شکوہ، ایک سٹریٹ کریمینل کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غضب خدا کا، لوگ خودکشی جیسے حرام فعل کو جائز کرنے کے لئے ہمارا استعمال کر رہے ہیں۔ ابھی کل ایک صاحب پر پستول تان کر موبائل کا مطالبہ کیا۔ جناب بھڑ گئے مجھ سے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کو ٹھوکنا ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ بھئی سٹریٹ کرائم کے دوران مزاحمت نہیں کی جاتی، یہ بنیادی اصول تو بچوں کو بھی سکھا کر گھر سے بھیجا جاتا ہے۔ موبائل سنیچنگ کی تابندہ تاریخ کراچی میں دو دہائیوں سے زیادہ پرانی ہے، اور اگر کسی کو اب تک اس بنیادی اصول کا علم نہیں تو یہ لاعلمی نہیں بلکہ جہالت ہے۔ کسی کے پاس بھلے سے پی ایچ ڈی کی سند ہو، لیکن اگر اس کے پاس سڑک کی عقل (سٹریٹ سمارٹس) نہیں ہے تو وہ ان پڑھ ہے اور اس کے ساتھ وہی ہونا چاہیے جو میں نے ان صاحب کے ساتھ کیا۔

یعنی کہ ٹپکا دیا بیوقوف کو۔ ہمارے استاد محترم نے سمجھایا تھا کہ ایسے لوگوں کا یہی علاج ہے۔ تڑپا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ ٹریفک رواں دواں رہا۔ کراچی والے پرائے پھڈے میں نہیں پڑتے، خاص طور پر اگر پستول بھی ایک فریق ہو۔ بہت شوق سے تلاشی لی۔ کم از کم آئی فون 10 کی امید تھی۔ اس سے کم پر کیا جان دینا۔ لیکن جناب کی جیب سے وہ پرانا نوکیا نکلا جس سے یار لوگ دیوار میں کیل ٹھونک لیتے تھے۔ اس کے علاوہ بجلی کا بل جس کی وہ غالباً قسطیں کروا کر آ رہے تھے۔

میں حیران اتنا کہ مزید کام کرنے کے بجاتے چھٹی کی اور گھر آ گیا۔ دراصل ہمارے کام میں فلسفیانہ غور و فکر بہت ضروری ہے۔ کبھی سکول میں ریاضی پڑھی تھی۔ پرانے نوکیا اور بجلی کے بل کو جمع کیا تو حاصل آیا ایسا آدمی جس کے پاس ہارنے کے لئے کچھ نہیں، جس کے نزدیک زندگی کی کوئی وقعت نہیں، اس لئے اس نے زندگی ہار دی۔

یہ وہ نتیجہ جس پر میں پہنچا۔ لیکن ہمارے کام میں انکساری اہم ہے اور ساتھیوں کی رائے لینا ضروری۔ شام میں زوم میٹنگ میں معاملہ اٹھایا تو معلوم ہوا کہ کچھ اور ساتھیوں کے ساتھ بھی ایسے معاملات ہوئے تھے اور سب نے وہی کیا تھا جو میں نے کیا۔ لیکن ہاتھ سب کے مونگ پھلیاں ہی آئیں۔ سب اس ہی نتیجے پر پہنچے کے ایسے لوگ زندگی سے تنگ آ چکے ہوتے ہیں، مرنا چاہتے ہیں، لیکن خود کشی نہیں کر سکتے۔ ایک تو مذہبی ممانعت، اور پھر یہ ڈر کہ معاشرہ ان کے گھر والوں کو بھی طعنے مار مار کر خود کشی پر مجبور کر دے گا۔

ہماری عقل تو صرف ادھر تک ہی چلی، لیکن اگلے دن ایک سانحہ پیش آ گیا۔ شام کی زوم میٹنگ میں ایک ساتھی کم تھا۔ اس کے کام میں کسی نے مزاحمت کی، اس نے فائر کیا، آدمی بچ گیا، اور ہمارا ساتھی پکڑا گیا۔ پبلک نے اس کے بخیے ادھیڑ ڈالے۔ شکر ہے تھانے میں اطلاع پہنچ گئی، فوری طور پر موبائل جا کر بیچارے کو چھڑوا کر لائی ورنہ تو وہ نہیں بچتا۔ پبلک میں بھی تو تحمل نہیں ہے آج کے دور میں۔ شاندار مووی ”پلپ فکشن“ کے کردار مارسیلس والس کے بقول، بیچارے پر قرون وسطیٰ کے دور کا تشدد کیا گیا تھا۔ یہ گورے کیا سیاہ فاموں کی ”ماب لنچنگ“ کرتے ہوں گے جو پاکستانی قوم میرے ساتھیوں کے ساتھ کرتی ہے فی البدیہ۔

خیر اس کا بدلہ تو ہم چکائیں گے۔ لیکن پکڑنے والے کی ویڈیوز واٹس ایپ پر آ چکی تھیں۔ لوگ اسے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ اس شام کے غور و فکر سیشن میں ہم پر یہ ادراک ہوا کہ اب ہم بلی اور قوم چوہے نہیں، بلکہ بازی پلٹ چکی ہے۔ اب قوم ہم سے کھیل رہی ہے۔ اس کھیل میں اگر حلال طریقے سے خود کشی نہ ہو سکے تو بھی بازی مات نہیں۔ سٹریٹ کریمینل کو پکڑنے والا ہیرو بن جاتا ہے۔ موت کے بجائے اسے جینے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔

اسی وجہ سے آج کل لوگ زیادہ ہی ہم سے بھڑ رہے ہیں۔ پرانی اقدار بھول رہی ہے قوم جب سٹریٹ کریمنل کو اس کا حصہ بغیر چوں چراں مل جاتا تھا۔

پوری قوم ہی خود کشی کرنا چاہتی ہے، لیکن کتنی بد دیانتی ہے یہ کہ ایسے مرو کہ حرام کام کا الزام بھی نہ آئے۔ ارے لوگوں، انسان کو دھوکہ دے لو گے لیکن پروردگار سے تو سچ نہیں چھپا سکو گے۔

اب ہمارا کام زوال پذیر ہے۔ خالی بٹوے اور بٹن والے موبائل دیکھ دیکھ کر اختلاج قلب ہونے لگا ہے۔ سنتے ہیں کہ بھرے ہوئے بٹوے تو اب صرف اونچی دیواروں اور خاردار تاروں والی رہائشی سکیموں کے مکینوں کے پاس پائے جاتے ہیں۔ لیکن ان سکیموں کو صرف دور سے دیکھ کر آہ بھر لیتے ہیں۔

عام آدمی کی جیب میں کچھ بچا نہیں جو چھینا جائے۔ آج بھوک لگی تھی۔ دوپہر کے کھانے کے ٹائم ایک فوڈ پانڈا والے کا ٹوکرا لوٹا۔ پتا چلا کہیں روٹی پیاز ڈیلیور کرنے جا رہا تھا۔ بہت افسوس ہوا۔ واپس کر دیا۔ جا بھائی، جا غریب کو کھانا پہنچا دے۔ ہم کیوں غریب کی آہ لیں۔ اور لینی ہے تو بریانی پر لیں۔ روٹی پیاز پر تو ہرگز نہیں۔

حکومت سے درد مندانہ گزارش ہے کہ معیشت کے لئے کچھ کیجیے (باتوں کے علاوہ) ، روزگار کے راستے کھولیے، لوگوں کو فنی تعلیم دیجیے، تعلیمی اداروں میں موبائل چھیننے کا کورس بھی کروائیے، مہنگائی کم کیجیے۔ لوگ دوبارہ مہنگے موبائل خریدیں اور چھنوائیں اور پھر خریدیں۔ ان کے بٹوے بھرے ہوں، دل کشادہ ہوں، زندگی کی امنگ سے لبریز ہوں، رنگ برنگے کپڑوں کی خریداریاں کریں، یہ نہیں کہ صرف لٹھے کی دکان پر نظر آئیں، کفن کا دو گز کپڑا خریدنے۔

عوام سے گزارش ہے کے اولڈ از گولڈ کے تحت چوہے مار دوا، چلتی ٹرین، پنکھے میں دوپٹا، مٹی کا تیل اور ماچس جیسے آزمودہ نسخوں کو دوبارہ اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ دیکھیں، آپ کے ہیرو بننے کے چکر میں حکومتی اہلکار اعداد و شمار لہرا رہے ہیں کہ اتنے اچھے حالات ہیں کہ خودکشیاں نہیں ہو رہیں۔ اپنا نہیں، دوسروں کا سوچیے۔ آپ نے تو ویسے بھی مرنا ہے، جاتے جاتے اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیں۔ ببانگ دہل خود کشی کیجیے تاکہ اعداد و شمار میں ہی عام شہری کو کچھ نمبر مل جائیں۔

اور اگر آپ ہماری گزارش نہیں مانتے تو یہ سن لیں، ہمیں آپ کی خودکشی کا سہولت کار بننے میں کوئی اعتراض نہیں۔ یہ ہمارے کام کا حصہ ہے اور ہم محنت کی کھاتے ہیں، کوئی حرام خوری نہیں کرتے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر رزق کماتے ہیں۔ لیکن آپ بھی کچھ خیال کرو۔ کچھ جیب میں رکھ کر نکلو گھر سے۔ خدا کا خوف ہے یا نہیں؟ ہم اکیلے تو نہیں ہیں، ساتھ اتنے لوگ لگے ہیں، علاقے بٹے ہوئے ہیں، سب کو حصہ جاتا ہے۔ آپ جیسا کوئی خود غرض ٹکر جائے تو نری وقت کی بربادی، اور اوپر والوں کی گالیاں الگ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •