حکومت فنکاروں کی فلاح و بہود کا بھی سوچے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز حکومت پنجاب نے احساس پروگرام کے تحت 65 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے دو ہزار روپے ماہانہ وظیفے کے اعلان کیا ہے، یہ اعلان اپنی جگہ قابل تحسین ہے بلاشبہ معاشرے میں غربت و افلاس کا دور دورہ ہے، غریب اور نادر افراد کے لیے دو ہزار روپے کے مالی امداد ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ کے مترادف ہے۔ گوشہ نشین بزرگوں کے لیے حکومت کی طرف وظیفہ جاری ہونا اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ حکومت کا دل مفلس و نادار لوگوں کے لیے دھڑکتا ہے۔

وزیراعظم اپنی تقریروں میں بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ غریب طبقے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے، ان کی تمام معاشی پالیسیوں کا مرکز و محور غریب آدمی ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ وزیراعظم عمران خان درد دل رکھنے والے انسان ہیں، وہ ارض وطن کے باسیوں کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن مشکل ملکی معاشی حالات، قرضوں کا بوجھ، توانائی کا بحران جیسے کوہ گراں ان کے راستے کی دیوار بنے ہوئے ہیں اس کے باوجود وہ مثل فرہاد اپنے تیشے سے کوہ گراں کا سینہ چیر کر دودھ کی نہر نکالنے کے پرعزم ہیں۔

خوش گمانی کا تقاضا ہے کہ یقین رکھا جائے کہ اچھے دن آئیں، جی! بات ہو رہی تھی کہ حکومت نے احساس پروگرام کے تحت بزرگوں کے ماہانہ وظیفے کا اعلان کیا ہے، اس ضمن میں یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ اول تو حکومت عمر کی حد پر نظر ثانی کرے پاکستانی معاشرے میں اوسط عمر 60 سال ہے نیز حکومت وظیفے کی رقم میں بھی اضافہ ممکن بنائے، مہنگائی کے چھوٹے بڑے جنوں نے بوتلوں سے نکل کر گلی کوچوں میں اپنی دہشت پھیلائی ہوئی ہے، روپے کی قدر گرنے سے اشیاء خورد و نوش و ادویات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے، کچھ ادویات میں تو سو گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، عمر رسیدہ لوگوں کی عموماً دو ہی بنیادی ضرورتیں ہوتیں ہیں اچھی غذا اور ادویات۔

حکومت کو چاہیے کہ ماہانہ وظیفہ اتنا تو ہو کہ مذکورہ دونوں ضرورتیں احسن طریقے سے پوری ہوجائیں۔ حکومت کی توجہ میں اس نکتے کی طرف دلانا چاہوں گا کہ وہ احساس پروگرام کے تحت شاعروں، ادیبوں، فنکاروں، کھلاڑیوں کے لیے امدادی پروگرام کا اعلان کرے۔ دیکھا گیا کہ بہت سے فنکار زندگی بھر فن کی آب یاری کرتے ہیں، اپنے فن کی بدولت ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہوئے دنیا بھر سے داد و تحسین وصول کرتے ہیں، لیکن جب بیماری یا بڑھاپے کے گرداب میں پھنستے ہیں تو سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

، روتے ہوئے مدد کی اپیل کرنے والے بہت سے فنکاروں نے عمر بھر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیری ہوتیں ہیں۔ ، یہ منظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ فن کار، اپنے فن کی بدولت تہذیب و ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں۔ فن کار ہی ہیں جو سرحدوں کے اس پار ہماری تہذیبی و ثقافت کو متعارف کرواتے ہیں، یہی بے ضرر سے لوگ ہیں جو ہماری ثقافت کے سفیر ہیں، اگر معاشرے میں خوشی و انبساط بانٹنے والے لوگ خود ہی دکھوں اور غموں کے بھنور میں پھنس جائیں تو پھر چہروں پر مسکراہٹیں کون بکھیرے گا۔ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کوئی ثمر آور پالیسی مرتب کرے تاکہ چہروں پر مسکراہٹیں لانے والوں کی آنکھوں میں آنسو نہ آئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •