بین المذاہب عدم برداشت کے جذبات اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کس طرح کی جنونی کیفیت ہے کہ ایک انسان طیش میں آ کر اپنے ہی کسی دوسرے ساتھی انسان کا قتل کرتا ہے۔ کہیں تو کچھ خراب ہے۔ کوئی پرزہ ایسا گل سڑ گیا ہے کہ ہم اپنی نارمل رویہ سے ہٹ کر بربریت پر اتر آتے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان رویوں کے پیچھے ایسے آثار ہیں جس سے یہ لگے کہ فرد میں کچھ عناصر کم ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ارادے سے فرد میں کچھ اضافی چیزیں ڈال دی گئی ہوں۔

کہتے ہیں کہ کینسر کا خلیہ ایک اضافی خلیہ ہے جو جسم کے دوسرے خلیوں سے ہٹ کر اپنا کام کرتا ہے۔ اس کا یہی عمل آگے چل کر بیمار جسم کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔ بین المسالک اور بین المذاہب کے حوالے سے جو عدم برداشت ہے، اس صورت حال کی وجہ سے جو ذہنی کیفیت موجود ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس حوالے سے بھی فکر کرنے کی ضرورت ہے، کیا ہم انسان کو اس کی حیاتیاتی ساخت اور قدرتی ذہنی رویوں سے ہٹ کر کچھ اور بنانا چاہتے ہیں۔ اگر جانے انجانے ہم سماج کو اس جانب دھکیل رہے ہیں، تو اس سے پہلے ہمیں اس حالت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم سماجی بگاڑ اور بدامنی کو گھر آنے کی کھلم کھلا دعوت تو نہیں دے رہے ہیں۔

ملک میں اس طرح کے دل ہلا دینے والے سانحات کے سلسلوں کو دیکھ کر ، بلوچی کی ایک کہاوت یاد آتی ہے کہ ”پانی دور سے مٹیالا چلا آ رہا ہے“ ۔ لہذا آج جن حالات سے ہم دوچار ہیں، یہ سب نشاندہی کرتے ہیں کہ ماضی بعید یا ماضی قریب میں ہم نے کچھ ایسا کر دیا ہوگا جس سے مذہب کی بنیاد پر فرق کو لے کر دوسرے مذاہب کے لوگوں کا قتل، جیسے جائز ہے۔

چند دن پہلے اسی موضوع پر میں کسی محترمہ کا بلاگ پڑھ رہا تھا اس نے جانوروں کے اس جیسے رویوں کو انسانوں کی رویوں سے مماثلت کی تھی کہ انسان اس نہج پر پہنچ کر جانور بن جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے، جانور بھی ایسا کرتے ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ جانور ایسی حرکت صرف اپنی بھوک مٹانے کے لیے کرتا ہے۔ جہاں اس کا پیٹ بھر جائے وہ اس کیفیت سے نکل آتا ہے۔ لیکن ہماری سلگائی ہوئی آگ کی لو تھمنے کا نام نہیں لیتی۔

اسی مناسبت سے میں ایک دن ایک موٹیویشنل اسپیکر کو سن رہا تھا۔ اس نے کہا، زمین پر انسان وہ واحد اللہ کی مخلوق ہے جو اللہ کے نام سے اپنے ہی فیلو انسانوں کا قتل کرتا ہے۔

اس کیفیت کے بہت سارے مضمرات ہو سکتے ہیں جو ایک حد تک منفی ہیئت کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے کار فرما عوامل کا بغور جائزہ لیا جائے، اندازہ ہے کہ رویوں میں ایسی خرابی ضرور ڈھیرا جمائے بیٹی ہو گی جو فرد کو عدم برداشت اور قتل و غارت پر اکساتی ہے۔

کہتے ہیں زمین کے اندر آتش فشان ایک دن میں نہیں بنتا۔ اسی طرح انسانی رویوں میں اس طرح کا ابھار بھی ایک دن میں جوش نہیں مارتا۔ لوگوں نے کچھ ایسی خمیر ضرور اپنے تاریخی ورثہ سے ادھار لیا ہوگا جہاں اس کے لیے یہ ترغیب موجود ہے کہ وہ دوسروں سے نفرت کرے۔ میرا مذہب آپ کی مذہب سے اچھا ہے تو آپ میری نفرت اور غیض و غضب کا مستحق ہیں۔

دیکھا جائے تو جھگڑالو قبائل / کمیونٹیاں ایسے اہتمام کرتی ہوں گی کہ ان کے بچے لڑائی کے گر سیکھ لیں۔ اس کے لیے وہ ان کی تربیت ان نہج پر کرتے ہوں گے کہ ان میں تمام جنگی مہارتیں پیدا ہوں۔

جنگ کو انسانوں نے ہی فکر کا جذبہ قرار دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک کورا انسان جس کی ایسی تربیت نہیں ہوئی ہو اس کی ذہنی ساخت میں جنگی جذبات اس قرینے سے نہیں رکھے ہوں گے۔ جنگ سے زیادہ انسان امن اور آپس میں محبتوں کا متلاشی ہے۔ انسان خود سے نفرت کے جذبات کو نہیں سمجھتا ان کو ترجمہ نہیں کر سکتا۔ یہ اس کو سکھایا جاتا ہے۔ اس کے اندر ایسی چیزیں لاکر لگا دی جاتی ہیں تاکہ ان کا غلط استعمال کیا جا سکے۔

بچے کو ہتھیاروں کے بارے میں اور لڑائی جھگڑوں کے قصے سناتے رہیں گے، تو اس میں اسی طرح کا رویہ جنم لینا انوکھی بات نہیں ہوگی۔

معاشرہ ایک ایک فرد کے اکٹھا ہونے سے بنتا ہے۔ فرد کی تربیت ایسی ہو کہ جہاں برداشت، ایک دوسرے کے لیے دوستی، باہمی مدد اور تعاون کے جذبات کی قدرومنزلت اونچائی پر رکھی ہوں۔ تو سوال پیدا نہیں ہوتا کہ معاشرہ کسی اور شکل میں ڈھل جائے۔

کسی اوزار یا مشین کا پرزہ بنانے کے لیے سب سے پہلے اس کی ڈیزائن تیار کی جاتی ہے اور پھر اس کا سانچہ بنا کر اس کی جسامت اور وضع قطع کو طے کیا جاتا ہے۔

فرد کا حیاتیاتی ڈھانچہ قدرت بنتا ہے، لیکن اس کی ذہنی، معاشرتی عادات، میل ملاپ کے طریقے اور صلاحیتوں کا ڈھانچہ ہم انسان ہی کھڑا کرتے ہیں۔ کچھ تو چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے جس سے جابجا نفرت اور عدم برداشت کی لہریں تیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

کہتے ہیں جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہوگا۔ یہ اب انسانی معاشروں پر منحصر ہے کہ ہم فرد کی کس طرح کی ذہنی ساخت چاہتے ہیں۔

بہرحال یہ سچ ہے وعظوں اور نصیحتوں سے کچھ بدلنے والا نہیں۔ مثبت تبدیلی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ فصلیں ایسی بوئی جائیں جو جوان ہو کر ایک نئے ڈھنگ میں ڈھل جائیں۔ کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ انسان اپنی اصل ہیئت میں اتنا برا نہیں ہے۔ خوشیاں اور بہار کے رنگ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اپنے اندر کی دنیا میں بہار جیسی جذبوں کا مالک ہے۔ کیوں نہ اس کی اس جیسی خوبصورتیوں کو جلا بخشا جائے۔ نفرت، تعصب، بد امنی اور بے سکونی کی ڈگر پر ایک نیا رنگ چڑھایا جائے۔ کچھ نئی گل کاریاں کی جائیں تاکہ ماضی میں پروئی ہوئی سماجی طنابوں میں ایک نئی جان پیدا ہو۔

بچوں کو شروع دن سے ایسے سوشلائز کریں تاکہ ان کے دل میں انسان ہونے کے تمام جذبے پنپ پائیں اور کسی دوسرے انسان کو کسی بھی بنیاد پر نفرت اور تعصب کا نشانہ نہ بنائے۔ تب کہیں جاکر یہ قتل و غارت کا کاروبار کم ہو سکتا ہے۔ نہیں تو نفرت، تعصب اور کشت و خون کا کاروبار کرنے والے قدم قدم پر ملیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •