ہاکی اور راولپنڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے قومی کھیل یعنی ہاکی کا 66 واں نیشنل چمپئن شپ ٹورنامنٹ کا انعقاد 5 نومبر سے 20 نومبر کے دوران راولپنڈی میں ہوا؟ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے قومی کھیل کے سب سے بڑے مقابلے جس میں ملک کے صف اول کے کھلاڑی حصہ لے رہے تھے ملک بھر میں بلکہ راولپنڈی، اسلام آباد میں بھی کوئی قابل ذکر دلچسپی متحرک نہ کرسکے۔ میڈیا کی سردمہری بھی حیران کن رہی۔ پی ٹی وی سپورٹس کہ جس کا مشن ملک میں کھیلوں خصوصاً مقامی کھیلوں کی ترویج ہونا چاہیے نے بھی صرف فائنل کو ٹیلی کاسٹ کرنا مناسب سمجھا۔ اس ٹیلی کاسٹ کی پروڈکشن تکنیکی اعتبار سے مایوس کن تھی۔ ایسے نامساعد حالات کے باوجود اس چیمپئن شپ کا کامیاب انعقاد یقیناً قابل تحسین ہے۔ جس کے لئے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور ٹورنامنٹ کے سپانسر ماڑی پٹرولیم ہر لحاظ سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

ہاکی کے کھیل سے غیر معمولی دلچسپی کے باوجود میں بھی شاید لاعلم ہی رہتا اگر پاکستان کے عظیم کھلاڑی اور انتہائی قابل احترام منظور جونیئر ذاتی طور پر مجھے اس چیمپئن شپ کے بارے میں آگاہ نہ کرتے۔ اس کے لئے میں ان کا انتہائی شکر گزار ہوں۔

قارئین کرام دور حاضر میں ہاکی کا کھیل راولپنڈی سے تقریباً غائب ہو چکا ہے لیکن یہ راولپنڈی کا مقبول ترین کھیل رہا ہے۔ اس شہر سے بہت سے عمدہ کھلاڑی عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ بلکہ راولپنڈی کو ایک منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح پر سب سے پہلا گولڈ میڈل 1960 ء میں روم اولمپکس میں حاصل کیا تھا جب پاکستان نے فائنل میں بھارت کو ایک گول سے ہرا دیا تھا۔ وہ گول سینٹر فارورڈ نصیر بندہ نے رائیٹ آؤٹ نور عالم کے کراس پر اسکور کیا تھا۔

یہ دونوں کھلاڑی راولپنڈی سے تعلق رکھتے تھے۔ اس طر ح پاکستان نے آخری دفعہ عالمی چیمپئن شپ 1994 ء میں سڈنی میں جیتی تھی۔ ہالینڈ سے ہونے والے فائنل کا فیصلہ پنلٹی سٹروکس پر ہوا تھا اور پاکستان نے وہ مقابلہ گول کیپر منصور کے ہالینڈ کھلاڑی کے پنلٹی سٹروک کو روکنے سے جیتا تھا۔ منصور کا تعلق بھی راولپنڈی سے تھا۔ یوں پاکستان کو عالمی سطح پر پہلی کامرانی اور تادم تحریر آخری کامیابی میں راولپنڈی کے کھلاڑیوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔

برصغیر میں ہاکی کا کھیل برطانوی آرمی کی وساطت سے آیا تھا لیکن جلد ہی مقامی آبادی میں بھی اس کھیل کو مقبولیت حاصل ہوگی۔ 1885 ء میں کلکتہ میں ہندوستانی کھلاڑیوں پر مبنی پہلا ہاکی کلب قائم ہوا اور جلد ہی بمبئی اور پنجاب میں بہت سے ہاکی کلب معرض وجود میں آ گئے۔ ہندوستان کی ہاکی ٹیم نے 1928 ء کے اولمپک کھیلوں میں پہلی دفعہ حصہ لیا تھا اور پہلی دفعہ ہی گولڈ میڈل جیت لیا تھا۔

راولپنڈی میں بھی ہاکی کا کھیل برطانوی فوج نے متعارف کیا۔ چھاؤنی میں تعینات مختلف رجمنٹس کے علاوہ برٹش ملٹری ہسپتال جسے اب کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کہا جاتا ہے کی ہاکی ٹیم اس زمانے میں بہترین ٹیم مانی جاتی تھی۔ اس ٹیم میں زیادہ تر انگریز ڈاکٹر اور ہسپتال کے دیگر عملے کے ارکان کھیلا کرتے تھے۔ انڈین برٹش آرمی کے شمالی کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کے عملے پر مشتمل ہاکی ٹیم بھی باقاعدگی سے کھیلا کرتی تھی۔ یہ ٹیم جس گراؤنڈ پر کھیلتی تھی وہاں آج کل بلیو لیگون ریستوران اور شادی ہال تعمیر ہو چکا ہے۔ ایک اور میدان رسالہ گراؤنڈ ملٹری ہسپتال کے قرب و جوار میں تھا۔ یہ میدان ایک رہائشی میس اور چند اور تعمیرات میں گم گشتہ ہو چکا ہے۔ آج کا آرمی ہاکی سٹیڈیم اس زمانے میں وکٹوریہ گراؤنڈ کہلاتا تھا اور ہاکی کے کھیل کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔

جلد ہی برٹش آرمی کی ان ٹیموں کے علاوہ مقامی کھلاڑیوں کے ہاکی کلب بھی وجود میں آ گئے۔ راولپنڈی کا اولین ہاکی کلب یونین فریش مین تھا۔ یہ کلب چھاؤنی کے علاقوں میں رہنے والے کھلاڑیوں نے خان بہادر اسماعیل خان اور شیخ فضل الٰہی نصر الدین کی سرپرستی میں شروع کیا تھا۔ اس ٹیم کے کھیل کا معیار اتنا بلند تھا کہ اسی ٹیم سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی سندر داس کو 1932 ء کے اولمپکس کے لئے ہندوستان کی ہاکی ٹیم کے لئے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ بعد میں سندرداس اولمپکس کے لئے صرف اس لئے منتخب نہ ہوسکا کہ وہ نچلی ذات سے تعلق رکھتا تھا اور ہندوستان کی ٹیم کے ہندو کھلاڑی اس کے ساتھ رہنے اور کھانے پینے پر معترض تھے۔

شہر کے کھلاڑیوں کا اولین کلب راولپنڈی ٹائیگرز تھا۔ 1930 ء میں راولپنڈی ہاکی ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔ شروع کی نمایاں ٹیموں میں سٹی کلب، زمان کلب، خالصہ الیون کے نام پنڈی کے بزرگ شہریوں کی یادداشت محفوظ ہیں۔

1940 ء کی دہائی کے آغاز میں ہی یونین فریش مین کلب ٹوٹ گیا۔ کلب کے کھلاڑیوں نے میجر ہنس راج کی سرپرستی میں سیپارٹن کلب کی بنیاد رکھی۔ میجر ہنس راج بعد میں ہندوستان ہجرت کرگئے لیکن سیپارٹن کلب 70 ء کی دہائی تک راولپنڈی میں ہاکی کا نمایاں کلب تھا۔ اس کلب نے 1945 ء میں بمبئی میں ہونے والے آغا خان گولڈ کپ جیتا۔ یہ اس زمانے میں ہندوستان کا اہم ترین ہاکی ٹورنامنٹ ہوا کرتا تھا۔ غالباً اس کامیابی کے بعد ہی قیام پاکستان کے بعد راولپنڈی میں آغا خان گولڈ کپ کا آغاز ہوا تھا۔ یہ ایک مقامی ٹورنامنٹ تھا جو 1980 ء کی دہائی تک کھیلا جاتا رہا۔

تاریخی طور پر راولپنڈی میں جین مت، ہندو اور سکھ آبادی کو اکثریت حاصل رہی تھی۔ شہر کے نمایاں رئیس سکھ اور ہندو تاجر ہوا کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ غیر مسلم آبادی ہندوستان ہجرت کر گئی جس کی وجہ سے ہاکی کے کھیل کو بھی دھچکا لگا کیونکہ یہ روساء بہت سے مقامی کھلاڑیوں اور ٹیموں کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔ اس خلا کو شہر کے مختلف سرکاری محکموں نے کافی حد تک پر کیا۔ ملٹری اکاؤنٹس کی ہاکی ٹیم محاسبین اولمپئن شیخ رحمت اللہ کی قیادت میں قیام پاکستان سے پہلے ہی وجود میں آ گئی تھی۔

راولپنڈی الیکٹرک کارپوریشن جسے مقامی لوگ بجلی کمپنی کہا کرتے تھے، جی ایچ کیو، محکمہ ڈاک، ریلویز، اٹک آئل کمپنی اور بعد میں 501 اور 502 ورکشاپ نے ہاکی کے کھلاڑیوں کو ملازمتیں فراہم کیں۔ یوں شہر میں ہاکی کا ایک مضبوط اور توانا ڈھانچہ موجود رہا۔ (جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •