جب حور بی بی کو مساوات کا دورہ پڑا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’ابھی تو صرف بارہ بجے ہیں!‘ پچپن سالہ حوربی بی نے اپنی موٹی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھ کر ایک لمبا سانس لیا اور پھر ساتھ بیٹھی ہوئی عورت کو دیکھا۔

’یہی میں سوچ رہی ہوں کہ ابھی تو بارہ ہی بجے ہیں اورجلسہ شام میں ہے۔ ہمیں اتنی جلدی لا کر کیوں بٹھا دیا انہوں نے!‘ یہ عورت کھوئی کھوئی سی لگ رہی تھی۔

حوربی بی نے گردن موڑ کر ساتھ بیٹھی ہوئی عورت کا جائزہ لیا۔ ’تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں سے آئی ہو؟‘

’میرا نام آرزو بیگم ہے۔ میں اپنے خسم کے ساتھ آئی ہوں سکھر کے پاس سہراب گوٹھ سے۔‘

’میں حوربی بی ہوں، شہداد کوٹ میں رہتی ہوں۔ کیا تم پہلے بھی ہماری پارٹی کے جلسے میں آئی ہو؟‘ حور بی بی نے اپنے چھوٹے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔

’نہیں، میں تو پہلی بار آئی ہوں۔ سائیں کے لوگ پرسوں آئے تھے۔ ہم دونوں کو صبح سات بجے آج تیار رہنے کے لئے بولا تھا بس سے کراچی جانے کے لئے۔‘ چالیس کے پیٹے کی آرزو بیگم کی آواز میں شکایت کے باوجود کتنا ٹھہراؤ تھا۔

’میں تو پتا نہیں کتنی دفعہ جلسوں میں آ چکی ہوں، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ۔ میں تو بہت پرانی ممبر ہوں، دس سال پرانی۔ پارٹی کے لئے جیل بھی کاٹ چکی ہوں۔‘

آرزو بیگم اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔ وہ اس طرح کی عورت سے پہلے کبھی نہیں ملے تھی۔ اٌس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا سوال کرے۔

حوربی بی اپنی پارٹی کے بارے میں بتانے کے لئے بیتاب ہو رہی تھی۔ ’ہماری پارٹی کا منشور مساوات ہے۔ سب لوگوں کو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت ملے گی۔ کوئی بھوکا نہیں سوئے گا، کوئی چھت بنا نہیں رہے گا، سب بچے مفت تعلیم حاصل کریں گے اور سب مریضوں کا علاج مفت ہو گا۔‘

آرزو بیگم کے چہرے سے حیرانی ٹپکنے لگ گئی۔ ’حوربی بی، میں ایک سوال پوچھوں۔‘
حوربی بی تو پہلے ہی بولنے بلکہ تقریر کرنے کے لئے بیتاب تھی۔ ’ہاں، ہاں، ضرور پوچھو۔‘

آرزو بیگم نے ارد گرد حوربی بی کی پارٹی کے لوگ دیکھ کر دھیمی آواز سے پوچھا۔ ’تمہاری پارٹی کو تو کئی مرتبہ حکومت مل چکی ہے پھر یہ سب کچھ کیوں نہیں دیا لوگوں کو۔ میرے گاؤں میں تو کئی لوگ بیمار ہیں لیکن پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج نہیں کرا سکتے۔‘

حوربی بی نے ماتھے سے پسینے کو پہنچا اور ہچکچا کر بولی۔ ’آرزو بیگم، کبھی کبھی میں بھی یہ سوچتی ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ ہماری پارٹی ایک نا ایک دن یہ سب کچھ کرے گی۔‘

آرزو بیگم اب حوربی بی کی بوتوں سے اکتا سی گئی تھی۔ ’ارے بہن، یہاں بارہ بجے لا کر بٹھا دیا اور پانی کی ایک بوتل تک نہیں دی اور تم پتا نہیں کیا کیا باتیں کر رہی ہو۔ میں حیران ہوں کہ تم دس سالوں سے اس پارٹی کی وفادار ہو۔‘ پھر اس نے حوربی بی کے قریب آ کر پوچھا۔ ’کیا تمہیں کچھ پیسے ویسے ملتے ہیں پارٹی سے جو تم اس کے لئے جیل بھی بھگت چکی ہو۔‘

حوربی بی نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو سکیڑا اور پلٹ کر جواب دیا۔ ’میں کسی پیسے ویسے کے لئے نہیں ہوں پارٹی میں۔ ارے یہ تو میری اپنی پارٹی ہے۔‘

آرزو بیگم نے گھور کر حوربی بی کو غور سے دیکھا۔ ’نہ تمہیں پیسے ملتے ہیں اور نہ پارٹی نے وعدے پور ے کیے ہیں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم اس کے پیچھے کیوں دس سالوں سے دوڑ رہی ہو!‘

’بہن یہ بہت سمجھنے والی بات ہے۔ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ مجھے کوئی پیسے نہیں ملتے، نہ ہی پارٹی نے وعدے پور کیے ہیں لیکن‘ پھر حور بی بی رک گئی جیسے الفاظ کو ڈھونڈ رہی ہو۔

’لیکن کیا؟‘ اب آرزو بیگم کو اپنا پلڑا بھاری محسوس ہو رہا تھا۔

حوربی بی نے ایک لمبا سانس لیا۔ ’اس پارٹی نے مجھے ایک خواب دیا ہے۔ ہمارے علاقے میں کئی بڑے بڑے سیاستدان آئے اور پتا نہیں ملک اور مذہب کے بارے میں کیا کیا باتیں کرتے رہے لیکن اس پارٹی نے مجھے ایک خواب دیا، روٹی کپڑا مکان تعلیم علاج، یہ سب کو ملے گا۔ آرزو بیگم تمہیں نہیں پتا کہ اس خواب میں کتنی طاقت اور کتنی شیرینی ہے۔ یہ خواب میرا سہارا ہے جینے کا سہارا۔‘

آرزو بیگم کے ہونٹ خشک ہو رہے تھے اور چہرہ مرجھا رہا تھا۔ ’حوربی بی، اپنی پارٹی والوں سے بولو کہ کچھ کھانے پینے کا تو انتظام کریں۔ پیاس کے ساتھ ساتھ اب تو بھوک سے بھی برا حال ہو رہا ہے۔ تم پارٹی کی اتنی پرانی ممبر ہو، تمہاری بات تو وہ نہیں ٹالیں گے۔‘

حوربی بی فوراً خود اعتمادی کے ساتھ کرسی سے اٹھی۔ ’مجھے یقین ہے کچھ ناکچھ انتظام تو کیا ہو گا۔ میں پتا کر کے آتی ہوں۔‘

آرزو بیگم اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی جب تک کہ وہ پارٹی کے شامیانے میں بھیڑ کے اندر غائب نہ ہو گئی۔ ’کتنی مضبوط عورت ہے یہ، کاش میں بھی اس کی طرح ہوتی۔‘

حوربی بی شامیانے کے اندر کا ماجرا دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئی۔ ’تم سب لوگ کمینے ہو۔ وہاں ہم لوگ دھوپ میں بھوک اور پیاس سے کلبلا رہے ہیں اور تم لوگ یہاں دعوتیں اڑا رہے ہو۔ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی مساوات کے نعرے لگاتے ہوئے!‘

اچانک کسی نے اس کو دوپٹے کے پلو سے کھینچا۔ ’بک بک نہیں کر، تجھے دکھتا نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں!‘ پھر اس لحیم و شحیم آدمی نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ ’تجھ کو اب مساوات کے دورے کچھ زیادہ ہی پڑنے شروع ہو گئے ہیں، اب تو دنگا فساد بھی کرنے لگ گئی ہے۔ آج تیرے دماغ کا علاج کروانا ہی پڑے گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •