‏شہرِ خموشاں کے گمشدہ مندر

سعادت حسن منٹو سے تو آپ واقف ہوں گے؟ وہی منٹو جو تقسیم ہند کے درد کی کہانیاں سناتے سناتے مر گیا لیکن یار لوگوں نے اس پر فحاشی کا الزام لگا کر بدنام کیا ہوا ہے۔ اپنے ایسے ہی ایک ”فحش“ افسانے ٹھنڈا گوشت میں منٹو ہمیں ایک سکھ ایشر سنگھ کی کہانی سناتا ہے۔ سن سنتالیس کے فسادات کے دوران یہ ایشر سنگھ اپنے ہم مذہبوں کے ہمراہ ایک مسلمان گھر پر دھاوا بولتا ہے اور چھ لوگوں

Read more

مندر، مسجد اور گردوارہ

اسلام آباد بری امام سرکار کے نور پور سے شروع ہوتا ہے اور اقتدار کے ایوانوں سے گزر کر اشرافیہ کے رہائشی سیکٹروں تک پہنچتا ہے۔ یہاں سے یہ مڈل کلاس اور سرکاری ملازموں کے سیکٹروں سے گھوم کر گولڑہ شریف جا ختم ہوتا ہے۔ سالوں پہلے جب ابھی اس علاقے نے بپتسمہ نہیں لیا تھا اور ڈوکیڈیس نے یہ شہر نقشے سے اتار کر زمین پر نہیں پھیلایا تھا تو یہاں کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں آباد تھے۔ گکھڑوں، راجپوتوں

Read more

راہی، موسے والا اور استخار ساہی

اسی کی دہائی میں جہاد کا فرمان جاری ہوا تو مرد مومن کی مملکت خداداد میں ادب اور فنون لطیفہ کے لیے زمین تنگ ہو گئی۔ ملک کی ثقافت، کلچر، قانون اور تاریخ کو دوبارہ سے مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہوا۔ ایسے میں سیالکوٹ والے وحید مراد کی چاکلیٹ ہیرو لک کے ساتھ رومانوی فلمیں بنانا ممکن نہ رہا۔ موضوعات کے گرد گھیرا تنگ ہوا تو گنڈاسے سے کٹی اڑتی گردنیں اور خون میں لت پت لاشوں کے علاوہ سنسر بورڈ کی قینچی ہر اس چیز پر تیزی سے چلی جس سے شعور پیدا ہونے کا ذرا سا بھی اندیشہ تھا۔ یوں مرد مومن کی نئی وضع کردہ ثقافت میں لوہری اور بھنگڑہ حرام ہو گئے، لیکن انجمن کے ٹھمکے اور سلطان راہی کی بڑھکیں حلال ٹھہریں۔

Read more

مارگلہ ریلوے اسٹیشن: ایک ادھوری کہانی

یہ اسلام آباد کا مارگلہ ریلوے اسٹیشن ہے۔ شہر کے مزاج کی طرح خاموش، اداس اور ویران۔ یہاں نہ تو خوانچہ فروشوں کی آہو کار ہے، نہ سرخ وردی پہنے قلیوں کی دھکم پیل۔ سارے میں بس ایک سکوت کا عالم رہتا ہے۔ ماحول کا یہ سکوت صرف ریل کی آمد پر چند لمحوں کو ٹوٹتا ہے جو راولپنڈی سے کسی اژدھے کی مانند آتی ہے اور اکا دکا مسافروں کو نگل کر اسی راستے سے واپس چلی جاتی ہے۔

ڈوکیڈیس نے جب اس شہر کا نقشہ بچھایا تو سیکٹروں کی سیدھی لائنوں کے بیچوں بیچ زیرو پوائنٹ کے پاس کہیں ریلوے اسٹیشن کا بھی کوئی خانہ تو تھا، لیکن راولپنڈی کے نور اسٹیشن سے ریلوے لائن کو یہاں پہنچتے پہنچتے ایک دہائی لگ گئی۔ ایک کمرہ پر مشتمل اسٹیشن کی عمارت پر نصب تختی بتاتی ہے کہ اس لائن کی رسم افتتاح بتاریخ 21 نومبر 1979 بروز بدھ بمطابق 30 ذوالحج 1399 کو جناب میجر جنرل جمال سید میاں ایچ، آئی (ایم) وفاقی وزیر برائے ریلوے نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ادا فرمائی۔

Read more