ذوالفقار شاہ: علاج کے لیے انڈیا جانے والے انسانی حقوق کے کارکن وطن واپسی پر واہگہ بارڈر سے کیسے لاپتہ ہوئے؟

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذوالفقار شاہ
BBC
'دوستوں نے مشورہ دیا کہ ہم فاطمہ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے، ملک چھوڑ دو، جس کے بعد ہم انڈیا چلے گئے۔ وہاں سے واپس آ رہے تھے کہ واہگہ بارڈر سے ذوالفقار کو لاپتہ کر لیا گیا۔'

یہ کہنا ہے فاطمہ شاہ کا جو سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ذوالفقار شاہ کی اہلیہ ہیں۔ ذوالفقار شاہ حال ہی میں انڈیا سے وطن واپس آنے پر مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

ذوالفقار شاہ نے سنہ 2009 میں سندھ میں بے زمین کسانوں کے لیے حیدرآباد سے کراچی تک پیدل مارچ کی قیادت کی تھی، جس کو کئی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی۔ جبکہ وہ سنہ 2010 اور 2011 کے سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے منصوبوں میں بھی شامل رہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کی اہلیہ فاطمہ شاہ کا کہنا تھا کہ 2013 میں ‘ذوالفقار کو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں تھیں۔ یہ کون لوگ تھے اور دھمکیاں کیوں مل رہی تھیں، میں نہیں جانتی کیونکہ زلفی ہر بات شیئر نہیں کرتے تھے۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘دوستوں نے مشورہ دیا کہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں، ڈر اور خوف کی کیفیت پیدا کی گئی اور ہم معاشی بحران کا شکار ہوگئے۔ ایسے میں ذوالفقار نے کہا کہ کھٹمنڈو چلتے ہیں وہاں آمد پر ہی ویزا ملتا ہے، وہاں سے کسی اور ملک چلے جائیں گے، لیکن نیپال میں ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور ہم واپس پاکستان چلے آئے۔’

یہ بھی پڑھیے

’جبری گمشدگی کا الزام بے بنیاد نہیں، شبیر کو میرے سامنے اٹھایا گیا‘

’ریاست یہ کہے کہ ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے‘

بین الاقوامی ماہرین کی جبری گمشدیوں کے کمیشن کو ختم کرنے کی سفارش

واضح رہے کہ ذوالفقار شاہ رواں ماہ انڈیا سے تقریباً سات برس بعد پاکستان پہنچے تھے اور ان کی اہلیہ کے مطابق انھیں واہگہ بارڈر پر حکام نے تفتیش کے لیے روکا تھا جس کے بعد سے وہ اب تک لاپتہ ہیں۔

تاہم رینجرز کے ترجمان نے واہگہ بارڈر سے ذوالفقار شاہ کی گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کام صرف سکیورٹی کی فراہمی اور نگرانی ہے ویزے اور دیگر معاملات کی نگرانی ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کا کام ہے۔

ذوالفقار شاہ

BBC

ذوالفقار شاہ سنہ 2013 میں زہر خورانی کے علاج کی غرض سے انڈیا گئے تھے۔

ذوالفقار شاہ کی اہلیہ فاطمہ شاہ کا کہنا ہے کہ ‘ذوالفقار کہتے تھے کہ ان کو زہر دیا گیا ہے، انھوں نے دنیا کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کو لکھا اور پریس کانفرنس کی کہ علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جائے، انھوں نے انڈیا اور سنگاپور میں میڈیکل ویزے کے لیے کوشش کی تھی تاہم انڈیا کا ویزا مل گیا تب انھوں نے مجھ سے کہا کہ انڈیا قریب بھی ہے اور سستا بھی وہاں چلتے ہیں۔’

انڈیا میں زہر خورانی کا علاج

فاطمہ شاہ کا کہنا ہے کہ زہر خورانی کے علاج کے لیے ان کے شوہر ذوالفقار شاہ نے مولچند اور اپالو ہسپتال سے رابطہ کیا وہاں بھی ان کا پیچھا کیا جاتا تھا۔

وہ بتاتی ہے کہ ‘ ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ زہر کا اثر پانچ سال تک رہتا ہے اگر انسان بچ جائے تو پھر یہ بالوں اور ناخنوں میں آ جاتا ہے جس کی تصدق کے لیے ایک ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو ڈاکٹروں نے کہا کہ یہاں نہیں ہوتا۔’

اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ ذوالفقار شاہ کو زہر دیا گیا تھا انھوں نے امریکہ میں ایک لیبارٹری سے رابطہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ وہ انڈین ڈاکٹروں کا تجویز کردہ ٹیسٹ بالوں کے نمونے سے کریں گے۔

فاطمہ شاہ کا کہنا تھا کہ ‘پھر ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری کی جانب سے ایک کٹ بھی بھیجی گئی جس میں نے ذوالفقار کے بالوں کے نمونے بھجوائے گئے، جس کے نتیجہ آنے پر رپورٹ میں کہا گیا کہ انھیں زہر کی جان لیوا حد تک خوراک دی گئی تھی لیکن وہ بچ گئے۔’

ذوالفقار شاہ

BBC

انڈیا میں سیاسی پناہ کی کوشش

ذوالفقار شاہ اور ان کی اہلیہ فاطمہ نے انڈیا میں سیاسی پناہ کی بھی درخواست کی تھی اور اس کے لیے کئی ماہ تک احتجاج بھی کیا لیکن انڈین حکومت نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

فاطمہ شاہ کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کسی پاکستانی کو سیاسی پناہ دینے کا کوئی کوئی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے انھیں وہاں سیاسی پناہ نہیں مل سکی اور دوران علاج انھیں وہاں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

’14 ماہ تک ہم فٹ پاتھ پر رہے کیونکہ ویزے میں توسیع نہیں دی جاتی تھی۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘ذوالفقار کا یہ موقف تھا کہ کیونکہ وہ انسانی حقوق کا کارکن ہے وہ اپنے اور دوسروں کے حق کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک میں لڑ سکتے ہیں، انڈین پولیس کا پاکستان سیکشن ویزے میں توسیع کرتا ہے لیکن وہ نہیں کر رہے تھے اس لیے ہمیں ڈاکٹر نہیں ملتا اور کوئی رہائش بھی نہیں دیتا تھا۔ اگر ویزے میں توسیع ہوتی بھی تو وہ مہینے کے آخر میں صرف ایک مہینے کی جاتی تھی اور وہاں کے لوگ کہتے تھے کہ ایک مہینے کے ویزے پر آپ کو کیسے گھر دیں دوسرا آپ پاکستانی ہو اس مجبوری میں فٹ پاتھ پر رہنا پڑا۔’

انڈیا میں پاکستانیوں سے نفرت

فاطمہ شاہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈیا میں بڑے کٹھن دن گزارے، ‘عالمی ہیومن رائٹس ڈفینڈر فنڈ اور نیدرلینڈ کی ایک کمیٹی نے مدد کی جس سے علاج اور اخراجات جاری رکھے۔’

وہ بتاتی ہیں کہ پہلے تو خاندان کو بھی انڈیا پیسے بھیجنے کی اجازت نہیں تھی بعد میں انھیں اجازت ملی تو وہ بھی پیسے بھیجتے تھے۔ ذوالفقار شاہ کی اہلیہ کے مطابق ‘انڈیا میں کوئی ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا پاکستان اور پاکستانیوں سے نفرت کا اظہار کیا جاتا تھا۔‘

’ذوالفقار نے کبھی ریاست کے خلاف بات نہیں کی‘

ذوالفقار شاہ نے پاکستان اور جنوبی ایشیا کی سیاسی صورتحال پر دو کتابیں لکھیں اور وہ علاقائی اخبارات میں مضامین بھی لکھتے تھے جن میں سے بعض متنازع بنے۔

فاطمہ شاہ کا کہنا ہے کہ ‘انھوں نے ریاست کے خلاف کبھی کچھ نہیں لکھا۔’ لیکن ذوالفقار نے انھیں بتایا تھا کہ انڈیا کے کسی میگزین میں انھوں نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں ایک پیراگراف میگزین ادارے نے اپنی طرف سے شامل کیا تھا۔ جو کہ ان کا لکھا ہوا نہیں تھا۔

فاطمہ شاہ کے مطابق ان کے شوہر سے انسانی حقوق، غیر سرکاری تنظیموں کے علاوہ قوم پرست سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی بعض معاملات میں مشاورت کرتے تھے۔

ذوالفقار شاہ

BBC

انڈین حکومت نے واپسی میں رکاوٹ ڈالی

فاطمہ شاہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے شوہر کہ ہمراہ سنہ 2015 سے لے کر رواں برس تک تین بار پاکستان آنے کی کوشش کی لیکن ہر بار انڈین حکومت راہ میں رکاوٹ ڈالتی تھی۔

‘ہمیں نو آبجیکشن ٹو ریٹرن انڈیا چاہیے تھا وہ کبھی صرف مجھے دیتے تو کبھی صرف ذوالفقار کو دیا جاتا تھا۔ ذوالفقار کا خیال تھا کہ جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو واپس آجائیں گے اس لیے ہمیں اس کی ضرورت تھی۔’

فاطمہ شاہ کے مطابق کورونا وبا کے حالیہ لاک ڈاؤن کے دوران ذوالفقار شاہ کی طبعیت مزید خراب ہو گئی اور وہ بغیر چپ کیے دن رات ایک دو ہی جملے بولتے رہتے یا لکھتے رہتے اور ان کی اس کیفیت کو ڈاکٹروں نے کوئی ذہنی خلفشار یا خرابی قرار دیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘میں سوچتی رہی کہ ہم دو اکیلے ہیں اگر ان کو کچھ ہو جائے یا مجھے کچھ ہو جائے تو ہمیں کون سنبھالے گا اور ہم ایک دوسرے کو نہیں سنبھال پا رہے تھے، ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا ہم پاکستانی ہائی کمشنر کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ ‘

فاطمہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اکتوبر میں واپسی کا فیصلہ کیا اور انھیں معلوم ہوا کہ لاک ڈاؤن میں جو پاکستانی انڈیا میں پھنسے ہوئے ہیں وہ بغیر قانونی لوازمات مکمل کیے واپس جا سکتے ہیں لیکن جب وہ اٹاری بارڈر پہنچے تو انڈین حکام نے انھیں دلی سے ایگزٹ لیٹر لانے کا کہا۔

‘ہم واپس چلے گئے اور پاکستانی ہائی کمیشن میں حکام سے ملاقات کی، ذوالقفار نے ہائی کمشنر سے قانونی مدد مانگی اور کہا کہ وہ دلی پولیس پر کیس کریں گے، ہائی کمشنر نے کہا کہ اس معاملے میں مت پڑیں ہم بات کرتے ہیں اور چار نومبر کو بارڈر کھل رہا ہے ہم آپ کو واپس بھجوا رہے ہیں’

ذوالفقار شاہ

BBC

ایک گھنٹے میں ذوالفقار کو چھوڑ دیں گے

فاطمہ شاہ کے مطابق وہ اپنے شوہر ذوالفقار شاہ کے ہمراہ دلی سے تین نومبر کو روانہ ہوئے اور انھوں نے امرتسر میں رات گزاری، صبح آٹو رکشہ میں اٹاری پہنچے اور ایک سو سے زائد پاکستانیوں کے ہمراہ واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہو گئے۔

فاطمہ کے مطابق ذوالفقار شاہ نے پاکستان واپس پہنچنے پر واٹس ایپ کے ذریعے اپنے والد کو ایک وائس پیغام بھی بھیجا تھا جس انھوں نے اپنے والد کو وطن واپسی سے آگاہ کیا تھا۔

فاطمہ شاہ بتاتی ہیں کہ ‘جیسے ہی وہ امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر کے باہر نکلے تو انھیں سادہ لباس میں موجود دو افراد مرکزی دروازے کے ساتھ والے کمرے میں لے گئے، جہاں پہلے سے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اس نے نام اور خاندان کے بارے میں معلومات حاصل کی’

فاطمہ شاہ کے مطابق ‘وہ بار بار کمرے سے اٹھ کر باہر چلا جاتا اور واپس آ کر پھر نیا سوال کرتا، اس طرح رات کے آٹھ بجے گئے اس کمرے میں روشنی بھی نہیں تھی، پھر ہمیں باہر بیٹھنے کے لیے کہا گیا۔’

فاطمہ شاہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایک اور افسر آیا اس نے کہا کہ ‘آپ ذوالفقار شاہ ہیں؟ ذوالفقار نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے کہا کہ کھانا وغیرہ کھایا ہے نہیں تو آپ کو کھانا کھلائیں، زلفی نے کہا کہ نہیں باہر ہمارے انکل صبح گیارہ بجے سے باہر موجود ہیں۔’

ذولفقار شاہ کی اہلیہ کے مطابق ‘اس افسر نے انھیں کہا کہ آپ انکل کے پاس جائیں، ذوالفقار کو ایک گھنٹے کے بعد چھوڑ دیں گے۔’

فاطمہ شاہ بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ باہر ماموں تک انھیں چھوڑنے کے لیے ساتھ چلیں تو وہاں موجود حکام نے انھیں آنے کی اجازت نہیں دی بلکہ ایک اہلکار کو ان کے ساتھ روانہ کر دیا گیا۔

فاطمہ شاہ کے مطابق جب واہگہ بارڈر کے امیگریشن حصے سے بار نکل کر آئیں تو ان کے ساتھ موجود اہلکار نے ان سے پوچھا کہ ان کو لینے آنے والے انکل کہاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘میں نے گاڑی کی جانب اشارہ کیا تو انکل باہر نکل آئے۔ اس شخص نے مجھ سے کہا کہ آپ جائیں جس پر میں نے کہا کہ ہم ذوالفقار کا انتظار یہاں ہی کریں گے تو اس نے کہا کہ وہ کل آئیں گے۔ لیکن وہ نہیں آئے۔’

فاطمہ شاہ کے مطابق سادہ لباس میں موجود افراد نے ان کے موبائل فون اور پاسپورٹ بھی ضبط کر لیے تھے۔

فاطمہ شاہ نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے بینچ کو بھی درخواست بھیج کر ازخود نوٹس لینے کی گذارش کی ہے جبکہ اس کے علاوہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل جاوید قمر باجوہ کو بھی درخواست کی ہے۔

جبکہ گذشتہ جمعے کو حیدرآباد میں ذوالفقار شاہ کی گمشدگی پر اور بازیابی کے لیے ان کے خاندان اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے احتجاج بھی کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17382 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp