و بشر الصابرین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورہ بقرہ کی آیت نمبر 155 میں اللہ پاک انسانوں کو پیش آنے والی آزمائشوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے نازل کردہ یہ آزمائشیں جانی بھی ہو سکتی ہیں اور مالی بھی۔ بھوک کی آزمائش بھی در پیش آ سکتی ہے تو خوف بھی انسان کے رگ و جاں میں پنجے جما سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نعمتوں کے چھن جانے کی آزمائش بھی درپیش ہو سکتی ہے۔ ایسی آزمائشوں کا ذکر کرنے کے فوراً بعد اللہ پاک صبر کرنے والوں کو خوشخبری کی نوید سناتے ہیں اور ساتھ ہی یہ تخصیص بھی کر دیتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مصیبت میں اپنے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اگلی آیت میں مصائب کے عالم میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا وظیفہ ”انا للہ و انا الیہ راجعون“ بھی بیان کیا گیا ہے جب کہ اس سے اگلی آیت میں ایسے لوگوں کے لیے اللہ کی طرف سے سلامتی اور رحمت کی نوید ہے۔

ان آیات سے پہلے اللہ پاک کا ذکر کرنے، اس کا شکر کرنے اور اس کا کفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اللہ پاک کا ذکر کرنے والے انسان کا ذکر اللہ خود فرماتے ہیں اور مومنین کو مصائب کی صورت میں صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ پاک شہیدوں کے حیات ہونے کا تذکرہ فرماتے ہیں اور پھر آزمائشوں کی بات شروع ہوجاتی ہے۔ ایسی ہی آزمائشوں کے پیش آنے کا تذکرہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں اور جگہ بھی فرمایا ہے بلکہ ایک جگہ تو یہ بھی بیان ہوا ہے کہ پہلی والی امتیں تو آزمائشوں سے ہلا ہلا ڈالی گئیں۔

ایسی ہی ایک آزمائش میں دنیا آج کل کرونا وائرس کی عالمی وبا کی صورت میں مبتلا ہے۔ اس عالمی وبا کے پہلے مرحلے میں جب دنیا اچانک سے بند ہو گئی اور لوگوں کا آنا جانا موقوف ہو گیا تو بیرون ملک مقیم بہت سے لوگوں کی طرح میں بھی پریشانی میں ڈوب گیا۔ زندگی کی شادمانیوں اور مسرتوں کے جھولے جھولتی دنیا خوف کے عالم میں ششدر رہ گئی۔ وبا کے مہلک پنجوں نے بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے اچک لیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دنیا کے بازار اور رونقیں اجڑ کر رہ گئیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ اپنے پیاروں کے پاس پہنچنے کی سب تدبیریں ناکام ہو گئیں تو آہستہ آہستہ کسی انہونی کا خوف رگوں میں پنجے گاڑنے لگا۔ تب ایک دوست نے اس آیت کی تلاوت کا مشورہ دیا۔ قرآن پاک کھولا تو یہ آیت اور اس کے ساتھ والی دوسری آیات اتنی سہل اور آسان لگیں کہ غیر محسوس طریقے سے زبان پر رواں ہو گئیں۔

لاک ڈاؤن کے دوران بے بسی اور خوف کے عالم کو کم کرنے میں ان آیات کے ورد نے جادو سا اثر کیا اور تمام آزمائشوں کے اللہ کی طرف سے نازل ہونے اور اللہ ہی کی طرف سے دور کیے جانے پر یقین محکم ہو گیا۔ جہاں تک نماز اور صبر کے ذریعے مدد کا معاملہ ہے تو یہ بھی اللہ پاک ہی کا کرم ہے کہ اس نے ہماری بے روح عبادت اور بے صبر طلب کے باوجود بھی اپنی رحمت کا سلسلہ ہم پر جاری رکھا کیوں کہ اللہ پاک ہی ہر بے قرار دل کی دعا کو سنتے ہیں۔ اللہ پاک نے ہماری بھی ٹوٹی پھوٹی دعاؤں کی لاج رکھی اور اس پر آشوب زمانے میں بھی ہر آزمائش میں ہمارا ہاتھ تھامے رکھا۔ بے شک زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندروں کا پانی سیاہی میں تبدیل ہو جائے پھر بھی اس کی تعریف اور شکر کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).