قوم میں یکجہتی کون لائے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر حکومت اور حزب اختلاف اپنی اپنی ضد پر اڑے رہے اور سیاست دانوں اور اداروں کے درمیان یونہی نفرت اور غلط فہمیوں کی خلیج بڑھتی رہی تو خاکم بدہن ملک اور نظام کا نقصان ہو جائے گا۔ تو کوئی ہے جو تنقید اور کشمکش کے بجائے بات چیت اور قومی یکجہتی کے لیے کوشش کرے؟

کون ہے جو قوم و ملک کی بہتری کے لیے افراد اور اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرے اور اس پر قومی اتفاق پیدا کرے کہ قوم کے سارے رہنما، ادارے اور اہلکار قوم کے اثاثے اور ہمارے پاس آنے والی نسل کی امانت ہیں اور یہ کہ ہم ان کو اپنے سیاسی یا گروہی مفاد کے لیے بدنام کرنے سے اجتناب کریں گے اور ان کے احترام کو یقینی بنانے، ان کو ترقی دینے اور ان کی نیک نامی میں اضافے کے لیے کوشاں رہیں گے؟

شک، نفرت، بغض اور ضد سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کی بنیاد پر رائے، طرزعمل اور پارٹی پالیسی بنانے کے بجائے ہر گروہ کو خوش اخلاقی، عدل اور احترام سے کام لینا ہوگا۔

کسی طبقے، گروہ یا قوم کے خلاف تعصب کی بنیاد پر بننے والا ہر نظریہ اور طرزعمل توازن سے خالی ہوتا ہے اور ان سے حالات و واقعات کا ایسا منفی سلسلہ چل نکلتا ہے جو پھر کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتا حتیٰ کہ معاشرے اور سارے نظام کو بھسم کردیتا ہے۔

آئین اور جمہوریت کا تقاضا ہے ملک میں عوام کی منتخب حکومت قائم ہو، وہ عوام کو جواب دہ ہو، سارے ادارے منتخب حکومت کی حسب آئین و قانون اطاعت کریں اور حکومت تمام افراد اور اداروں کی جائز ضروریات پوری کرے اور انہیں آسائشیں فراہم کرے۔ ان نکات پر کوئی اختلاف نہیں مگر مسئلہ نیتوں پر شک و شبہے سے پیدا ہوا ہے۔

ایک طرف کو دوسری جانب پر شک ہے کہ یہ اس کو نقصان پہچانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اس شک اور غلط فہمی کی وجہ سے دوسرے کے خلاف سازشی نظریات پھیلائی جا رہی ہیں، باہمی رابطے ختم ہوچکے اور باہمی کشمکش اور نفرت عروج پر پہنچ چکی ہے۔

ظاہر ہے حکومت اور حزب اختلاف اور اداروں سب کی موجودگی ضروری ہے۔ ان میں سے کوئی ایک خاکم بدہن دوسرے کو ختم کر سکتا ہے نہ اس کی کوئی گنجائش ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ملک کو درپیش مسئلوں کا حل کسی ایک کے بس کی بات بھی نہیں اور وقت بھی تیزی سے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے احترام کی بنیاد پر پرامن بقائے باہمی ہی واحد راستہ ہے تو پھر کون ہے جو اس مقابلے اور ہیجان کو چھوڑنے کی پہل کرے اور ایک مشترکہ قومی مفاہمت اور متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے قومی ڈائیلاگ شروع کروائے؟ کون ہے جو اپنے بیانیہ، ذہنی اپچ، مفادات اور تعصب سے بالاتر ہو کر اور سیاسی مخالفت کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے مخالفین کی طرف پہلے ہاتھ بڑھائے؟

قوم منتظر ہے کہ کون سا رہنما دوسری طرف سے پہل کا انتظار کرنے کے بجائے خود اپنے مخالفین کے خلاف گولہ باری چھوڑ دے گا، ان سے رابطہ کرے گا، ان کو عزت و احترام دے گا اور ان کی طرف دست تعاون بڑھائے گا۔ امید ہے جلد ملک و قوم وہ سیاسی منظرنامہ دیکھے گی جب اپنے مخالفین کو چور، ڈاکو، غدار اور کافر قرار دینے کی قبیح رسم دم توڑ دے گی اور سب اعتراف کرنے لگیں گے کہ بغیر ثبوت کے الزام لگانا قانون، اخلاق اور شریعت سب کی رو سے نامناسب ہے۔

کیا کوئی ہے جو تمام سیاسی و مذہبی گروہوں اور اداروں کو اس پر متفق کرے کہ قوم کو متحارب کیمپوں میں تقسیم کرنا، اپنے حامیوں کو ہی ایماندار اور محب وطن کہنا جبکہ اپنے مخالفین کو احمق، بے ایمان اور وطن دشمن کہنا اور انصاف اور احتساب کرتے وقت اپنے پرائے کی تمیز کرنا بہت بری بات ہے۔

ظاہر ہے کوئی شخص اور گروہ ہو یا ادارہ، نہ وہ مجسم نیکی ہے نہ شیطان مجسم۔ کمزوریاں ہر جانب موجود ہیں۔ غلطیاں ہر ایک سے ہوئی ہیں۔ آخر کب تک تمام گروہ چنیدہ اخلاقیات سے کام لیتے ہوئے اپنی خوبیاں اور مخالفین کی خامیاں اچھالتے رہیں گے۔ کسی کو تو آگے آ کر اپنی غلطیوں، کوتاہ بینی، مفاد پرستی اور زیادتیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔

کیا سیاست دانوں میں سے کوئی ہے جو ببانگ دہل یہ اعتراف کرے کہ انتخابات میرے لیے تبھی آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہوتے ہیں جب میں اور میری پارٹی جیت جائیں ورنہ پھر سیلیکشن، اداروں کی مداخلت اور دھاندلی کے الزامات لگاکر نتائج کو مسترد کرنا اور دوبارہ الیکشن کے لیے تحریک چلانا میرا معمول رہا ہے مگر آئندہ میں عوام کے مینڈیٹ کو مانوں گا، مخالفین کو کامیابی پر مبارکباد دوں گا اور کبھی دوبارہ انتخابات اور منتخب حکومت کو ہٹانے کے لیے تحریک نہیں چلاؤں گا؟

اگر جمہوری اداروں کو کمزور کرنا اور ملکی نظام میں سلامتی کے اداروں کا کردار آج کسی کی نظر میں قابل مذمت ہے تو کیا اسے اعتراف نہیں کرنا چاہیے کہ ہاں ہم بھی ماضی میں پارلیمنٹ، جمہوریت، انتخابات، سیاسی نظام اور حکومتی اداروں کے خلاف غیر جمہوری قوتوں سے سازباز کرتے رہے ہیں اور کسی ایک فرد کی غلطی کی بنیاد پر جذباتی باتیں اور تعمیم اختیار کرتے ہوئے نظام کے سارے عناصر و مظاہر کو کرپٹ، غلط اور جعلی قرار دیتے رہے ہیں مگر اب قوم سے وعدہ کرے کہ آئندہ یہ کام نہیں کریں گے۔

افسوس ہے کہ ہمارے سیاسی و مذہبی رہنما نوجوانوں کو اپنے مفاد کے لیے احتجاج، ہیجان اور انتہا پسندی کا رسیا بناتے اور سرکاری اداروں اور اہلکاروں پر ان سے حملے کرواتے رہے ہیں۔ کیا وقت نہیں آیا کہ اب سب یہ طرزعمل چھوڑ دیں اور سماجی و سیاسی اصلاح کے لیے آئین و قانون کے اندر کام کرنا شروع کریں۔

آخر وہ دن کب آئے گا کہ جب ہمارے سب بڑے اپنے بیرون ملک پڑے اثاثوں بارے متعلقہ اداروں کی پوچھ گچھ پر بخوشی وضاحت دیں گے اور سیاسی انتقام کا الزام لگانے اور اپنی دولت اور ذہانت کے ذریعے احتساب سے بچنے کے بجائے اپنے اثاثے یہاں لے آئیں گے، ان کے جواز پر یہاں اداروں کو مطمئن کریں گے یا ان پر جرمانہ اور ٹیکس ادا کر کے انہیں سفید کروائیں گے۔ ؟

ظاہر ہے اگر آپ آمریت سے نفرت کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر آپ کا طرزعمل اور آپ کی پارٹی جمہوریت پسندی کا نمونہ ہونا چاہیے۔ اگر آپ کی پارٹی میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ اس میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی آمریت قائم ہے اور اگر کوئی آپ پر تنقید کرے یا پارٹی میں اصلاحات کے لیے آواز اٹھائے اور اسے پارٹی میں کھڈے لائن لگادیا جاتا ہے یا بے عزت کر کے نکالا جاتا ہے اور آپ پارٹی میں آزاد اظہار خیال کے بجائے خوشامد پسند کرتے ہیں پھر آپ کے دعوے پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا۔ کیا کوئی اللہ کا نیک بندہ ایسا ہے جو پارٹیوں میں جمہوریت کو گراس روٹ لیول تک پنپنے کا موقع پیدا کرے؟

قوم کو یاد ہے جب دہشت گردوں نے ملک میں قتل وغارت شروع کی تو بہت سے رہنما، جو ان پر تنقید کی جرات سے محروم تھے، اس سفاکیت کو بلیک واٹر، موساد اور را کی کارستانی اور اسلام دشمنوں کی سازش قرار دیتے رہے تاکہ انہیں دہشت گردوں پر تنقید نہ کرنی پڑے۔ قوم کا متفقہ لائحہ عمل مرتب ہو تو کیا ہم امید رکھیں کہ اب وہ رہنما دہشت گردوں کو اپنا دشمن سمجھیں گے اور ان کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •