جدت پسندی کے نقصانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائنس کی معجزانہ صلاحیتوں سے کون واقف نہیں ہر انسان اس حقیقت کو باخوبی جانتا ہے آج کے جدید دور سے پرانہ دور یا یہ کہہ لیں آج سے تیس چالیس سال پہلے کا دور بہت زیادہ مختلف تھا۔ یہ رنگ برنگی ایجادات جن کا آج کے دور میں استعمال کیا جاتا ہے اس وقت میں ان کا نام و نشان بھی نہ تھا جدت پسندی سے تو لوگ اس وقت بھی واقف تھے اور جدید سے جدید ایجادات کے شوقین اور خواہش مند بھی۔ جب موبائل فون متعارف کروایا گیا ہر خاص و عام اسے استعمال کرنا چاہیتا تھا اور جلد سے جلد خریدنا اس کی پہلی ترجیع تھی۔

آج ایک ایسا وقت ہے ہر خاص و عام کے ہاتھ میں موبائل فون موجود ہو گا۔ ہر گھر میں کمپیوٹر لیپ ٹاپ انٹر نیٹ ایکسیس موجود ہوتا ہے۔ مگر کیا ہم نے ان تمام جدید سائنسی ایجادات کے نقصانات پر غور کیا جیسے جیسے سائنسی ترقی میں اضافہ ہوا گناہوں اور بے راہ روی میں بھی اضافہ ہوا۔ ہر نوجوان سے سوشل میڈیا پر فیسبک ٹیوٹر وٹس ایپ سمیت ہر طرح کے گروپ بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن کا سب سے بڑا نقصان ایسے لوگوں تک آزادانہ رسائی ہے جو کچے اور معصوم دماغوں کو کنٹرول کر کے انہیں غلط راستوں پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

کرائم سے متعلق ویڈیوز اور پروگرام مجرم افراد کو واردات کے نئے نئے طریقے بناتی ہیں۔ زیادہ تر پریشانی کی بات یہ ہے کہ نوجوان بچے غلط لوگوں سے فیسبک یا کسی سوشل میڈیا پر بات کرتے ہیں یہ لوگ ان کی پوری شخصیت بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ پھر وہ جیسے چاہیتے ہیں بچے ان کی سکھائی عادات اپنے اندر منتقل کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایجادات ہر لحاظ سے منفی نہیں ان کے بہت سے مثبت پہلو بھی ہیں۔ ان ہی سوشل میڈیا ایپس کی مدد سے بہت سے مسائل بھی حل کئیے جاتے ہیں۔

مگر کم عمر اور چھوٹے بچوں کو انٹرنیٹ موبائل کمپیوٹر لیپ ٹاپ دینے کے بعد بڑوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس قسم کے کم عمر نہ سمجھ بچوں کو اپنی نگرانی میں ان جدید سہولیات کا استعمال کرنے دیں تاکہ آپ ان کی ایکٹیوٹی سے با خبر ہو۔ اگر یہ کہا جائے تو کسی طور غلط نہیں ہوگا کہ جدید دور میں والدین کے پاس بھی اتنا وقت نہیں کے اپنے بچوں کو زیادہ وقت دے سکیں کیونکہ انہوں نے ایک ہی وقت میں مختلف کاموں میں خود کو الجھایا ہوتا ہے اب زندگی مشینی انداز میں جلتی ہے جہاں ہر انسان روبوٹ کی طرح خود بھی مشین بن گیا ہے جہاں احساسات اور خلوص ختم ہوتا جا رہا ہے۔

جدت کی اس دوڑ میں اگے بڑھنے کی یہ تو ابھی شروعات ہے آئندہ آنے والے وقتوں میں جتنی زیادہ سائنسی ایجادات میں اضافہ ہو گا اسی طور ہمارے مسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔ کچھ لوگوں کو میری بات سے بہت سے اختلافات ہوں گے لیکن اگر آپ خود بھی گہرائی سے سوچیں تو آپ کو سمجھ آئے گا کہ ہم کہا سے کہا پہنچ گئے جدت پسندی ایک اچھی تبدیلی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نسلوں کو کھوکھلا ہونے سے بھی بچانے کی ضرورت ہے۔ آپ اپنے بچوں کو ہر سائنسی ایجادات سے مستفید ہونے دیں مگر جہاں انہیں بنانے کے لئے آپ کا کردار اہم ہے وہ جگہ کسی طور سوشل میڈیا یا کو ٹیکنالوجی نہیں کر سکتی۔

سوشل میڈیا ہے جیتے جاگتے انسان کو بھری دنیا میں تنہا کر دیا ہے اب ہمیں اپنے قریبی رشتے نظر نہیں آتے ان رشتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو سامنے موجود ہیں اور ان لوگوں کو اہمیت دی جاتی ہے جو سات سمندر پار ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے سائنسی ایجادات سے فائدہ ضرور اٹھائیں مگر ایک حد میں رہیتے ہوئے اللہ ہم سب کا حامیوں ناصر ہو آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •