کی بساط پہ دریودھن، کورو، پانڈو اور دروپدی کی گوٹیاں چلا کر گناہ ثواب کا فرق سمجھاتے ہیں۔ نوجوان، جلدی میں ہے، سیدھا جواب مانگتا ہے، بزرگوار دھیرج سے بتاتے ہیں۔ ”ساری عمر نکل جاتی ہے پاپ اور پنہ کا فرق سمجھنے میں اور تمہیں سیدھا جواب چاہیے۔“

خادم رضوی کے جنازے سے ڈاکٹر طاہر محمود کے قتل تک، ہر طرف سیدھا جواب مانگنے والوں کا ہجوم ہے مگر کیا کریں، زندگی پہلے ہی الجھے ہوئے ریشم کی مانند گنجلک ہے اور یہ سوال بہت کڑے ہیں۔ ان کی بنیاد پہ بیانیہ کی عمارت استوار ہوتی ہے، ٹی وی کا سرکس چلتا ہے اور وطن پرستی کے ٹویٹ داغے جاتے ہیں۔ سو لکھنے والے کی آخری امید کہانی ہی رہ جاتی ہے۔

داستان کے سلسلے میں تقسیم کے قصے کھوجتے کھوجتے کسی نے لطیف فاطمہ صاحبہ کا پتہ بتایا۔ 1991 میں انتقال کرنے والی لطیف فاطمہ کی شادی پشاور سے تعلق رکھنے والے میر تاج سے ہوئی جو خدائی خدمتگاروں سے بھی وابستہ تھے۔ داستانوں کی خوبصورتی یہ بھی تو ہے کہ یہ سیدھی لکیر پہ چلنے کی بجائے دائروں میں سفر کرتی ہیں سو لطیف فاطمہ کی یہ کہانی حیدر آباد دکن کے ایک گھرانے سے شروع ہو کر دلی کے ایک قبرستان میں جانے سے پہلے پنڈی کے ایک دیہات مٹور میں بھی رکتی ہے کیونکہ لطیف فاطمہ اور میر تاج کی رخصتی جس گھر سے ہوئی وہ کہنے کو تو دہلی میں تھا مگر اس کے مالک کا دل، مٹور نام کے گاؤں میں دھڑکتا تھا۔

کہوٹہ سے آگے، دریائے جہلم کی طرف پڑتا یہ گاؤں یوں تو باکسر عامر خان، سیاستدان راجہ ظفر الحق، دہشت گرد ڈاکٹر عثمان (عقیل) اور ایک ہی خاندان سے جڑے کئی جرنیلوں کی نسبت مشہور ہے مگر کہانی کی کہانی کچھ اور ہے۔ پہلی جنگ لگی تو مٹور کے علاقے سے کئی لوگ وردی، بندوق اور روپیہ کے وعدے پہ لڑنے چلے گئے۔ جنگ کے اختتام پہ خندقوں کے مارے اور بارود میں رچے بہت سے سپاہی تو لوٹ آئے، کچھ البتہ دور دیسوں کی خاک کا رزق ہوئے۔

اسی گاؤں کا ایک فوجی تو پوری جنگ گزار کر جب واپس کراچی پہنچا تو جہاز سے اترتے اترتے ایسا بیمار پڑا کہ پنڈی پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔ مٹور دیکھنے کی حسرت لئے آنکھیں، منگھو پیر کے پرانے قبرستان میں اجنبی ہاتھوں سے اندھے مرقد میں اتر گئیں۔ رہے میڈل تو وہ سو برس کے بعد ایک گھر سے دوسرے گھر میں آتے آتے گم ہو گئے۔

مٹور کے ہی کیپٹن ٹکہ خان دس ایف ایف سے لوٹے تو یہی سوچا کہ اپنے بیٹوں کو بھی فوج میں بھیجیں گے۔ مگر آدمی کے بس میں تو صرف دعوی کرنا ہی ہے۔ کپتان بہادر کے سب سے بڑے بیٹے، خداداد خان کو فوج سے زیادہ ذیلداری کا شوق تھا، وہ ذیلدار کی گھوڑی اور کوٹھی میں چھاؤنی اور مورچہ کیے رہے۔ سب سے چھوٹے بیٹے محمد نواز خان نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں ان کے تینوں بیٹے فوج میں گئے جن میں سے ایک لیفٹینینٹ جنرل اور دوسرے میجر جنرل بنے، لیکن ان کی کہانی، کوئی اور کہہ لے گا۔

آج کی کہانی، شاہنواز خان کی کہانی ہے۔ جنوری 1914 میں پیدا ہونے والے شاہنواز جب 1935 میں انگریز پلٹن میں پہنچے تو دنیا ایک عالمی جنگ سے باہر نکل کر دوسری عالمی جنگ کا راستہ دیکھ رہی تھی۔ ہندوستان میں سوراج کا نعرہ، اب انقلاب کے راستے سے ہوتا ہوا آزادی کے چوک پہ پہنچ چکا تھا۔ ادھر کیپٹن شاہنواز خان نے جنوب مشرقی ایشیا کے محاذ پہ رپورٹ کی، ادھر جاپانی سپاہ نے برطانوی فوج کو شکست دے دی۔ ہزاروں سپاہیوں کے ساتھ ساتھ، نوجوان کپتان بھی جنگی قیدی ہو گیا۔

یہیں اس کی ملاقات نیتا جی سبھاش چندر بوس سے ہوئی۔ نیتا جی، ہندوستان کی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف کچھ بھی کرنے کو روا سمجھتے تھے۔ سو انہوں نے جاپان اور جرمنی سے ہاتھ ملا کر انگریزوں کے خلاف ایک نئی فوج کھڑی کی جس کا نام آزاد ہند فوج رکھا گیا۔ اب اسے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی طلسماتی شخصیت کے سوا اور کیا معجزہ کہا جائے کہ دیکھتے ہی دیکھتے، بیس ہزار ہندوستانی فوجی، جو جاپان کی قید میں تھے، آزاد ہند فوج میں شامل ہو کر برطانیہ کے خلاف صف آرا ہو گئے۔

اس نئی فوج میں البتہ شاہنواز خان اب کپتان نہیں بلکہ جرنیل تھے۔ مٹور کے پہلے جرنیل۔ لیفٹینینٹ جنرل احمد جمال، جنرل احمد کمال سے پہلے، میجر جنرل سلیم ارشد، لیفٹینینٹ جنرل خالد نواز، لیفٹینینٹ جنرل ظہیر الاسلام، میجر جنرل شاہد حامد، میجر جنرل آصف نواز سے بہت پہلے اور میجر جنرل اسد نواز خان سے تو بہت بہت پہلے۔

دسمبر 1943 میں نیتا جی نے ہندوستان سے باہر ایک حکومتی بندوبست قائم کیا جسے عارضی حکومت آزاد ہند کا نام دیا گیا۔ مارچ 1944 میں ہندوستان کی طرف جاپانی افواج کی پیش قدمی شروع ہوئی جو بالآخر کوہیما کے ڈپٹی کمشنر صاحب کے ٹینس لان میں ہونے والی جنگ کی شکست کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔ مئی 1945 میں جنرل شاہنواز خان نے ایک بار پھر اپنے چالیس کے قریب ساتھیوں کے ساتھ برما کے محاذ پہ برطانوی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے۔

لڈو فلم میں ہی پنکج ترپاٹھی ایک گیت سناتے ہیں، بابو جی، قسمت کی ہوا، کبھی نرم کبھی گرم۔

انگریز سرکار نے ان تمام لوگوں کے خلاف مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا جنہوں نے جنگ کے دوران راج سے بغاوت کی تھی۔ اس مقصد کے لئے لال قلعے میں ایک خصوصی عدالت سجائی گئی اور پہلا مقدمہ جن تین ملزمان کے خلاف چلنا شروع ہوا ان میں کرنل پریم کمار سہگل اورکرنل گربخش سنگھ ڈھلوں کے ساتھ ساتھ جنرل شاہنواز بھی شامل تھی۔ وکلاء کی فہرست لگی تو اس میں ہندوستان کی طرف سے پنڈت نہرو، بھولابھائی ڈیسائی، آصف علی اور تیج بہادر سپرو کے نام درج تھے۔

مقدمے کے دوران جنرل شاہنواز نے برطانوی فوج کے ہندوستانی سپاہیوں کی طرف غیر منصفانہ روئیے کی کئی بار نشاندہی کی مگر عدالت، ثبوت مانگتی ہے اور بغاوت کے فیصلے قانون کی کتاب سے زیادہ حکومت کا نصاب دیکھ کر طے ہوتے ہیں۔ فیصلہ آیا تو تینوں ملزمان کو عمر بھر کے لئے دیس نکالا سنایا گیا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل آکنلک نے مگر یہ سزا معطل کر دی۔ دسمبر 1945 میں منٹوپارک، لاہور میں ایک جلسہ ہوا اور جب یہ تینوں منج پہ پہنچے تو سارا پنڈال گونج اٹھا

چالیس کروڑوں کی آواز
سہگل، ڈھلوں، شاہنواز

ادھر یہ نعرے لگ رہے تھے اور دوسری طرف کریم جان، مٹور کے آنگن میں انتظار کے دیے روشن کیے بیٹھی تھی۔ سن 46 سے سن 49 تک کے درمیان میں کیا واقعات ہوئے کہ جنرل شاہنواز کو گاؤں چھوڑنا پڑا، یہ اب کوئی نہیں بتاتا۔ یہاں پہنچ کر مٹور والے خاموش ہیں۔ کئی دروازے کھٹکھٹائے اور کئی یادداشتوں کو کھنگالا۔ طرح طرح کے واقعات سامنے آئے مگر کچھ سوالوں کے جواب نہیں ملنے تھے سو ناپید رہے۔ یہ ایسا موڑ ہے جہاں سینہ گزٹ، ورق پلٹ لیتا ہے اور چوپال پہ چپ کی چادر ہے۔ بہت رابطوں اور واسطوں کے بعد بھی بس یہی پتہ چل پایا کہ شاہنواز صاحب جن حالات میں گاؤں سے گئے وہ کچھ مناسب نہیں تھے۔ یادداشت کے زور پہ ایک خاتون نے بتایا کہ قائد اعظم صاحب کو شاہنواز صاحب سے مسئلہ تھا۔ مٹور کے ایک پرانے راجہ صاحب جو اب بھی تاریخ سے شغف رکھتے ہیں، کہنے لگے،

”دیکھیں نا یارا جی۔ ایوب خان کافی انسیکیور تھا جی ان سے اور ایک دوسرے تھے محمد خان جنجوعہ صاحب، ۔ اور دوسرا یہ سب یونینسٹ ٹائپ لوگ تھے۔ اس لئے ان کا حساب کتاب دوسرا تھا“ ۔

مجھے اندازہ ہوا کہ وہ خود ساختہ احساس برتری جو یہ سوچنے پہ مجبور کرے کہ تمام دنیا ہمارے خلاف سازشیں کرتی ہیں، صرف پنڈی صدر تک محدود نہیں۔

بہرحال، جنرل شاہنواز پہلے پہل اکیلے ہندوستان اٹھ آئے پھر کچھ عرصے بعد مٹور لوٹے اور اپنے آدھے گھر والوں کو ساتھ لے گئے۔ ساتھ جانے والوں میں ان کی بیگم کریم جان، بیٹے اکمل اور اجمل تھے جب کہ پیچھے رہ جانے والوں میں بیٹے محمود نواز خان، بیٹیاں حمیدہ اور ممتاز اور مٹور کے کھلیان تھے۔

اگلا باب ہندوستان میں کھلتا ہے جہاں پاکستان چھوڑ کر آنے والے جنرل شاہنواز کو پنڈت نہرو نے میرٹھ میں جاگیر بھی دی اور چناؤ کا ٹکٹ بھی۔ 1951 کے انتخابات میں جنرل شاہنواز، ممبر لیجسلیٹو اسمبلی منتخب ہوئے اور ریلوے کے نائب وزیر بنے۔ سبھاش چندر بوس کے انتقال کی تحقیقات کرنے والی شاہنواز کمیٹی سے اندرا گاندھی کی غریبی ہٹاؤ مہم تک جنرل شاہنواز نے تین دہائیاں راج نیتی میں گزاریں۔

چکلالہ کے اس طرف نئے آباد ہونے والے پنڈی میں پرانے وقتوں کا ایک بزرگ جوڑا رہتا ہے۔ جنرل شاہنواز خان کی کہانی کے تعاقب میں ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ جھریوں سے بھرے چہرے پہ ٹکی آنکھوں میں ایک اور منظر چل رہا تھا۔ یادداشتوں پہ آسرا کرتے ہوئے ریٹائرڈ پروفیسر صاحبہ گویا ہوئیں۔

” میری والدہ سید جان، فاطمہ بی بی کی سہیلی تھیں۔ اس زمانے میں گانا باندھنے کا رواج ہوتا تھا اور سہیلیاں ایک دوسرے کو کلائی پہ شگن کا گانا باندھتی تھیں۔ میری والدہ اور ماسی فاطمہ، ایک دوسرے کی بہن بنی تھیں۔ دھمیال اور مٹور کے دو گاؤں میں بٹی یہ دوستی اتنی مضبوط تھی کہ جب میں بڑی ہوئی تو فاطمہ ماسی کی بیٹی سیما سے میری بھی گہری دوستی ہو گئی۔ سیما کی شادی، جنرل شاہنواز کے بیٹے، کیپٹن محمود سے ہوئی تو ایک مہمان سرحد پار سے بھی آیا۔ اب سن تو ٹھیک سے یاد نہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ جنرل شاہنواز جتنی دیر بھی رہے، بیٹے بیٹیوں کو گلے لگا کر روتے رہے۔ پھر کچھ گھنٹوں بعد ہی واپس چلے گئے۔ ان کے اردگرد پولیس اور فوج کی کئی گاڑیاں تھیں۔ میں نے اس دن بہت دیر تک سوچا کہ آدمی بیک وقت اتنا با اختیار اور اتنا مجبور کیسے ہو سکتا ہے“ ۔

پاس کھڑے، بڑے میاں چڑیوں کو دانہ ڈالتے ہوئے بولے۔ ”دراصل ہم راجپوت، اپنی زمین کے آگے کچھ نہیں سوچتے۔“

گھر کے چھت کے اس پار، اکتوبر کے آخری دنوں کی دھوپ میں روشن بحریہ ٹاؤن، دانہ چگتی چڑیوں سے پرے، زمین سے محبت کرنے والوں کے اس دعوے کا منہ تکتا تھا۔

ایک ایسے ہی سال میں جب پاکستان اور ہندوستان کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف اپنی اپنی زمین کی محبت میں حق اور باطل، پاپ اور پنہ کی پری بھاشا ڈھونڈھ رہی تھیں، جنرل شاہنواز ہندوستان کی اسمبلی میں تھے اور ان کے بیٹے کیپٹن محمود خان، پاکستان کی فوج میں۔ اپوزیشن کے ایک ممبر نے جنرل شاہنواز کو اسمبلی سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا کہ ان کا بیٹا ملک دشمن ہے، لال بہادر شاستری، اپنی نشست سے اٹھے اور اس نئے نئے سیاستدان کو پرانے قلعہ کے مقدمے کا واقعہ سنا کر دیش بھکتی اور دیش دروہی کا فرق سمجھایا۔

جنرل شاہنواز اپنی زمین سے محبت نبھا رہے تھے اور کیپٹن محمود اپنی زمین سے۔ کچھ سوال واقعی بہت گنجلک ہوتے ہیں۔

چلتے چلتے آخری بات اور درمیان کی کڑی، غالباً سن اڑتالیس یا انچاس کے درمیان کا واقعہ ہے کہ ایک دعوت سے لوٹتے ہوئے، جنرل شاہنواز ایک خاتون سے ملے جو ایک حادثے کے بعد سڑک کنارے اپنے خاندان کے ساتھ امداد کی منتظر تھیں۔ یہ لطیف فاطمہ تھیں۔ اب خدا جانے کریم جان کو لطیف فاطمہ میں حمیدہ اور ممتاز کی جھلک نظر آئی یا جنرل صاحب کو پنڈی پشاور کا کوئی جوڑ، اس رات کے بعد لطیف فاطمہ، اس خاندان کی بیٹی بن گئیں۔ میر تاج سے ان کی شادی طے ہوئی تو ایک تقریب، شاہنواز صاحب کے آنگن میں بھی ہوئی تھی۔ میں نے گھر والوں سے پوچھا، کیا لطیف فاطمہ کے گھر سے اب بھی کوئی آتا ہے، جواب ملا پہلے پہل تو لطیف فاطمہ کا بیٹا، شاہ رخ خان، باقاعدگی سے آتا تھا مگر اب شاید مشہور ہو گیا ہے اس لئے وقت نہیں ملتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •