خوشنود


انسان کی زندگی مختلف ادوار میں اپنے اوپر جانے انجانے اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے نافذ کی جانے کیفیات کا مجموعی امتزاج ہے، کچھ عادتیں اور رویے ایسے ہوتے ہیں جن سے ہم عادتیں اور رویے سیکھتے اور اپنے آپ پر نافذ یا طاری کیے جاتے ہیں، جو آئندہ آنے والی زندگی میں ہمیشہ کے لیے ہماری سرشت کا حصہ بن جاتی ہیں، انہی عادتوں اور کیفیات میں سے ایک کیفیت ایسی بھی ہے جسے ہم ”ناخوشی“ خوش نہ رہنے کی عادت یا کیفیت کہیں گیں،

خوش ہونا، خوش رہنا، خوشی کو عادت یا رویہ بنا لینا اپنے آپ میں ایک بہت بڑی کامیابی کہلاتی ہے، جو لوگ خوش رہنے کے عادی ہوتے ہیں نہ صرف ان کی اپنی کیفیت میں خوشی جھلکتی ہے بلکہ ان کے اردگرد کا ماحول بھی ہمیشہ خوشگوار اور پر سکون رہتا ہے، ایسے لوگ مشکلات میں بھی مضبوط اور بے خوف رہتے ہیں۔ خوشی کی عادت کو اپنا وتیرہ بنا لینا اپنی ذات کے اندر بہت بڑی کامیابی ہے۔ روح کا سکون کیفیت کی خوشگواری کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ جسے خوش رہنے کا ہنر آ گیا اس نے زندگی کو کامیاب طریقے سے گزارنے کا راز پا لیا۔

ہم خوشی کو مالی یا مادی اسباب سے منسوب کر لیتے ہیں، صرف روپیہ، طاقت اور اقتدار سے خوشی کو منسوب کرنا کسی بھی حوالے سے درست نہیں سمجھا جائے گا، خوشی اگر مادی یا مالی اسباب کی بہتات یا افراط کا نتیجہ ہوتی تو ہر امیر آدمی ہمیں خوش نظر آتا، یہاں میرا مقصد یہ نہیں کہ مالی اسباب زندگی کے لیے ضروری نہیں ہے، کامیابی بھی خوشی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے مگر خوشی کو مالی اسباب سے مشروط ہرگز نہیں کیا جا سکتا، پیسہ طاقت یا عہدہ آپ کو روحانی سکون یا خوشی کی گارنٹی نہیں دے سکتا،

کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ تنخواہ کم ہے بڑھ جائے تو خوشی مل جائے گی، بڑا گھر بنا لوں تو خوشی مل جائے گی، اور روپیہ پیسہ آ جائے تو خوشی مل جائے گی، یہ سب مادی اسباب ایک اچھی زندگی گزارے کی لیے ضروری تو قرار دیے جا سکتے ہیں، مگر اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہو سکتی کہ سب کچھ حاصل کرنے کے بعد آپ کو روحانی سکون میسر آ جائے گا، خوشی روح کی طمانیت اور سکون کا نام ہے جو کسی مادی اسباب سے مشروط نہیں کی جا سکتی۔

اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلی عادت جو آپ نے اپنانی ہے وہ عادت شکر گزاری کی عادت ہے، مان جانا accept کر لینا خوشی اور سکون کا باعث بن جاتا ہے۔ زندگی میں بہت سی چیزیں معاملات رشتے ایسے ہیں جن کو ہم بدل نہیں سکتے اور جن چیزوں کو ہم بدل نہیں سکتے ان کے متعلق پیدا ہونے والے خدشات اور شکوے ہمارے لیے بے سکونی کا سبب بنتے ہیں، مسلسل بے سکونی اور نا خوش رہنے کی عادت ہمارے لیے ہماری زندگی کا غم بن جاتی ہے، ہمیں مان لینا، قبول کر لینا، قناعت کر لینا منعم سے نہ صرف جوڑتا ہے بلکہ طبیعت میں راحت اور کیفیت میں سکون کا سبب بھی بنتا ہے۔

حاصل پہ راضی ہو جانا روحانی سکون اور خوشی کا بہت بڑا راز ہے، اگر آپ منعم سے راضی ہو جاتے ہیں، اپنے حاصل پہ شکر بجا لاتے ہیں تو آپ کی زندگی میں خوشگواری پیدا ہونے لگتی ہے، واصف علی واصف ؒ کا قول ہے کہ ”اگر خواہش حاصل ہو جائے یا حاصل کو ہی خواہش بنا لیا جائے تو زندگی سے اضطراب ختم ہو جاتا ہے“ ۔ اگر زندگی سے اضطراب کے نکال دیا جائے تو پیچھے سکون اور طمانیت ہی رہ جاتی ہے۔ ہمیں اس کی عطا پہ راضی رہنا اور قبول کر لینا خوشی سے ہمکنار کرتا ہے، یاد رکھیے روحانی خوشی کے بغیر آپ اپنی زندگی کو سہل نہیں بنا سکتے، اور جب تک آپ کی اپنی زندگی پرسکون نہیں ہو جاتی آپ لوگوں کے لیے آسانی کا سامان نہیں کر سکیں گیں، خوش رہنے کی عادت کو اپنی فطرت میں شامل کر لیں اور خوشی کا راز تسلیم با رضا کہ سوا کچھ بھی نہیں۔

Latest posts by وسیم اعوان، ہری پور (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسیم اعوان، ہری پور کی دیگر تحریریں