یہ کس طرح کی جنونی کیفیت ہے کہ ایک انسان طیش میں آ کر اپنے ہی کسی دوسرے ساتھی انسان کا قتل کرتا ہے۔ کہیں تو کچھ خراب ہے۔ کوئی پرزہ ایسا گل سڑ گیا ہے کہ ہم اپنی نارمل رویہ سے ہٹ کر بربریت پر اتر آتے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان رویوں کے پیچھے ایسے آثار ہیں جس سے یہ لگے کہ فرد میں کچھ عناصر کم ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ارادے سے فرد میں کچھ اضافی چیزیں ڈال دی گئی ہوں۔
کہتے ہیں کہ کینسر کا خلیہ ایک اضافی خلیہ ہے جو جسم کے دوسرے خلیوں سے ہٹ کر اپنا کام کرتا ہے۔ اس کا یہی عمل آگے چل کر بیمار جسم کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔ بین المسالک اور بین المذاہب کے حوالے سے جو عدم برداشت ہے، اس صورت حال کی وجہ سے جو ذہنی کیفیت موجود ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس حوالے سے بھی فکر کرنے کی ضرورت ہے، کیا ہم انسان کو اس کی حیاتیاتی ساخت اور قدرتی ذہنی رویوں سے ہٹ کر کچھ اور بنانا چاہتے ہیں۔ اگر جانے انجانے ہم سماج کو اس جانب دھکیل رہے ہیں، تو اس سے پہلے ہمیں اس حالت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم سماجی بگاڑ اور بدامنی کو گھر آنے کی کھلم کھلا دعوت تو نہیں دے رہے ہیں۔
Read more