مارگلہ ریلوے اسٹیشن: ایک ادھوری کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اسلام آباد کا مارگلہ ریلوے اسٹیشن ہے۔ شہر کے مزاج کی طرح خاموش، اداس اور ویران۔ یہاں نہ تو خوانچہ فروشوں کی آہو کار ہے، نہ سرخ وردی پہنے قلیوں کی دھکم پیل۔ سارے میں بس ایک سکوت کا عالم رہتا ہے۔ ماحول کا یہ سکوت صرف ریل کی آمد پر چند لمحوں کو ٹوٹتا ہے جو راولپنڈی سے کسی اژدھے کی مانند آتی ہے اور اکا دکا مسافروں کو نگل کر اسی راستے سے واپس چلی جاتی ہے۔

ڈوکیڈیس نے جب اس شہر کا نقشہ بچھایا تو سیکٹروں کی سیدھی لائنوں کے بیچوں بیچ زیرو پوائنٹ کے پاس کہیں ریلوے اسٹیشن کا بھی کوئی خانہ تو تھا، لیکن راولپنڈی کے نور اسٹیشن سے ریلوے لائن کو یہاں پہنچتے پہنچتے ایک دہائی لگ گئی۔ ایک کمرہ پر مشتمل اسٹیشن کی عمارت پر نصب تختی بتاتی ہے کہ اس لائن کی رسم افتتاح بتاریخ 21 نومبر 1979 بروز بدھ بمطابق 30 ذوالحج 1399 کو جناب میجر جنرل جمال سید میاں ایچ، آئی (ایم) وفاقی وزیر برائے ریلوے نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ادا فرمائی۔

ویسے تو مارگلہ ریلوے اسٹیشن اسلام آباد کے سیکٹروں ایچ 9 اور آئی 9 کی درمیانی سبز پٹی پر واقع ہے، لیکن وکی پیڈیا اس کا پتہ خیابان جوہر لکھتا ہے، جبکہ وزارت ریلوے کی فائلوں میں اس کا اندراج ”اسلام آباد۔ مظفرآباد برانچ لائن“ کے دوسرے اسٹیشن کے طور پر ہے۔

”اسلام آباد۔ مظفرآباد برانچ لائن“ کی داستان محبت کی اس ادھوری کہانی جیسی ہے جو پروان چڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جائے اور جس میں درد سے زیادہ پچھتاوا ہوتا ہے۔ 1979 میں اس 128 کلومیٹر لمبی لائن پر کام شروع ہوا تو منصوبہ ساز مری اور کوہالہ کے راستے وادی جنت نظیر تک پہنچنا چاہتے تھے۔ مرد مومن کا دور تھا، اور واشنگٹن سے جہاد کا فرمان جاری ہو گیا۔ ملک کو اب بھٹیوں میں لوہا پگھلا کر پٹری بنانے کی بجائے یونیورسٹی آف نبراسکا میں تیار کردہ نصاب کے مطابق مرد آہن پیدا کرنے تھے۔ جنت کا راستہ اب کشمیر کو نہیں، کابل کو جانے لگا تو اس لائن کی ضرورت ہی نہ رہی۔ جیسے کوئی ادھوری کہانی یادیں بننے کے کام آتی ہے، کراچی۔ پشاور لائن سے راستہ بھول کر اسلام آباد آنے والی اس لائن پر اسلام آباد۔ راولپنڈی شٹل سروس کا جال بنا جانے لگا۔

شٹل سروس کچھ مہینے چلی جو زیادہ تر آئی 9 کی فیکٹریوں کے مزدوروں کو لاتی لے جاتی تھی پھر ٹرانسپورٹ مافیا حرکت میں آ گیا اور چند مہینوں میں ہی اس کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ ادھر چکلالہ ریلوے اسٹیشن پر ڈرائی پورٹ کی موجودگی اس کے حسن کو خراب کر رہی تھی لہذا ارباب اختیار نے اسے مارگلہ ریلوے اسٹیشن منتقل کر دیا۔ اسلام آباد کے کنٹینروں کا شہر بننے سے سالوں پہلے کنٹینرز یہاں کسٹم کلیرنس کے لیے گاڑیوں پر آتے تھے اور سرکاری چھان بین کے بعد چپکے سے اپنی منزل کو نکل جاتے تھے۔

یوں تین دہائیاں گزر گئیں۔ 2009 میں اس بیوہ کو پھر سے میک اپ تھوپ کر دلہن بنایا گیا اور اس بار ایک ایکسپریس ٹرین سروس بھی شروع ہو گئی۔ ڈرائی پورٹ کو ایک حصہ تک محدود کر دیا گیا اور دوسرا حصہ ریل کے لیے مختص ہو گیا۔ اسلام آبادیوں کے لیے ویسے تو ریلوے اسٹیشن کا مطلب عجائب گھر ہے، لیکن لاہور۔ راولپنڈی کے درمیان بھاگنے والی ریل کار کے رومانس سے جڑواں شہروں کی اکثریت واقف ہے۔ اب ریل کار لاہور سے راولپنڈی آتی ہے تو مارگلہ ریلوے اسٹیشن پر اپنا آخری پڑاؤ ڈالتی ہے۔ ریل کا انجن کشمیر کی طرف جانے کے لیے آتا ہے اور آخری سسکی بھر کر یہاں سے لوٹ جاتا ہے۔

جو کہانیاں نیچرل نہیں ہوتیں ان کا اختتام ان کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔ ایسی کہانی بنتی ہے، ٹوٹتی ہے اور بالآخر ختم ہوجاتی ہے۔ مارگلہ ریلوے اسٹیشن کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ریلوے کے وزیر با تدبیر نے یہاں ریل کے حوالے سے تو کوئی ترکیب عمل میں نہیں لائی لیکن سال بھر ہوا یہاں پودوں کی نرسری قائم کردی۔ اب یہ اسٹیشن کسٹم کے کنٹینرز، پودوں کی نرسری اور ریل کے انجن کی ایک ان نیچرل کہانی ہے۔ جو بنے گی، ٹوٹے گی اور بالآخر ختم ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
گل باز مشتاق کی دیگر تحریریں