جنگلی پھول
رنگ سے بھیگی باتوں کی تتلیاں پکڑتے ہم بہت دور جا چکے تھے، جہاں خواب اور تعبیر دونوں اپنے مفہوم کھو چکے تھے۔
جھلملاتے موتیوں کا رقص سبزہ و گل کو بھگو رہا تھا۔ سرخ اینٹوں سے بنی روش دو رویہ گلابوں سے مہک رہی تھی۔ وہ میری ہم خواب تھی ’ہم سفر تھی اور ہم قدم بھی۔
اڑتے بادل خوشی سے بوجھل پیاسی زمین کی تلاش میں بھاگتے جا رہے تھے۔ ہم ماحول کے فسوں میں تھے کہنے لگی،
”زندگی اک بھیانک خواب ہے اور تم میرے من کا سچ“
”کیا میں تمہیں چھو سکتی ہوں“ ؟
اور میرے لب کھولنے سے پہلے اس نے ڈرتے ڈرتے میرے ہاتھ کی پشت کو چھوا،
اسکی مومی انگلیوں کا لمس، افف جیسے دھلے سمندر کی جھاگ، ایسے محسوس ہوا جیسے لہو رگوں میں منجمد ہو رہا ہو۔ بادلوں نے سورج کو ڈھانپ لیا۔ سرمئی شام کے جھروکے سے رنگوں کے فوارے تک ہم ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ ایک خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ اپنی ہم نفس کے ہمراہ چلنے کا خواب جو کب سے میرے دل کے چور دروازے پہ پہرہ دے رہا تھا۔
رنگ و خوشبو سے بھرے خوابوں کے قافلے آسماں سے زمین کی جانب ایسے اترے جیسے الہامی پیامات، جیسے شام کے جھروکے سے نارنجی رنگوں کی مصوری، جیسے بارشوں کی بوندوں سے اڑتی پھوار۔
وہ چلتے چلتے سرگوشیاں کرتی رہی۔
پانیوں میں حرفوں کے پھول پھینکتی رہی، پانیوں میں دائرے بنے، کچھ پورے کچھ ادھورے۔ آسمان پہ آوارہ بادلوں کی ٹولی موج اڑاتی اٹکھیلیاں کرتی ہوا کے کندھوں پہ سوار مست خرام تھی، حتیٰ کہ سارے لفظ پانی میں بہہ گئے، ایک ثانیے کے لیے پانی کا رنگ بدلا اور اس کے چہرے کا رنگ بھی متغیر ہوا، مجھے لگا میرے دل کی طرح سب ڈوب گیا۔
کیا ڈوبا کیا بچا، کیا ادھورا کیا پورا، کوئل کی کوک کچھ پوچھنے لگی۔ سوال دریا کنارے اگے سرکنڈوں کی طرح سر اٹھانے لگے۔ ہوا ان سے کھیلتی رہی سر کنڈے جھومنے لگے، ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا، اب ہم چپ کو پڑھ رہے تھے، چپ کے پھول چنتے چنتے کائنات کی زبان سیکھنے لگے۔ ہمیں لگا کہ کائنات کی زبان ہر زبان سے زیادہ پر تاثیر ہے، اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔
حرف کا طلسم ٹوٹ چکا تھا، اب محبت نئی منزلوں کی کھوج میں اڑتے بادلوں کے
سنگ نیلے آسمانوں میں اپنا خیمہ ڈھونڈ رہی تھی، تلاش کا عمل خاموشی کے ساتھ جاری تھا۔
کیا ٹوٹے ہوئے پروں سے پرندے اڑ سکتے ہیں؟ ”
اس سوال کے ساتھ خاموشی کا تاج محل پاش پاش ہو گیا۔ آخر کوئی زندہ شخص کتنی دیر تک قفل لگا سکتا ہے، اس نے اچانک سوال داغا، میں اسے مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس کی آنکھوں میں امید کی کرنیں تھیں، مجھے بھی روشنی کی ضرورت تھی، خامشی میں ہی عافیت تھی رات پر کھولے ہر ذی روح کو بلکہ ہر شے کو اپنی آغوش میں بھرنے کو تیار تھی، یہی مناسب تھا کہ سارے ہتھیار پھینک کر سرنگوں ہو جاتے اور ہم نے سارے ہتھیار پھینک کر ہار مان لی۔ آخر کوئی اپنے مخالف چلنے والی ہواؤں سے کب تک لڑے۔ فطرت سے بغاوت کب تک ممکن تھی۔ فطری راستوں پر بہنے میں دریا آسانیاں محسوس کرتا ہے۔ ہم فطرت پہ بند کیوں باندھتے ہیں۔ پرواز بھرنے والے پرندوں کو قفس میں کون قید کرتا ہے اور کیوں؟
ہر شے سے بے نیاز دو جسم ساتھ ساتھ پڑے تھے۔ جیسے دور مضافات کے قبرستان میں وقت مٹی کی ڈھیریوں پر سرایت کر رہا ہو اور جنگلی پھول قبر سرہانے کھلنے کو بے تاب ہو۔ ہوا میں خنکی بڑھنے لگی، لڑکیوں کی ٹولی چپکے سے قبرستان میں داخل ہوئی اور ان کی چھنا چھن سے رنگین ٹاکیوں والا مرادی درخت جاگ کر کچھ اور سر سبز ہو گیا۔ ننگے پاؤں چل کے آنے والی نے ایک قبر کے سرہانے جلتے دیے میں منت کا تیل ڈالا۔ ہیرے جیسی آنکھوں سے موتی ٹپ ٹپ بہے اور قبر کی کچی مٹی ٹھنڈی ہوتی گی۔ وہ مجھ سے لپٹ کر سوئی رہی اور میں مٹی سے اٹھنے والی خوشبو کو سانسوں میں سموتا رہا۔ لڑکیوں، آرزوؤں اور نیم تاریکی میں جلتے چراغوں کی تھرتھراتی لو میں کیا مماثلت ہے۔
اس کے بدن پر صدیوں کی تھکن تھی۔ اسے محفوظ اور قابل بھروسا محبت کے حصار کو پانے کے لیے کتنا اور فاصلہ طے کرنا تھا۔ سوچ کی شکنوں میں اضافہ ہوتا رہا اور ساز حیات قبرستان میں جنگل کے پھول کھلاتا رہا۔


