عورتوں کے مسائل
مملکت پاکستان میں خواتین کا ایک بڑا حصہ مردوں کے شانہ بشانہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مصروف عمل ہے۔ شادی شدہ خواتین کے علاوہ کنواری نوجوان لڑکیاں بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی مہارت کے جوہر دکھا رہی ہیں۔ صنف نازک میں زیادہ تر خواتین ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہو کر بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ جبکہ بعض بنکنگ، ہوٹلنگ کے ساتھ ساتھ سرکاری اور نجی اداروں میں ملازمت کر رہی ہیں۔ چند خواتین فضائی اور زمینی ٹرانسپورٹ سسٹم میں میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
ان میں سے بعض خواتین گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے ملازمت اختیار کرتی ہیں اور بعض شوقیہ طور پر یا گھر میں بوریت سے تنگ آ کر دفاتر کا رخ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیاں اور چھوٹی بچیاں مالی حالات سے تنگ آ کر امیر گھرانوں میں صفائی وغیرہ کا کام کرنے کے لئے باہر نکلتی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ جو کمسن بچیاں امراء کے گھروں میں کام کاج کرتی ہیں انہیں بہت نامساعد حالات میں اپنی ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی ہے۔
ان لڑکیوں اور دیگر خواتین جو دفاتر وغیرہ میں کام کرتی ہیں کو ملازمت کے دوران بے پناہ تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ خاص طور پر گھروں میں کام کرنے والی چھوٹی بچیوں کو خاتون خانہ معمولی باتوں پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتیں صفائی کے دوران کس برتن کا ٹوٹنا یا کوئی اور وجہ ان کے لئے وبال جان بن جاتا ہے۔ میڈیا میں آئے دنوں ان بچیوں کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک کا ذکر ہوتا رہتا ہے۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف خواتین مردوں کی جانب سے ہراسمنٹ اور بداخلاقی کا شکار ہوتی ہیں اور دوسری طرف خواتین ہی کمسن بچیوں کو تشدد کا نشانہ بناتیں ہیں۔ یہ ایک تصویر کے دو پہلو ہیں۔
جہاں تک دفاتر وغیرہ میں کام کرنے والی متوسط طبقے کی عورتوں کا تعلق ہے وہ بڑے گھرانوں سے تعلق رکھنے والیوں کی نسبت زیادہ تکالیف اور پریشانیوں میں گھری رہتی ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس اپنی سواری کی سہولت نہیں ہوتی اس لئے کام پر جانے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ لینی پڑتی ہے۔ جب وہ گھر سے کام کرنے کے لئے نکلتی ہیں تو سب سے پہلے ان کا واسطہ رکشہ، ٹیکسی اور بس کے ڈرائیور کے علاوہ ساتھ سفر کرنے والے مختلف افراد سے پڑتا ہے جو ان کو غلط نظروں سے دیکھنے کے علاوہ بعض اوقات نامناسب فقرے کسنے اور چھونے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
اس کے بعد دفاتر میں کبھی باسز اور کبھی ساتھی عملہ ان کو ہراساں کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ جس طرح ہاتھ کی تمام انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں اسی طرح مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اور دفاتر میں کام کرنے والے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ان میں شریف اور خاندانی لوگ بھی ہوتے ہیں جو خواتین کو عزت دینا جانتے بھی ہیں اور عزت دیتے بھی ہیں۔ دوسری طرف وہ خواتین جن کا تعلق اپر کلاس سے ہوتا ہے ان کو دفاتر میں ہراسمنٹ کا خاص سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
ان کے مضبوط فیملی بیک گراؤنڈ کا ہونا اس کی بنیادی وجہ ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جب دفاتر میں صنف نازک کو اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ مصلحت کے تحت کسی قسم کا احتجاج نہیں کرتیں اور اپنے آپ کو حالات کے سپرد کر دیتی ہیں۔ اگر خواتین جرآت اور بہادری کے ساتھ اپنا دفاع کرنے کی کوشش کریں تو کسی شخص کی ہمت نہیں ہوگی کہ ان کو پریشان کرے۔ صرف شرط یہ ہے کہ وہ اپنے اندر حوصلہ پیدا کریں۔
دفاتر میں کام کرنے والی چند خواتین کی فیملی میں کسی مرد کے نہ ہونے یا مردوں کے شکی مزاج ہونے کی وجہ سے بھی لڑکیاں خوفزدہ ہو کر زیادتی برداشت کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض خواتین کی رضامندی بھی اس قبیح فعل میں شامل ہوتی ہے۔ اسلام آباد کے ایک بنک میں پیش آنے والا واقعہ اس کی ایک مثال ہے۔ اس طرح کی بے شمار کہانیاں پاکستان کے طول و عرض میں بکھری پڑی ہیں جو معاشرے کے منہ پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو مرد حضرات نوجوان لڑکیوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں ان کو ہراساں کرتے ہیں وہ اس طرح کی غیراخلاقی حرکات کیوں کرتے ہیں کیا ان کی تعلیم یا تربیت میں کوئی کمی رہ جاتی ہے یا ان کے گھر میں مائیں، بہنیں یا بیٹیاں نہیں ہوتیں بدقسمتی سے ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مارننگ شوز، غیر اخلاقی ڈرامے اور گندے ایڈز ہماری نوجوان نسل کی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کا ڈریس بھی اس تمام معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
با پردہ خواتین اس طرح کے مسائل سے اکثر محفوظ رہتی ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی لڑکی اگر مغربی لباس پہنتی ہے تو اردگرد کے لوگ اسے للچائی ہوئی نظروں سے تاڑنا شروع ہو جائیں یا ان کے ساتھ بدتہذیبی سے پیش آہیں یا ان کو تنگ کریں۔ انسانیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر شخص کو قوم کی بیٹیوں کو ہر حال میں عزت اور احترام دینا چاہیے۔ کیوں کہ یہ سب کا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے۔
اس سارے قصے میں سب سے افسوس ناک اور شرمناک امر کم عمر بچیوں کا اغوا اور زیادتی کے بعد قتل ہونا ہے جو کسی طور پر بھی قابل معافی نہیں ہے۔ بدقسمتی سے اس طرح کے ظلم اور بربریت پر مبنی فعل رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ بلکہ دن بدن ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جو پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں نوجوان لڑکیوں کو ہراسمنٹ اور کمسن بچیوں اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بننے سے بچانے میں ملکی ادارے اپنا کردار بخوبی ادا نہیں کرتے۔ لا اینڈ آرڈر بحال رکھنے والے ادارے خاص کر پولیس شہریوں کی حفاظت کرنے میں غفلت برتتے ہیں۔
پچھلے دنوں ایک خاتون جج نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا ہے جس میں اس محترم خاتون نے بعض وکلاء کی طرف سے ہراساں کیے جانے کی شکایت کی ہے۔ خاتون جج کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران پیش ہونے والے وکلا ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں اور گالم گلوچ بھی کرتے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اگر ایک خاتون جج کی عزت محفوظ نہیں ہے تو ایک لوئر مڈل کلاس کی عورت کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کو معاشرے کے مردہ ضمیر مرد حضرات کو جو خواتین اور معصوم بچیوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں کو منتقی انجام تک پہنچانے کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہیے۔
اس کے علاوہ سوسائٹی کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ان نازک معاملات کا تدارک کرنے کے لئے لوگوں میں شعور اجاگر کرے۔ نوجوان لڑکیوں اور کم عمر بچیوں کے والدین کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا خیال رکھیں اور تھوڑے پیسوں کے لالچ میں اپنی نسل کو برباد مت کریں۔ عوام کی نمائندگی کی دعوے دار مقننہ کو بھی ظلم اور زیادتی کے ان قبیح واقعات کی بیخ کنی کے لئے سخت ترین سزاوں کے لئے قانون سازی کرنی ہوگی۔ ورنہ ظلم، جبر اور زیادتی کی یہ داستان کبھی ختم نہیں ہوگی۔


