ارادھنا کا عشق اور ولیم کی محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارادھنا عرصہ دراز سے دل میں ایک سوراخ پالے ہوئے تھی وقت کے ساتھ ساتھ اس کا بڑھنا اس کے لیے جان لیوا بنتا جا رہا تھا۔ آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، زندگی آر یا پار ہونے کو تیار تھی۔ لیکن جیون اس کا ساتھ نبھانے کو منتظر۔

ولیم ہارٹ سرجن تھا۔ سال میں ایک آدھ بار اپنے دیش لازمی چکر لگاتا تھا۔ اس عرصے میں بہت سے مریض اس کے ہاتھ سے شفایاب ہوتے۔ ولیم ڈبلو، کے سمیتھ کے نام سے اپنے پروفیشن میں جانا اور مانا جاتا تھا۔ ڈبلو، کے سمیتھ کی وجہ شہرت ارادھنا کی ملاقات کا سبب بنی۔ وہ اس بات سے انجان تھی کہ یہ وہ سرجن ہے جس سے کبھی اس کا دل رشتہ رہ چکا تھا۔

ولیم اسے تب جانتا تھا جب اس کے نام کے ساتھ جوزف نہیں لگا تھا۔ ارادھنا کی دس برس پہلے زبردستی شادی کر دی گئی تھی۔ ایک دہائی پہلے دونوں اس بندھن کی آرزو دل میں رکھے ہوئے تھے۔ لیکن سماج، دھرم اس کے متمنی نہیں تھے۔ ان برسوں میں انہوں نے ایک دوسرے کی کھوج لگانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ارادھنا کا گھر بس کر اجڑ بھی چکا تھا اور ولیم اپنے پروفیشن سے لو لگا بیٹھا تھا۔

اتفاقیہ ملاقات پر دونوں نے ایک دوسرے سے کچھ بھی کریدنے کی کوشش نہیں کی۔ برس بعد ملنے پر بھی اجنبیت کا اظہار دونوں کے ہی دلوں میں چھید کر گیا۔ ارادھنا کے چھوٹے سے دل میں بڑھتا سوراخ اس کی زندگی مختصر کر سکتا تھا۔ آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ آپریشن بڑی کامیابی سے ہوا۔ دونوں کی نظروں میں چاہت تھی مگر پہل کرنے سے دونوں ہی کترا رہے تھے۔ بس پردیس جانے سے قبل دونوں نے فون نمبر کا تبادلہ کیا۔

ولیم کی غیر موجودگی میں روٹین چیک اپ کی ڈیوٹی دوسرا ڈاکٹر انجام دیتا۔ ولیم کی زندگی میں یہ پہلی بار تھا کہ وہ کافی عرصے سے اپنے دیش چکر نہ لگا پایا تھا۔ کیونکہ اس کے ذمہ داریوں میں بوڑھے والدین کی دیکھ بھال بھی شامل تھی۔

ارادھنا نے کچھ عرصہ رابطہ نہ رکھنا بہتر جانا۔ پھر ایک روز ارادھنا مدھم سی روشنی میں اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ بال بکھرے بکھرے سے تھے۔ آنکھیں بے خوابی کی خبر دیتیں تھیں۔ بڑی بے چینی سے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے سے مسل رہی تھی۔ سامنے برآمدے میں میز پر سبز رنگ کا فون دھرا تھا۔ فون کی بل کھاتی تار کی طرح وہ الجھی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے لپک کر ولیم کا نمبر ملایا۔ فون کی گھنٹی بجتے ہی اس کے کانوں سے ولیم کی آواز ٹکرائی۔

ولیم میں میں۔ ۔ ۔
ارادھنا کیسی ہو؟
(ولیم کی آواز میں ایسی بے تابی تھی جیسے اس کے فون کے انتظار میں بیٹھا تھا)۔

اور فون کٹ گیا۔ ارادھنا کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے بہار آتے آتے روٹھ گئی ہو۔ پھر وہ ہی اضطراب، وہی بے کلی، وہی بے جینی اس کے چہرے پر عیاں تھی۔ نگاہیں ایک ہی جانب ٹکٹکی باندھے ہوئے تھیں۔ ایک بار پھر رابطہ بحال ہونے کے انتظار میں بے حال ہوئے جا رہی تھی۔ چند لمحوں کے بعد ٹوٹا ہوا سلسلہ پھر جوڑ گیا۔ ارادھنا سفید میز پوش پر بنے سرخ گلاب کی طرح کھل سی گئی۔ شروع شروع میں ڈاکٹر اور مریض کے گرد گفتگو رہی۔ دوا دارو سے بات آگے نہ بڑھی۔ وقت گزرتا گیا اور پھر کبھی کبھی ملکی حالات پر بات چھیڑ جاتی۔ بات بڑھانے کو موسم کا حال بھی موضوع بحث بن جاتا۔ لیکن دل کے موسم کی بات نہ ہو پاتی۔ پھر روز کے رابطے ہونے لگے۔ ایک دوسرے سے رابطے کے منتظر رہتے۔ ایک جانب انتظار رہتا تو دوسرے جانب بے قراری۔ وقت کی قلت دونوں جانب تھی مگر اس کے باوجود جب جب موقع ملتا بس اسی بے نام رشتے کو نبھاتے۔

رفتہ رفتہ ولیم گزشتہ سے پیوستہ ہوتا چلا گیا۔ اس کی گفتگو میں جھلکتی محبت صاف دکھائی دینے لگی تھی۔ دوسری جانب ارادھنا پھر۔ محبت کی دہلیز پر آن گھڑی تھی۔ ان رستوں سے گزرتے گزرتے ایک برس اور بیت چکا تھا

باتوں کا سلسلہ منقطع ہوتا تو بعض اوقات اگلے دن جا کے رابطہ ہو پاتا۔ ولیم ادھر ادھر کی باتیں کرتا پھر موسم کا حال لازمی پوچھتا۔ اس سوال کے جواب میں وہ من ہی من میں اپنا حال دل بیان کرتی کہ کاش تم کو بتا پاؤ کہ محبت کی گھنی چھاؤں میں شب و روز کے پل گزرتے کیسے ہیں؟ دل کب ڈوبتا ہے، کب ابھرتا ہے، عشق کی لہروں کے سنگ کب بہتا ہے کب سنبھلنا ہے، ابھرتے ڈوبتے لمحوں میں کب قرار آتا اور کب بے کلی سے دل بوجھل ہوتا ہے کچھ خبر نہیں۔ ارادھنا کی جانب سے ایک سوال روز دہرایا جاتا کہ تمہارے پاس وقت کتنا ہے؟ ایک دن ولیم اس سوال کی وجہ پوچھ بیٹھا۔ جس کا جواب کچھ یوں دیا کہ میرے روز کے سوال پر سوال تو بنتا ہے۔ دراصل یہ گھڑیاں میرے لیے یہ طے کرتیں ہیں کہ دن کے کتنے لمحے میں جی پاؤں گی۔ یہ وقت مجھے اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ جینے پر میرا بھی حق ہے۔ یہ جو فون پر ٹوٹتا جوڑتا باتوں کا سلسلہ ہے نہ یہ مجھے اس بات کی خبر دیتا ہے کہ زندگی رک رک کر ہی سہی لیکن مسکرانا سیکھ رہی ہے۔ زندگی کے غموں کا بھاری بھرکم بوجھ اتار کر آزادی کی چند سانسیں ملتی ہیں۔ میرے لیے یہ لمحے، یہ پل، یہ گھڑیاں انمول اس لیے کیونکہ ساتھ اس شخص کا ہوتا ہے جس کی محبت میں مجھے کبھی کوئی کھوٹ نظر نہیں آیا۔ وہ میری خوشیوں میں میرے ساتھ ہوتا ہے۔ دکھ میں اکیلا رہنا چاہوں بھی تو بڑھ کر تھام لیتا ہے۔ اس وقت وہ سارے دکھ کہہ پاتی ہوں جن کو تم سن کر کہتے ہو نا کہ سننا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن ایک بات لکھ رکھو کہ اسے کہنا اور سہنا اس سے زیادہ کٹھن ہوتا ہے۔

