پطرس بخاری سے نیویارک میں ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے ماضی کے ممتاز مصنف، صاحب اسلوب مزاح نگار، براڈ کاسٹر، ماہر تعلیم، اور سفارت کار سید احمد شاہ بخاری (پطرس بخاری) کی زندگی کے آخری آٹھ سال ( 1951 تا 1958 ) امریکہ کے شہر نیویارک میں گزرے۔ ان کے علمی و ادبی مرتبے اور دیگر صلاحیتوں کے متعلق ویسے تو بہت کچھ لکھا گیا۔ مگر بطور سفارت کار ان کی زندگی کے ان آخری سالوں کے متعلق کم کم پڑھنے کو ملتا ہے۔

پروفیسر سید احمد شاہ بخاری جو اپنے قلمی نام پطرس بخاری سے زیادہ مشہور ہوئے۔ پاکستان مشن برائے اقوام متحدہ نیویارک میں 1951 تا 1954 پاکستان کے مستقل مندوب رہے۔ اس کے بعد 1954 میں ان کی اگلی اسائنمنٹ اقوام متحدہ میں بطور انڈر سکریٹری برائے اطلاعات تھی۔ جب جو 5 دسمبر 1958 کو عارضہ قلب کے باعث نیویارک میں ان کی وفات ہوئی تو وہ اسی حیثیت میں کام کر رہے تھے۔ ان کی وفات کے بعد انہیں نیویارک سٹی سے 30 میل باہر اپ سٹیٹ کی جانب ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی کے (Valhalla) کینسکو (Kansicos ) قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے پطرس بخاری نیویارک کے قریب ایک قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی فیملی کے یا اکا دکا دیگر ان کے پرستار انفرادی طور پر تو یقیناً ان کی آخری آرام گاہ پر جاتے ہوں گے۔

گزشتہ بیس سال امریکہ میں رہتے ہوئے مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی پاکستانی سفارت خانہ واشنگٹن، پاکستان مشن برائے اقوام متحدہ نیویارک یا پاکستان قونصل خانے نیویارک میں سے کسی نے اپنے اس سابق سفارت کار ساتھی اور ایک بڑی قومی اور عالمی شخصیت کی سرکاری سطح پر برسی منائی ہو یا کسی نے ان کی قبر پر حاضری دینے کی زحمت بھی گوارا کی ہو۔

اس 5 دسمبر کو اور ہم سب کے محبوب اور ہردلعزیز مزاح نگار پطرس بخاری کی 62 ویں برسی تھی۔ سکول کے زمانے سے ہم ان کی پرلطف اور پرمزاح کہانیاں پڑھتے ہوئے جوان ہوئے۔ اسے میری بھی کم علمی کہیں کہ مجھے بھی گزشتہ کئی سال سے امریکہ میں رہتے ہوئے پچھلے سال ہی پتہ چلا کہ پطرس بخاری صاحب نیویارک سے ملحقہ ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی کے والہالہ کینسیکو قبرستان میں دفن ہیں۔

پطرس بخاری کی اس سال باسٹھ ویں برسی کے موقع پر گزشتہ روز فیملی کے ہمراہ نیویارک میں ان کی آخری آرام گاہ پر حاضری دی۔ نیویارک شہر کے علاقے کوئینز کی جانب سے وائٹ سٹون بریج کراس کرنے کے بعد تھوڑا آگے برانکس بورو سے برانکس ریور پارک وے نارتھ سیدھا آپ کو ایگزٹ NY۔ 100 C نکال کر والہالہ میں واقع کینسکو قبرستان میں لے جاتی ہے۔

والہالہ کی پہاڑیوں میں گھرا کینسکو قبرستان اپنی منفرد لینڈ سکیپنگ اور قدرتی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ نیویارک سٹی کے قبرستانوں میں جگہ کم پڑنے کے باعث ضرورت محسوس کی گئی کہ نیویارک سے باہر ایک وسیع قبرستان کا قیام عمل میں لایا جائے۔

1889 ء میں ابتدائی طور 250 ایکڑ رقبے پر مشتمل اس قبرستان کا قیام عمل لایا گیا۔ بعد ازاں 1905 میں اسے 600 ایکڑ تک پھیلا دیا گیا۔ تاہم 1912 میں اس کا کچھ رقبہ ساتھ لگنے والے قبرستان ”گیٹ آف ہیون سیمٹری کو فروخت کر دیا گیا جہاں بیس بال کے زیادہ تر کھلاڑی دفن ہیں۔

کینسکو قبرستان دو حصوں پر مشتمل ہے۔ 76 ایکٹر رقبے پر مشتمل یہودیوں کے لیے ”شیرون گارڈنز“ کا حصہ مختص ہے۔ جبکہ باقی قبرستان میں دیگر تمام کمیونٹیز کے لوگ دفن کیے جاتے ہیں۔ کوئی پابندی تو نہیں ہے تاہم مسلم کمیونٹی کے لوگ یہاں نہیں دفنائے جاتے۔ پطرس بخاری شاید واحد مسلمان ہیں جو اس قبرستان میں دفن ہیں۔

قبرستان کے مرکزی دروازے سے داخل ہوں تو لمبے چبوترے کی صورت بنی قبرستان کی انٹرنس انتہائی دیدہ زیب نظر آتی ہے۔ یوں تو امریکہ کے سارے قبرستان ہی بہت عمدہ طریقے سے آراستہ رکھے جاتے ہیں۔ کینسکو قبرستان کے اندر داخل ہوئے تو وہ کسی شہر خموشاں اور ویرانیوں کی بجائے لوگوں کی چہل پہل، پھول دار اور موسمی آرائشی پودوں سے ڈھکا ہوا نظر آیا۔ قبروں کے بیچ جابجا وسیع و عریض قطعو‍ں پر اگائی گئی لش گرین گھاس قرینے سے کٹی ہوئی تھی۔

ایک طرح سے اس قبرستان میں آسودۂ خاک خوش نصیب لوگوں کی قسمت پر رشک بھی آیا۔ درختوں کے رنگ بدلتے خوشنما پتے موسم خزاں میں عجب نظارہ پیش کر رہے تھے۔ جن کے رنگدار پتے جا بجا بکھرے ہوئے تھے۔

کینسکو قبرستان کو ”ہوم ٹاؤن آف دی ہالی وڈ“ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ فلمی صنعت، تھیٹر اور شوبز کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے بہت سارے افراد مرنے کے بعد یہاں دفن کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں بہت سے مشہور بیس بال کھلاڑی، مصنفین، سیاستدان اور بہت سے دوسرے شعبوں کے نمایاں لوگ اس قبرستان میں مدفون ہیں۔

فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے اس قبرستان میں ایکٹرز فنڈ آف امریکہ قائم ہے۔ جس کے تحت ایسے غریب فنکار جو کام نہ ملنے یا دیگر وجوہات کی بنا پر موت کا شکار ہو جائیں تو ان کے جنازے کے اخراجات اس فنڈ سے ادا کیے جاتے ہیں۔ اور انہیں اس حصے میں دفنایا جاتا ہے۔ جو ان کے لیے مخصوص ہے۔

ماضی کے چند بڑے فنکار جو اس قبرستان دفن ہیں ان میں جینی ویو ہیمپر ( 1888۔ 1971 ) اور ان کے شوہر جان الیگزینڈر ( 1897۔ 1982 ) ، اینٹی ہوفمان، لیلا ٹیفنی، این پینٹنگٹن، مارگریٹ بینرمان، لیو ایس آرنڈز، کلف ہال، باربرا ہانٹ، گورڈن سکاٹ، ایلین ایلڈریج اور ڈولی ڈان سمیت سینکڑوں دیگر شخصیات شامل ہیں۔

قبرستان پہنچنے کے بعد اگلا مرحلہ اس وسیع وعریض قبرستان میں پطرس بخاری صاحب کی آخری آرام گاہ کی تلاش تھا۔ بخاری صاحب کی قبر تک پہنچنے کے لیے آن لائن سرچ کے بعد جو کوائف میرے پاس تھے۔ ان کے مطابق نام

احمد ایس۔ بخاری (پطرس بخاری) ، لاٹ نمبر : 16368، سیکشن: 177، پوکنٹینو روڈ (قبر ایریا) I۔ B۔ 2
Kensico Cemetery:
273 Lakeview Ave, Valhalla, NY. 10595

ان کی قبر سے متعلق تمام کوائف مجھے معلوم ہونے کے باوجود قبرستان میں داخل ہونے سے لے کر ان کی قبر کو تلاش کرنے تک کم و بیش ایک گھنٹہ لگ گیا۔ اگر آپ پطرس بخاری کی آخری آرام گاہ پر جانا چاہتے ہوں اور قبر سے متعلق معلومات آپ کے پاس نہ ہوں تو وہ قبرستان میں واقع ان کی انتظامیہ کے دفتر سے معلوم کی جا سکتی ہیں۔ وہ نقشے پر قبر تک جانے کا روٹ مارک کر دیتے ہیں۔ جس کی مدد سے آسانی وہاں تک پہنچا جا سکتا ہے۔

پروفیسر سید احمد شاہ بخاری کی قبر قبرستان کے سیکشن نمبر 177 میں ہے۔ جو کہ کافی بڑا ایریا ہے۔ وہاں تک پہنچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ سیکشن 177 سے ذرا آگے سیکشن نمبر 178 پر پہنچ کر اس کے الٹ سیکشن نمبر 177 کی جانب سیدھا چلنا شروع کر دیں تو تقریباً ایک سو فٹ کے بعد ان کی قبر مل جائے گی۔

پطرس بخاری کی قبر کے سرہانے آویزاں بڑے سائز کے پتھر پر ان کے قلمی نام کی بجائے ان کا اصل نام احمد ایس۔ بخاری کندہ ہے۔ اور جائے پیدائش پشاور لکھی ہے۔ (پشاور کے ساتھ اگر پاکستان لکھ دیا جاتا تو زیادہ اچھا ہوتا) تاریخ پیدائش 25 اکتوبر اور وفات 5 دسمبر 1958 درج ہے۔ اسی پتھر کے نچلے حصے پر پطرس بخاری مرحوم کے گہرے دوست اور معروف امریکی شاعر آنجہانی رابرٹ فراسٹ ( 1874۔ 1963 ) کا ایک فقرہ درج ہے۔

”Nature within her inmost self divides
To trouble men with having to take sides ”۔
”From Iron tools & weapons“
By Robert Frost

یہ فقرہ دراصل رابرٹ فراسٹ نے پطرس بخاری کے نام اپنے ایک خط میں مورخہ 19 اپریل 1957 کو لکھا تھا۔ جس کو بعد ازاں ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سید ہارون بخاری نے کتبے پر لکھوایا۔ موسمی اثرات کی وجہ سے اب یہ کتبہ کافی میلا ہو چکا ہے۔ خصوصاً اوپر والی فرنٹ سائیڈوں اور ٹاپ پر سیاہ رنگ کے کچھ دھبے پڑے ہوئے نظر آئے۔ جو محسوس ہو رہا تھا شاید کچھ لوگوں کی جانب سے موم بتیاں جلانے کے باعث پڑ گئے ہوں۔ پگھلی ہوئی موم کے نشان بھی دکھائی دیے۔ بخاری صاحب کی قبر پر پتھر کے اس کتبے کی تفصیلی صفائی درکار ہے۔

ان کی آخری آرام گاہ پر پہنچے تو جاتے موسم خزاں کے آخری دنوں کی گہری سنہری دھوپ شام کے لمبے سایوں میں تبدیل ہو رہی تھی۔ پطرس بخاری کی قبر پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی شخصیت کے کتنے ہی پہلو ذہن میں آتے رہے۔ ڈائریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو، لطیف مزاح نگار، گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے طالب علم، بعد ازاں استاد اور آخر میں کالج کے پرنسپل، پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں کے آفیشل سپیچ رائٹر کے طور پر ان کے پہلے دورۂ امریکہ میں ان کے ساتھ تھے۔

بطور سفارت کار ان کے آخری آٹھ سال کا شاندار سفر اور کتنی ہی ان کی پرلطف کہانیاں ذہین میں آتی رہیں۔ میبل اور میں، کتے، مرحوم کی یاد میں، پطرس کے مضامین، مرید پور کا پیر، ہاسٹل میں پڑھنا اور سویرے جو آنکھ میری کھلی وغیرہ۔

کہا جاتا ہے کہ نیویارک میں پطرس بخاری کی زندگی کے آخری ماہ و سال بہت مصروف مگر تنہائی اور بیماری کے باعث تکلیف میں گزرے۔ اس دوران ان کا کوئی قریبی عزیز ان کے پاس نہ تھا۔ ان کی وفات کے وقت بھی ان کی فیملی میں سے کوئی بھی ان پاس نہیں تھا۔ وفات کے بعد ان کی یاد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے لے کر دینا بھر سے اہم شخصیات نے اظہار افسوس کے پیغامات بھیجے۔

”نیویارک ٹائمز“ نے پطرس بخاری کی وفات پر اپنے ایک اداریے میں انھیں ”ہیومن آف دی ورلڈ“ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ”ہزاروں امریکیوں کو جنھیں انہیں ذاتی طور پر جاننے کا اعزاز حاصل ہوا وہ ایک شدید ذاتی نقصان محسوس کرتے ہیں۔ وہ سب سے بڑھ کر ایک دوست تھے۔ لیکن نقصان ذاتی سے زیادہ ہے۔ آج دنیا ایک ایسے انسان کے انتقال سے غریب تر ہے جس نے ہمیں بہتر مستقبل میں کیا اچھی چیزیں ممکن ہو سکتی ہیں اس کی بہتر بصیرت دی“ ۔

پاکستان ٹائمز کے لیے بطور صحافی امریکہ میں کام کرنے والے مارسیل ہیٹسمین نے پطرس بخاری کے آخری ایام سے متعلق ان کی یاد میں لکھے گئے ایک مضمون جو ”پاکستان ٹائمز“ میں سات دسمبر 1958 کو شائع ہوا میں لکھا کہ پروفیسر سید احمد بخاری کے ڈاکٹر (مارون لینیک) کے مطابق ”وہ آخری لمحے تک زندہ رہا“ اور اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کے بقول ”اس کی موت جوتوں سمیت ہوئی“ ۔ یہ دونوں افراد پطرس بخاری کے قریبی دوست تھے۔

مضمون کے مطابق ”احمد بخاری کو دل کی بیماری لاحق تھی۔ جس کی وجہ سے انہیں پہلا دل کا دورہ 19 اگست 1953 کو پڑا تھا۔ جب وہ نیویارک مشن میں پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ تعنیات تھے۔ وہ اپنی بیماری کے بارے میں اتنے حساس تھے کہ کسی سے اس کا ذکر تک نہیں کرتے تھے۔ اسی وجہ سے جب انہیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تو انہوں نے وہاں اپنا اصل نام لکھوانے کی بجائے“ مسٹر براؤن ”لکھوایا۔ (احمد شاہ بخاری کے ساتھ پاکستان مشن نیویارک میں بطور پبلک ریلیشنز افسر کام کرنے والے بشیر۔اے۔ خان کے ایک آرٹیکل کے مطابق مسٹر اے۔ ایس۔ براؤن احمد بخاری کے اس امریکی ڈرائیور کا نام تھا جو پاکستان مشن کی جانب سے انہیں مہیا کی گئی ”بیوک“ کار چلاتا تھا۔ براؤن بعض اوقات دوران سفر ہماری کسی سیریس مسئلے پر گفتگو کے دوران مخل ہوتا اور اپنی رائے پیش کرتا، جسے احمد بخاری تحمل سے سنتے اور بجائے اسے ٹوکنے کے، وہ براؤن کی ہمت افزائی کر دیتے تاکہ وہ اپنا نقطہ نظر آزادی کے ساتھ دے سکے )

دل کے اس دورے نے انہیں کافی کمزور کر دیا تھا۔ تاہم ان کا عزم اور ہمت انہیں اقوام متحدہ میں انڈر سیکرٹری برائے انفارمیشن کی ملازمت کرنے سے نہ روک سکی۔ جو اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر ہمرشولڈ کے ہمراہ ان کے چین کے تاریخی دورے سے مقررہ تاریخ سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔

وہ شدید قوت ارادی سے اس طرح زندگی گزار رہا تھا۔ جیسے اسے کسی چیز کا ڈر ہی نہ ہو، لیکن کئی بار ایسا ہوتا کہ دل کی تکلیف جب زیادہ بڑھ جاتی تو وہ بعض اوقات بیہوش ہو جاتے، انہیں آکسیجن پر ڈال دیا جاتا۔ وہ مکمل بیڈ ریسٹ پر ہوتا۔ جونہی طبیعت تھوڑی سنبھلتی تو فورا۔ ہی اٹھ کر کھڑا ہو جاتا اور اس طرح سے زندگی کی طرف لوٹ آتا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

مضمون نگار کے بقول پچھلے سال ( 1957 ) کے دوران احمد بخاری کی صحت بہت تیزی سے خراب ہوئی۔ دل کے دوروں میں آہستہ آہستہ مگر مختصر وقفوں سے ایک دوسرے کو کامیابی ملی۔ اس بگاڑ میں متعدد چیزوں نے اہم کردار ادا کیا۔ سب سے پہلے ان کی زندگی سے شدید محبت۔ ان جیسی شخصیات کے خلاف مہم بھی اس وقت ناگزیر ہو جاتی ہے جب اس طرح کی ذہین اور عقل مند شخصیت کسی بین الاقوامی تنظیم میں کسی اعلی عہدے پر فائز ہوتی ہے۔ جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ہمرشولڈ انتظامیہ کی پہلی پانچ سالہ میعاد ختم ہو رہی تھی اور اس کے معاونین کو استعفیٰ دینا تھا، اور یہ مدت اگلے اپریل کو ختم ہو رہی تھی، اور پروفیسر بخاری کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں کسی عہدے کو قبول کرنے جا رہے تھے۔

تاہم اقوام متحدہ میں اندرونی معاملات بھی سید بخاری کے لیے ٹینشن کا باعث تھے۔ وہ اسمبلی کمیٹی کی محکمہ اطلاعات کی تحقیقات سے خاص طور پر پریشان تھے۔ انتہائی حساس ہونے کے ناتے وہ اکثر اسے اپنے دور اقتدار کی تنقید کے طور پر دیکھتے تھے۔ دراصل پانچویں کمیٹی برسوں سے محکمہ انفارمیشن کے بجٹ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور یہ تحقیقات کئی سالوں کی کوشش کرنے کا نتیجہ تھی۔

جب پانچویں کمیٹی کی بحث نومبر میں ہوئی تو یہ ان لوگوں کی فتح میں اختتام پذیر ہوئی جنہوں نے نام نہاد ماہرین کی سفارشات کی مخالفت کی تھی۔ اس دفتر (انفارمیشن) کو چلانے کا کام اقوام متحدہ سیکرٹریٹ پر چھوڑ دیا گیا۔ مخالفین کا ایک حصہ محکمہ انفارمیشن کو محض پروپیگنڈا بیورو میں تبدیل کرنے کی سفارشات کے خلاف تھا۔

مباحثے کے نتائج نے پروفیسر بخاری کو مطمئن کیا لیکن تنازعہ کی کشیدگی نے بحران کو مزید شدت بخشی۔ اس بحران کے بغیر وہ شاید مزید زندہ رہتا۔ مزید چھ ماہ رہ سکتا تھا یا پھر دو سال تک زندہ رہتا۔ اپنے محکمہ جاتی اس بحران کے دوران وہ وقتاً فوقتاً اپنے ڈاکٹر سے پوچھتا ”کب؟ مجھے بتاو کب؟“

مارسیل کے بقول پروفیسر بخاری چونکہ گزشتہ اپریل میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر ہمرشولڈ کے اقوام متحدہ میں صحافیوں کی جانب سے دیے گئے لنچ میں بیمار ہو چکا تھا اور ڈاکٹر اسے اپنی بیماری سے متعلق تھوڑا سیریس کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ پروفیسر بخاری انجیکشن لگوانے کے بعد بستر پر رہا۔ جس نے اس کی بیماری کی شدت کم کر دی۔

لیکن اپنی وفات سے ایک دن پہلے جب وہ تھوڑا بہتر محسوس کر رہا تھا۔ اور اسے معلوم تھا کہ باہر جانا اس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے باوجود وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بیہوش ہو گیا۔ اور اسے ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں سے تھوڑی بہتری کے بعد آکسیجن سلنڈر کے ساتھ اس کی گھر واپسی ہوئی۔ اس نے شام میں پھر تھوڑی چہل قدمی کر لی۔ اس کے ڈاکٹر مارون لینیک اور پروفیسر بخاری کے درمیان مشترکہ چیز دونوں کی شیکسپیئر کے ساتھ والہانہ محبت تھی۔

اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ رات کے وقت اس کے پاس رک جائے؟ لیکن پروفیسر بخاری نے کہا ”نہیں“ نرس ویسے بھی وہاں ہے۔ ڈاکٹر نے جانے سے پہلے، مزاحیہ انداز میں کہا، ”گڈ نائٹ مائی سویٹ پرنس“ ۔

صبح 5.30 بجے نرس نے ان کے ڈاکٹر ( مارون لینیک) کو آگاہ کیا کہ مریض کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ 6.15 پر پروفیسر احمد بخاری کا انتقال ہو گیا۔ اس نے اپنے آپ کو مرتے ہوئے محسوس نہیں کیا کیونکہ اس سے قبل وہ متعدد بار ایسے ہی بے ہوش ہو چکا تھا۔ مگر یہ بے ہوشی موت کی صورت میں اس کی ابدی بے ہوشی ثابت ہوئی۔

اقوام متحدہ کی تمام کمیٹیوں نے پطرس بخاری کی یاد میں تعزیتی اجلاس کیا۔ جس میں انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور اسی طرح اسمبلی کا مکمل اجلاس بھی ہوا۔ جب پہلی کمیٹی میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا تو فرط جذبات سے آغا شاہی کی آواز بھرا گئی۔ مکمل اجلاس میں شہزادہ علی خان ( احمد بخاری کے بعد بننے والے مستقل مندوب) نے اسمبلی اجلاس میں کہا کہ ان کی وفات کے بعد اقوام متحدہ کے راہداریاں تنہائی محسوس کریں گی۔

اسمبلی کے اجلاس میں پروفیسر سید احمد بخاری کے احترام سب نے کھڑے ہو کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ پاکستان کے صدر ایوب خاں اور دینا بھر سے کئی اہم شخصیات نے ان کی وفات پر ان کے بھائی زیڈ اے بخاری اور دیگر فیملی ممبران سے اظہار تعزیت کی۔

نیویارک میں پطرس بخاری کی تجہیز و تکفین اور فیونرل کے انتظامات سرکاری طور پر کیے گئے۔ 6 اکتوبر کو ان کی نماز جنازہ پاکستان ہاؤس نیویارک میں ادا کی گئی۔ جس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر ڈیگ ہمرشولڈاور پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب پرنس ایلی خاں نے بھی خطاب کیا۔

پاکستانی صحافی خالد احمد کی ”فرائیڈے ٹائمز“ لاہور میں مئی 1999 میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ”امریکہ میں پاکستان کے سفارت کار کے۔ ایم۔ قیصر نے پطرس بخاری کی نیویارک میں تجہیز و تکفین کے سارے انتظامات اپنی نگرانی میں مکمل کرائے۔ قبرستان میں زمین کی خرید سے لے کر فیونرل کے سارے اخراجات خود ادا کیے۔ تاہم بعد میں پطرس بخاری کے صاحبزادے سید ہارون بخاری نے اپنے والد کے فیونرل کے سارے اخراجات مذکورہ سفارت کار کو واپس کر دیے تھے۔ (کہیں یہ بھی لکھا ہوا پڑا تھا کہ کینسکو قبرستان والہالہ، نیویارک میں پطرس بخاری کی قبر کے لیے مذکورہ زمین کسی مسلمان فیملی نے عطیہ کی تھی۔ جو انہوں نے اپنے لیے خریدی ہوئی تھی۔ تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی)

اپنے اسی مضمون میں خالد احمد نے نون میم راشد جو 1920 کی دہائی میں گورنمنٹ کالج میں پطرس بخاری کے شاگرد تھے۔ وہ آل انڈیا انڈیا ریڈیو اور اقوام متحدہ میں بخاری صاحب جونیئر ساتھی بھی رہے نے ایک انٹرویو میں یہ تبصرہ کیا تھا کہ احمد شاہ بخاری نیویارک میں آٹھ سال رہے۔ لیکن کبھی ان سے ملاقات کے لئے ان کی فیملی کا کوئی فرد وہاں نہیں آیا۔ بعد ازاں آغا بابر نامی ایک شخص ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی کے والہلہ قبرستان گئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے احمد شاہ بخاری کی بھولی ہوئی قبر کو ’دریافت‘ کر لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اہل خانہ کو بھی نہیں معلوم تھا کہ انہیں کہاں دفن کیا گیا ہے؟

جبکہ پطرس بخاری کے صاحبزادے سید ہارون بخاری کا موقف تھا کہ ان کے والد کراچی میں اپنی اہلیہ زبیدہ اور بیٹوں سے مستقل رابطے میں رہتے تھے، اقوام متحدہ میں رہتے ہوئے اکثر پاکستان جاتے تھے۔ جب وہ برطانیہ میں تھے تو ان کے والداسے وہاں ملنے آتے اور اس کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ ساری زندگی احمد شاہ بخاری نے اپنے سوتیلے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد کی مدد کرتے رہے۔

پروفیسر سید احمد بخاری کے صاحبزادے سید ہارون بخاری نے کا کہنا تھا کہ جب 1958 میں ان کے والد کا انتقال ہوا تو وہ اپنی ملازمت کے سلسلے میں مشرقی پاکستان میں تھے۔ وہ اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت کرنی چاہتے تھے، مگر فلائٹ دستیاب نہ ہونے کے باعث نہیں پہنچ پائے۔ ان کے والد کے فیونرل پر جو بھی اخراجات ہوئے وہ انہوں نے ادا کر دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ بھی بیمار رہتی تھیں اور وہ کراچی میں مقیم تھیں۔ جبکہ ان کے والد ہارٹ، شوگر اور کینسر کے مریض تھے۔ وہ اپنے مہنگے علاج کی وجہ سے نیویارک میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اورانہیں یقین ہے کہ ان کے والد نیویارک میں ہی دفن ہونا چاہتے تھے۔

ہارون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کی قبر کی مرمت وغیرہ سے آگاہ رہتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں قبرستان کی انتظامیہ سے رابطہ رکھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کی قبر کے سٹون کی ڈائیزننگ پاکستان کے معروف خطاط عبدالرحمن چغتائی سے کرانا چاہتے تھے۔ جب وہ تیار نہیں ہوئے تو انہوں نے قبر کا موجودہ پتھر رابرٹ فراسٹ کے قول کے ساتھ نیویارک سے تیار کروایا تھا۔

پطرس بخاری کی وفات کے چند برس بعد ان کی اہلیہ کا بھی انتقال ہو گیا تھا۔ جبکہ ان کے دونوں صاحبزادے سید منصور بخاری اور سید ہارون بخاری بھی اب اس دینا میں نہیں ہیں۔ دونوں بھائیوں کی اولادیں پاکستان اور امریکہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ پطرس بخاری کے ایک پوتے سید ایاز بخاری نے ”پطرس بخاری ڈاٹ کام“ کے نام ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہے۔ ان کی ایک پوتی بھی اقوام متحدہ میں ملازمت کرتی ہے۔

پاکستان مشن برائے اقوام متحدہ نیویارک میں تعینات متحرک پریس قونصلر ڈاکٹر مریم شیخ (مریم شیخ فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی امریکہ سے کمیونیکیشن میں پی۔ ایچ ڈی ہیں ) کو میسج کیا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل مندوب مرحوم پروفیسر احمد شاہ بخاری ( 1951۔ 1954 ) کا جو پورٹریٹ نیویارک مشن کی دیوار پر آویزاں ہے اس کی تصویر بنا کر سنڈ کیجئے گا۔ انہوں نے کمال مہربانی کی اور روایتی بیورو کریٹس کی طرح معاملے کو لٹکانے کی بجائے اسی دن مطلوبہ تصویر اور ساتھ مرحوم احمد شاہ بخاری کے بارے میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے موجودہ مستقل مندوب اور سینئر سفیر منیر اکرم سے تاثرات لے کر بھی بجھوا دیے۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ایمبیسڈر منیر اکرم کا اپنے سابق کولیگ احمد شاہ بخاری کی 62 ویں برسی کے موقع پرکہنا ہے کہ ”پروفیسر سید احمد شاہ بخاری انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے ایک توانا اور بلند پایہ آواز تھے۔ ساری دنیا اس وجہ سے ان کی احسان مند رہے گی کہ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانی فلاح کے دو اداروں یونیسف اور (UNCHR) یونائٹیڈ نیشنز ہائی کمشنر برائے ریفوجیز کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے اہم کردار ادا کیا“ ۔

احمد شاہ بخاری کے ساتھ اقوام متحدہ میں کام کرنے والے انور ایس۔ دل کے مطابق ”پروفیسر احمد بخاری نے اصل کام تو اپنے آخری آٹھ سالوں میں کیا۔ جس سے زیادہ لوگ آگاہ نہیں ہیں۔ وہ افریقہ اور مشرق وسطی کے نوآبادیاتی ممالک میں آزادی کی تحریکوں کے پہلے وکیل تھے“ ۔ انور دل نے بعد ازاں 1994 ء احمد شاہ بخاری کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقاریر اور ان کی دیگر گراں قدر خدمات کے اعتراف میں

“On this earth together: Ahmed S. Bokhari at UN, 1950. 1958.
نامی کتاب بھی لکھی۔

پروفیسر سید احمد شاہ بخاری کے ساتھ نیویارک مشن میں بطور پبلک ریلیشنز افسر کام کرنے والے بشیراے۔ خان کے بقول

” پروفیسر احمد شاہ بخاری بالکل جانتے تھے کہ انہیں کس موقع پر کیا اور کتنا کہنا ہے۔ وہ انگریزی زبان کے سپر پاور الفاظ کے ماہر کاریگر تھے۔ متعدد مضامین سے متعلق ان کا علم غیر معمولی تھا۔

1951 میں جب ان کے پی آر افسر کی حیثیت سے ان کے ساتھ میری ملازمت کے دوران جب وہ امریکہ میں ہمارے مستقل نمائندے تھے تو میری ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ ہر جمعہ کی شام وہ کتابوں سے بھرا ہوا ایک کریٹ دیتے تھے۔ تیس یا چالیس کتابیں ہوتی ہوں گی اس میں۔ جو نیویارک لائبریری سے ایشو کروائی گئی ہوتی تھیں۔ میری ذمہ داری یہ ہوتی تھی کہ وہ کتابیں واپس کر آؤں۔ اور تیس چالیس مزید نئی کتابیں لیتا آؤں۔ جن کی انہوں نے مجھے ایک فہرست دی ہوتی تھی۔

اس وقت نیویارک لائبریری جو واشنگٹن میں لائبریری آف کانگریس کے بعد دنیا کی دوسری بڑی لائبریری تھی کا ہر ممبر زیادہ سے زیادہ ایک وقت میں چار کتابیں ایشو کروانے کا حقدار تھا۔ انگریزی ادب میں پی۔ ایچ ڈی کے حامل لائبریرین نے پروفیسر بخاری کو خصوصی اجازت دے رکھی تھی کہ وہ جتنی کتابیں چاہیں جاری کروا سکتے ہیں۔ ایک بار جب میں نے لائبریرین سے تجسس سے پوچھا کہ انہوں نے پروفیسر بخاری کو یہ رعایت کیوں دی ہوئی ہے؟

تو اس کا جواب میرے لئے چشم کشا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں پروفیسر بخاری کو ایشو کی جانے والی ہر کتاب انہی کے ذریعے پڑھتا ہوں۔ وہ ہر کتاب کو پڑھنے کے بعد کتاب پر اپنے تبصرے کی مختصر سی پرچی بھی کتاب میں چھوڑ دیتا ہے۔ مجھے کتابوں پر ان کے لکھے ہوئے تبصرے پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ اور زیادہ مواقع پر تبصرے کتاب سے زیادہ معنی رکھتے ہیں ”۔

بشیر اے خان پطرس بخاری کی نیویارک کے کینسکو والہالہ قبرستان میں دفن کیے جانے سے متعلق ان کی وصیت کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ”1957 میں اقوام متحدہ کی ایک بڑی شخصیت کا انتقال ہو گیا۔ ان کی فیونرل تقریب نیویارک سے ملحقہ ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں واقع کنیسکو والہالہ قبرستان میں رکھی گئی تھی۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد وہاں موجود تھی۔ میں بھی پروفیسر احمد بخاری کے ہمراہ اس فیونرل میں گیا ہوا تھا۔ تقریب کے بعد ہم مذکورہ قبرستان کی پہاڑی پر کھڑے تھے۔ جہاں مذکورہ شخص کو دفنایا گیا تھا۔ اور نیچے دور تک قطار در قطار قبریں نظر آ رہی تھیں۔

میں نے دیکھا پروفیسر بخاری ہاتھ باندھ کر اور آنکھیں بند کر کے گہرے مراقبے والی کیفیت میں کافی دیر تک وہاں کھڑے رہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کے دو سکریٹری جنرل (ایک موجودہ اور دوسرے نئے آنے والے ) ہمرشولڈ اور ٹرگوی لی قبرستان کے داخلی راستے پر انتظار کر رہے تھے۔

پروفیسر احمد بخاری نے اس کیفیت میں رہنے کے بعد بالآخر اپنی آنکھیں کھولیں اور میری جانب گہری نظروں سے دیکھا۔ اور اپنی موت سے متعلق وصیت کرتے ہوئے ان کے الفاظ یہ تھے۔

“Bashir! This is the place where I would like to be buried when I die. It is so peaceful. It is heavenly” .

بشیر! یہ وہ جگہ ہے جہاں میں مرنے کے بعد دفن ہونا چاہوں گا۔ یہ بہت پرامن اور خوبصورت ہے۔
خداتعالیٰ نے ان کی خواہش کو قبول کیا۔ اور جس جگہ وہ چاہتے تھے اسی جگہ دفن ہوئے۔

Photos:
2: قبرستان کا اندرونی منظر
3: پطرس بخاری کا پاکستان مشن برائے اقوام متحدہ نیویارک میں لگا پورٹریٹ Photo: Pak UN Mission، NY
7: رابرٹ فراسٹ کا خط بنام پروفیسر سید احمد بخاری Photo : پطرس بخاری ڈاٹ کام
8:قبرستان کی مین انٹرنس

9: پطرس بخاری اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈیگ ہمار سکجلڈ کے ساتھ لندن ائرپورٹ پر کھڑے ہیں۔ ؟ Photo: UN Media

17 :پروفیسر سید احمد بخاری امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ کے ہمراہ Photo: پطرس بخاری ڈاٹ کام

18 :سید احمد بخاری اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈیگ ہمار سکجلڈ کو اقوام متحدہ میں ہوئی ایک تصویری نمائش عبدالرحمن چغتائی کی بنی پینٹنگ دکھا رہے ہیں۔ Photo: Flickr

19 : پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان اپنی ٹیم کے ہمراہ اقوام متحدہ نیویارک میں Photo courtesy: Flickr

20 : سید احمد بخاری پورٹریٹ بطور انڈر سیکرٹری انفارمیشن، اقوام متحدہ، نیویارک Photo: UN Media

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •