شکر ہے کہ جانوروں کا مذہب نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر ہمارے ملک کا ایک آئین ہوتا ہے جسے ازراہ عقیدت دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آئین سن 1973 میں بنا اور نافذ ہوا تھا اسی لیے آپ لوگ اکثر تہتر کے آئین کے تناظر میں کہی گئی باتیں سنتے رہتے ہیں۔

اسی آئین کی ایک شق نمبر 41 ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ایک صدر ہوگا جو مملکت کا سربراہ ہوگا اور جمہوریہ کے اتحاد کی نمائندگی کرے گا۔ تہتر کے آئین کے تناظر میں آج کل پاکستان کے جمہوریہ کے ”اتحاد“ کی نمائندگی کے فرائض جناب عارف علوی سرانجام دے رہے ہیں جو صدر پاکستان ہیں۔

یہ صدر پاکستان 24 نومبر 2020 کو اسلام آباد کے چڑیا گھر تشریف لے گئے جہاں پر پاکستان کا بین الاقوامی شہرت یافتہ ہاتھی ”کاون“ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی بدولت 29 نومبر 2020 کو کمبوڈیا روانگی کے لیے تقریباً تیار ہے۔ صدر پاکستان 1985 میں پیدا ہونے والے کاون نامی ہاتھی کو الوداع کہنے اور رخصتی کے انتظامات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے خواہشمند تھے۔ چونکہ کسی اور مصروفیت کی وجہ سے وہ 29 نومبر کو میسر نہیں تھے اس لیے وہ 24 نومبر کو ہی اسلام آباد کے چڑیا گھر تشریف لے گئے تاکہ پاکستانیوں کی عدم توجہی اور زیادتی کے شکار کاون نامی ہاتھی کو تحفظ کا احساس دلا کر اسے نیک تمناؤں کے ساتھ الوداع کہ سکیں۔

ٹویٹر پر کاون کے بارے میں صدر پاکستان کے سرکاری ٹویٹر ہینڈل سے چار اور ذاتی اکاؤنٹ سے دو ٹویٹ کیے گئے۔ ایک ٹویٹ میں صدر پاکستان عارف علوی نے فرمایا کہ ”کاون کی کمبوڈیا میں ریٹائرمنٹ پاکستان میں جانوروں کے جذبات کا احساس ہونے کا نتیجہ ہے۔ محمد بن موسی الدامری نے 14 ویں صدی میں کتاب ’حیات الحیوان‘ لکھی۔ تعارف میں وہ کہتے ہیں کہ وہ جانوروں کے بارے میں غلط انسانی عقائد کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ جانور بھی ذہانت اور جذبات کے حامل ہیں۔“

صدر پاکستان کے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس ٹویٹ کا کیا جانا یہ سمجھاتا ہے کہ بحیثیت انسان اور بحیثیت صدر پاکستان جناب عارف علوی کو جانوروں کے جذبات و احساسات کا خیال ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جانوروں کے جذبات کا احساس کیا جاتا ہے۔ یہ بات قابل ستائش ہے کہ مملکت کا سربراہ اور جمہوریہ کے اتحاد کا نمائندہ جانوروں کے لیے درد دل رکھتا ہے۔

ایسے ہی ٹویٹر دیکھتے دیکھتے نظر اچانک جماعت احمدیہ کے ترجمان کے ایک ٹویٹ پر ٹھہر گئی جس میں وہ ضلع ننکانہ صاحب کے کسی قصبے میں کسی پندرہ سالہ بچے کی فائرنگ کا قصہ سنا رہے تھے جو کچھ احمدیوں پر کی گئی جس سے ایک 31 سالہ شخص جاں بحق اور مزید تین زخمی ہو گئے۔

یونہی خیال آیا کہ جانوروں کے لیے انتہائی درد دل رکھنے والے جمہوریہ کے اتحاد کے نمائندے نے شاید اس واقعے پر بھی کوئی ایک آدھا ٹویٹ کیا ہو مگر یہ ایک انتہائی معمولی سا واقعہ تھا جس میں ایک جان ضائع ہو گئی تھی جو کہ قیمتی بھی نہیں تھی کیونکہ وہ کسی ہاتھی کی نہیں تھی۔ بلکہ شاید انسان کی بھی نہیں تھی۔ چنانچہ صدر پاکستان کا اس بارے میں کوئی ٹویٹ بھی موجود نہیں تھا۔

احمدی بھلے پاکستان میں اپنے عقائد کی وجہ سے نفرت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہوں مگر خون تو شاید ان کا بھی سرخ رنگ کا ہی ہوتا ہے۔ جانوروں کی طرح ان کے بھی جذبات اور احساسات ہوتے ہی ہوں گے مگر پاکستان میں احمدیوں کے جذبات کا احساس نہیں کیا جاتا کیونکہ 14 ویں تو کیا کسی بھی صدی میں کسی نے کوئی کتاب حیات الاحمدی کے نام سے نہیں لکھی جس کے تعارف میں کہا گیا ہو کہ وہ احمدیوں کے بارے میں انسانوں کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہے کہ احمدیوں کا خون بھی سرخ ہوتا ہے اور وہ بھی جذبات و احساسات کے حامل ہیں۔ ظاہر ہے جب کوئی کتاب لکھی ہی نہیں گئی تو صدر پاکستان اس کتاب کا حوالہ ٹویٹ بھی نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی احمدی کے گھر تشریف لے کر جا سکتے ہیں کہ اسے تحفظ کا احساس دلا سکیں۔

کاون 1985 میں پیدا ہوا اور پاکستان آیا تھا اور احمدیوں پر پاکستان میں عرصہ حیات 1984 سے تنگ ہونا شروع ہوا۔ اپنی پیدائش کے پینتیس سال کے بعد اسلام آباد کے چڑیا گھر میں کسمپرسی اور زیادتی کے شکار کاون کو بین الاقوامی توجہ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے طفیل پاکستان سے زندہ سلامت کمبوڈیا جانے کا موقع مل گیا مگر گزشتہ چھتیس سال سے ظلم و زیادتی کے شکار احمدیوں کو بین الاقوامی توجہ کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ سے کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہ ہو سکا۔

مقام شکر ہے کہ جانوروں کا مذہب نہیں ہوتا ورنہ شاید جمہوریہ کے اتحاد کے نمائندے اس پر چار تو کیا ایک بھی ٹویٹ کرنے کی زحمت نا کرتے اور اسلام آباد ہائی کورٹ اسے کمبوڈیا بھیجنے کی بجائے اس بات کا حکم جاری کرتی کہ کاون کی مذہبی شناخت واضح کی جائے۔ اور پھر شاید کوئی پندرہ برس کا لڑکا چند چھٹانک سیسہ کاون کے جسم میں اتار کر اسے کمبوڈیا کی بجائے جہنم رسید کر دیتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 120 posts and counting.See all posts by awais-ahmad