ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک

تبصرہ نگار: دعا عظیمی بہت عرصے سے سن رہی تھی کہ ڈاکٹر سہیل کی سیکر سالک بن کر روایت کی دھرتی پر اترنے والی ہے۔ تصوف میں استعمال ہونے والی یہ دونوں اصطلاحات میرے لیے ہمیشہ سے پرکشش رہی ہیں۔ بڑا عرصہ مجذوبیت کو سالک سے اوپر کا درجہ دیتی رہی پھر سمجھ میں آیا کہ مجذوب کی نسبت سالک کا درجہ بہت بلند ہے۔ مجذوب اپنی مستی میں مست خدا کی ذات کی جلوہ گری میں خاکستر ہوجاتا ہے

Read more

 ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر

”ٹورنٹو دبئی اور مانچسٹر“ شاہد صدیقی صاحب کی آپ بیتی بھی ہے، رپورتاژ بھی یاد نامہ بھی مگر اس کو سفرنامہ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کی پیشانی پر درج ہے دل فریب شہر دل کش کردار دل ربا کہانیاں انتساب کیا ہے اس کتاب کو اپنے مینٹور راج کے نام گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ جدید سفر نامے کا کینوس وسیع ہوتا جا رہا ہے لیکن اسے پڑھ کر مجھے شفیق الرحمن کی برساتی کی فضا کا ایک

Read more

شاعر ،شاعری اور خواب در خواب

’خواب در خواب‘ ڈاکٹر خالد سہیل کے چار شعری اشاعت شدہ کتابوں کی کلیات ہے۔ کلیات ہمیشہ ضخیم ہوتی ہیں۔ یہ برس ہا برس کی ریاضتوں کا ثمر ہے۔ تلاش پہلا مجموعہ آزاد فضائیں دوسرا خواب نگر تیسرا اور ادھورے خواب چوتھے مجموعے کا نام ہے۔ یہ بالترتیب انیس سو چھیاسی، انیس سو نوے، اور دو مجموعہ کلام سن دو ہزار اٹھارہ میں پبلش ہوئے۔ سب سے پہلے میرے خواب آسا ذہن کو خواب در خواب کھٹکا خواب در خواب

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور گرین زون

گرین زون میرے لیے جنت جیسی سٹیٹ آف مائنڈ ہے جہاں ہم پرسکون ہوتے ہیں۔ چونکہ میرا تعلق عظیمی سکول آف تھاٹ سے ہے، سو مراقبے کے وسیلے سے اپنے انر سیلف سے متعلق کچھ خیالات واضح طور پر میرے من میں موجود تھے۔ میں نے اپنے استاد خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے توسط سے ایک بات ذہن نشین کر رکھی تھی کہ اگر تم خوش نہیں ہو تو بھی خوش رہنے جیسی شکل بنا لو کیونکہ خدا اپنے

Read more

ناول نین تیرے انجان

ناول نگار کنول بہزاد تبصرہ دعا عظیمی ’نین تیرے انجان‘ جسے کنول بہزاد صاحبہ نے لکھا ہے اپنے عنوان کی طرح رومانوی ناول نہیں ہے۔ یہ ایک معاشرتی ناول ہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک دیہات سے ابھرتی ہوئی یہ کہانی چلتے چلتے پاکستان کے دل تک جا پہنچتی ہے۔ پاکستان کا دل یعنی لاہور۔ شہر لاہور کی محبت لکھنے والی کے قلم سے یوں ٹپکتی ہے جیسے رس گلے سے شیرہ ٹپکتا ہے۔ بندہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے

Read more

کیا ڈاکٹر خالد سہیل خوشیوں کے ڈبل شاہ ہیں؟

گزشتہ چار پانچ برس سے میں ڈاکٹر خالد سہیل کے ادبی حلقہ احباب میں شامل ہوں۔ ہم سب ’کے توسط سے ان کے ساتھ میرا یہ تعلق مضبوط ہوا۔ وہ قابل احترام استاد بھی ہیں اور پسندیدہ ادیب بھی ہیں۔ ضرورت کے وقت ماہر نفسیات بھی ہیں اور فیملی فرینڈ بھی۔ ان کے کچھ رازوں کی امین تو یہ دعا کی خواستگار بھی ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل وہ انسان دوست ہیں جو ہر دم انسانوں کے دکھوں کو آدھا اور

Read more

پڑھی لکھی اداسی

پڑھی لکھی اداسی میرے اندر ایسے اترتی ہے جیسے ہر روز شام کچن کی کھڑکی سے گھر میں چپ چاپ اتر آئے جب میں سر جھکائے اپنے خیالوں کے جنگل میں کھڑی بظاہر سنک پر پڑے گندے برتن دھو رہی ہوتی ہوں اور کبھی کبھار صابن لگے برتنوں کو پانی سے کھنگالتے ہوئے اپنا سر اٹھا کے سنک کے عین اوپر لگی کھڑکی کی جالی کے پار دوسری طرف آنکھ بھر کے دیکھتی ہوں جہاں دور سے ایک چھت کی

Read more

پانیوں پہ خواب

کل تک یہ آرڈر مکمل کرنا تھا۔ میرے ساتھ تین لڑکے اور بھی تھے۔ ان میں سے ایک نے چھٹی کر لی تھی جب کہ دوسرے کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب لگ رہی تھی۔ کناری بازار کے قریب تہہ خانے میں لگے اس کارخانے میں خاصی گرمی تھی۔ زردوزی کے اس کام کی مشقت کا اندازہ کسے نہیں۔ ویسے تو ہر دستکاری کے ہنر میں دماغ کمر کندھوں کے پٹھوں اور نظر اور ہاتھ کا استعمال ہے۔ ولیمے کے دن

Read more

ڈاکٹر سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل: کتاب مذہب، سائنس اور نفسیات

مترجم: نعیم اشرف (اپنے عہد کے عظیم سائنسدان نیوٹن سے منسوب) ”میں نہیں جانتا کہ دنیا میرے بارے میں کیا خیال کرتی ہے مگر میں اپنے آپ کو ایک کم سن لڑکا سمجھتا ہوں جو ساحل سمندر پر کھیل میں مشغول ہے۔ وہ خوبصورت سے خوبصورت ترین کنکریوں کی تلاش میں ہے اور بہترین سے بہترین سیپی کی کھوج میں دنیا سے بے خبر ہے جب کہ پوشیدہ حقائق کا بحر بیکراں اس کے سامنے موجزن ہے۔ ” یہ پیراگراف

Read more

فارحہ ارشد کا افسانوی مجموعہ مونتاز

تبصرہ۔ دعا عظیمی وہ مجھ سے پوچھنے لگی تمہیں پتہ ہے بڑا ادب کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا، جو کبھی بھی پوری طرح قاری کی گرفت میں نہ آئے، حیطۂ ادراک سے کسی قدر ماورا، جس میں ایک منطقی زنجیر ہو، لگے کہ اس زنجیر سے بندھ کے بات سمجھ آ جائے گی مگر کہیں ایک لنک مسنگ ہو، ایک کڑی غائب ہو ہاں تجرید کی صورت جیسے اس میں اتنی وسعت ہو کہ بادلوں کے پیچھے بھاگتے بچے

Read more

بے گانگی

میں ایک میٹنگ میں تھا۔ میں بہت سے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے دماغ کا دسواں حصہ استعمال ہو رہا ہے۔ میری نظر کھڑکی سے باہر گئی، دور نیلے آسمانوں کی وسعتوں میں جہاں چیلیں دائروں میں محو پرواز تھیں۔ میری نگاہ وہاں سے پلٹ کر سڑک کی دوسری جانب بنے پلازے پر پڑی۔ چھ منزلوں سے اوپر بھی دو منزلیں ہیں۔ میں کھڑکی سے اب اندر کی طرف دیکھنے لگا۔ تمام لوگ میرے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب زندگی کے راز

مصنف ڈاکٹر خالد سہیل تبصرہ دعا عظیمی ”زندگی ایک راز ہے اور وقت بھی ایک راز ہے اور وقت کی کوکھ میں بہت سے اور راز بھی پوشیدہ ہیں جن سے شاعر اور دانشور ہمارا تعارف کراتے رہتے ہیں تاکہ ہم وقت کی اہمیت اور افادیت کو بہتر سمجھ سکیں۔“ یہ ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ’زندگی کے راز‘ کی چند سطور ہیں۔ اس کتاب کو ”کتابی دنیا“ والوں نے زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ کتھئی اور سرمئی رنگوں

Read more

پڑھی لکھی زنانی اور اتھری گھوڑی

ماگھ کی پانچ اور انگریزی کی سترہ تاریخ تھی۔ وہ اس تاریخ کو آخری دفعہ مجھے ملی پھر ساون کی بدلی کی طرح کہیں کھو گئی۔ دراصل وہ تھی ہی ایسی جہاں کہیں ہوتی وہاں نہیں ہوتی تھی اور جہاں نہیں ہوتی تھی وہیں ہوتی تھی۔ ایسے لگتا جیسے اس پہ اس کا اپنا اختیار بھی نہ ہو۔ جوانی اس پر اتھری گھوڑی کی طرح بے لگام ہو کر آئی تھی۔ مجھے اتھری گھوڑیاں سدھارنے کا شوق تھا۔ وہ جو

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی تصنیف: ”مجھے فیمینسٹ نہ کہو“

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے نام دعا عظیمی کا کھلا خط مورخہ گیارہ مئی دو ہزار بائیس از لاہور پیاری طاہرہ جی نازاں و خنداں و فرحاں رہیں ہمیشہ سلام اور دعا! آپ کیسی ہیں؟ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔ یاد آیا کہ آج اہم تاریخ ہے۔ ایک بڑے اور عظیم ادیب سعادت حسن منٹو کا یوم پیدائش ہے۔ مجھے آپ کو لکھتے ہوئے منٹو کیوں یاد آ گئے۔ بتائیے کہ آپ نے کراچی میں مئی کا جلتا ہوا

Read more

لاہور کا سقراط

ڈاکٹر خالد سہیل اور محترمہ عظمیٰ عزیز صاحبہ کی کتاب ہے۔ جدید طرز کے خطوط اور کتاب کے ہیرو کے ادبی اور فلسفیانہ کالمز اس میں شامل ہیں۔ دو سو چودہ صفحات پر مشتمل ظہیر کاشمیری صاحب کے ایک کالم کے عنوان سے اخذ کردہ نام والی کتاب پڑھتے محسوس ہوا جیسے سفر الٹا چل نکلا ہو۔ کتاب پڑھتے سمے میرے ہاتھ میں بھی سچ کی پاداش میں زہر کا پیالہ ہو۔ کردار کہانی سے نکل کر اس لمحے میں

Read more

مطربہ شیخ کا افسانوی مجموعہ: مناط

”مناط“ مطربہ شیخ کے افسانوں کی پہلی کتاب ہے جس میں اکیس مکمل افسانے اور ایک درجن مختصر افسانے شامل ہیں۔ کتاب کا سرورق بہت پر کشش ہے۔ ہلکے زرد رنگ کے پس منظر میں زینے کی علامت اور ایک عورت کا اس کے پہلے زینے پر براجمان ہونا جس کا ایک ہاتھ افق پر سورج کو چھو رہا ہے یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ سورج سے حرارت اور توانائی لے رہی ہے اور وہ دوسرے ہاتھ کو ماتھے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب :دانائی کا سفر

کتاب :دانائی کا سفر مصنفین: ڈاکٹر خالد سہیل ڈاکٹر بلند اقبال ترتیب و تدوین :عبدالستار تبصرہ:دعا عظیمی ویبینار میں پڑھا جانے والا ایک مضمون دانائی کا سفر پڑھنے کے بعد مجھے پہلا خیال یہ آیا کہ میں نے اپنی نوجوانی میں تذکرے تو بہت سے پڑھے، جیسے کہ تزکرہ الانبیاہ، تزکرہ الاولیاء لیکن اردو زبان میں تذکرہ علماء و دانا پہلی بار پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ دانائی کے اس سفر میں، انسانی شعور اور آگہی کے کئی مقامات آئے۔ ان

Read more

قصہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی کا: خوشحالی کی دستک

میرا وہاں ہونا اس لحاظ سے خوش قسمتی تھا کہ سوشل میڈیا کی معروف شخصیات کو بولتے سنا۔ مگر اخوت کے بانی جناب ڈاکٹر امجد ثاقب جو تقریب کے مہمان خصوصی تھے ان کی یہ بات من کو بہت بھائی کہ
”ابن فاضل اپنی یہ ایک کتاب مجھے دے دیں اور میری لکھی تین کتابیں لے لیں تو سودا اچھا ہے“

مجھے مومن خان مومن اور غالب کے بیچ مشہور شعر اور اس سے جڑی یہ روایت یاد آ گئی
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

غالباً اسد اللہ غالب نے مومن خان مومن سے کہا تھا کہ یہ شعر مجھے دے دیں اور میرا آدھا دیوان لے لیں۔ کیا وجہ ہے کہ اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے مصنف کو اتنی بڑی بات کہہ دی۔

Read more

ابصار فاطمہ کا ناول: افسانے کی حقیقی لڑکی

جب میں نے ابصار فاطمہ صاحبہ کا ناول ”افسانے کی حقیقی لڑکی“ کے چند صفحات کا مطالعہ کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں کسی نوجوان لڑکی کی ڈائری پڑھ رہی ہوں۔ اس میں زبان انتہائی سادہ مگر محسوسات اور مشاہدات کا ایک جیتا جاگتا جہان آباد ہے۔ یہ اپنے معاشرے کی بے قدر بے حس روایات کی کہانی ہے۔ ضروری تو نہیں کہ وہی چہرہ جھلسے جس پر تیزاب پھینک دیا جائے، الفاظ لہجے اور بے حس رویے اور

Read more

لبنیٰ غزل صاحبہ کا ناول: لاریب

ہر شام انتظار کی چوکھٹ پر دل چراغ بن کر جلتا اور آنکھوں سے قطرہ قطرہ بہنے لگتا ” کس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں ” آئی ہوا تو کتنے ورق ہی الٹ گئے ” ”نرم چاندنی کا فسوں ساری کائنات پر پھیلا ہوا تھا سامنے درختوں سے اوپر چاند جھانک رہا تھا۔“ تمہاری چوکھٹ پر رکھ آئی ہوں اپنے انتظار کی خوابیدہ آنکھیں ” ”ریان نے اپنی مرضی کا ایک خوبصورت میرون رنگ کا ہلکا کامدانی سوٹ نکالا“

Read more

کتھئی گھوڑا

میرے کمرے میں دو گھوڑوں کی تصویر لگی تھی۔ میں نے تصویر دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اماں ایک بات تو بتا“ بول۔ ” ”تو نے تو بتایا تھا محبت اپنی مرضی سے نہیں کی جاتی بلکہ ہوجاتی ہے۔“ کیا بیماری کی طرح اور اماں ہنس پڑی تھیں۔ گہری ہنسی۔ ”کچھ باتیں بتائی نہیں جا سکتیں“ میرا تجسس بڑھتا جاتا تھا۔ ”اماں اچھی اماں بتا نا“ ”راج دلاری ماں“ وہ بچوں کے ہوم ورک کی کاپیاں چیک کرر ہی ہوتی یا کبھی

Read more

نشیب کی نیلی لہر

”ہلکے نیلے اور تھوڑے سے سفید کی آمیزش۔ تھوڑا سا اور“ رنگوں کو باریک سے برش سے باہم ملاتے ہوئے اس نے بار بار تصویر کو دیکھا۔ ”کیا سوچ رہی ہو؟“ شامی اپنا سامان سمیٹ کر منتظر تھا کہ وہ اپنی تصویر مکمل کرے۔ گروپ کے باقی لڑکے لڑکیاں بھی اپنے اپنے رنگ برش کینوس ایزل سمیٹ رہے تھے کیونکہ اسے سارا کام ایک ہاتھ سے اور وہ بھی بائیں ہاتھ سے کرنا ہوتا تھا اس لیے تھوڑا سا زیادہ

Read more

نتھلی والی

وہ عجب اٹھلاتے ہوئے چلتی تھی۔ اس کا سنہرا رنگ دھوپ سے سنولایا ہوا تھا، جیسے دھوپ کی تمازت نے جلد کو جھلسا دیا ہو، مگر اس کا ناک نقشہ راجپوتوں کی طرح تیکھا سا تھا۔ اس پہ باریک گھنگروؤں والی نتھلی پہنے ناز سے مٹکتی ہوئی چلتی تو شوخ رنگوں کا گھاگھرا ایک ادا سے گھومتا تھا۔ تین رنگوں کا پٹی دار گھاگرا جس کے رنگ میل سے آٹے پڑے تھے۔ جیسے کسی نے شوخ رنگوں کا سندر پن

Read more

بے عنوان نظمیں

نیلے پانیوں پہ پھیلے سبز منظر پلکوں سے جدا نہیں ہوتے آنکھوں کو سنہرے خوابوں کی تعبیریں نہیں ملتیں کئی ادھوری نظموں کے عنوان نہیں ہوتے حنا شیرازی نے اپنی ادھوری نظم کو پورا کیا۔ احتشام اس کی آواز کے سحر میں کتنی دیر تک ڈوبا رہا۔ اس کی ریشمی زلفیں پھسل کر بار بار اس کے عارض کو چھو رہی تھیں جب کہ وہ اپنی انگلیوں سے بار بار انہیں کسی مشاق کھلاڑی کی طرح سمیٹ رہی تھی۔ یہ

Read more

الف اور دال

وہ بھی ایک بھرپور مکمل جامع سلطنت کا مالک تھا۔ گویا سلطنت کچھ وسیع و عریض تو نہ تھی کہیں اس کی طوالت اور درازیٔ قامت فقط پانچ سے چھ فٹ کے قریب ہوتی ، کہیں ایک دو فٹ تک اور بڑھ جاتی۔ اس کی ذاتی سلطنت پانچ فٹ پانچ انچ تھی۔

Read more

محبت نامے لکھنے والی لڑکی

”میں نے تو سنا تھا کہ لوگ موت کے خوف سے محبت اور چٹھیاں سب بھول جاتے ہیں“ اس نے خط کو تہہ کر کے الماری میں رکھا جہاں اس کا آرائشی سامان اور زیور رکھے تھے۔ یہ دل کی شکل کی ایک سنہری ڈبیہ تھی۔ اور ہاتھ میں رکھی رقم کو دیکھنے لگی۔ لوگ نہیں جانتے تھے کہ اس کا اصلی نام بلیو بیل تھا۔ سب لوگ اسے محبت نامے لکھنے والی لڑکی کے نام سے جانتے تھے۔ اس

Read more

بے درو دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے

مدت ہوئی اس نے ہونٹوں پہ قفل لگایا اور تکلم کو خیر باد کہہ دیا، میں نے تجسس سے پوچھا وہ کیونکر؟ بولی کیونکہ وہ اپنی ذات کے غار حرا میں رہنے لگا۔ میں نے کہا واہ یہ تو خوب کہا ذات کا غار حرا جب تم خامشی کا چلہ کاٹ چکو تو توقف کے بعد میں نے پوچھا ” اگر تمہیں موقع ملے تو تم کس سے بات کرنا پسند کرو گی؟“ کہنے لگی، دیواروں سے! کس کی دیواروں

Read more

منیر فراز کے افسانے اور رومان بھری نظمیں

ادبی فن پارے کسی بھی حساس فرد کی طرح مجھے بھی کسی دوسرے جہان کی سیر کراتے ہیں۔ میں لکھنے والوں کی ممنون رہتی ہوں کہ وہ ہم جیسے قارئین کے لیے ایسی علمی ادبی اور شاعرانہ ضیافت کا اہتمام فرماتے رہتے ہیں جس سے عوام الناس کی میزبانی ہو جاتی ہے۔ سو شرف میزبانی کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے شکریہ کے الفاظ کہنے ضروری ہو جاتے ہیں کہ آخر خیال کے بہاؤ کو تحریک کی ضرورت رہتی ہے۔

Read more

بت (افسانہ)

اس قبرستان کی قبروں کا خیال رکھنا میرا حسبی نسبی پیشہ تھا۔ بابا کے مرنے کے بعد اس کا نظم و نسق میرے ہاتھ آ گیا۔ کافور، اگربتیوں اور خود رو پودوں کی مہک میرے بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ ہم ان درختوں کے نیچے بے فکر گڈی گڈے کے بیاہ کی تیاریاں کرتے اور کھیلا کرتے تھے۔ سارا دن قبروں کی کھدائی کے عمل کو دیکھنا میرا معمول تھا۔ طرح طرح کے لوگ یہاں آتے ، اپنے پیاروں کو دفناتے۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی نثری تخلیقات: لفظیات، ترکیبات اور نظریات

معلوم نہیں کس طرح عجب ڈھنگ سے باذوق خواتین کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ پرنٹ گل احمد کا ہے، کھاڈی کا ہے، ست رنگی کاہے یا ریپلیکا ہے ، اس کی بنت کیسی ہے اور دوسرے کے ہاتھ میں پکڑا بیگ گوچی کا ہے یا اچھرے کی عام دکان سے نقلی مہر کے ساتھ خریدا گیا ہے۔ جیسے ایک لاہور میں رہنے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ کوزی حلیم رائل پارک سے کھانی ہے، مزے دار مچھلی

Read more

کیکر نمبر ایک (افسانہ)

میں ہر روز اسی سڑک پر نکلتا تھا۔ یہ میرا روز کا معمول تھا۔ آج سوچوں تو ایسے لگتا ہے کہ وقت کی دوڑ دھوپ اور دھول میں بہت کچھ پیچھے رہ گیا ہے ۔ ایک گاؤں ایک تھڑا اور ایک کیکر میرے یادوں کے بازار میں کھڑا فیصل آباد میں واقع گھنٹے گھر کی طرح، شہر بھر میں جہاں سے گھوم کے جاؤ سامنے کھڑا نظر آئے میں ، جدھر سے بھی گزرتا سامنے کیکر آ جاتا۔ اس کیکر

Read more

جہاں زاد

وہ دھیرے دھیرے گنگنانے لگی۔ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ملکوتی تبسم سجائے میرے دل کے آنگن میں رنگوں، کرنوں اور لہروں کا سنگم ہونے لگا۔

اس نے فرمائش کی:
”اپنی آنکھیں موندو اورمجھے بتاؤ بھلا میرے دل میں کیا ہے؟“
تم سیلانی ہو، سراغ لگاتے ہو نا انجان منزلوں کا، اور اجنبی راستوں کا!
مجھے بتاؤ ان راستوں میں کسی کو پیچھے چھوڑ آئے ہو کیا؟
بتاؤ نا سردیوں کی شاموں میں کیوں اداس پھرتے ہو؟

Read more

حرف ایک طلسم

جیسے گیلی لکڑیوں کی سلگن میں یک دم اضافہ ہوا۔ نگاہ باغیچے کے گوشے سے ہٹی اور کھلتے گلابوں سے جا ٹکرائی، نگاہ کا لمس بھی عجب لمس ہے۔

کبھی محسوس ہوا۔ ؟
آواز کاسحر بھی عجب سحر ہے۔ ہے نا۔
نازکی کا فسوں بھی کیا فسوں ہے، دلربا سا۔ احساس کو حرف میں انڈیلنا بھی تو ایک ہنر ہے۔
بولی، ”جوتے اتار دیں“
”مخملیں گھاس پہ بیٹھ جائیں
اور آرام سے مجھے سنیں ”
جیسے سننے والے بھجن سنتے ہیں، قوالی سنتے ہیں،
وہ کسی معمول کی مانند سننے کے لیے تیارتھا۔
وہ آلتی پالتی مار کے دو زانو بیٹھ گیا جیسے مراقبے میں بیٹھا ہو چپ چاپ دم سادھے۔
روشنی کی لہر نے حرف کو اوڑھا جیسے رات چاندنی کا دوشالہ اوڑھے۔
اس نے پوچھا لکھاری کون ہوتا ہے۔ ؟

Read more

اک وصل کی خاطر

”بی بی جی مجھے آج جلدی گھر جانا ہے“ ”کیوں کیا ہوا“ ”آج وہ گھر پہ ہے نا اس کی چھٹی ہے۔“ چاہت کمو ’کے لہجے سے چھلک رہی تھی۔ پہلی بار بلور بی بی جی نے کسی پہ رشک کیا۔ جب میں نے ”بلور“ کی خبر سنی تو سوچا ”شاہ لطیف“ نے حرف بہ حرف درست کہا تھا کہ ”عورت معشوق نہیں عاشق ہے“ بلور میری بچپن کی سہیلی تھی۔ ہم دونوں اپنے دکھ سکھ کی باتیں کیا کرتے

Read more

بھوری

سردیوں کی یخ بستہ رات تھی۔
سکینہ تھر تھر کانپتی صاف ستھرے، نتھرے نتھرے ستاروں بھرے آسمان کو دیکھ رہی تھی۔

یکایک اس کی نظر ایک شعلے کی طرف لپکی، تاروں سے چم چم کرتے آسمان پر ، وقت کی بہت ہی چھوٹی سی اکائی کے ہزارویں حصے میں شعلہ لپکا اور غائب ہو گیا جیسے کسی کے گلے میں راگ اٹک گیا اور سانس کی ڈورٹوٹ گئی۔

Read more

حسن کی دیوی افرودیتی کے روپ

جاتی بہار کا ایک عام سا دن تھا۔ چیت ختم ہونے والا تھا بیساکھی کی تپتی ہواؤں کو سہنے کے لیے تن کے تندور تیار تھے۔ رات خلاف توقع چھینٹے پڑے جس کی ٹھنڈک سے جاتے چیت پر بیتے پھاگن کے اثرات کا شائبہ تھا۔

کتھئی پروں پہ سفید دائرے لیے تتلیاں اڑتی پھر رہی تھیں۔ کبوتروں کی غٹرغوں خاموش کا غرور توڑ رہی تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد گلی سے مانوس اور مخصوص آوازیں کواڑوں اور کانوں پر دستک دیتی ہوا کے دوش آگے کی جانب بڑھتی جا رہی تھیں، جن میں خوانچہ فروشوں کی آوازیں نمایاں تھیں۔

ف

Read more

جنگلی پھول

رنگ سے بھیگی باتوں کی تتلیاں پکڑتے ہم بہت دور جا چکے تھے، جہاں خواب اور تعبیر دونوں اپنے مفہوم کھو چکے تھے۔

جھلملاتے موتیوں کا رقص سبزہ و گل کو بھگو رہا تھا۔ سرخ اینٹوں سے بنی روش دو رویہ گلابوں سے مہک رہی تھی۔ وہ میری ہم خواب تھی ’ہم سفر تھی اور ہم قدم بھی۔

Read more

دوسری محبت مغربی ستارے سے

یہ سچ تھا کہ سمندر مجھے اپنی جانب کھینچتا تھا جیسے چاند چکور کو اور سورج سورج مکھی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ میں ساحل پر چہل قدمی کر رہا تھا کہ اچانک ایک زور دار لہر پلٹی اور پوری شدت سے ساحل کی جانب بڑھی۔ دفعتاً ریت میرے قدموں سے نکلی اور میرے پاؤں اکھڑ گئے۔ اس نے مجھے لپیٹا ایک گہرے شور نے مجھے بانہوں میں بھرا اور نگل لیا، پھر سکوت چھا گیا۔ ہر سو اندھیراہی اندھیرا

Read more

کہانی حرکت کیسے کرتی ہے؟

”سر مجھے ایک اچھے افسانے کے رموز بتا دیں اور ایک ایسی کہانی جو حرکت کرتی ہو۔“ مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میں افسانہ تو لکھتی ہوں پر اس کی کہانی حرکت نہیں کرتی۔ فارحہ نے الجھے ہوئے لہجے میں سر فاران علی سے پوچھا۔ فاران علی شہر کے مشہور لکھاری تھے اور اکثر نوآموز لکھاریوں کے لیے لیکچرز اور سیمینارز کا اہتمام کرتے رہتے تھے۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ کسی طرح خوبصورت کہانیاں لکھنا سیکھ لے۔ اسی

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کے ”آدرش“

رات تاریک ہوئی جاتی ہے ایک مہتاب سلامت رکھنا راستے تنگ ہوئے جاتے ہیں دل میں اک باب سلامت رکھنا وہ تمہیں دار پہ لے جائیں گے آنکھ میں خواب سلامت رکھنا خالدسہیل اس دنیا میں نہ شاعروں کی کمی ہے، نہ ادیبوں کی، نہ لکھنے والوں کی، نہ ہی پڑھنے والوں کی۔ سائنسدان تسخیر کائنات میں مگن ہیں تو فلسفی ہر دم فلسفے کی گمبھیر گتھیاں سلجھانے میں گم، نفسیات دان شعور اور لاشعور اور تحت الشعور کی گہرائیوں

Read more