پھر کرونا پھر وہی مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگرچہ 2020 اپنی بھرپور آب و تاب کے ساتھ ختم ہونے کو ہے مگر کووڈ 19 اپنی دوسری لہر کے ساتھ پھر سے 2020 کو کی حسین بھیانک یادوں کو مزید بھیانک بنانے کے در پر ہے۔ اس بار حملہ شاید زیادہ شدید ہو اور جس طرح سے شروعات ہوئیں جیسے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، نامور صحافی اور مذہبی قیادت اور ان سب میں جو ایک بات مشترک ٹھہری کہ متاثرہ مریض کو کرونا سے مقابلہ کرنے کا زیادہ وقت نہیں ملا۔ اور جس اعتبار سے متاثرین کی تعداد اور اموات کا گراف اوپر جا رہا ہے قیاس کیا جا رہا ہے کہ شاید اس دفعہ شرح اموات پہلی لہر کی نسبت بڑھ سکتی ہیں۔

مگر ہمارے لوگوں کے پھر وہی مسائل کہ یہ سازش ہے، خوف ہے، اب کی بار ویکسین بیچنے کے لیے خود پھیلا یا جا رہا ہے، مزید پی ڈی ایم کا موقف کہ ہمارے جلسوں کو روکنے کے لئے کرونا کا شور مچایا جا رہا ہے حالانکہ تقریباً اپوزیشن کی زیادہ تر سیاسی قیادت خود کرونا پازیٹو ہو چکی ہے اور چیئرمین پی پی پی کرونا متاثرہ ہونے کی وجہ سے اپنا فیملی پروگرام بھی ترک کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

کرونا کے پچھلی لہر کو یاد کریں تو یاد آ تا ہے کہ کرونا کا نقطہ عروج عید الفطر کے بعد آنے والے تین سے چار ہفتوں کا تھا جب ملک میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ تو بتدریج ہوا مگر شرح اموات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور اموات کی خبریں جب نیوز چینلوں سے خاندانوں میں یا دوستوں میں آئیں تو لوگوں نے کچھ حد تک احتیاطوں کی قدر کیں۔

ایک سوال کہ لوگ کیونکر حکومت کی ہدایات کو سیریس نہیں لیتے یا حکومتی اقدامات پر یقین کیوں نہیں کرتے؟ اس لہر میں شاید سب سے بڑا مسئلہ پھر یہی رہے گا۔ ابھی تک آپ مارکیٹوں یا پبلک کے اکٹھے ہونے والی جگہوں پر دیکھیں تو تقریباً 10 فیصد ہی لوگ حکومتی ہدایات پر عمل کرتے دکھائی دیں گے۔ اور اگر 90 فیصد سے ایس او پیز پر یا ماسک نہ پہننے کہ بارے میں سوال کیا جائے تو ایک مشترک جواب کہ ہمارے لوگوں کی بڑی تعداد ابھی تک کرونا کے وجود کو ماننے سے انکاری ہے۔ جب انہیں سوال کیا جائے کہ دنیا بھر کی حکومتیں کہہ رہی ہیں یا ہماری حکومت کہہ رہی ہے کہ کرونا ہے۔ تو جواب میں کچھ لوگ اسے عالمی سازش اور کچھ حکومت کو اپنی کوتاہیاں چھپانے جیسے خیالات سے جوڑتے ہیں۔

لوگوں کی بے یقینی اور حکومتی ہدایات پر نہ عمل کرنے کے پیچھے ایک عنصر لوگوں کا حکومت پر اعتماد یا بے یقینی بھی ہو سکتی ہے۔ جاوید چوہدری صاحب کی حالیہ تحریر میں ترکی کے ایک گائیڈ کی پچھلے سات ماہ سے ماسک اور سینی ٹائزر کے جلد پر اثرات کے باوجود باقاعدگی کی بڑی ستائش کی۔ میرے انکل کینیڈا میں مقیم ہیں وہ بھی اپنی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہم اس حد تک حکومتی احکامات کو مانتے ہیں کہ ہم اپنے بہن بھائیوں کو بھی ملنے نہیں جاتے کیونکہ حکومت نے منع کیا ہے۔

قیادت کا مفاد عامہ کے لئے اقدامات، گڈ گورننس اور رول آف لاء اور قیادت اپنے شہریوں سے رشتہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ لوگ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کی بات کو سنتے اور مانتے ہیں ایسی مثالیں موجود ہیں جب شہروں کے ڈی سی اوز اور ناظمین پر لوگ اس حد تک اعتماد کرتے تھے کہ ان کی باتوں کو من و عن سنتے تھے۔ مگر صوبائی اور وفاقی قیادت کی عوام کے ساتھ انسیت مثالی کبھی بھی نہیں رہی۔ اس لیے لوگ قانون کی فرمانی کی مثالیں کم ہی پیدا کر پاتے ہیں۔

کرونا کی حقیت سے انکار کو بڑی حد تک مذہبی قیادت کم کر سکتی ہے۔ اس لیے ان کو ساتھ ملانے، مقامی حکومتوں کو قائم کر کے اور لوگوں کی رائے کو پالیسی سازی میں شامل کر کے لوگوں کو ممکنہ آفت سے بچاو اور حکومتی ہدایات پر عمل کروایا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •