یہ اسلام آباد کا مارگلہ ریلوے اسٹیشن ہے۔ شہر کے مزاج کی طرح خاموش، اداس اور ویران۔ یہاں نہ تو خوانچہ فروشوں کی آہو کار ہے، نہ سرخ وردی پہنے قلیوں کی دھکم پیل۔ سارے میں بس ایک سکوت کا عالم رہتا ہے۔ ماحول کا یہ سکوت صرف ریل کی آمد پر چند لمحوں کو ٹوٹتا ہے جو راولپنڈی سے کسی اژدھے کی مانند آتی ہے اور اکا دکا مسافروں کو نگل کر اسی راستے سے واپس چلی جاتی ہے۔
ڈوکیڈیس نے جب اس شہر کا نقشہ بچھایا تو سیکٹروں کی سیدھی لائنوں کے بیچوں بیچ زیرو پوائنٹ کے پاس کہیں ریلوے اسٹیشن کا بھی کوئی خانہ تو تھا، لیکن راولپنڈی کے نور اسٹیشن سے ریلوے لائن کو یہاں پہنچتے پہنچتے ایک دہائی لگ گئی۔ ایک کمرہ پر مشتمل اسٹیشن کی عمارت پر نصب تختی بتاتی ہے کہ اس لائن کی رسم افتتاح بتاریخ 21 نومبر 1979 بروز بدھ بمطابق 30 ذوالحج 1399 کو جناب میجر جنرل جمال سید میاں ایچ، آئی (ایم) وفاقی وزیر برائے ریلوے نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ادا فرمائی۔
Read more