برس ہا برس سے ارادھنا کی زندگی ایک ہی ڈگر پر چلتی چلی جا رہی تھی۔ اس کا دل ان جذبات سے عاری ہو چکا تھا جو دل کو دھڑکنا سیکھا دیتے ہیں۔ جو سنسان ویران راستوں پر چلنے والوں کے دلوں کو امنگوں سے بھر دیتے ہیں۔ ولیم نے دونوں طرح اس کے دل کو دھڑکنا سیکھا دیا تھا۔ رفتہ رفتہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقفیت ہو گئی۔ ارادھنا سب کچھ کہتی لیکن جیسے ہی محبت کے اقرار یا اظہار کا وقت آتا تو اس کے لب سل سے جاتے تھے۔ یا تو بات پلٹ دیتی یا پھر خاموشی سے دوسری جانب سے آنے والی آواز سے محظوظ ہوتی رہتی۔ ولیم اس سے ایک بار پھر اقرار چاہتا تھا۔ اس بات سے واقف تھا کہ جذبات دونوں جانب ایک ہی ہیں مگر وہ اپنے کانوں سے سن کر اپنی دلی تسلی کر لینے پر تلا رہتا تھا۔ وہ کھل کر اس احساس کا اقرار چاہتا تھا جو اس کے دل میں تھا۔

ایک طرف اقرار محبت کرتے زباں نہیں تھکتی تو دوسری جانب اعتراف الفت کا وقت آتا تو چپ کی دیوار سامنے کھڑی ہو جاتی۔ لیکن ایک روز ارادھنا کچھ اس طرح کہہ اٹھی کہ دراصل میں اب، کب، جب تب میں ہی الجھی رہتی ہوں میرا خیال ہے کہ میں دوبارہ تمہاری اسیر تب ہوئی جب زندگی مجھ سے روٹھی روٹھی رہتی تھی اور تم نے زرد پتوں سے ڈھکی زندگی کو نئی کونپلوں کی امید دی۔ یا پھر زندگی کے گھٹن رستوں پر چلنے کا سلیقہ سیکھا دینے پر، ہر بات کو تحمل سے سن لینے پر، زندگی سے لڑتے لڑتے تھک کر گرتے وقت سنبھال لینے پر نہیں شاید تب جب بڑے حق سے مجھ پر اپنا حق جتانے پر، یا شاید تب جب سرگوشی میں میرا نام لیتے ہوئے اقرار محبت کرنے پر، نہیں نہیں بلکہ جب ہزاروں میل دور بیٹھنے کے باوجود پہلے بوسے کی اجازت طلب کرنے پر، ارے ہاں یاد آیا جب فون پر دونوں طرف خاموشی حائل ہونے کے باوجود ایک دوجے کے ہر احساس کو محسوس کئیے جانے پر۔

ولیم یہ سب سن کر جھنجھلائی ہوئی آواز میں بولا کہ ”مجھے یہ جو دوری ہے ناں بہت بری لگتی ہے کیا اس دوری سے تمہیں فرق نہیں پڑتا“ ولیم جسم اور روح کے ملاپ کی تمنا دل میں رکھے بیٹھا تھا۔ ولیم کی اس بات پر ارادھنا نے تلاش یک لخت ختم کر دی تھی۔ اس کو یہ احساس شدت سے ہوا کہ اب، جب، تب میں جس لمحے کو وہ تلاش کر رہی تھی اس کی کھوج ہی غلط تھی۔ وہ وقت تو گزرا ہی نہیں۔ کیونکہ محبت نا ہونے کا ثبوت اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس جھنجھلاہٹ کا جواب بڑے تحمل سے دیتے ہوئے کہنے لگی کہ سنو محبت وہ تو مجھے دوبارہ ہوئی ہی نہیں۔ اس لیے میرے لیے اس کا اقرار مشکل رہا۔ پھر بولی کہ یہ دوری ہے نا اس کا بھی عجب رنگ ہے یہ فاصلے میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ میں تو محبت کی سیڑھی کو پھلانگ کر عشق کی سیڑھی پر محو رقص ہوں۔ اس یقین کے ساتھ کہ اگر رقص کرتے کرتے پیر ڈگمگائے تو تمہارا خیال مجھے سنبھالا دے جائے گا۔

عشق میں فاصلے، دوریاں، نزدیکیاں چہ معنی دارد۔ عشق میں چھونے کی آرزو نہیں رہتی، بس محسوس کرنے سے ہی دل جھوم جھوم جاتا ہے۔ جو ملے اس پر ہی دل راضی رہتا ہے۔ دوری، کمی، ایک کسک کا رہ جانا عشق کو برقرار رکھنے کا سبب بنا رہتا ہے۔ جی بھر کے جی کو مل جائے تو پھر یہ چاہت چند دنوں کی مہماں بن جاتی ہے۔ محبت اور عشق میں بس اتنا ہی فرق ہے جتنا جسم اور روح میں۔ محبت تقاضا کر سکتی ہے مگر عشق بے لوث ہوتا ہے۔ اس کا ماننا یہ تھا کہ چند پل فرصت ہوں اور ساتھ اس شخص کا نصیب ہو جس کو من چاہیے۔ بات کی جائے یا خاموشی زباں بن جائے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ جو ان کہی باتیں رہ جاتیں ہیں وہ بند آنکھوں سے سپنے دیکھنے والوں کے لیے کیا کیا محبت بھرے افسانے تراش ڈالتیں ہیں۔

دوری کے باوجود وہ ساتھ رہنے کا احساس اسے زندگی دے جاتا تھا۔ اس کا ایمان تھا کہ جو مانگا جائے اور وہ مل بھی جائے تو پھر ایسے لمحوں کے لیے سجدہ شکر واجب ہو جاتا ہے۔ اس سے زیادہ کی طلب اس وقت اسے نہ تھی۔

اس کا جسم اور روح کے درمیاں جو پل صراط تھا اس سے ڈگمگانے کا امکان مشکل تھا مگر ناممکن ہر گز نہ تھا۔ اس کو یقین تھا کہ اگر ڈگمگائے گا بھی تو صرف ایک بار اس ماتھے پر بوسہ دے گی جہاں اس کی باتوں سے کبھی شکن نہیں پڑی۔ بولتے ہوئے ان ہونٹوں پر جو جب جب کھلے اس کی خیر کے لیے۔ جو بات بے بات پر اس کا جی رکھنے کو مسکرا دیتے تھے۔ اس دل پر جس کے کسی کونے میں تھوڑی سی جگہ اب وہ رکھتی تھی۔

پھر ایک اور دن کا قصہ تمام ہوتا ہے۔ سورج کی کرنیں نئے دن کا صفحہ پلٹتی ہیں۔ دن نیا اور بے چینی پہلے جیسی۔ صبح سے ہی فون کے گرد طواف شروع ہو جاتا فون کے انتظار میں ارادھنا نجانے کتنی بار رسیور کو اٹھا کر چیک کرتی کہ فون کہیں ڈیڈ تو نہیں ہے۔ ڈائیل پر بے مقصد انگلیاں گھماتی رہتی۔ اور جب باتوں کا سلسلہ شروع ہوتا تو پھر دن بھر کا قرار آ جاتا۔

روز کے روابط سے محبت کی کھنڈر عمارت کی از سر نو تعمیر ہوتی۔ خستہ حال دیواروں سے پرانا پلستر کھرچ ڈالا تھا۔ وقت کی دراڑوں کو بھر ڈالا تھا۔ روز بے رنگ دیواروں پر چاہت بھرے روغن کا ایک کوٹ چڑھا دیا جاتا تھا۔ برسوں پہلے جس عمارت کو مسمار کرنے کی ناکام کوشش لوگوں نے کی تھی وہ اپنی آب و تاب کے ساتھ پھر سر اٹھائے کھڑی تھی۔ ارادھنا کو اچانک مل جانے پر یہ آس بندھ گئی تھی کہ اب بچھڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔

ارادھنا تا عمر کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی۔ لیکن ایک روز ولیم نے اپنے اور اس کے اس تعلق کی وضاحت کر ڈالی۔ کچھ اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہنے لگا کہ یہ محبت کا کھیل ہے نا یہ چند سالوں کا ہے۔

ایسے تعلق زیادہ عرصے چلتے نہیں ہیں۔ جدائی ابھی نہیں تو کچھ عرصے کے بعد ہمارے کہانی کا انجام پھر سے بن کر رہے گی۔ کیونکہ میرے پروفیشن میں اب شادی کی گنجائش نہیں۔ دوسری جانب کانوں میں پڑتی آواز پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ صرف ایک چپ تھی جو اس کہ دکھ کو بیاں کر رہی تھی۔

ولیم تو اس کے دل میں ہمیشہ سے ہی مقیم تھا اچانک مل جانے پر اس کو یقین تھا کہ اب یہ محبت کی داستان تاقیامت چلے گی۔ اتنا سچ سنتے ہی زباں پر الفاظ سکتے کے عالم میں ٹھہر سے گئے۔ لیکن کچھ آنسو رخسار پر چیختے ہوئے نمودار ہوئے۔ جو بہتے بہتے چلاتے چلے جا رہے تھے۔

کہ پہلے بتانا تھا نا کہ عشق اور محبت کے کچھ اصول ہوں گے۔ پہلے کہنا تھا کہ ارے پگلی یہ تو بس کھیل ہوگا۔ کچھ دنوں کے لگاؤ کی کہانی ہوگی۔ اس کھیل میں سچ مچ دل دینا منع ہے۔ محبت تو بس ناپ تول کر کرنی ہو گی۔ جی بھر کے کرو گے تو جی سے اتر جانے کا اندیشہ ہو گا۔ اٹھتے، بیٹھتے، سوتے جاگتے دل کا محور بھی کسی کو نہیں بنانا۔ یہ بھی کہنا تھا جو جگراتے تمہاری راتوں کا حصہ تھے ان میں پھر میرا بھی حصہ ہو گا۔

عشق کرنے کی حماقت کرو گی تو ماری جاؤ۔ چاہ سکتے ہیں مگر ٹوٹ کر چاہنے کی خاص ممانعت ہے اس رشتے میں۔ پھر ساتھ ہی رابطہ منقطع ہو گیا۔ بس اس دن مینٹل ہاسپٹل کے کمرہ نمبر چھ میں فون کی خیالی گھنٹیاں بجنا بند ہو گئیں۔ ارادھنا نے پانچ منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر ڈالی۔ ارادھنا کا مطلب ہی تکمیل کرنا، پوجا کرنا، عبادت کرنا، پرستش کرنا اور مکمل کرنے کے ہیں۔ اس نے عشق کی داستاں کی تکمیل کر ڈالی۔

اہل خانہ کے مطابق ولیم نامی شخص اس کی زندگی میں کبھی آیا ہی نہیں۔ ارادھنا جوزف کے جسم کو مٹی تلے دبا دیا گیا۔ چند دنوں کے بعد اس کی قبر پر ایک پھولوں کا گلدستہ دھرا تھا جس پر ولیم لکھا تھا اور پھولوں کی خوشبو اس کی روح تک پہنچی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •