بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری، دہلی جانے والی شاہراہیں بند کرنے کی دھمکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کی پارلیمنٹ سے حالیہ دنوں میں منظور ہونے والے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ پنجاب، ہریانہ اور دیگر ریاستوں کے کسان ان قوانین کے خلاف مظاہرے اور مارچ کر رہے ہیں۔

بہت سے کسان دہلی کے بُراڑی نرنکاری گراؤنڈ میں پہنچے ہیں۔ جب کہ بہت بڑی تعداد میں کسان ہریانہ دہلی سرحد اور اتر پردیش (یو پی) دہلی سرحد پر بھی دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

کسانوں نے متنبہ کیا ہے کہ وہ دہلی جانے والے پانچوں داخلی راستے بند کر دیں گے۔ دوسری جانب کسانوں نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کی بات چیت کی مشروط پیشکش مسترد کر دی ہے۔

متعدد ریاستوں سے کسانوں کے گروہ دہلی کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔ دہلی سے متصل ہریانہ اور اتر پردیش کی سرحد پر ہزاروں کسانوں کی موجودگی کی وجہ سے ٹریفک میں زبردست خلل پڑا ہے۔ جب کہ دہلی کی طرف آنے والوں کو دشواری کا سامنا ہے۔

دہلی پولیس نے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ دارالحکومت میں ٹریفک کا نظام بری طرح ہوا متاثر ہے۔

ناردرن رینج دہلی کے جوائنٹ پولیس کمشنر سریندر یادو کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر امن اور کنٹرول میں ہے۔ پولیس کسانوں سے رابطے میں ہے۔ پولیس کا مقصد نظم و نسق برقرار رکھنا ہے جس کے لیے اضافی فورس تعینات کی گئی ہے۔

آل انڈیا کسان مزدور سنگھ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر آشیش متل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے جو تین قوانین منظور کیے ہیں وہ کسانوں کے خلاف جب کہ صنعت کاروں اور کمپنیوں کے مفاد میں ہیں۔

اُدھر وزیرِ زراعت نریندرا سنگھ تومر نے مذکورہ قوانین کی حمایت کی اور انہیں کسانوں کے حق میں بتایا۔

بھارت: زرعی بلوں کے خلاف اپوزیشن اور کسان سڑکوں پر

نریندرا سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت کسانوں سے بات کر رہی ہے اور وہ اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت مذکورہ قوانین پر بھی گفتگو کے لیے تیار ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک روز قبل ماہانہ ریڈیو پروگرام ‘من کی بات’ میں ان قوانین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسانوں اور خریداروں کے درمیان موجود بروکرز سے کسانوں کو نجات مل جائے گی۔

لیکن ڈاکٹر آشیش متل کا کہنا ہے کہ جب تک مذکورہ قوانین واپس نہیں لیے جاتے، کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

ان کے مطابق کسان چار ماہ کا راشن لے کر نکلے ہیں اور وہ اس سے بھی زیادہ دنوں تک سڑکوں پر رہ سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کسانوں نے دہلی میں متعدد مقامات کے ساتھ ساتھ دہلی ہریانہ اور دہلی یو پی سرحد پر موجود سینکڑوں ٹریکٹروں میں خور و نوش اور رات گزارنے کے انتظامات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ سماجی تنظیمیں دہلی میں جگہ جگہ کسانوں کے کھانے پینے کا انتظام کر رہی ہیں۔ متعدد مساجد میں بھی ان کے خور و نوش کا انتظام کیا گیا ہے۔

صورت حال پر غور کرنے کے لیے امت شاہ، راج ناتھ سنگھ، نریندرا سنگھ تومر اور بی جے پی صدر جے پی نڈا نے اتوار کی شب میٹنگ کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 934 posts and counting.See all posts by voa