سیاست میں آخری بات ہوا ہی نہیں کرتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات میں کوئی شک نہیں پی ڈی ایم میں کوئی بھی ایسی جماعت شامل نہیں جس کے متعلق یہ بات کہی جا سکے کہ وہ کسی نہ کسی دور میں کسی نہ کسی سطح پر صوبائی یا وفاقی حکومت میں شامل نہ رہی ہو یا مختلف اوقات و ادوار میں کسی نہ کسی حکومت کی حمایت نہ کرتی رہی ہو لیکن اس بات کو بھی مد نظر رکھناق چاہیے کہ پاکستان میں کسی بھی سیاسی یا عوامی حکومت کو آزادانہ کام کرنے کا موقع کبھی میسر نہیں آ سکا حتیٰ کہ وہ سیاسی پارٹیاں جو صوبائی یا علاقائی سطح پر بھی منتخب ہوتی رہی ہیں، ان کو بھی اس بات کا کبھی موقع نہیں مل سکا کہ وہ اپنی کارکردگی کا مظاہرہ اپنی مرضی و صلاحیت کی بنیاد پر کر سکیں۔ ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی سیاسی قائد یا جماعت کا یہ کہنا یا سمجھنا کہ پاکستان میں جتنی بھی عوامی، سویلین یا سیاسی حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں وہ سوائے ملک و قوم کو لوٹنے کے اور کوئی کام نہیں کرتی رہی ہیں، درست نہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر، جناب سراج الحق کا یہ فرمانا کہ موجودہ سیاسی اتحاد، پی ڈی ایم، کی حمایت کرنا ماضی کی دو بڑی سیاسی جماعتیں، پی پی پی اور مسلم لیگ نون کو پاکستان پر دوبارہ مسلط کرنے کے مترادف ہے، ان کے نقطہ نطر کے مطابق درست ہی ہوگا لیکن ان کے اس تبصرے پر کئی ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جس کی وضاحت خود ان کی جانب سے بہت ضروری ہے۔

ماضی میں جتنی مرتبہ بھی پاکستان میں انتخابات کا انعقاد ہوتا رہا ہے، ہر مرتبہ جماعت اسلامی نے ان انتخابات میں بھر پور حصہ لیا ہے اور پاکستان کی کوئی ایک سیاسی پارٹی بھی ایسی نہیں ہے جس کے ساتھ مختلف ادوار میں جماعت، بننے والے اتحاد کا حصہ نہ رہی ہو۔ پھر یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ عین انتخابات کے قریب کراچی سے لے کر خیبر تک، اپنے اپنے زمینی حقا ق کو سامنے رکھتے ہوئے جماعت نے مختلف حلقہ انتخاب میں مقامی سطح پر بھی مختلف جماعتوں سے سیاسی اتحاد کیا ہے۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ وفاق یا صوبوں کی سطح پر جن جماعتوں سے ان کا اتحاد رہا ہے، مقامی سطح پر مخالف جماعتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی بھی ترتیب دی جاتی رہی ہے۔

امیر جماعت اس بات سے بھی خوب اچھی طرح واقف ہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا مضبوط سے مضبوط حکومت کیوں نہ قائم رہی ہو، اس کو اسٹبلشمنٹ کے دباؤ کا سامنا ضرور رہا ہے۔ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں کہ جب اس وقت کے صوبہ سرحد میں مجلس عمل کی حکومت تھی اور اس نے قانون سازی کر کے شریعت بل پاس کرایا تھا تو وہ صوبے میں کیوں نافذ نہ ہو سکا۔ جس قسم کی مشکلات مجلس عمل کو درپیش رہیں، پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کو تا حال ان مشکلات کا سامنا ہے اور یہی وہ رکاوٹیں ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی عوامی قیادت نہ تو ابھر کر سامنے آسکی اور نہ ہی ریاست کو اآئین و قانون کے مطابق چلانے میں کامیاب ہو سکی۔

امیر جماعت کا یہ خدشہ اپنی جگہ درست کہ پی ڈی ایم کی حمایت کا مطلب پی پی پی یا مسلم لیگ نون کو اپنے اوپر دوبارہ مسلط کر لینا ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان سب جماعتوں کو پہلی، دوسری یا تیسری بار تخت اقتدار تک پہنچانے میں کیا جماعت اسلامی شریک نہیں رہی۔ یہی نہیں، کیا موجودہ حکومت کو اقتدار تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنے میں جماعت اسلامی کا ذرہ برابر بھی حصہ نہیں۔ خیبر سے پشاور تک سابقہ امیر جماعت اسلامی، قاضی حسین احمد (رح) صاحب نواز شریف کے ساتھ ساتھ نہیں رہے، کراچی میں نعمت اللہ کی مقامی حکومت کیا پی پی پی کی مرہون منت نہیں تھی، 2013 کے الیکشن کے نتیجے میں بننے والی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت جماعت اسلامی کی وجہ سے اپنی مدت پوری نہیں کر گئی اور کیا کراچی کی 14 نشستیں پی ٹی آئی کو دلانے میں جماعت کا کوئی کردار نہیں۔

اہم نکتہ اس سلسلے کا یہ بھی ہے کہ آخر جماعت کو پی پی پی یا مسلم لیگ نون کی حکومتوں سے بنیادی اختلاف ہے کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان جماعتوں پر کئی سنگین الزامات ہیں لیکن دو دو تین تین دہائیاں گزر جانے کے باوجود جن کو عدالتی سطح پر آج تک ثابت نہ کیا جا سکا ہو کیا ان کو محض الزمات لگنے کی بنیاد پر مان لینا درست ہے۔ اگر شکایت محض الزمات کی ہے تو خود جماعت اسلامی بھی ماضی میں سنگین الزامات کی زد میں رہی ہے۔

اکثر باریاں لینے کی باتیں بھی بہت شہرت پاتی رہی ہیں لیکن جن جن ممالک میں بھی جمہوریت کا شہرہ ہے وہاں دو یا تین جماعتوں کا تصور ہی قائم ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور سے امریکا اور برطانیہ، جہاں جمہوریتیں بہت پرانی اور مستحکم ہیں، ان میں دو ہی پارٹیوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش دکھائی دینے کے باوجود کہیں بھی ”باریاں“ لینے جیسے تبصرے سامنے نہیں آتے۔

جمہوریت میں کوئی بات بھی حتمی نہیں ہوا کرتی۔ ممکن ہے کہ آج جس اتحاد سے عملی طور پر جماعت اسلامی باہر نظر آ رہی ہے، انتخابات کے قریب جماعت اسلامی کی رائے کچھ اور بن جائے اس لئے میرے نزدیک امیر جماعت کی یہ بات سیاسی بیان سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ ویسے بھی پاکستان کے زمینی حقائق ایسے نہیں کہ جس مشن کو لے کر جماعت اسلامی اٹھی ہے اور جس شریعت کو نافذ کرنے کا عزم ہے، وہ پاکستان میں تن تنہا شاید ممکن بھی نہیں اس لئے آنے والا وقت ممکن ہے کہ موجودہ بیانیے کے برعکس پی ڈی ایم سے نہ سہی، دیگر اسلامی ذہن رکھنے والی جماعتوں اور حلقوں سے اتحاد کا سبب بنے۔ صورت کوئی بھی ہو، اسلامی نظام کی جد و جہد بہر صورت جاری رکھنی چاہیے کیونکہ پاکستان بنائے جانے کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •