وہیل چیئر والے بابا جی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس نے کہا تھا کہ ”آج میرے ساتھ آ جاؤ، میرے بعد تمہیں میرے جیسا کوئی نہیں ملے گا“ ۔ وہ ابر کرم کی مانند آیا جو جم جم برسا لیکن بقول شیخ سعدی ؛

”باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس ”

آسمان سے برسنے والی بارش ایک جیسی ہی ہوتی ہے لیکن اسی بارش کو جب بنجر زمین اپنے دامن میں سمیٹتی ہے تو خاردار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں اگتا جن سے فائدہ تو کجا الٹا انسانوں کے دامن تار تار ہوتے ہیں لیکن ایک گلستاں جب اسی بارش کو اپنے وجود میں سموتا ہے تو ایسے خوشبودار پھول کھلتے ہیں جن سے انسانیت کا پورا وجود مہک اٹھتا ہے۔ وہ بھی ایک ایسی بارش تھا جس سے ہر کسی نے اپنی فطرت کے مطابق فائدہ اٹھایا، کہیں پھول کھلے اور کہیں کانٹے۔ ادھر سرکاری سطح پر منائے جانے والا عشرہ رحمۃ للعالمین کا آخری دن تھا اور ادھر اس عاشق صادق کا اس روئے زمین آخری دن تھا، وا اللہ کیا مطابقت، ایں سعادت بزور بازو نیست۔

خادم حسین صرف نام کا خادم نہیں تھا بلکہ اس نے زندگی بھی واقعی میں اپنے آقا کا خادم بن کر گزاری۔ جب کبھی ماحول میں بے دینی کی حبس ڈیرے ڈالتی تو وہ تازہ ہوا کا جھونکا بن کر تنگ ہوتی سانسوں کو کشادگی عطا کر جاتا۔ جب کبھی گلشن اسلام میں خزاں پنجے گاڑتی تو بہار بن کے قلب و نظر کے سوکھے گلشن میں عشق و مستی کے پھول کھلا جاتا۔ جب بھی گھٹا ٹوپ اندھیرے اس قوم کی منزل کھوٹی کرنے لگتے تووہ روشنی بن کر تاریک ماحول کافور کر دیتا۔

جب کبھی الحاد کی دھوپ نے وجود کو جلانا چاہا تو وہ ابر سایہ دار بن گیا۔ وہ ابریشم کی طرح نرم تھا لیکن جب بات ناموس رسالت کی آتی تھی تو فولاد بن جاتا تھا۔ وہ اقبال کا ایسا مرد مومن تھا جو خاکی تھا مگر خاک (کی آلودگی ) سے آزاد تھا، افلاک (جیسا غرور رکھنے والوں ) سے اس کی حریفانہ کشاکش تھی، ناموس رسالت کی خاطر اس نے نہ صرف بھاری تنخواہ والی نوکری چھوڑی، کنجشک و حمام سے صرف نظر کیا بلکہ ٹھٹھرتی راتوں میں ننگی سڑکوں پر بھی جا سویا۔

وہ غیرت بلقیس کی زندہ مثال تھا جس کے بام تک مرغ حکمران کبھی نہ پہنچ پایا، بارہا آزمائش کا وقت آیا جس میں بڑے بڑے جبہ و دستار والوں کی ٹانگیں لرزنے لگیں لیکن وہ بے خطر آتش نمرود میں کود گیا۔ وہ ختم نبوت جیسے حساس مسئلے کو الفاظ کی جادوگری کا نشانہ بنانے والوں کے لیے عصائے موسوی تھا۔ وہ بے حیائی کے سیل رواں کے لیے کشتی نوح تھا۔ اس عاشق صادق کی لغت میں روباہی کا لفظ تک موجود نہیں تھا۔ وہ ایسا خادم نہیں تھا کہ دن کو ختم نبوت کا نام کا لیتا اور رات کو محافل موسیقی سے لطف اندوز ہوتا بلکہ دن ہو رات، اس مرد درویش کی کے ہونٹوں پر بس یہی نغمہ ہوتا تھا ”تاجدار ختم نبوت، زندہ باد زندہ باد“ ۔

وہ کہتا تھا کہ ”حضور نال عشق کرنا ایں تے انے واں کرنا ایں“ ۔ یعنی آقا سے عشق کرنا ہے اور اندھا دھند کرنا ہے۔ اس نے صرف کہا ہی نہیں بلکہ اپنے آقا و مولا سے ”انے واں“ عشق کر کے دکھایا بھی۔ جب راہ عزیمت پر نکلا تو اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر گیا اور نہ صرف انہیں بلکہ خود بھی کارکنوں کے ساتھ ہی سڑک پر سوتا رہا۔ وہ چاہتا تو باقی پیروں کی طرح اعلی حلقوں سے بنا کر رکھتا اور اپنے بیٹوں کی شادیوں میں ان سے سلامیاں لیتا، یورپ میں پرتعیش زندگی بسر کرتا، کنونشن ہال میں ایک آدھ سالانہ ”ختم نبوت کانفرنس“ کر کے مریدوں کو بیوقوف بناتا، اپنے لیے محل تعمیر کراتا، مریدوں کے بچوں سے مدرسوں کو آباد کر کے اپنی اولادوں کو بیرون ملک بھیج دیتا لیکن اس نے خانقاہوں میں بیٹھ کر نذرانے وصولنے کی بجائے رسم شبیری ادا کرنا ضروری سمجھا۔

اس کی ساری گفتگو نقطہ ”لولاک“ کے گرد گھومتی تھی۔ وہ خواہشات نفس کا مرکب (سواری) نہیں بلکہ راکب (سوار ) تھا۔ اس کے رگ و پے میں شوخی گفتار کی بجائے مستی کردار کا سمندر موجزن تھا۔ اس کی امیدیں قلیل، مقاصد جلیل، ادا دلفریب، نگاہ دلنواز، گفتگو نرم دم اور جستجو گرم دم تھی۔ وہ ایک ایسا طوفان تھا جس سے دریاؤں تک کے دل لرزتے تھے۔ اس کے خمیر میں قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت کے چاروں عناصر موجود تھے۔ اس نے جان کے خوف سے کبھی جھوٹ نہ بولا کیونکہ وہ صدق سلیمان کا پرتو تھا، وہ کبھی کسی مشکل سے بھاگا نہیں کیونکہ وہ زور حیدر کی زندہ مثال تھا اور کسی نے اسے ہاتھ پھیلاتے نہیں دیکھا کیونکہ وہ فقر بوذر کا مصداق بھی تھا۔

اس مرد مجاہد کے ہاتھوں میں یقین محکم، عمل پیہم اور محبت فاتح عالم جیسے سکہ بند ہتھیار تھے۔ سفر عزیمت شروع ہوا تھا تو وہ اکیلا ہی تھا لیکن اس کے جنون نے ایک دنیا کو اپنا بنا لیا۔ وہ صحابہ کے عشق مصطفیٰ کی زندہ مثال تھا جسے دیکھ کر سمجھ آتی ہے کہ اپنا سب کچھ نبی اکرم پر کیسے مٹایا جاتا ہے؟ جب ناموس صحابہ کے مسئلے اپنے بھی اس کے مخالف ہو گئے اور بڑے بڑے قد والے حاکمان وقت کی چوکھٹ پر جھک گئے، وہیل چیئر والا بابا تب بھی پورے قد سے کھڑا رہا۔ بقول بابا بلھے شاہ؛

”نہ علماں وچ پھنسا سانوں
کوئی عشق دی گل سنا سانوں ”

لوگ اسے علم میں پھنسانے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ ”عشق دی گل“ سناتا رہا اور آخر کار بقول امام احمد بن حنبل، اس کے اور اس کے مخالفین کے درمیان فیصلہ اس کے جنازے نے ہی کیا۔ بابا جی جنازے کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں انہی کا ایک فقرہ مسلسل گونجتا رہا جو انہوں نے مینار پاکستان پر ہی منعقدہ ناموس صحابہ کانفرنس میں بولا تھا :

” دس اوئے مینار پاکستان! ایہو جیا منظر کدی پہلے وی ویکھیا؟“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •