جو افسر غلط کام کرے گا، نوکری سے فارغ کیا جائے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم پاکستان نے فرمایا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ضلع کی سطح پر کرپشن سے لوگ بہت تنگ ہیں، کوئی اے سی، ڈی سی یا تھانے دار تنگ کرے تو لوگ سٹیزن پورٹل پر شکایت کریں، نیو سول سروسز قانون لا رہے ہیں، جو غلط کام کرے گا اس کا تبادلہ نہیں کریں گے، نوکری سے فارغ کیا جائے گا۔

یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے جس کی بھرپور حمایت کرنے پر ہم خود کو مجبور پاتے ہیں۔ لیکن فطرتاً قنوطی ہونے اور پی ٹی وی پر ”یس منسٹر“ اور ”یس پرائم منسٹر“ نامی برطانوی سیریز دیکھنے کے بعد ہم جانتے ہیں کہ افسران کبھی غلط کام کر ہی نہیں سکتے ہیں، آخر میں غلطی وزیر اعظم کی نکلتی ہے۔ سیریز میں سر ہمفرے ایپل بائی ایک نہایت دانا و بینا افسر ہیں۔ ان کے اقوال اور فلسفے کے چند جواہر پاروں سے ہم کچھ آگے چل کر مستفید ہوں گے، پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ کیا کوئی افسر غلط کام کرنے سے بچ بھی سکتا ہے؟ اس کے لیے قدیم لوک دانش سے رجوع کرتے ہیں۔

روایت ہے کہ ایک نہایت معصوم سا بچہ روتا دھوتا سکول سے گھر واپس آیا تو باپ نے پوچھا: کیا ہوا؟
بچے نے جواب دیا: سکول میں ماسٹر جی نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے۔ ظلم کا راج ہے۔ آج مجھے اس کام کی سزا دے دی گئی جو میں نے کیا ہی نہیں تھا۔

باپ نے آگ بگولا ہو کر کہا: میں اس ماسٹر سے ابھی جا کر بات کرتا ہوں۔ اس نے کیا کہہ کر سزا دی؟
بچے نے مزید رونے والی صورت بنا کر کہا: ماسٹر جی نے ہوم ورک نہ کرنے پر سزا دی ہے۔

تو صاحبو، معاملہ یہی ہے، کہ سرکاری افسروں نے سزا سے بچنا ہے تو وہ کام کریں گے ہی نہیں، یا پھر گو سلو کر دیں گے۔ جب نیب نے افسروں کو پکڑنا شروع کیا تو افسروں نے یہی کیا تھا۔ پھر بعد میں وزیراعظم انہیں جمع کر کر کے تسلیاں دیتے پھرے کہ نیب نہیں پکڑے گی، کام کرو، ہم قانون بدلیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

سرکار میں فارغ بیٹھنے پر سزا نہیں ملتی، کام کرنے پر سزا ملتی ہے۔ کام نہیں کریں گے تو الزام لگانے والوں کو کوئی ایسا کام ملے گا ہی نہیں جس پر مقدمہ بنایا جا سکے۔ یا افسر پھنس جائے اور کام اس کے سپرد کر دیا جائے تو وہ قانون اور ضابطہ کار کے عین مطابق چلنے کی کوشش کرتا ہے، اور کومے فل سٹاپ کی غلطیاں دیکھ کر فائل درست کرنے کے لیے دوبارہ بھیج دیتا ہے یا کسی دوسرے ڈپارٹمنٹ کی رائے لینے کے لیے اس کے ذمے ڈال دیتا ہے۔ دوسرے ڈپارٹمنٹ کا افسر بھی یونہی کرتا ہے۔ یوں حکومت ختم ہو جاتی ہے کام ختم نہیں ہوتا۔

عظیم سول سرونٹ سر ہمفرے کے اقوال بھی اس سلسلے میں سول سروس کی حکمت اور سوچ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں :۔

وزیراعظم کے پاس طاقت ہوتی ہے۔ وزرا کے پاس ذمہ داری ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے کنٹرول سول سروس کے پاس ہوتا ہے۔

سول سرونٹس کے پاس ایک سادہ سے خیال کو نہایت پیچیدہ بنا کر پیش کرنے کی غیر معمولی خداداد صلاحیت ہوتی ہے۔
سول سروس والے جادوگرانہ انداز میں کابینہ کے سامنے آپشن رکھتے ہیں۔ آپ خواہ کوئی بھی تاش کا پتہ اٹھائیں، وہ وہی نکلتا ہے جو جادوگر نے اٹھانے پر مجبور کیا ہوتا ہے۔
تمام حکومتی پالیسی غلط ہے، لیکن (سول سروس کے ہاتھوں) اسے تباہ کن حد تک درست انداز میں نافذ کر دیا جاتا ہے۔
اگر معاملہ زیر غور ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سے فائل گم ہو گئی ہے۔ اگر معاملہ سرگرمی سے زیر غور ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم فائل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر محترم، حکومت کرنے کے دو بنیادی گر ہیں۔ پہلا یہ کہ اس چیز کو مت دیکھیں جسے دیکھنا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ دوسرا یہ کہ کوئی انکوائری کمیٹی اس وقت تک نہ بنائیں جب تک آپ کو پہلے ہی اس کا نتیجہ معلوم نہ ہو۔

وزیر محترم، اگر لوگوں کو علم ہی نہیں ہو گا کہ آپ کیا کر رہے ہیں، تو انہیں یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کیا غلط کر رہے ہیں۔
ایک سول سرونٹ اور استعفیٰ؟ اس کام کے لیے تو وزیر رکھے جاتے ہیں۔

سول سروس کے تین اصول ہیں، پہلا یہ کہ جلدی میں کیے جانے والے کام ہمیشہ دیر سے ہوتے ہیں، دوسرا یہ کہ سستا کام ہمیشہ مہنگا پڑتا ہے، تیسرا یہ کہ کام کو خفیہ انداز میں کرنا زیادہ جمہوری طریقہ ہوتا ہے۔

وزرا کو اس سے زیادہ علم نہیں ہونا چاہیے جتنا انہیں ضرورت ہو۔ اس صورت میں وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتے۔ سیکرٹ ایجنٹ کی طرح، وہ بھی پکڑے جا سکتے ہیں اور ان پر تشدد کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً بی بی سی کے ہاتھوں۔

اگر شک ہو تو تردید جاری کر دیں۔ اور اگر آپ جھوٹ ہی بول رہے ہیں تو سو فیصد پکے ہو کر بولیں۔
سیاست دانوں کو متوحش ہونا پسند ہے۔ انہیں کچھ کھلبلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ان کے لیے کام تکمیل تک پہنچانے کا متبادل ہوتا ہے۔

چیزیں اس وجہ سے نہیں ہوتیں کہ وزرائے اعظم ان کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ نیول چیمبرلین بھی امن کا بہت شوق رکھتا تھا۔ (چیمبر لین سنہ 1937 سے 1940 تک برطانیہ کا وزیراعظم رہا تھا جس نے امن کی خاطر یورپ میں ہٹلر کے فوجی حملوں کو نظرانداز کیا تھا کہ کہیں امن تباہ نہ ہو جائے، نتیجے میں دوسری جنگ عظیم ہو گئی) ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1343 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar