عورت کو بدلنا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورتوں پر تشدد کی دوسری بڑی وجہ کوئی بھی ہو، اس کی پہلی وجہ کسی نہ کسی مرد کو قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً تنسیخ نکاح کا دعویٰ کرنے پر بال کاٹ کر زخمی کرنا، سالن میں نمک زیادہ ڈالنے پر بیوی پر تشدد، جہیز کم لانے پر نئی نویلی دلہن کو مار پیٹ کر گھر سے نکالنا، بیٹیاں پیدا کرنے پر لعنت ملامت کے ساتھ مار پیٹ، گول اور بر وقت روٹی نہ پکانے پر تشدد، پسند کی شادی کرنے کی خواہش پر ہڈیاں توڑنا اور جان سے مار دینا جیسی خبریں اکثر کسی نہ کسی ذریعے سے ہم تک پہنچتی رہتی ہیں۔ ایسے واقعات میں عورت بظاہر مظلوم دکھائی دیتی ہے اور مرد ایک سنگدل اور ظالم آقا کے روپ میں دکھائی دیتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ عورت پر تشدد کی ذمہ داری خود عورت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ جیسے تنسیخ نکاح کا دعویٰ نہایت اشتعال انگیز حرکت ہے جو کسی بھی شریف مرد کو آگ بگولہ کر سکتی ہے۔ عورت جب ایک بار مرد کے عقد میں آ جاتی ہے تو مرد دل و جان سے اسے اپنا بنا لیتا ہے۔ جب اپنی ہی عورت تنسیخ نکاح کا دعویٰ کر دے تو دراصل مرد کی توہین کرتی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ وہ اپنے ماحول سے کچھ نہیں سیکھتی۔ ان سے اچھی تو گائے اور بھینسیں ہوتی ہیں جنہیں جس کھونٹے سے باندھا جاتا ہے، مرتے دم تک یا قصاب کو فروخت کرنے تک اسی کھونٹے سے بندھی رہتی ہیں۔

اکثر عورتوں کو شکایت یہ ہوتی ہے کہ مرد کسی اور عورت میں دلچسپی لیتا ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ ایسی نادان عورتوں کو کوئی کیا سمجھائے۔ پہلی بات تو یہ ہے مردوں کو یہ حق حاصل ہے اور اس کے لیے بیوی سے مشورہ کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کسی ناقص العقل سے مشورہ کرنے والے کی اپنی عقل پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ دوم یہ کہ اگر مرد دوسری عورتوں میں دلچسپی نہیں لے گا تو بے شمار بیوہ اور طلاق یافتہ عورتیں اکیلی رہ جائیں گی۔

عورتیں بے حس ہو سکتی ہیں مگر مرد ایسی بے حسی نہیں دکھا سکتا۔ اس حوالے سے وہ اس قدر حساس ہے کہ بعض شادی شدہ عورتوں کی طلاق کروا کے بھی ان سے شادی کر لیتا ہے۔ سوم یہ کہ جس طرح آپ برسوں تک ہر روز ایک ہی کھانا نہیں کھا سکتے، جیسے آپ پر پابندی ہو کہ روزانہ مونگ کی دال ہی کھانی ہے تو آپ کب تک برداشت کریں گے؟ اسی طرح مرد اکتا جاتا ہے اور دوسری عورتوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اب اتنی سی بات پر عورتوں کا اعتراض سمجھ سے بالا تر ہے۔

عورت کو بدلنا ہو گا۔ اگر عورت یہ بات سمجھ لے کہ دوسری عورتوں کو گھورنا اور ان سے چکر چلانا مرد کا حق ہے تو بہت سے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ نہ مرد کو تشدد کی ضرورت پڑے گی نہ عورت تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کرے گی۔ اس کی بجائے عورتیں خود اپنے مرد کے لیے دلہنیں تلاش کرتی نظر آئیں گی۔ اپنے خاوند کی شادی میں ناچ ناچ کر خوشی کا اظہار کریں گی اور مرد بھی ان کی سمجھداری کے قصیدے پڑھیں گے۔

سالن میں نمک زیادہ ڈالنے والی بیویاں یقیناً قابل تعزیر ہیں۔ اگر آپ نے سائنس پڑھی ہے تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ کھانے میں نمک کی زیادتی انسان کو کیسے کیسے امراض میں مبتلا کر دیتی ہے۔ بلند فشار خون سے لے کر دماغ کی شریان پھٹنے تک اس میں طرح طرح کے خطرات پائے جاتے ہیں۔ فالج بھی ہو سکتا ہے۔ کھانے میں نمک زیادہ ڈالنا گویا ارادہ قتل ہے بلکہ سیدھا سیدھا قتل ہے۔ اس پر تو دفعہ 302 لگ سکتی ہے۔ مرد تو فقط مار پیٹ کر چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ نمک زیادہ ڈالنے کے بعد عورت بھی وہی کھانا کھاتی ہے لیکن چوں کہ وہ عورت ہوتی ہے اس لیے اسے ایسے سنگین خطرات لا حق نہیں ہوتے۔

مسلسل بیٹیاں پیدا کرنے پر مار پیٹ کا نشانہ بننے والی عورت بھی اگر ہوش کے ناخن لے اور مرد کی خواہش کے مطابق بیٹے پیدا کرے تو کیا کسی مرد کا دماغ خراب ہے کہ وہ اسے تشدد کا نشانہ بنائے گا۔ عورت اس پر یہ دلیل دیتی ہے کہ اس میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں، وہ مجبور محض ہے۔ حالاں کہ یہ عذر لنگ ہے۔ سب کچھ عورت کے ہاتھ میں ہے۔

جہیز کم لانے والی دلہنیں بھی اگر دور اندیش ہوں تو تین چار ٹرک جہیز کے لا کر سکھی جیون بتا سکتی ہیں مگر افسوس یہاں بھی عورت مرد کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ مرد کا کیا ہے وہ تو پہلے سے اپنے گھر میں گزارا کر رہا ہوتا ہے۔ عورت جو جہیز لاتی ہے وہ اسی کے کام آتا ہے۔ اب مرد اس کی ہمدردی میں یہ چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قیمتی سامان لائے تاکہ اس کی قدر بڑھے اگر عورت اسے مرد کے لالچ سے تعبیر کرے گی تو مجبوراً مرد کو اس کی آنکھیں کھولنی پڑیں گی۔

بروقت اور گول روٹی پکانا ایک ایسا فن ہے جو عورت کا فرض اولین ہے۔ جب عورت اپنا کام چھوڑ کر مردوں کی طرح باہر نکلے گی، دفتروں میں مغز ماری کرے گی اور بسوں میں دھکے کھائے گی تو خاک گول روٹی بنائے گی۔ عورت کو سوچنا ہو گا کہ اگر وہ اتنا سا معمولی کام نہیں کر سکتی تو پھر اسے دو چار گھونسے خود بھی اپنے منہ پر مار لینے چاہئیں۔

پسند کی شادی کی بات کرنے والی عورتیں نہ جانے خود کو کس سیارے کی مخلوق سمجھتی ہیں۔ کم از کم زمین پر رہتے ہوئے انہیں دنیا کے قاعدے کا علم ہونا چاہیے۔ عورت تو حیا کا پیکر ہوتی ہے۔ نہایت بے شرمی سے یہ اظہار کرنا کہ اسے فلاں سے شادی کرنی ہے، بے حد معیوب بات ہے۔ جہاں تک مردوں کا تعلق ہے تو یہ سرا سر مرد کا حق ہے کہ وہ کسی عورت پر خواہ نگاہ ڈالے یا گھورے اور پھر چاہے تو اس سے شادی کرے یا اسے اٹھا لے۔

سو باتوں کی ایک بات کہ عورت کو بدلنا ہو گا، اسے ویسا بننا ہو گا جیسا مرد چاہتا ہے۔ وگرنہ تشدد کا نشانہ بنتی رہے گی۔ انکار، مزاحمت اور بغاوت عورت کا شعار نہیں۔ یقیناً انسان باغی ہو سکتا ہے لیکن عورت تو عورت ہوتی ہے۔ مگر افسوس آج کی عورت خود کو عورت سمجھنے سے انکاری ہے۔ عورت کو محض عورت سمجھنے والے مردوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •